صحت کا معیار بلند ہوا مگر کس کا ؟

صحت کا معیار بلند ہوا مگر کس کا ؟
تحریر؛ ڈاکٹر ایم ایچ بابر 
خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے لندن میں اپنے طبی معائنے کے بعد ایک فرمان جاری کیا ہے کہ پنجاب میں نظام صحت کا معیار بلند ہوا ہے یہ سن کر میری سوچ کا دھارا یکدم اپنے یہاں موجود نظام صحت کی طرف بہہ نکلا کہ کس قدر صحت کا معیار بلند ہے یہاں کہ وزیر اعلیٰ موصوف جیسے لاہور کو چھوڑ کر چیچوکی ملیاں میں اپنے چیک اپ کے لئے تشریف لائے ہوں تا کہ دنیا کو باور کروا سکیں کہ نا صرف لاہور بلکہ ہمارے دیہی مرکز صحت بھی اس وقت عالمی معیار کو چھو رہے ہیں تب تو کوئی بات بھی ہوتی مگر جناب اپنے طبی معائنے کے لئے لندن جا کر سکون راحت محسوس کرتے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں یہاں صحت کی سہولیات کے معیار کا صد آفرین جناب میاں صاحب آپ کی سوچ پر ۔یہ تو وہی بات ہوئی کہ کوئی شخص ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے گیااس نے وہاں کے ویٹر سے پوچھا کہ آپ کا مینجر کدھر ہے تو ویٹر نے جواب دیا کہ وہ ساتھ والے ہوٹل سے کھانا کھانے گیا ہوا ہے اگر ہمارا نظام صحت اتنا ہی بلند ہو چکا ہوتا تو جناب آپ لندن کیوں جاتے یہیں سے اپنا چیک اپ کروانے کو ہی ترجیح اولین سمجھتے مگر ایسا ہوا کیوں نہیں ؟کیونکہ آپ یہاں کے نظام صحت سے مطمئین نہیں اسی وجہ سے تو آپکو چھینک بھی آجائے تو لندن روانہ ہو جاتے ہیں جناب ۔میاں صاحب ذرا ذہن پر زور دے کر یاد فرمایئے گا کہ آخری مرتبہ کب اور کس اسپتال میں آپ چیک اپ کے لیئے تشریف لے گئے تھے پنجاب میں مثال کے طور پر شیخ زید سے لے کر میاں منشی اسپتال میں سے کوئی ایک ہی گنوا دیں جب حکمران طبقہ ہی اپنے اسپتالوں میں چیک اپ کروانا اپنی توہین سمجھے گا تو کیا خاک بہتر ہو گا نظام صحت کا معیار ؟جناب عالی وہ اور ہستیاں ہیں جو جو باہر علاج کروانے کی استطا عت رکھتے ہوئے بھی اپنی دھرتی ہی پر آخری ہچکی لینا گوارہ کرتی ہیں مگر لندن یا امریکہ میں علاج کو جوتے کی نوک پر ٹھکرا دیتی ہیں ۔ کیا قائد اعظم محمد علی جناح لندن میں علاج کے لئے نہیں جا سکتے تھے ؟ مولانا عبدالستار ایدھی کیا لندن یا امریکہ میں علاج کروانے کی سکت نہیں رکھتے تھے ؟بلکہ انہیں تو بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری کے علاوہ ملک ریاض نے بھی بیرون ملک علاج کی آفر بھی کی تھی جسے انہوں نے شکریہ کے ساتھ انکار کر دیا تھا بلکہ یہ کہا تھا کہ جو رقوم آپ میرے علاج پر خرچ کرنا چاہ رہے ہیں وہ دکھی انسانیت کی خدمت پر خرچ کر دیں جس سے میں بھی خوش ہوں گا اور اللہ پاک کی ذات بھی آپ پر راضی ہو گی ۔جناب خادم اعلیٰ صاحب افر آپ ماہانہ طبی معائنے کے لئے صرف لاہور کے اسپتالوں ہی میں کروا لیں تو پھر نتیجہ خود دیکھ لیجئے گا کہ تمام اسپتالوں کا قبلہ کیسے درست ہوتا ہے اور اسی طرح ہر شہر یا گاؤں کا ایم پی اے اور ایم این اے اگر اپنے علاج کے لئے اپنے مقامی اسپتال کو ترجیح دے گا تو نظام صحت دیکھ لیجئے گا کتنی قلیل مدت میں ٹھیک ہوتا ہے مگر ایسا ہو گا نہیں کیونکہ ارباب اقتدار اور صاحبان ثروت کو نہ ہی اپنے اسپتالوں پر اعتماد ہے اور نہ ہی یہاں کے ڈ اکٹروں پر یقین تبھی تو سرکاری ڈاکٹر بیچاری عوام کے ساتھ جو چاہیں سلوک کریں ان کو کوئی روکنے والا نہیں ،عوام کے لئے سہولیات میسر ہوں نا ہوں کسی کو کوئی پریشانی نہیں کیونکہ برے لوگوں نے تو لندن ،پیرس،واشنگٹن، علاج کے لئے چلے جانا ہوتا ہے نہ کوئی بڑا آدمی اپنے علاج کے لئے کسی سرکاری اسپتال آئے گا اور نہ ہی کسی کو کوئی ٹینشن ہو گی باقی رہ گئی عوام تووہ تو بیچاری پیدا ہی ایڑیاں رگڑ کر مرنے کے لئے ہوئی ہے ۔ یہ کوئی مذاق کی بات نہیں جناب ایم پی اے اور ایم این ایز تو دور کی بات اب تو بلدیہ کے چئیرمین یا کسی صاحب ثروت کونسلر نے بھی علاج کروانا ہوتا ہے تو وہ بیرون ملک جانے کو پہلی ترجیح خیال کرتا ہے۔تو پھر پاکستان میں صحت کے نظام کا اللہ ہی حافظ ہے ۔اب میں ذرا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال میں ہی نظام صحت کے بلند معیار اور سہولیات سے آپکو متعارف کروائے دیتا ہوں یہ وہ اسپتال ہے جس میں روزانہ کی بنیاد پر ساڑھے چھہ ہزار سے سات ہزار مریض آتے ہیں ، جس میں مریضوں کے لواحقین کے لئے کوئی اقامت گاہ نہیں ہے،دو عدد کینٹینیں تھیں جو گزشتہ چار پانچ ماہ سے بند پڑ ی ہیں نہ کسی جاں بلب مریض کے لئے جوس ،ڈبل روٹی ،اور دیگر کھنے پینے کی چیزیں سرے سے میسر ہی نہیں جتنی دیر میں مریض کے ورثاء باہر سے دودھ یا جوس وغیرہ لائیؓ گے مریض راہیء ملک عدم ہو چکا ہو گا ،صا ف پانی کے لئے لگائے گے الیکٹرک کولر ایک مدت سے خود پانی کی بوند بوند کے لئے ترس رہے ہیں یہ سمجھ لیں کہ ڈی ایچ کیو شیخوپورہ میں آکے یوں لگتا ہے جیسے وہ کربلا والے پیاسوں میں آن ملا ہو ،اتنے بڑے اسپتال میں کوئی برننگ یونٹ نہیں ہے حالانکہ مشرف دور سے سنتے چلے آرہے ہیں کہ یہاں برننگ یونٹ منظور ہو چکا ہے ا گر منظور ہو چکا تو اس کی تنصیب کس کو منظور نہیں تھی یا پھر غریب عوام یہ کہہ کر خود کو تسلی دے لے کہ اچھا جو اللہ کو منظور ؟ضلع بھر سے حادثات کے بہت سے مریض یہاں لائے جاتے ہیں جن میں اکثر ہیڈ انجری والے ہوتے ہیں عرصہ دراز سے اہلیان شیخوپورہ سی ٹی سکین مشین کی راہ تک رہے ہیں اگر سی ٹی سکین کی سہولت یہاں موجود ہو تو مریض کو لاہور ریفر نہ کرنا پڑے کیونکہ ہیڈ انجری کے مریض کو جب لاہور ریفر کیا جاتا ہے تو ان میں سے بیشتر راستے ہی میں داعی اجل کو لبیک کہہ جاتے یہاں کا ای این ٹی کا شعبہ چیف سرجن سے تہی دست ہے ڈاکٹر قاضی محسن عظیم کی ریٹائرمنٹ کے بعد ابھی تک کوئی ای این ٹی سرجن یہاں تعینات نہیں کیا گیا یہ تمام سہولیات فراہم کرنا اصل میں ذمہ داری کن کی تھی ؟ ان ہی کی نہ جو لندن میں چیک اپ کے بعد فرمان جاری کرتے ہیں کہ پنجاب میں صحت کا معیار بلند ہوا ہے اگر صحت کا معیار اسقدر بلند کر دیا ہے آپ نے تو پھر آپکو لندن جانے کی احتیاج آخر کیوں پیش آئی ؟اس میں کوئی شک نہیں کہ ایم ایس ڈاکٹر شہناز نسیم کی قیادت میں نوجوان ڈاکٹرز بڑی تندہی اور جانفشانی سے کام کر رہے ہیں مگر جب سہولیات ہی میسر نہ ہوں گی تو مورد الزام کون آئے گا یہی ڈاکٹرز ہی نا؟جب انکے پاس سہولیات نہیں ہوں گی تو مریض کو ریفر ہی کریں گے نا ؟کس قدر بلند کر دیا آپ نے صحت کا نظام اے حاکمان وقت ؟میرے اسْ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹراسپتال کے ڈاکٹروں کا تو یہ حال ہے کہ بقول شاعر 
امیر شہر نے کاغذ کی کشتیاں دے کر 
سمندروں کے سفر پہ کیا روانہ مجھے 
اور ہاں ایک چیز اور اگر اسپتال کو فراہم کر دی جائے تو لاوارث مریضوں اور لاوارث میتوں کے ورثا تک پہنچا جا سکتا ہے وہ ہے بائیومیٹرک مشین وہ چاہے حکومت فے دے یا کوئی مخیر اس طرح کوئی مریض یا میت لاوارث نہیں رہے گی اگر یہ ساری سہولیات میسر ہوں پھر تو آپ لندن میں بیٹھ کر صحت کے معیار کی بلنی کی بات کریں تو کسی حد تک مانی جاسکتی ہے ورنہ محض سیاسی بیان بازی سے کچھ حاصل نہیں ۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com