باپ کا سایہ ۔۔۔رحمت کی ایک چادر

باپ کا سایہ ۔۔۔رحمت کی ایک چادر
مرزارضوان

بلاشبہ ماں باپ کا اس دنیا میں کوئی نعم البدل نہیں ہے ہر انسان اس مقدم و مقدس رشتے کا صدق دل سے احترام کرتا ہے اور جہاں تک ممکن ہوتا ہے وہ انکی خدمت کا فریضہ سرانجام دیتا ہے ۔یقیناًماں باپ کی دعائیں ہم پر ہمیشہ سایہ کئے رہتی ہیں اور دنیا و آخرت میں کامیابیوں اور کامرانیوں سے ہمکنار کرتی ہیں۔بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ کہ جن کو اپنی زندگی میں اپنے ماں باپ کی خدمت کا اللہ رب العزت نے موقع عطا کیا ہو۔یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ تمام والدین بہت ہی مشکلات اور باد مخالف سے نبرد آزما ہوتے ہوئے زندگی کے ہر نئے موڑ پر مکمل رہنمائی اور بے لوث محبت کے ذریعے اپنے بچوں کو ان کی منزلوں تک پہنچاتے ہیں جبکہ ان کی محبت ’’بے لوث‘‘ہوتی ہے بالکل بے لوث ۔۔۔کیونکہ ضروری نہیں کہ وہ بچوں سے کوئی مفاد حاصل کرسکیں ، ان کو توصرف بچوں کی کامیابی سے حقیقی و دلی خوشی اور راحت ملتی ہے ، ساری زندگی محنت ، مشقت اور اپنی زندگی کو داؤ پر لگا کر بچوں کیلئے روزی روٹی تلا ش کرکے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں ، ماں اور باپ کے احسانات کا بدلہ کوئی انسان بھی ادا نہیں کرسکتا کیونکہ ان کی موجودگی ہی انسان کی ترقی کی منازل باآسانی طے کرواتی ہیں ۔اللہ رب العزت کے حاص فضل و کرم سے اپنے والد محترم محمد شریف مرزااور والدہ کے ہمراہ عمرہ ادائیگی سے واپسی پرکافی دفعہ لکھنے کا ارادہ کیا مگر کسی نہ کسی ذاتی و دفتری مصروفیت کی وجہ سے لکھتا تو ادھورا رہ جاتا اور مکمل نہ کرپاتا ، دوسری جانب عمرے واپسی پر والد گرامی کو سینے میں دائیں جانب شدید درد ہونے پر ڈاکٹرز کے چیک اپ کے بعد سٹی اسکین ، بائیو آپسی پر تشخیص ہوا کہ دائیں پھیپھڑے پر کینسر ٹیومر ہے ۔ان کے علاج معالجے کی صورت میں انکی خدمت پر معمور رہا ،ان کی بیماری کی ٹینشن نے بھی قلم ہاتھ میں ہونے کے باوجود کچھ تحریرنہ کرنے دیا ۔ آخر کا ر میرے والد گرامی 13اکتوبر بروز جمعتہ المبارک بوقت ساڑھے 11بجے دن اپنے خالق حقیقی سے جاملے (ان للہ وانا علیہ راجعون) ۔دعا ہے اللہ رب العزت اپنے حبیب پاک حضور نبی کریم ؐ کے صدقے میرے والد گرامی محمدشریف مرزا کو جنت الفردوس میں اعلیٰ و ارفعٰ مقام اور انکو کروٹ کروٹ چین نصیب فرمائے (آمین) ۔
بچپن میں بھی جس قدر انہوں نے شفقت و محبت سے پرورش کی اس کا نہ تو شکر ہی ادا ہو سکتے ہے اور نہ ان کے احسانات کا بدلہ ہی دیا جاسکتا ہے ۔والد گرامی کی جدائی نے پتہ نہیں کہاں کہاں وار کئے ہیں ، اب تحریر کرتے ہوئے محسوس ہورہاہے کہ جیسے جسم زخموں سے چُور ہے اور ہاتھ شیل ہوچکے ہیں ، لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ جانے والے کہاں لوٹ کے واپس آتے ہیں ۔ان کی موجودگی میں نہ کوئی فکر اور نہ ہی کوئی غم ، کہیں کچھ محسوس ہوتا بھی تو دل میں خیال آتا کہ ’’ڈیڈی ‘‘ہیں نہ ۔۔۔پھر ان سے اس ٹینشن کا ذکر نہ بھی کرنا اور ان کے ہاتھ چوم لینے یا پاؤں کو ہاتھ لگا لینا تو والدہ سے کہنا کہ ’’اب اسے کوئی مجھ سے کام ہوگا لازمی‘‘اور ساتھ ہی مسکرا دینا ، تیرے پاس پیسے ہیں ، خیریت تو ہے ، کوئی ٹینشن ہے ان کے اصرار پر کہہ دینا کہ بس دعا کریں ، والد گرامی نے کہنا کہ بیٹا پوری دنیا میں شاید ہی کوئی والدین ہونگے جو اپنے بچوں کیلئے ’’دعا ‘‘ نہیں کرتے ہوں گے ۔شاید ہی کوئی ایسے والدین ہوں گے جن کو ان کے بچوں پھلتے بڑھتے دیکھ کر خوشی نہیں ہوتی ہوگی ، نجانے ایسے لوگ بھی ہوں گے جو اپنے بچوں کی خوشی کیلئے اپنا سب کچھ قربان نہ کرتے ہوں ۔۔۔ بیٹا میری بہت ساری باتوں کی تمہیں تب سمجھ آئی گی جب تم میری جگہ پہ پہنچوگے ۔اس دنیا سے رخصت ہونے کے تین دن پہلے ان کے ساتھ ہنسی مذاق چل رہاہے تھا کہ میں نے کہاکہ ’’ڈیڈی ‘‘میرے کالموں پر مشتمل ایک کتاب شائع ہونے والی ہے میری خواہش ہے کہ اس کتاب کا پہلا ورق اپ کی تحریر پر مشتمل ہو مگر تحریر آپ کے ہاتھ سے ہو اور جو آپ میرے متعلق کہنا یا لکھنا چاہتے ہیں وہ اس پر تحریر ہو یعنی آپ کے نزدیک میں کیسا ہوں ۔۔۔تو ڈیڈی مسکر ا کے کہنے لگے کہ بیٹا تم ایک کاغذ پرجو دل کرتا ہے تحریرکر کے لے آؤ ’’میں‘‘نیچے دستخط کردیتا ہوں اور اگر سادہ پیپر پر کہتے ہو تو میں دستخط کردیتا ہوں جو دل میں آئے تحریر کرکے کتاب سے سرورق پر لگا لینا۔اب یقیناًہر لمحہ ان کی کمی محسوس ہوتی ہے اور جب تک زندگی ہے ہوتی رہیگی ۔
محترم قارئین ! اپنے والد گرامی کے ہاتھوں کو ہاتھ میں لیکر چند الفاظ آپ کی نذر
آپ کے ہاتھوں کی نرمی ابھی تک محسوس ہوتی ہے ۔۔۔!
کہ جس کو تھام کے میں نے چلنا سیکھاتھا
کہ جس نے لڑکھڑانے پر مجھکوسنبھالا تھا 
کہ جس کی شفقت کا میرے سر پہ سایہ تھا 
کہ جس کو تھام کے میں نے لکھنا سیکھا تھا
کہ جس نے انتھک محنت سے مجھے پالا تھا 
کہ جس نے مشکلوں سے یکدم مجھکو نکالا تھا 
اسی ہاتھوں کی خوشبو کو میں ابتک محسوس کرتا ہوں 
میں اپنی اداس طبیعت کو ہر دم شاد کرتا ہوں
کہ جب میں زندگی کے بھنور میں پھنس سا جاتا ہوں 
کہ انہی ہاتھوں کو اپنے ساتھ میں محسوس پاتا ہوں 
کہ وہی ہاتھوں سے پھر مجھکو سنبھالا ہے سنبھالیں گے 
کہ وہی ہاتھوں سے پھر مجھکو بھنور سے نکالاہے نکالیں گے 
کہ ان ہاتھوں کی نرمی کوبڑی شدت سے میں آج بھی یاد کرتا ہوں 
کہ ان کے دست شفقت کو میں آج بھی یاد کرتا ہوں 
کہ ان کی بے پناہ برکت کو میں آج بھی یا د کرتا ہوں 
انہی کے ہاتھ ہیں مجھ پر انہی کے دم سے رونق تھی 
کہ جن کو چوم کر میں نے بہت عزت کمائی ہے 
آپ کے ہاتھوں کی نرمی ابھی تک محسوس ہو تی ہے ۔۔۔!
خدا سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت سب کے والدین کو صحت و تندرستی سے نوازے اور ان کا سایہ اولاد پر تاقیامت جاری رکھے، اللہ رب العزت ہمیں اپنے والدین کی بھرپور خدمت کی توفیق بخشے ، دعا ہے جن کے والدین اس دنیا سے جاچکے ہیں اللہ رب العزت انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمائے (آمین ثم آمین) 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com