وارنٹ گرفتاری۔۔۔اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا

وارنٹ گرفتاری۔۔۔اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا
کالم نگار : پروفیسر ضیاء الرحمن کشمیری۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے توہین عدالت کیس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے ہیں۔ دوسروں کو اداروں کے احترام کا درس دینے والے عمران خان اور ان کے حواریوں نے ایک انتہائی اہم وفاقی ادارے کے حکم کو تسلیم کرنے کی بجائے عَلم بغاوت بلندکر دیا ہے۔پی ٹی آئی رہنماؤں نے الیکشن کمیشن کے حکم کو تعصب اور تنگ نظری پر مبنی قرار دیتے ہوئے براہ راست چیف الیکشن کمیشن پر الزام عائد کیا ہے کہ’’ ان کے دو داماد حکومت کے ملازم ہیں، وہ اپنے دامادوں کی نوکریاں پکی کرنے کے لیے پی ٹی آئی کے ساتھ تنگ نظری اور تعصب کا مظاہر ہ کر رہے ہیں ۔‘‘یہی الزامات کی وہ قابل افسوس روش ہے جو گزشتہ ساڑھے چار سال سے پی ٹی آئی کی قیادت نے اختیار کی ہوئی ۔جنرل الیکشن سے لے کر اب تک کی کار گزاری پر نظر ڈالی جائے تو پی ٹی آئی کی الزامات ومحاذ آرائی پر مبنی سیاست اوروفاق و خیبر پختونخواہ میں مجموعی کار کردگی انتہائی مایوس کن دکھائی دیتی ہے۔
2013ء کے جنرل الیکشن میں جہاں مسلم لیگ ن کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد ووٹ ملے تھے وہاں پاکستان تحریک انصاف کو بھی 70لاکھ لوگوں نے ووٹ دے کر ایوان ہائے اقتدار میں بھیجا تھا۔ اس عوامی مینڈیٹ کی بنیاد پر مسلم لیگ ن نے وفاق اور پنجاب میں دو تہائی اکثریت کی حامل حکومت قائم کی تھی جبکہ پی ٹی آئی صوبہ خیبر پختونخواہ میں اتحادی جماعتوں کے تعاون سے بمشکل حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تھی ۔تحریک انصاف کو ووٹ ڈالنے والے 70لاکھ لوگوں نے یہ امید باندھی تھی کہ اب تبدیلی کا دعویٰ کرنے والی یہ جماعت نہ صرف صوبہ خیبر پختونخواہ میں انقلاب لائے گی بلکہ وفاق میں بھی قومی سمبلی و سینیٹ میں حزب اختلاف کا بھر پور کردار ادارتے ہوئے وفاقی حکومت کا قبلہ درست رکھے گی ۔ لیکن آج ساڑھے چار سال کا عرصہ گزرنے کے بعد صورتحال یہ ہے کہ خیبر پختونخواہ میں تبدیلی اور انقلاب کے دعوے اور نعرے محض ایک سراب ثابت ہو رہے ہیں ۔ پرانے بجلی کے منصوبوں پر نئی افتتاحی تختیاں لگائی جاتی رہیں ۔ پی ٹی آئی کے ایم پی اے حاجی فضل الٰہی اپنے کارکنوں کے ساتھ مل کر پشاور میں بجلی کے گرڈ اسٹیشن پر قبضہ کر کے حکومت کی رِ ٹ کو چیلنج کرتے رہے ۔فنانس ڈوژن کی رپورٹ کے مطابق صرف دو برس میں خیبر پختونخواہ حکومت نے 52ارب روپے کی کرپشن کی ۔ بلین ٹری منصوبہ بھی کرپشن سے نہ بچ سکا ۔ صوبے کے سیکریٹری ماحولیات نذر حسین کی انکوائری رپورٹ میں ثابت ہوا کہ درجنوں لوگ اس منصوبے پر ہاتھ صاف کرتے رہے ۔خیبر بنک کو شیر مادر سمجھ کر لوٹا گیا ۔ شعبہ تعلیم پر سب سے زیادہ توجہ دینے کا دعویٰ کرنے کے باوجود حال یہ رہا کہ سرکاری سکولوں نے اس سال 1سے 20تک کوئی ایک بھی پوزیشن حاصل نہیں کی ۔ صوبہ خیبر پختونخواہ کی اکثر یونیورسٹیاں وائس چانسلرز کے بغیر چل رہی ہیں ، جس کا نتیجہ ہے کہ مشال خان کے قتل جیسے اندوہناک واقعات سامنے آرہے ہیں اور اعلیٰ تعلیم کا معیار بھی متاثر ہو رہا ہے۔دوسروں کے لیے احتساب کی رَٹ لگانے والی پی ٹی آئی کے خیبر پختونخواہ میں احتساب کمیشن کا یہ حال ہے کہ آج تک اس ادارے نے کوئی ایک بھی کرپشن کا کیس منطقی انجام تک نہیں پہنچایا ہے۔ خیبر پختونخواہ کی صنعتی پالیسی بھی بری طرح فلاپ رہی ہے۔ دعوے کے باوجود رشکئی ، نوشہرہ ، رسالپور اور ڈیرہ وغیرہ میں کہیں کوئی صنعتی بستی فعال نہیں ہو سکی ۔ صحت کا شعبہ بھی قابل رحم حالت میں ہے۔ ڈاکٹرز اپنے حقوق کے لیے بار بار ہڑتال پر مجبور ہو رہے ہیں جبکہ ڈینگی اور دیگر وبائی امراض پر قابو پانے میں صوبائی وزارتِ صحت بری طرح ناکام دکھای دے رہی ہے۔اب تک ڈینگی سے تقریباًدو سو مریض جاں بحق ہو چکے ہیں اور 12ہزار سے زاید افراد میں ڈینگی وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔ہری پور میں کے ٹو اخبار کے بیورو چیف بخشیش الٰہی کو پی ٹی آئی کی لیڈی کونسلر اور دیگر افراد نے کرائے کے قاتلوں کے ذریعے قتل کر وادیا کہ وہ ان کے خلاف خبریں کیوں چلاتا ہے، یعنی اظہار رائے اور صحافتی آزادی بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔خود عمران خان وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت پر میٹرو بسوں کے حوالے سے شدید اور مسلسل تنقید کرتے رہے لیکن اب خود بین الاقوامی مالیاتی ادارے ایشین ڈیویلپمنٹ بنک سے 335ارب ڈالر کا قرض لے کر پشاور میں اسی نوعیت کا بس منصوبہ بنا رہے ہیں ۔اس تمام صوتحال کے تناظر میں پختون عوام تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو ایک روائتی حکومت قرار دینے پر مجبور ہیں ۔
اس سے بھی برا کر دار تحریک انصاف نے وفاقی حکومت میں ادا کیا ہے، جہاں ان کی ڈے ون سے یہ پالیسی رہی ہے کہ ’’ کھیلیں گے ، نہ کھیلنے دیں گے ۔ ‘‘قومی اسمبلی میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی بجائے تحریک انصاف کا پورا زور منتخب وفاقی حکومت کو گرانے میں صرف ہو تا رہا ۔ کبھی دھرنا ، کبھی لاک ڈاؤن، کبھی سول نا فرمانی کی دھمکی، کبھی جلوس ،کبھی جلسے، کبھی لانگ مارچ ، کبھی ذاتیات پر حملے، کبھی میڈیا ٹرائل ، کبھی پارلیمنٹ کو گالی ، کبھی ایمپائر کی انگلی کی دھمکی ۔ الغرض ، عمران خان اور ان کے ’’ نو رتنوں‘‘ نے ایسا کوئی حربہ نہیں چھوڑا ، جس سے وفاقی حکومت کو کمزور کیا جا سکتا ہو ۔ اس ضمن میں زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت کے خلاف یہ سارا زور قومی اسمبلی یا سینیٹ کے ایوانوں کے اندر نہیں لگایا گیا بلکہ اپنی نمائندگی کے لیے تحریک انصاف کو پارلیمنٹ میں بھیجنے والے 70لاکھ ووٹروں کے مینڈیٹ کی توہین کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے خلاف یہ سارے ہتھکنڈے پارلیمنٹ کے باہر سڑکوں ، میدانوں ، چوکوں اور گلیوں میں استعمال کیے گئے ۔یہی وجہ ہے کہ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کی حاضری چیک کی جائے تو ان کا گراف سب سے نیچے ہے۔پارٹی چیئر مین عمران خان کی حاضری آٹھ دن تک محدود ہے۔ یعنی خان صاحب ساڑھے چار سال میں صرف آٹھ دن قومی اسمبلی میں تشریف لائے۔ ان آٹھ حاضریوں کی داستانِ الم بھی کچھ یوں ہے کہ اس دوران عمران خان نے قومی اسمبلی کے اندر پوائنٹ آف آرڈر پر ایک لفظ بھی اپنے منہ سے نہیں نکالا ۔ کسی نقطۂ اعتراض پر بات کرنے کی زحمت کبھی گوارا نہیں کی اور نہ ہی موصوف نے قومی اسمبلی میں ہونے والی کسی بھی قسم کی قانون سازی میں حصہ لینے کو ضروری سمجھا۔ ہاں ! قومی اسمبلی کے ان آٹھ پھیروں کے دوران اگرخان صاحب نے کوئی کام کیا ہے تو وہ نو مرتبہ ڈیسک بجانا ہے اور بس۔ایک طرف اپنی ذمہ داریوں سے اس بری طرح نا انصافی کی اور دوسری جانب قومی اسمبلی کے ممبر کی حیثیت سے انھوں نے بڑی ڈھٹائی سے جو مراعات اور تنخواہوں کی مد میں رقوم وصول کیں ،وہ حیران کن ہیں ۔ ڈھٹائی سے اس لیے لکھا کہ ان کی نظر میں اگرباقی سب لوگ کرپٹ اور بد دیانت ہیں جو ملک و قوم کی دولت ہڑپ کرتے جا رہے ہیں تو ان کو اپنی ذات کے حوالے سے تو پھر ایک رول ماڈل پیش کرنا چاہئے تھا کہ چونکہ میں نے اپنی ڈیوٹی یعنی قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں حاضری نہیں دی اور کسی قسم کی قانون سازی یا اسمبلی کی کارروائی میں حصہ نہیں لیا ، اس لیے میں یہاں سے کوئی تنخواہ یا مراعات وصول نہیں کرتا ۔ لیکن انھوں نے سب کو کرپشن زدہ کہنے اور ان کے خلاف اسمبلی کے باہر چور چور کا شور مچانے کے باوجود خود بھی بغیر کسی محنت اور مشقت کے قومی اسمبلی کی تنخواہیں اور مراعات وصول کیں ، لہٰذا اس کو ڈھٹائی نہیں کہیں گے تو اور کیا نام دیں گے ۔اب دل تھام کر سنیں کہ ساڑھے چار سال میں صرف آٹھ مرتبہ قومی اسمبلی میں آنے کے عوض عمران خان تنخواہ اور دیگر مراعات کی مد میں 6کروڑ 55لاکھ 50ہزار روپے وصول کر چکے ہیں ۔ان میں تنخواہ کے علاوہ کیفے ٹیریا کے اخراجات ، ٹیلی فون ، پیٹرول ، بجلی کے بلات اور علاج معالجہ کے اخراجات وغیرہ شامل ہیں ۔اس پر یہ محاورہ صاد ق آتا ہے کہ کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا بارہ آنے۔ اس سب کے بعد اب الیکشن کمیشن جیسے قومی وفاقی ادارے کی ساکھ اور وقار کو مجروح کرنے کی کمی رہ گئی تھی جو عمران خان اور ان کے پارٹی رہنماء بہت اخلاص سے پوری کر رہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اپنی ساڑھے چار سالہ ’’ شاندار ‘‘ کار کردگی کے بعد عمران خان بہت معصومیت سے اپنے پارٹی رہنماؤں سے پوچھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت کا گراف بڑھنے کی بجائے کم کیوں ہو رہا ہے!خان صاحب کی اس معصومیت پر یہی کہا جا سکتا ہے:’’ اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا۔ ‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com