سفر ہے شرط

سفر ہے شرط

عابدہ رحمانی

لدی پھندی لمبی مسافرت اور  پرواز کے لئے روانگی ہوئی تو ڈرائیور نے اپنے ایک عزیز کے ذریعے سامان کی ترسیل میں مدد  دلانے کا اظہار کیا۔نیکی اور پوچھ پوچھ، اسوقت اس مدد کی شدیدضرورت تھی۔ ائر پورٹ پر ایک اژدھام تھا۔ ایسے میں جبکہ ایک مستعد شخص مدد کے لئے ٹرالی لئے،سامان اور سیٹ کی سہولت بہم پہنچانے کے لئے   تیار کھڑا ہو اس وقت اس سے بڑی نعمت کیا ہوسکتی تھی جبکہ ذہن سامان اور وزن میں الجھا ہوا ہو۔

  داخلی دروازے پر ایک ماں بیٹی کا وِ داعی منظر دلگداز اور رقت انگیز تھا بیٹی اور نواسے کو بمشکل رخصت کرتے ہوئے آنسو پونچھتی ہوئی ماں نے مجھے تھام لیا اس وعدے کے ساتھ کہ میں جہاز میں دوران پرواز انکی بیٹی اور نواسے کا خیال رکھونگی۔

تمام مراحل سے گزر کر اس مددگار نے مجھے خدا حافظ کہا اور میں سی آئی پی لاؤنج کے لئے روانہ ہوئی ۔

یہ لاؤنج ایک گوشہ عافیت تھا اسکا مجھے اسوقت احساس ہوا جب اسی پرواز پر جانے والی ایک دوست کا فون آیا کہ وہ میری منتظر ہیں ۔میرے پرزور اصرار پر بھی وہ اندر آنے پر تیار نہ ہوئیں۔ تو میں خود ہی باہر ہولی  ہم دونوں نے اپنی طبع شدہ کتابیں ایک دوسرے کو دیں اس وعدے پر کہ اب جہاز میں ملاقات ہوگی۔وہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ کئی پروازیں جا رہی تھیں اور مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش نہیں تھی ۔اسلام آباد کا نیا ائرپورٹ کب کام شروع کریگا؟ ہم جیسی عوام کو شدت سے انتظار ہے ۔

سیڑھیوں پر ہاتھ کا سامان لے جانا اب کافی مشکل لگتا ہے ۔اللہ بھلا کرے انکا جو مدد کو تیار ہوجاتے ہیں۔

جہاز میں سیٹ سنبھالی بیچ کی سیٹ چھوڑ ایک لڑکا بیٹھ گیا۔ جب کچھ دیر کے بعد بات چیت ہوئی تو معلوم ہوا کہ اٹلانٹا میں نیورو سرجری میں ریزیڈنسی کر رہا ہے،ذہین اور فطین بچہ تھا۔ غنیمت ہے کہ بیچ کی سیٹ خالی رہی۔ اور ہم دونوں سکون سے رہے۔ 

پی آئی اے کا یہ جہاز یوں سمجھ لیں فضا کے دوش پر اڑتا ہوا پاکستان ہے ،پاکستان کے ہر خطے کے لوگ نظر آتے ہیں‎۔ تفریحی سسٹم اسوقت بھی خراب تھا اسکے باوجود کانوں میں لگانے والے پلگ تقسیم ہوئے ۔ جب فضائی میزبان سے پوچھا کہ یہ کس لئے ہیں ؟ تو مسکرا کر کہا ، "دعا کیجئے شاید چل جائے"

اسوقت جب دنیا کے تقریباً ہر جہاز میں یہ سسٹم موجود ہے پی آئی اے کے جہاز میں یہ پچھلے سال سے خراب ہے۔غالبا اسکی بحالی یا مرمت کو غیر ضروری سمجھا گیا ورنہ ٹھیک ہو چکا ہوتا۔ میرے لئے یوں  باعث اطمینان ہے کہ اسی بہانے آنکھیں موند لی جاتی ہیں۔ اب تو بیشتر جہازوں میں وائی فائی کی سہولت ہے امارات ائر لائن کے جہازوں میں مفت سہولت ہے۔

پی آئی اے ایک زمانے میں دنیا کے بہترین ائر لائن میں شمار ہوتاتھا ۔ اسوقت کی کئی مشہور ائر لائنز مثلاً امارات ، ملائشین، اور دیگر کئ ایک کو  اسنے رہنمائی اور تربیت فراہم  کی ۔ آج بھی اسکے منجھے ہوئے ہواباز کسی سے کم نہیں ہیں۔ ابھی تک یہ حکومت کے زیر تصرف ہےاور قومی ایئرلائن کی حیثیت ہے ۔پاکستان کے ابتدائی برسوں میں اورئنٹ ائر ویز کے بعد پی آئی اے کا قیام عمل میں آیا ۔اسکا مقولہ تھا

Great people to fly with

عظیم افراد پی آئی اے کے مسافر

 

اقربا پروری عملے کی غیر ضروری زیادتی اور بد عنوانی نے اس محکمے کو گہنا دیا ہے اور کارکردگی بری طرح متاثر کی ہے ۔ ماضی میں نج کاری کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں ۔نج کاری سے حالات شاید بہتر ہوجاتے ۔پی آئی اے والے دیگر ائیر لائن کے نفاذ کو مورد الزام ٹہراتے ہیں جبکہ یہ تو ہونا ہی تھا اسی سے تو مسابقت کی دوڑ ہوتی ہے ۔ شہری ہوا بازی میں عروج و زوال کی داستانیں کافی عام ہیں امریکہ میں آ ئے روز ائر لائن دیوالیہ ہو جاتے ہیں یا ایک دوسرے میں ضم ہوجاتے ہیں۔

 

امریکہ سے تو تمام پروازیں بند ہو چکی ہیں  ٹورنٹو کی یہ پرواز پی آئی اے کی اسوقت مثالی پرواز ہے اگر راستے میں کہیں رکنے کی ضرورت نہ ہو تو تیرہ چودہ گھنٹے میں اسلام آباد کا سفر انتہائی آرام دہ ہوتا ہے۔

اب ان خاتون سے کیا ہوا وعدہ یاد آیا ۔ اٹھ کھڑی ہوئی یوں بھی تاکید تھی کہ ایک آدھ گھنٹے کے بعد کچھ حرکت ضروری ہے۔ ادھر ادھر نظریں دوڑائیں لیکن وہ لڑکی مجھے نہ مل سکی ۔ قوی امید تھی کہ اب تک سنبھل چکی ہوگی لیکن کاش کہ مل جاتی ۔

جہاز منزل کی جانب رواں دواں تھا ۔ سوتے جاگتے ، کھاتے پیتے ، نمازیں ادا کرتے تھوڑا بہت چہل قدمی اور گپ شپ کرکے وقت تیزی سے گزر رہاتھا ۔

ٹورنٹو اترنے کیلئے جہاز نیچے آیا تو حد نظر تک برف کی سفید چادر بچھی ہوئی دکھائی دی۔ ۲۰ ڈگری سنٹی گریڈ سے ہم منفی ۲۰ کی جانب سات سمندر پار پہونچ چکے تھے ۔ اندرون چلنے والی گرمائش سے اس سردی اور ٹھنڈک کا بالکل اندازہ نہیں ہوتا ۔ باہر کی فضاء میں تمام کوٹ جیکٹ سمیت پانچ منٹ نہیں گزارے جاتے۔اسلام آباد اور پاکستان کو ہم ہزاروں میل دور چھوڑ آئے تھے اور اس سرزمین پرپہنچ چکے تھے جسکو دوسرا وطن کہہ سکتے ہیں جہاں ہماری پہچان پاکستانی کینیڈئن کے طور پر ہے ۔

جہاز کو گیٹ  میسر نہیں تھا تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد جہاز آکر رکا ۔ امیگریشن وغیرہ سے گزر کر سامان کی وصولی کے لئے پہنچی تو معلوم ہوا کہ ابھی تو سامان کی آمد شروع ہی نہیں ہوئی تھی۔ ادھر ادھر دیکھا تو وہ لڑ کی اپنے بچے کو بہلاتی ہوئی دکھائی دی ۔ میں لپک کے ملی اسکی خیریت دریافت کی خوش وخرم دکھائی دی سامان کی منتظر تھی ایک لوڈر لے رکھا تھا  ،اسنے کہا کہ امی آپکا پوچھ رہی تھیں جہاز میں اسکی نشست مجھ سے کافی دور تھی۔ میرا فون نمبر لیا ۔ یوں مجھے بھی اطمینان ہوا ۔

ہمارا سامان آنے میں دو گھنٹے لگ گئے جہاز کے سامان کا دروازہ سخت سردی سے جم گیا تھا اور بڑی مشکلوں سے اسکو کھولاگیا ۔  تھکان سے چور، یوں محسوس ہو رہاتھا کہ ٹانگیں شل ہو گئی ہوں لیکن انجام بخیر تو سب بخیر۔

سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے۔

ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com