مسلمانوں کی غیرت ایمانی پر ٹرمپ کا وار

مسلمانوں کی غیرت ایمانی پر ٹرمپ کا وار کبھی اے نوجوان مسلم تدبر بھی کیا تو نے وہ کیا گردوں تھا، تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارہ! حکیم الاامت قلندر لاہور شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال نے کیا خوب نوجوانوں کی توجہ مبذول کروائی ہے کہ آج کے نوجوان کے اندر وہ جوش اور ولولہ دیکھائی نہیں دیتا جو پہلے مسلمان نوجوانوں میں تھا۔دشمن اپنے ناپاک ارادوں سے پہلے ہمیں یکجا ہونے سے روکتا رہا پھر ہم میں نفرتوں کے بیج بو کر ہمیں چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں تقسیم کرتا رہا اور ہمارے رہبرو رہنما ان کے اشاروں پر ناچتے رہے اور آج وہ ہمارے مقدس مقامات کی بے حرمتی کر رہا ہے اور ہم خواب غفلت میں سونے کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ ڈاکٹر علامہ اقبال کے اس شعر کی اگر گہرائی میں جائیں تو پتہ چلتا ہے وہ کیا کہنا چاہ رہے ہیں ،وہ آج کے نوجوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ایک وقت تھا جب ایک سترہ سالہ نوجوان سات ہزار کی فوج لے کر ہندوستان کی طرف روانہ ہوا اور دیبل پر حملہ کیا اور کامیابی سے ہمکنار ہوا اور اسے فتح کرتے ہوئے راجہ داہر کو جہنم واصل کیا اور وہاں سے عورتوں بچوں کو آزاد کرایا۔ یہ جنگ صرف ایک خط کی وجہ سے لڑی گئی تھی ایک مظلوم عورت نے مسلمان ہونے کے ناطے مدد مانگی تھی یہ غیرت مسلمانی کا ایک واقعہ ہے جو بیان کیا۔ حضرت محمد ﷺ کی حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں بھائی بھائی کی طرح رہنا چاہیے ایک اور جگہ فرمایا مسلمان ایسے رہے کہ اگر مشرق میں ایک مسلمان کے پاؤں میں کانٹا چبھے تو مغرب کے مسلمان کو اس کی تکلیف محسوس ہو۔ اب آئیں ذرا سرزمین مقدس کی طرف اس کی کیا اہمیت ہے قرآن اور حدیث نے اس کا بہت ذکر کیا ہے ۔ حضو ر پُر نو رﷺ کی دعا سے پہلے مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نما ز ادا کرتے تھے ، 2 ہجری 624 ء تک بیت المقدس ہی مسلمانوں کا قبلہ تھااسے قبلہ اول بھی کہتے ہیں۔ یورپی زبان میں اسے یروشلم کہتے ہیں عربی میں اس کا نام مقدس یعنی پاک ہے اور منصنفین اسے بیت المقدس لکھتے ہیں یعنی پاک سر زمین۔بیت المقدس سے مراد ایسا پاک گھر جن کے ذریعے گناہوں سے پاک ہونا ہے۔بیت المقدس پہاڑوں پرآباد ہے اور ان میں سے ایک پہاڑی کا نام کوہ صیہون ہے ۔ کوہِ صیہون کے نام کی وجہ سے ہی یہودیوں نے عالمی تحریک صیہونیت کی بنیادر کھی۔اس مقام کا ذکر قرآن پاک میں بھی آیا ہے سورہ الااسراء (سورہ بنی اسرایل پارہ نمبر15) آیت نمبر 1 ترجمہ’’ پا ک ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندے کوایک رات میں مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے اردگر د ہم نے برکت رکھ دی ہے‘‘۔ اس آیت کریمہ کی روشنی میں ہمیں یہ بات واضع ہوتی ہے کہ اس مقام کی اللہ کریم کے ہاں کتنی اہمیت اور برکت ہے۔فلسطین اور شام کا علاقہ بھی بابرکت ہے۔اس سر زمین کے مقدم اور با برکت ہو نے کے لیے اللہ تعالیٰ کا ارشا د پاک ہے سور ہ المائدہ آیت نمبر 21، ’’اے میرے قوم کے لوگوداخل ہو جاؤ اس سرزمینِ مقدس میں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے‘‘آج اگر دیکھا جائے توبہت کم مسلم ممالک ہیں جہاں امن ہے باقی تمام مسلمان ممالک یہودو نصاریٰ کے ظلم و ستم اور بربریت کا شکار ہیں ، شام فلسطین، ایران ، عراق، بوسینیا، کشمیر ، لیبیا، یمن ، روہنگیا جیسے کتنے ممالک ہیں جہاں مسلمانوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم ہے ۔نہتے مسلمان بہن بھائیوں پرظلم کیا جا رہا ہے ، زندہ مسلمانوں کو جلایا جا رہا ہے ،زندہ لوگوں کی گردنیں کا ٹی جا رہی ہیں اور پھر بھی الزا م ہے کہ مسلمان دہشتگردہیں۔اور ہم زندہ لاشیں صرف ماتم کرنے اور مذمت کرنے کے لیے رہ گئے ہیں۔ غیرت مسلمانی یکسر ختم ہو چکی ہے کیونکہ ہم نے اپنے محور و مرکز کو چھوڑدیا ہے ۔ اللہ اور اس کے پیارے نبی کی باتوں کو بھلا بیٹھے ہیں۔ صرف اپنی ذات تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ آج دشمن کھل کر سامنے آچکا ہے اور وہ غیرت مسلمانی کو للکار رہا ہے لیکن ہم سو رہے ہیں کیونکہ ہماری سوچ کو بھی محدود کر دیا گیا ہے کہ یہ میرا معاملہ نہیں جب میری بات ہو گی تو دیکھیں گے لیکن دشمن اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتا چلا جا رہا ہے۔مسلمانوں پر ظلم و ستم کا دائرہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے جس پر اقوام عالم کی سپر طاقیتں بھی خاموش ہیں ۔ ہماری نوجوان نسل کو موبائل اوردیگر لغویات پر لگا دیا گیا ہے جبکہ نبی کریم ﷺ کی پسندیدہ کھیل نیزہ بازی، تیراکی ، تیر اندازی ،گُھڑ سواری جیسے کھیل تھے کیونکہ اس سے جسم چست اور توانا رہتا ہے بیماریاں گھیرا نہیں ڈالتیں اور دشمن کا مقابلہ جم کر کیا جاتا ہے مگر آج کے نوجوان کو کمروں کی حدود تک محدود کر دیا گیا ہے وہ ان ڈور کھیل کھیلنا پسند کرتا ہے جس سے جسم بیکار اور بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے ۔ دشمن ہمیں اندرونی طور پر کمزور کر رہا ہے ۔ بیت المقدس پر حملہ مسلمانوں پر حملہ تصور کیا جانا چاہیے ۔ قبلہ اول کی توہین کی گئی ہے ۔کاش ہم فرقوں میں نہ بٹے ہوتے ۔ کاش ہم نفرتوں کے شکار نہ ہوتے کاش ہم صرف مسلمان ہوتے ۔کاش ہم نے قرآن کو اپنی زندگی کا رہبرو رہنما بنا لیا ہوتا ۔ کاش ہم نبی کریم ﷺ کی سیرت مبارکہ پر عمل پیرا ہوتے تو آ ج ہم ظلم و ستم و بربریت کا شکار نہ ہوتے اور امریکہ کو جرت نہ ہوتی کہ وہ بیت المقدس کو اسرائیل کادارلحکومت بناتا ۔ ہم بہت کچھ بن گئے لیکن مسلمان نہ بن سکے۔ہم نے اسلامی تعلیمات کو چھوڑ کر غیر کی تعلیمات کو اپنا لیا۔یہودو نصاریٰ کبھی بھی مسلمانوں کے دوست اور خیر خواہ نہیں ہو سکتے قرآن مجید نے ہمیں اس کی تلقین کی ہے سورہ المائدہ آیت نمبر 51 ترجمہ’’اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں ، تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی ایک کے ساتھ دوستی کرے گاوہ بے شک انہیں میں سے ہے ۔ظالموں کو اللہ تعالیٰ ہرگز راہ راست نہیں دیکھاتا‘‘۔کہاں گیا وہ محمد بن قاسم والا جذبہ ، کہاں گئی غیرت ایمانی؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com