میں اسلامی جمہوریہ پاکستان ہوں

میں اسلامی جمہوریہ پاکستان ہوں
نہ ہے زمان نہ مکاں لا الہ الا اللہ
(۷۰ سال میں قومیں اپنا وجود بنا لیتی ہیں)
آج ۱۴ اگست ہے، مجھے معرض وجود میں آئے ہوئے ۷۰ برس ہوگئے ، میں پاکستان ہوں،میری اساس لاالہ الاللہ پرتھی ، اسلام کے نام پر ابھرنے والی دوسری بڑی ریاست ، پہلی ریاست مدینہ المنورۃ صحابہ کرامؓ اور نبی آخرالزماں حضرت محمدﷺ کی مکہ سے مدینہ ہجرت کرتے ہوئے وجود میں آئی ،جبکہ دوسری ریاست یعنی کہ میں برصغیر ہند میں سنت نبویؐ پر عمل کرتے ہوئے اس خطہ ارض پاکستان کی شکل میں ابھرا، لیکن افسوس میرا راہبروراہنما محمد عربیؐ نہ تھا ،جو میری راہیں متعیں کرتے، میرا بنانے والاقائدبیماری کی نذر ہوگیا ،میری راہیں ریاست مدینہ کی ہی طرز پر متعین ہونی چاہیے تھیں چونکہ میں اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا لیکن نہیں میں آدھا تیتر آدھا بٹیر ،آج بھی بے پر کے پنچھی کی طرح ہوں، میں اسلامی جمہویہ پاکستان نہ بن سکا، مجھے آزاد کرواکے دھشت کے لق ودق صحرا میں بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا،میرے خدوخال ڈھلنے باقی تھے میری راہیں متعین ہونا باقی تھی صد افسوس ایسا نہ ہو سکا ،مجھے کوئی صادق وامین راہبر نہ ملا،مجھ میں بسنے والے ۲۰ کڑور لوگوں کا ہجوم ابھی تک ایک قوم نہ بن سکا، جبکہ ۷۰ برسوں میں قومیں اپنا وجود بنا لیتی ہیں، مدینے کی ریاست میں ایک قوم ابھری تھی ،’’مسلمان ‘‘،جنہوں نے آقاء نامدارﷺکے بتائے ہوئے قوائدوضوابط کے تحت پوری دنیا میں اسلام کا ڈنکا بجا دیا ،اور اسلامی ریاست کو حدود کی قید سے آزاد کردیا،جبکہ مجھ میں ہجرت کرکے آنے والے ہر ایک کی اپنی ڈھیڑ اینٹ کی مسجدہے، ہر ایک تفرقے بازی میں غرقاں،ہرکسی کی الگ پارٹی ،لسانی گروہ ،صوبائی عصبیت ہر ایک کا الگ جھنڈا۔میں نے دیکھالوگ جب اردگان کی حکومت بچانے کیلئے باہر نکلے تو سب کے ہاتھوں صرف ترک جھنڈا تھا سب ایک تھے اسی لیے تو کامیابی ان کے قدم چومتی ہے ،وہ محب وطن لوگ ہیں انہوں نے اپنا نام بنایا دنیا میں بڑے بڑے منصوبوں پر ترک کمپنیز کا کنٹرول ہے ،میرے بسنے والے میرے محب نہیں پتہ نہیں کیوں مجھ سے محبت نہیں کرتے؟کیوں محنت نہیں کرتے۔ میں جغرافیائی لحاظ سے ایک ایسے خطہ میں ہوں ،جس کی اہمیت سونے اورہیرے کی کان جیسی ہی نہیں بلکہ میں ہر قسم کی کانوں سے بھرپور ہوں ،جس میں اللہ کی ہر نعمت موجود،میں ۵ دریاوں کی ذرخیز زمین ہوں ،میں سونا اگلتے لہلاتے کھیتوں کی سرزمین ہوں جو ہاوزنگ اور نئے ٹاونز کی نذر ہوتا جارہا ہوں،مجھے نیا پاکستان بنانے کی دوڑ نے سیاسی حکمران پارٹیوں کو کام پرلگا دیا ہے سب سے اچھاکام شجر کاری مہموں کا آغاز جس میں سندھ اور بلوچستان میں کوئی کام شروع نہیں ہوا،میرے جنگلات پھر سے سر سبز درختوں سے بھر جائیں گے!! 
علم والے کہتے ہیں کہ اگر کسی ملک کی امارت کا اندازہ لگانا ہو تو دیکھیں ،اس ملک کو سمندر میسر ہے ؟،اس ملک میں پہاڑ ہیں؟،اس ملک میں میدان ہیں ؟اس ملک میں صحرا ہیں؟ الحمدلللہ میرے پاس یہ دولت ہے ،ایسی گرم پانیوں کی دولت جس کیلئے روس داوؤ پر لگ گیا تھا ،اور چائینہ کے نصیب میں قدرتی پورٹ گوادر لکھا گیا!،دنیا کی بلند اور خوبصورت ۸ چوٹیوں میں سے ۶ بلند بالا برف پوش چوٹیاں اور خوبصورت جھیلیں میرے سینے پہ سجی ہیں،تھر اور چولستان جیسے لق ودق صحراکی زمیں ہوں میں جس میں دنیا کے بڑے بڑے خزانوں کا مالک ہوں میں جیسے کوئلے ،گیس،آئل،تانبا ،سونا چھپا ہوا ہے،پنجآب ۵ دریاوں کی میدانی لہلاتے سرسبز کھیتوں،انواع واقسام پھلوں جن کی نظیر نہیں ملتی کی زمین کا مالک ہوں۔ لیکن افسوس ان سب نعمتوں کے باوجود مجھ میں بسنے والے خوشحال وآسودہ نہیں ،میں چارموسموں کی سرزمین ہوں، مجھ میں ہجرت کرکے آنے والے بڑی قربانیاں دے کر یہاں تک پہنچے تھے خون کی ندیاں پار کرکے آئے تھے عزتوں کی بَلی دے کر پہنچے تھے یہ سب وقت نے دیکھا،لیکن افسوس سب قربانیاں رائیگاں گیءں، میرے بسنے والے خود غرض ہوگئے نفسا نفسی کا عالم بھرپا ہے ،جو پرکھوں نے کمایا تھا سرعام لٹا ہے، مجھ سے بہت بعد آزاد ہونے والے میرے ساتھی ممالک مجھ سے ترقی کی دوڑ میں بہت آگے نکل گئے 249لیکن میں غیروں سے زیادہ اپنوں سے لٹا ہوں ،میرے سینے پر ہر روز کہیں نہ کہیں بم پھوٹتا ہے میں لہو لہو ہوجاتا ہوں،ٹرپتی لاشوں ،اجڑتی مانگوں، سونی گودوں کا دکھ سہا نہیں جاتا،پر کیا کروں اور کس سے کہوں!!
سادھو کس نوں کوک سناواں میری بکل دے وچ چور
میرے باڈر تینوں اطراف سے دشمنوں نے گھیر رکھیں ہیں میرے وجود کی نفی میر ے باہر وا لے دشمن ہی نہیں میرے اندر بسنے والے بھی کرناچاہتے ہیں،آج میں حالات کے جس بھنور میں ہچکولے کھا رہا ہوں اس کا بڑا سبب مجھ پر مسلط نااہل حکمرانوں کی نااہلی ، سیاسی کھینچا تانی اور جمہوری روادری کا فقدان ہے ۔میرے وجود کا بنیادی مقصد میرے بسنے والوں کا معیار زندگی بلند کرنا ، انہیں ہر سطح پر باوقار بنانا اور اسلامی طرز حکومت تھا ،معاشرتی انصاف،اقتصادی اور تعلیمی حالات بہتر بنانا تھا ۔میرے بنانے والے نے تو کہا تھا کہ’’پاکستان میں ایک ایسا اقتصادی نظام فروغ پائے گا ،جو اس میں بسنے والوں کی فلاح وبہبوداور خوشحالی کے یکساں مواقع فراہم کرے گا۔معاشرتی اور معاشی ناہمواریاں بتدریج دور ہو جائیں گی،محروم اور پسماندہ طبقوں کا ملکی وسائل پر سب سے زیادہ حق ہوگا‘‘ مگر آہ!! 
اڑالی قمریوں نے طوطیوں نے عندلیبوں نے چمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میری
آج پھر سے جشن منائے جائیں گے جھنڈے اور جھنڈیاں لہرائی جائیں گی آج جھنڈوں کا رنگ ایک ہی ہوگا ،تاریخ سے نابلد لونڈے موٹر سائیکلوں سے سائیلینسر نکال کر بے وجہ اداس خوشی منائیں گے، واللہ میں مایوس نہی ،میرے خیرخواہ کہتے ہیں میں مایوس کیوں ہوں مجھے پتہ ہے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ،میں تو پاکستان ہوں !!
میری دعا ہے کہ اے پروردگار ،میرے بسنے والوں کو متحد کردے ،حوصلہ دے ، انہیں انتخاب کی درست سوج بوجھ دے ، میرے اندر باہر کے دشمنوں کو نیست و نمود کردے ،جس مقصد کیلئے میں وجود میں آیا ہوں ،اس مقصد کے لئے راہیں ہموار کردے،میرے بسنے والوں کو ایک مضبوط اور منظم مسلم قوم بنا دے ،ہمیں اقوام عالم میں سر اٹھا کرچلنے کے قابل بنا دے ،آمین۔
آزادی کا یہ دن ایک منزل نہیں صرف نشان منزل ہے!
میں تو پاکستان ہوں،میں ہی پاکستان ہوں!!!!!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com