سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور نواز شریف

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور نواز شریف
تحریر: رانا عبدالباقی (آتش گل)
پاکستان کی جوڈیشل سیاسی تاریخ میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا شمار جراٗت انکار کے حوالے سے بانیء پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے جراٰت مند جانشینوں میں ہوتا ہے جنہوں نے سابق صدر پرویز مشرف کی آمرانہ پالیسیوں کے آگے سر جھکانے کے بجائے حق و انصاف کا علم بلند کئے رکھا چنانچہ اُن کی جراٰت انکار سے متاثر ہو کر وکلاء کی تحریک نے قدم آگے بڑھایا اور ملک میں جمہوریت کی بحالی کو ممکن کر دکھایا۔ گو کہ جناب افتخار محمد چوہدری کی جانب سے بنچ کے فیصلوں میں مشرف کے دباؤ کو قبول کرنے اور اپنے عہدے سے مستعفی نہ ہونے پر جراٗت انکار کے باعث نظر بند کر دیا گیا تھا لیکن یہی وہ جراٗت انکار تھی جس نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کی قندیل روشن کی اور موسم گرما کی شدت کے باوجود کالے کوٹوں میں ملبوس وکلاء نے سابق چیف جسٹس کی حمایت میں ملک کے ہر ضلع، تحصیل اور ٹاؤن میں ایک سیاسی انقلابی ریلے کی مانند اُمڈ کر دنیا کو حیران کردیا ۔ حکمرانوں کے سامنے جناب افتخار چوہدری کی جراٗت انکارنے بار کے وکلاء میں جس بے لوث جذبے اور جمہوری آزادیوں کی لگن کو جنم دیااُسے دیکھتے ہوئے قریہ قریہ ، دیہات دیہات اور شہر شہر ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے عوام بھی بار اور بنچ کی اِس جمہوری لہر میں دامے درمے سخنے شریک ہوتے چلے گئے ۔ عوام کی چھٹی حس یہی کہہ رہی تھی کہ آمریت کی طویل سیاہ سرنگ کے دوسرے سرے پر جگ مگ کرتی روشنی کی کرن اُن کی منتظر ہے اور ایسا ہی ہوا۔ افتخار چوہدری کی جدوجہد نے یہ ثابت کر دیا کہ کسی بھی ملک کا آئین عوامی اُمنگوں کا ترجمان ہوتا ہے جو حکومتوں کے نظم و نسق کو آئینی حدود میں رکھتے ہوئے کرپشن بدعنوانی اور اقربہ پروری کے خلاف ایک ناقابل تسخیر بند باندھتا ہے تاکہ عوامی اُمنگوں کو ریاستی فوائد سے ہم آہنگ کیا جاسکے لیکن بار اور بنچ کی کامیاب جدوجہد کے بعد سیاست دانوں نے اِس عوامی مشن پر عمل درامد کرنے میں قرار واقعی کردار ادا نہیں کیا۔ صد افسوس کہ سابق چیف جسٹس کی جراٗت انکار اور وکلاء تحریک کی بدولت جن سیاسی جماعتوں نے سیاسی فائدہ اُٹھاتے ہوئے اقتدار کی غلام گردشوں میں قدم رکھا اُنہوں نے کرپشن ختم کرنے کے نام پر ملک میں غیرمعمولی کرپشن اور میرٹ کے خلاف بدعنوانی کو مہمیز دینے ، مہنگائی ختم کرنے کے نام پر بے لگام مہنگائی پھیلانے ، غربت ختم کرنے کے نام پر ملک کی اکثریتی آبادی کو غربت کی لکیر کے نیچے پھینکنے ، امیروں اور غریبوں کیلئے نظام عدل میں تفریق برتنے، امیروں اور غریبوں کیلئے نظام تعلیم میں زمین آسمان کے فاصلے پیدا کرنے، ووٹر لسٹوں میں ہیر پھیر کرنے اور مستند نادرا ریکارڈ میں شامل ووٹروں کے ایک ہی ضمنی انتخاب میں مشینی پولنگ میں پندرہ فی صد سے زیادہ ووٹوں کی تصدیق نہ ہونے سے عوام کو مایوسی سے دوچار کر کے رکھ دیا ہے۔ حتیٰ کہ تین مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم رہنے والے میاں نواز شریف کا نام بیرون دنیا پاناما پیپرز لیکس میں آنے پر نواز شریف فیملی کے بیرونی دنیا بل خصوص لندن میں اربوں کی پراپرٹی اور اِسے تحفظ دینے کیلئے دو صاحبزادگان کی برطانوی شہریت نے عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بنچ کو مجبور کر دیا کہ وہ صادق و امین کے معیار پر پورا نہ اُترنے پر آئین کے آرٹیکل 62/63 کی دفعات کے تحت نواز شریف کو وزیراعظم کے طور پر نااہل قرار دے دیں۔ دریں اثنا ، نواز شریف نے اپنی نااہلیت کے خلاف کوئی دلیل یا شہادت تو پیش نہیں کی لیکن ایک ہی نعرہ بلند کرتے ہوئے کہ اُنہیں کیوں نکالا نہ صرف تمام نواز شریف فیملی عدالت عظمیٰ اور افواج پاکستان کی تضحیک اور بدترین پروپیگنڈا کرنے میں مصروف رہے بلکہ پارلیمنٹ میں مسلم لیگ (ن) کی اکثریت کے بل بوتے پر الیکٹورول قانون میں ترمیم کے ذریعے آئینی طاقت کی حامل پارٹی صدارت پر قبضہ جمانے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس کا مقدمہ اب سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت ہے جبکہ ملکی سیاسی جماعتیں آپس میں دست و گریباں ہیں۔
اندریں حالات ، ملک میں جاری قومی چپقلش کو دیکھتے ہوئے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری جن کی گہری نگاہ آئینی و قانونی نکات کا بخوبی احاطہ کئے ہوئے ہے ، نے گزشتہ روز ایک نجی چینل پر میزبان سینئر صحافی محمد مالک سے آن ریکارڈ گفتگو کرتے ہوئے آئینی و قانونی نکات پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ اُنہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی پانچ رکنی بنچ کی جانب سے نااہلیت کے فیصلے پر رائے دیتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ میاں نواز شریف صادق و امین نہ ہونے کے حوالے سے نااہلی تا حیات ہے اِس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکتی جب تک پانچ رکنی بنچ کا ڈکلیئریشن اپنی جگہ قائم ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اب تک سپریم کورٹ کے دو فیصلے موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نااہلی تا حیات ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ نواز شریف کے کلاف سنگین الزامات ہیں چنانچہ جس دن نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا ، سپریم کورٹ کو اختیار حاصل تھا کہ وہ عدالت کے سامنے جعلی دستاویز پیش کرنے پر اُنہیں جیل بھیج دیا جاتا۔اُنہوں نے کہا کہ عدلیہ کی عزت کرانے کیلئے ہی توہین عدالت کا قانون آیا تھا تاکہ طاقت ور لوگ بھی عدلیہ کا احترام کریں ۔ اُنہوں نے کہا کہ عدلیہ ، پارلیمنٹ اور قانون ساز اداروں کا احترام کیا جانا چاہیے ۔ جناب افتخار چوہدری نے کہا کہ سابق نااہل وزیراعظم، اُن کی صاحبزادی اور داماد روزآنہ عدلیہ کو گالیاں دیتے پھر رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، اگر یہ لوگ جیل میں ہوتے اور جیل میں اِن کا ٹرائل ہو رہا ہوتا تو اِنہیں عدلیہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے پتہ چل جاتا۔ اُنہوں نے کہا کہ نواز شریف کی پارٹی کا یہ خاصہ رہا ہے کہ وہ ہمیشہ عدلیہ کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نواز شریف سے عدلیہ کو ایسے ہی ڈیل کرنا چاہیے تھا جیسا کہ نہال ہاشمی سے کیا ہے۔ عدلیہ کی کمزوری ہے کہ اُنہوں نے نواز شریف کو پکڑا نہیں۔ 
درج بالا تناظر میں اگر سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی جراٗت انکار کی وکلاء تحریک سے قبل سیاسی بدامنی کا معروضی جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ ملک کی سیاسی بدحالی میں تین مرتبہ وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہنے والی شخصیت کی بے حکمت پالیسیوں کا گہرا ہاتھ ہے جس میں سپریم کورٹ پر مسلم لیگ (ن) کے حامیوں حملہ شامل ہے، دو مرتبہ بے نظیر حکومت کو گرانے میں وہ پیش پیش رہے جبکہ ایک وقت آیا کہ اُنہوں نے اپنے مربی صدر غلام اسحاق خان جنہوں نے اُن کی حکومت کو کرپشن سے پاک رہنے کی تلقین کی تھی، کیساتھ بھی کام کرنے سے انکار کردیا اور اِس غیر سیاسی شرط کیساتھ حکومت سے مستعفی ہوگئے کہ اُن کیساتھ صدر غلام اسحاق خان بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہوں ۔ دوسری وزارت عظمیٰ کے دوران مرکز اور پنجاب میں دوتہائی اکثریت اور دیگر صوبوں میں اتحادی جماعتوں کے تعاون سے حکومت کرنے کے باوجود میاں نواز شریف نے اپنی ہی فوج کے خلاف بے حکمت یا جسے احمقانہ سیاسی پالیسی اختیار کی جس کے نتیجے میں اُنہیں نہ صرف پنی حکومت بلکہ جمہوریت کو بھی دااؤ پر لگا دیا اور ملکی سیاست میں صدر پرویز مشرف کو اُبھرنے کا موقع مل گیا۔بہرحال سابق صدر پرویز مشرف کا نام تاریخ میں کسی نابغہ روزگار شخصیت کی حیثیت سے نہیں کیا جائیگا۔ البتہ دوسری نواز شریف حکومت کے دوران میاں نواز شریف نے بے حکمتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے تو چند سینئر جرنیلوں کی میرٹ سے ہٹ کر پرویز مشرف کو ملک کا نیا چیف آف آرمی سٹاف تعینات کیا اور پھر اپنی سلیکشن پر قائم رہنے اور جنرل مشرف کو اپنی تین سالہ ٹرم پوری کر لینے کے بجائے کچھ ہی عرصہ کے بعد اُنہوں نے فوج کو اپنی ذاتی جاگیر بنانے کیلئے اپنی لااُبالی طبیعت سے مجبور ہو کر ایک ایسے وقت میں آرمی چیف کو ہٹا کر اپنے ایک تعلق دار جنرل بٹ کو نیا چیف آف آرمی سٹاف بنانے کے کوشش کی جبکہ جنرل پرویز مشرف سری لنکا کے سرکاری دورے کے بعد بذریعہ شیڈولڈ فلائیٹ وطن واپسی کیلئے روانہ ہونے والے تھے چنانچہ اُن کی فلائٹ کے سری لنکا سے فوری روانگی کے بعد پرویز مشرف کے جہاز کا رُخ موڑنے کے زبانی احکامات جاری ہوئے تاکہ جنرل بٹ کو آرمی چیف کے طور پر جی ایچ کیو میں چارج لینے کا موقع مل جائے جسے جی ایچ کیو نے تسلیم نہیں کیا۔ جہاز کے عملے نے جنرل مشرف کو بتایا کہ جہاز کا رُخ موڑنے کے احکامات جاری ہوئے ہیں جبکہ جہاز میں اتنا فیول موجود نہیں ہے کہ وہ کسی اور ملک میں لینڈنگ کرسکے۔ جب یہ اطلاع جی ایچ کیو میں پہنچی تو غالباً اِس مذاق کو جی ایچ کیو میں موجود افسران اور کور کمانڈرز نے تسلیم نہیں کیا ۔البتہ کور کمانڈر کراچی نے پی آئی اے سے رابطہ کیا تو اِس خبر کی حقیقت سے آگہی ہوئی۔ چنانچہ آرمی نے پی آئی اے کے ایک محب وطن ڈائریکٹر مصطفےٰ انصاری کی مدد سے کراچی میں فلائٹ کے اُترنے کا بندوبست کیا اور پرویز مشرف کے کراچی پہنچتے ہی صورتحال تبدیل ہوگئی چنانچہ میاں نواز شریف ہائی جیکنگ کیس میں گرفتار ہوئے اور 14 برس قید کی سزا کے اہل پائے گئے لیکن معافی تلافی کرکے سعودی حکومت کی ضمانت پر دس برس کی ملک بدری کی شرط پر پرویز مشرف کے دستخطوں سے ہی قید سے معافی کی درخواست صدر مملکت نے منظور فرمائی ۔ حیرت ہے کہ ماضی کی غلطیوں ور تاریخ سے نواز شریف فیملی نے سبق نہیں سیکھا ہے اور سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کی جانب سے نااہلیت کے فیصلے کو قبول کرنے کے بجائے بیرونی دوستوں کی مبینہ تحریک پر اندرونی خلفشار پیدا کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں لیکن غریب اور متوسط طبقے کے عوام اُن کی کرپشن اور غیر سیاسی اقدامات کو پہلے ہی کافی بھگت چکے ہیں اور آئندہ انتخابات میں اُنہیں بخوبی اپنا فیصلہ سنا دیں گے۔ (بشکریہ روزنامہ جہان پاکستان) ۔۔ختم شد۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com