عالمی یوم جمہوریت اور حسن جمہوریت

عالمی یوم جمہوریت اور حسن جمہوریت ( پہلو ۔۔۔۔۔۔ صابر مغل )
دنیا میں رائج سب سے نظام حکومت جمہوریت یا عوام راج کا عالمی سطع پر بین الپارلیمانی یونین کے تحت ہر سال 15ستمبر کو عالمی دن منایا جا تا ہے جس کی ابتدا ء 2008میں ہوئی ،اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سال2007میں اپنے 61سیشن کے ایجنڈا آئٹم نمبر12کی قرارداد 62/7کے ذریعے ہر سال دن منانے اعلان کیا جس کا بنیادی مقصد بین الاقوامی سطع پر جمہوریت کے فروغ کے لئے اقدامات اور لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا تھا جس کے تحت یونیورسل ویلیو کو مزید اجاگر کرنے کے لئے اکنامک،سیاست،سوشل اورکلچرل سسٹم میں مکمل ہر شخص کی مداخلت کو یقینی بنایا جائے، فلپائن میں آمر صدر فر یٹننڈو مارکوس کے طویل دور اقتدار جو 1965سے1986تک بر قرار رہاجسے خاتون رہنماء کوایزون اکینو نے طویل جدجہد کے بعدختم کرکے فلپائن کی صدر بنیں جو ایشیا کی پہلی خاتون صدر تھیں ،اس جدوجہد میں ان کے خاوند کو طویل عرصہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہنا پڑا بالآخر وہ انتقال کر گئے مگر کوایزون اکینو نے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھی اور آمر کو اقتدار سے رخصت کر دیا،اسی پر اقوام متحدہ نے اسے بنیادی ضرورت خیال کرتے ہوئے عالمی ڈے منانے کا فیصلہ کیا تا کہ جمہوری ممالک میں آمریت کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے،2013میں ہلی بار نوجوان نسل کو اقتدار میں فیصلہ کن حیثیت کے حوالے سے شامل ہونے پر زور دیا گیا،جمہوریت کی دو بڑی اقسام جن میں براہ راست یا بلا واسطہ جمہوریت ہے،جبکہ جمہوریت کے ذیلی نظام کی تعداد 34کے قریب ہے،بہت پہلے ریاست ہائے متحدہ شمالی امریکہ کے رہائشی فلیستھاس نے جمہوریت کا ایک نظام وضع کیااسی لئے انہیں اتھینی ڈیمو کریسی کاباپ(Father)کہا جاتا ہے،یہی سے جمہوریت کا پودا پروان چڑھا،زمانہ قدیم میں یونان کی شہری مملکتوں میں جمہوریت ملتی ہے،آمریت کی ضد جمہوریت کے اس نظام میں ناروے گذشتہ کئی سال سے بہترین جمہوریت کی رینکنگ میں دنیا میں پہلے نمبر پر براجمان ہے،دیگر ٹاپ ٹین ممالک میں بالترتیب آئس لینڈ،سویڈن،نیوزی لینڈ ،ڈنمارک،سوئٹرزلینڈ،کینیڈا،فن لینڈ،آسٹریلیا اور نیندر لینڈ شامل ہیں، انگلینڈ 16ویں اور امریکہ18ویں نمبر ہے،مجموعی طور پر اس وقت چار نظام حکومت مطلق العانیت(بادشاہت) ،فوجی بغاوتیں،اشتراکی اور لا دینی (Secilarism)رائج ہیں ، دنیا کی تمام آبادی میں سے صرف8.9فیصد وہ آبادی ہے جسے مکمل اور بہترین جمہوریت کا نظام حکومت میسر ہے،39.5فیصد آبادی کے لئے ناقص اور نامکمل جمہوریت،17.5آبادی کے مقدر میں دوغلی یا دو نسلی (Hybrid Regime) جمہوری حکومتیں جبکہ باقی 34.1فیصد افراد پر آمرانہ یا بادشاہت کا راج ہے،برونائی،سعودی عرب،شمالی کوریا،سلطنت اومان ،قطر،سوازی لینڈ اور ویٹی کن میں فی الوقت بھی بادشاہت قائم ہے،مسلم دنیا میں حکمران سب سے پہلے خلیفہ،پھر سلطان بعد میں بادشاہ کا لقب پائے اب چند کے سوا باقی تمام مسلم ممالک میں آمرانہ ،جمہوریت یا نام نہاد جمہوریت کا تسلط ہے، پاکستان سمیت اسلامی ممالک کے اکثر طبقات کے نزدیک مغربی جمہوریت کے نظریات ،تصورات اسلامی تعلیمات سے مکمل طور پر متصادم ہیں کیونکہ اس مغربی جمہوریت میں طاقت کا اصل سر چشمہ عوام کو قرار دیا گیا ہے جبکہ اسلام کے نزدیک قرآن مجید کی ایک آیت مبارکہ کے مطابق (ترجمہ)اصل طاقت و قوت صرف اور صرف اللہ ہی کے ہاتھ اور اختیار میں ہے۔اس جمہوریت کے مطابق بندوں کو تولا نہیں گنا جاتا ہے جبکہ اسلام کے نزدیک وہی افراد سب سے بہتر اور حکمرانی کے قابل ہیں جو صادق اور امین ہوں،کئی اسلامی ممالک جیسے ایران،متحدہ عرب امارات،کویت ،افغانستان نے اسلامی جمہوریت کی اصطلاح اپنا رکھی ہے،اگر دین اسلام میں خلافت کی اصطلاح سے ہی نظام حکومت کا آغاز ہوا تویہ سوال ضرور ذہن میں ابھرتا ہے کہ مغرب کی تخلیق کردہ جمہوریت کی اصطلاح کیوں کر استعمال کی جا رہی ہے،جمہوری نظام حکومت فروغ کے لئے یہ دن عالمی سطح پر منایا جاتا ہے جس میں حکومت خود یا عوام کے نمائندوں کے ذریعے بر سر اقتدار آتی ہے مگر یہ جذبہ اگر لازم ہو کہ عوام کی صحیح نمائندگی اور اراکین کا چناؤ بالکل درست اور انصاف کے قرینے پر مبنی ہے تو بڑی حد تک حکمران عوام کے لئے نعمت سے کم نہیں ہوتے،پاکستان میں نظام حکومت جمہوریت پر ہی استوار کیا گیا آغاز سے ہی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے یا اختیار کے نشہ نے حکومتوں کو نشانے پر لئے رکھا ،اختیار اور اقتدار کے اس نشہ میں عوام کی جانب کسی کا دھیان نہ گیا،70سالوں میں تین حکومتیں فوجی بغاوتوں کے نتیجہ میں قائم ہوئیں ایک بغاوت ناکام رہی جسے ملکی تاریخ کی پہلی فوجی بغاوت کہا جاتا ہے جب1951میں میجر جنرل سید شاہد حمید نے میجر جنرل اکبر خان کے ساتھ مل کر بغاوت کی کوشش کی اس ناکامی کے بعد متعدد فوجی افسران کو بھی گرفتا کیا گیا،جنرل ایوب خان ،جنرل ضیاء الحق اور آخر میں پرویز مشرف نے سول حکومتوں کو چلتا کیا،حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان تینوں آمروں کے دور میں وہ تمام سیاستدان اقتدار کا مزہ لیتے رہے جو موقع ملنے پر آمر آمر کی گردان ضرور کرتے ہیں ،پاکستان میں زیادہ تر اقتدار جن دو سیاسی پارٹیوں کو نصیب ہوا وہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ہیں ،ذوالفقار علی بھٹو نے 1967میں پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی وہ خود بھی ایوب خان کی کابینہ میں متعدد وفاقی وزارتوں پر رہے،میاں نواز شریف کی مسلم لیگ کا قیام 1985میں عمل میں آیا اور یہ سب کچھ آمر جنرل ضیاء الحق کے سایہ تلے ہوا،پرویز مشرف نے میاں نواز شریف کو نہ صرف وزارت اعظمیٰ سے فارغ کیا بلکہ گرفتاری کی جیل میں رکھا بلکہ سعودیہ کے کہنے پراہل خانہ سمیت سعودی عرب ہی بدر کر دیا،اس وقت ان کے ساتھیوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو دورپرویز مشرف میں کابینہ کا حصہ رہے،یہاں اصول نہیں بلکہ حصول کا پرچم بلند رہتا ہے،اب پاکستان میں مسلسل جمہوری حکوسمت کا دسواں سال جاری ہے ، میاں نواز شریف گو عدالتی حکم پر نا اہل ہو چکے ہیں مگر نظام حکومت تو جمہوری ہی ہے،پاکستانی جمہوریت عالمی رینکنگ میں اپنے گردو نواح میں قائم ممالک بھارت،بنگلہ دیش،نیپال ،سری لنکا اور وہ دور کا ملک پانامہ جس کی گونج ہر وقت پورے پاکستان میں گونجتی رہتی ہے بھی پاکستان سے بہتر پوزیشن میں ہے پاکستان نے جمہوریت میں ترکی طرز کو اپنا رکھا ہے وہ بھی ہم سے کہیں بہتر ہے وہ تو وہ غریب اور اندرون ملک شدت پسندی کا حامل ملک نائجیریا بھی جمہوریت میں ہم سے بہتر ہے،یہاں جمہوریت کے ثمرات عوام کو کبھی نہیں ملے صرف انہیں ہی نصیب ہوئے جو کسی نہ کسی طورحکومت کے ساتھ چمٹے رہے قطع نظر اس کے کہ وہ حکومت کسی آمر کی ہے یا جمہوری ،جس کی سب سے بڑی مثالیں ایم کیو ایم اور مولانا فضل الرحمان کی جماعتوں ہیں بڑی جماعتوں کی تو پھر کیا بات ہے ،پاکستان تحریک انصاف ،عوامی مسلم لیگ اور جماعت اسلامی نے پانامہ کیس میں شریف فیملی کے خلاف کیس کی مکمل پیروی کی ،ان کے نا اہل ہونے پر نئے وزیر اعظم کے چناؤ کے لئے وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کرنے والی ایم کیو ایم نے (کسی بہت دور سے آنے والے حکم پر)مسلم لیگ (ن) کے شاہد خاقان عباسی کو ووٹ ڈالا،جماعت اسلامی ،پیپلز پارٹی نے اپنے اپنے امیدوار کھڑے کر دئیے پی ٹی آئی نے شیخ رشید کا نام دے دیا اور سب کو منہ کی کھانا پڑی ،اس جمہوریت میں حکمرانوں کے اندر جمہوریت کا بھوت اس وقت ضرور سوار ہوتا ہے جب انتخابات قریب ہوں یا کوئی مسئلہ سامنے آن کھڑا ہو تب یہ سپریم کورٹ کی بجائے عوام کے کٹہرے کو بھی معزز سمجھتے یا کسی نئے لالی پاپ کے لئے انہیں اپنی اصلی قوت اور مائی باپ بھی کہتے ہیں،اس جمہوریت میں جو بھی سیاست کا حصہ بنا وہ عروج پر پہنچ گیا عام آدمی کبھی اس جمہوریت کا حصہ نہیں بن سکتا کیونکہ یہاں نظام ہی کچھ اس طرح سے وضع کیا گیا ہے،الراقم کوئی آمرپسند نہیں مگر بات حقیقت کہنی پڑتی ہے ان جمہوریوں کا کاروبار باہر،بچے باہر ،تعلیم باہر،گھر باہر،علاج باہر،ان کے اقتدار کا راستہ باہر،سرمایہ باہر،جائدادیں باہر،یہاں صرف اقتدار کرنے آتے ہیں ،ملک کو قرضوں سے لاد دیتے ہیں ،سارا ریکارڈ جلوا دیتے ہیں ،عدالتوں کو گالیاں نکلوا دیتے ہیں ،قانون کو پاؤں تلے روند دیتے ہیں ،عوام مر رہی ہے یہ مار رہے ہیں،وہ بھوک سے بلک رہی ہے یہ کھا رہے ہیں،ان کے کاروبار تباہ و برباد ان کے عروج پر،وہ بے کار یہ کار پر،وہ زمین پر رینگتے ہیں یہ فضاؤں میں پرواز کرتے ہیں ،گندہ پانی،گندی ناقص خوراک،جعلی ادویات،دھکے ہی دھکے ،اس سے بڑھ کر جمہوریت کے ثمرات اور اس عوام کو کیا ملیں؟جمہوریت پسند اس حسن جمہوریت پر پھر بھی خوش نہیں ،ٹھیک کہتے ہیں آمریت سے بد تر،بد بودار،غلیظ اور جلاد نما جمہوریت بھی بہتر ہوتی ہے شکر ہے اب پاکستان میں جمہوریت کی فصل پھل پھول چکی ہے جوان ہو چکی ہے شاید اسی لئے ہر طرف شادابی ،رنگ و نور اور سبزہ ہی سبزہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com