رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو

رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو
بھارت کی حکومت کو کشمیریوں کی یہ ادا بالکل پسند نہیں آئی۔ اور بھارت کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں یہ الزام تراشاگیا کہ یہ کاروائی اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے جانے والے افراد کے زیر قیادت عمل میں آئی ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کی اس بچگانہ الزام تراشی پر بے ساختہ سرپیٹ لینے بلکہ بے تحاشہ قہقہے لگانے کو جی چاہتا ہے۔ اقوام عالم کو گمراہ کرنے اور خود فریبی کی بھی کوئی آخر کوئی حد تو ہوتی ہے۔ نورخدا ہے کفرکی حالت پہ خندہ زن پھونکوں سے یہ چراغ بجھایانہ جائے گا۔ وزیراعظم نے بھارت کی اٹوٹ انگ کی رٹ کو مسترد کرتے ہوئے اس حقیقت کوبیان کردیا ہے کہ کشمیر کو بھارت کا داخلی معاملہ اس لیے تسلیم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اقوام متحدہ کی جانب سے اسے ایک متنازعہ علاقہ قرار دیا جا چکا ہے۔ یہ حقیقت بھی ناقابل تردید ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اس وقت کے بھارتی پردھا منتری آنجہانی جواہر لعل نہرو اقوام متحدہ میں لے کر گئے تھے جوکہ بذات خود کشمیری پنڈتوں کے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کی حالیہ نئی لہر اسی سلسلے کی دیرینہ کڑی ہے۔ حقیقت حال پر بے لاگ تبصرہ کرتے ہوئے یہی شاعریوں رقم طراز ہے:۔
پڑوسی ملک نے کشمیر پر قبضہ جمایا ہے ۔ ہزاروں بے گناہوں کا وہاں خوں بہایا ہے ۔ مگر اس بھیڑ پر ایک بھیڑیے کا سایہ ہے۔ گرائی بابری مسجد بنائے ہیں صنم خانے۔ اگر اب بھی نہیں جاگے تو کب جاگیں گے دیوانے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جسے اس بنا پر کہ اس کے ہاتھ مظلوم مسلمانوں کے خون سے ہوئے ہیں مودی کے بجائے موزی کہنے کو دل چاہتاہے حال ہی میں ایک نئی قلابازی کھانے کی کوشش کرتے ہوئے گلگت ، بلتستان کا تازہ ترین شوشہ چھوڑاہے۔ اس سے قبل وہ بلوچستان کا شوشہ چھوڑچکے ہیں۔ دنیا کے باشعور لوگوں کو مودی کی ان حرکتوں نے چونکا کررکھ دیا ہے۔ خود بھارتی اہل دانش ور کو مودی کی اس ذہنیت پر تشویش لاحق ہوگئی ہے۔ کیونکہ زیادہ عرصہ نہیں ہوا جب ان کے ملک بھارت نے دنیاکو یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ بلوچستان کے معاملات میں بھارت کا کوئی خفیہ ہاتھ کارفرما نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مودی صاحب موجودہ حالات سے بری طرح بوکھلا کر شاید اپنا ذہنی توزن کھو بیٹھے ہیں۔ اس وقت وہ فوری مسائل کا شکارہیں ۔ نمبر ایک یہ کہ مقبوضہ کشمیر میں برہان وانی کی شہادت کے بعد آزادی کی طوفانی لہر ابھری ہے وہ ان کے بس کے باہر ہے۔ ظالم و جابر بھارتی سیکورٹی فورسز کی انسانیت سوز کاروائیوں کے باوجود آزادی کے متوالوں کے جذبہ جہاد کی شدت میں برابر کمی نہیں آئی ہے۔ سخت کرفیو کا مقصد اگرچہ مجاہدوں کے حوصلوں کو پست کرنا تھا ، تاہم نہتے کشمیری انتہائی بلند حوصلگی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ اور نامساعد حالت کا غیر معمولی استقامت وپامردی سے مقابلہ کررہے ہیں جس کا ایک حالیہ ثبوت یہ ہے کہ سخت کرفیو کے دوران جبکہ تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں ، لوگوں نے سری نگر اور اس کے گردو نواح کے محلوں اور گلی کوچوں میں رضا کارانہ طور پر طالب علموں کی پڑھائی لکھائی کا بندوبست کرکے گویا یہ ثابت کردیا:۔ کہ باطل سے دبنے والے اے آسمان نہیں ہم ۔ سوبارکرچکا ہے امتحان تو ہمارا۔ مودی کا دوسرا فوری مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و تشدد کا نیا بازار گرم کر کے عملاً خود اپنے پاؤں پہ کلہاڑی پر مار لی ہے کیونکہ ان حالات نے ایک مرتبہ پھر پوری دنیا کے سامنے بھارت کو نہ صرف بے نقاب کردیا ہے اور جوں جوں یہ معاملہ طول پکڑتا جائیگا بھارت کی ذلت اور رسوائی وبدنامی بلکہ جگ ہنسائی میں مزید اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ مودی کی ان حرکتوں نے ان کے تمام سابقہ بیانات کو بھی جھٹلادیا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے دوطرفہ مذاکرات کے خواہاں ہیں۔ 
مودی کی حکمت عملی نے بھارت کی رہی سہی ساکھ کو بھی ملیا میٹ کردیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں اس کے حالیہ مظالم سے او آئی سی کوبھی گہری تشویش لاحق ہوگئی ہے اور اس نے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کیلئے نئی کوششوں کی حمایت میں اپیل کردی ہے ۔ چنانچہ وہ مقبوضہ کشمیر کے حالات کا تقاضہ ہے کہ اس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے وہاں رائے شمار کرائی جائے۔ ان کا یہ کہنا بھی بالکل بجا اور بروقت ہے کہ عالمی اداروں کی جانب سے اس مسئلے کے حل کے بارے میں محض بیانات جاری کرنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے موجودہ حکمرانوں کے پیداکردی حالیہ واقعات کو اگر خیر مستور کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ ان حالات نے جہاں ایک جانب بھارت کے قلعی کھول دی ہے تواس کے ساتھ دوسری جانب پاکستان کے اصولی موقف کی صداقت کو تازہ اور مستحکم کردیاہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس سنہری موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تمام ممکنہ طریقوں سے بین الاقوامی حمایت حاصل کرے تاکہ آزادی کی جدوجہد کرنے والے کشمیریوں کی تحریک کامیاب ہو اور مظلو م کشمیریوں کی تیسری نسل کو بھارت کی غلامی سے نجات حاصل ہو ۔ وہ دن دور نہیں جب مظلوم کشمیریوں کا لہو رنگ لائے گا۔ 
محمد آصف ظہوری
آہستہ آہستہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com