پاک سرزمین کی فریاد

پاک سرزمین کی فریاد
یوم آزادی کی مناسبت سے خوبصورت احساسات وخیالات میں پروئی ’’ثمن اقبال‘‘ کی تحریر قارئین کی دلچسپی کے لیے من وعن پیش پیش خدمت ہے۔ 
’’میں پاک سرزمین ہوں،جسے شادبادرہنا تھالیکن مجھ پر کیسے کیسے ظلم نہ ڈھائے گئے؟یہ مت پوچھو کہ کیسے کیسے جوان ،بہادر،جرات مندوں کا لہو مجھ میں مدفن ہے؟آج کتنے لوگ ایسے ہیں جو یہ سوچ رہے ہیں کہ انہیں میرا قرض چکانا ہے اور ان شہیدوں کا لہو رائگاں نہیں ہونے دیناہے؟خاص طور پر وہ لوگ جو انقلاب اور تبدیلی کی بات کرتے ہیں۔23 مارچ 1940ء کو میرے قیام کے لیے قرارداد منظور ہوئی اور اللہ نے لاکھوں شہیدوں کی قربانیوں کے صدقے آزاد مملکت کی نوید عطا فرمائی ،مگرگزرے 70سال میں کون سے کھیل میری بربادی کے نہیں کھیلے گئے ہیں؟میرے حکمران ہر سطح پر ’’بندربانٹ‘‘کھیلتے رہے۔ کبھی مارشل لاء کو میرا مقدر بنایاگیااورفوج کی حکمرانی کو،تو کبھی میرے مظلوم و بے بس باسیوں کو جمہوریت کا لالی پاپ دیا گیا۔میرے ساتھ کبھی موٹروے کا گیم کیا گیا تو کبھی میٹرو بس کا کھلونا تھمادیا گیا۔
قائد اعظم ،لیاقت علی خاں کے بعد مخلص قیادت توآج تک مجھے نصیب ہی نہ ہوئی اور کبھی جمہوریت کے علمبرداروں نے’’نیا پاکستان ‘‘کے نعرے لگائیں،تو کبھی فوجی آمریت نے’’سب سے پہلے پاکستان ‘‘کا اراگ الاپا،کبھی مجھے’’ موروثی سیاست ‘‘کی سوغات بخشی گئی،تو کبھی ’’باری باری‘‘ کا کھیل کھیلا گیا۔کبھی مشرقی پاکستان کے آنسو مجھے پلائے گئے،تو کبھی ’’روٹی ،کپڑا،مکان ‘‘کا لارا لگایا گیا۔کبھی ’’امن کی آشا‘‘ کی ڈوز مجھے دی گئی ،تو کبھی ’’یو ایس اے‘‘ایڈ کے سپرد کردیا گیا۔یہاں آنے والے حکمرانوں نے کبھی ’’قرض اتارو ملک سنوارو‘‘کی سکیم نکالی اور اپنے اثاثے بنائے،مگر نہ میراسوچا اور نہ کسی کو پستے عوام کی حالت پر ترس آیا،بلکہ کھلم کھلا اور برسرعام لوٹا۔کبھی کسی حکمران نے کشمیر کی آڑ لے کر کارگل کا ڈرامہ رچایااورکبھی یوم تکبیر کی صدائیں بلند کروائیں،مگر دیکھو پھر بھی میرا حوصلہ اور توانائی کہ سب کچھ برداشت کیے جا رہی ہوں۔
کیسے کیسے حکمرانوں نے میری عظمت کے نعرے لگا کر میرے بچوں کو پستی میں دھکیلا۔میں تو وہ ہوں،جو حکیم الامت شاعر مشرق علامہ اقبال کا خواب تھی۔ قائد اعظم جیسے عظیم رہنماء نے اپنی لازوال قیادت میں میرے قیام کی تعبیر کو عملی جامہ پہنایا۔مجھے دنیا کے نقشے پر ’’پاکستان کا نام دیا۔آج میں سراپا سوال ہوں؟اپنا حق مانگ رہی ہوں کہ اے حکمرانو! اے اس قوم کے معمارو!آج تک تم نے مجھے ایمان،اتحاد ،یقین محکم جیسے اصولوں سے بیگانہ کیوں رکھا ہے؟اور کیوں قائد کے فرمان ،کام ۔کام اور کام پر عمل پیرا نہ ہوئے ہو؟
آج تم وہیں پر کھڑے ہو، جہاں سے چلے تھے ۔آج مجھے قائداعظم کے نقش قدم پر چلنے والا کوئی لیڈر ہی دے دواور اقبال جیسا مفکر دے دو۔کب تلک میری جڑوں میں نفرت کا، کینہ پروری کا ،فرقہ پرستی کا،لالچ اور اقرباپروری کا زہر ڈالتے رہوگے؟آج میں بہت اداس ہوں!کئی آئے ،بڑے سے بڑے دعویدار،جنہوں نے میرے سینے میں ہر دور میں نئے نئے ’’عہدوپیمان‘‘ کی کیلیں گاڑھی ہیں۔میری آن بان اور شان کو اے حکمرانو!تم نے اپنے اپنے حصوں و اثاثوں کی تقسیم میں کھوکھلا کردیاہے۔تم نے مجھے اپنی غلط حرکتوں سے بیمار کر ڈالا ہے۔خدارا اب میں تھک گئی ہوں،جس اللہ کے نام پر لوگوں نے مجھے حاصل کیا تھا ،اسی اللہ کے نام کا واسطہ میں آج تمہیں دیتی ہوں۔میرے اور اپنے حال پر رحم کھاؤ اورجس اللہ کی رسی (دین)کو تم نے مضبوطی سے تھام کرمجھے پانے میں سرخروئی حاصل کی تھی ۔آج تم اللہ اور اس کے دین اور اس کے نبی محمدﷺسے دور ہوکر پھر سے نہ صرف غلامی کی زنجیروں میں جکڑ گئے ہو،بلکہ اپنے آپ میں کھو چکے ہو۔تم ہی لوگوں نے مجھے ان گنت امراض میں مبتلا کردیا ہے۔تمہاری فرقہ واریت کہیں مجھے ہی مٹا نہ دے۔
میری پکار سنو !مجھے اب علاج چاہئے،توجہ چاہئے۔پیاروسچائی کا بیج اب میرے سینے میں بودو۔مجھے خون کی نہیں،اخوت، یقین،لگن،ایثار،بھائی چارے،امن وسلامتی کی پیاس ہے۔یاد رکھو!اگر آج تم میری پیاس کونہ بجھاسکے ۔ایک دن آئے گا ،جب تمہیں میرے دعوے پر اللہ کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا۔اے حکمرانو!تمہیں کون پناہ دے گا؟آج اورابھی وقت ہے کہ توبہ کرلو اورمجھے کرپشن،لوٹ مار ،قتل و غارت،بدعنوانیوں اوربداعمالیوں سے پاک کرکے اللہ سے کئے گئے عہد کو پورا کرکے اللہ کانظام نافذ کرکے مجھے پاک سرزمین بنا کر شادباد کردو۔ تحریر۔ ثمن اقبال مرسلہ، اے آرطارق ۔
اے آر طارق
بے تکی باتیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com