یہی چراغ جلیں گے،تو روشنی ہوگی 

یہی چراغ جلیں گے،تو روشنی ہوگی 
سید محمد عرفان پاشاہ منیریؔ 
وطن کا ذرہ ذرہ ہے،یہاں اس بات پر شاہد
مدارس کے سپوت اس ملک کے جاں باز غازی ہیں
سیاسی کھیل ہے،ورنہ یہ دشمن بھی سمجھتا ہے
کہ اسلامی مدارس مرکز کردار سازی ہیں
یہ دینی مدارس جو اس وقت آپ کے سامنے ہیں،یہ دین کے وہ مضبوط قلعے ہیں جو باطل کے ہر وار کو توڑ تے ہیں اور اسلام کی آن وبان شان انہی سے قائم ہے۔دینی مدارس اخلاق و ایمان اور اخلاص و روحانیت کے سر چشمے ہیں۔دین کی حفاظت و صیانت کے یہ اہم ذرائع ہیں۔ان سے ملت کا تشخص قائم ہے،یہ امت اسلامیہ کے دھڑکتے دل ہیں،یہ اسلامی کلچر و ثقافت کے آئینہ دار ہیں۔یہاں مردہ قلوب کو زندگی ملتی ہے،یہاں پیاسوں کو سیرابی ملتی ہے۔یہ مدارس اسلامی چھاؤنیاں ہیں۔ان مدارس دینیہ کی بدولت ہمیں ایمان نصیب ہوا،ان ہی اداروں سے ہمیں وحدانیت کا درس ملا۔اس وقت جو چپہ چپہ پر مکاتب و مدارس قائم ہیں یہ بہت بڑی نعمت ہے۔مدارس اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے آشنا کرنے کا ایک ذریعہ ہیں جو ہمارا اور آپ سب کا حقیقی مقصد ہے۔ 
1857ء کی جنگِ آزادی میں انگریزوں کا سب سے بڑا ہدف یہ تھا کہ ہندوستان سے قرآن اور علماء کو ختم کیا جائے۔تن کے گوروں اور من کے کالوں کا بنیادی مشن یہی تھا کہ علماء کو تیار کرنے والے مدارس اسلامیہ کے سلسلے کو بند کردیا جائے،اس صفحۂ ہستی سے اسلامی مراکز کے نام و نشاں کو مٹادیا جائے۔ 
اللہ جزائے خیر دے،ہندوستان کے دور اندیش حضراتِ اکابرؒ کو۔جنہوں نے انگریزوں کی اس ناپاک سازش کے مضر اثرات کو بروقت بھانپ لیا،ٹھیک ان نازک حالات میں علماء و مفکرین اور ملت کا درد رکھنے والے حضراتؒ نے مدارس دینیہ کا جال بچھایا۔مدارس و مکاتب قائم کئے۔اگر بروقت علماء کرام ہندوستان کے کونے کونے میں کھڑے نہ ہوتے،ایماں و یقین کی شمع روشن نہ کرتے تو آج ہر گھر میں انجیل پڑھائی جاتی،الحاد و لادینیت کا گھر گھر مرکز ہوتا،قرآن و سنت سے لوگ کوسوں دور ہوتے۔ 
ان مدارس اور علماء نے وہ کارنامہ انجام دیا جو آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے۔الحمد اللہ!ان بزرگوں کے لگائے ہوئے پودے،آج طاقت ور درخت کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ 
لیکن آج یہی مدارس برادرانِ وطن کی نگاہ میں سب سے بڑے تنکے ہیں،ان دینی درسگاہوں کا وجود ان کے حلق سے نہیں اتر رہا ہے۔آج اسے دہشت گردی کا اڈہ قرار دیا جارہا ہے؟ان مراکز کو بنیاد پرستی کا طعنہ دیا جارہا ہے؟ 
افسوس صد افسوس!!!ارے یہ مدارس تو اس قابل تھے کہ انہیں سینے سے لگایاجاتا،انہیں پھلنے پھولنے کا موقع دیاجاتا،ان کی تعمیر و ترقی میں ہر طرح کا تعاون کیا جاتا،کیونکہ یہی وہ مدارس ہیں،جن کی کوکھ میں جنم لینے والے اکابرین کی قربانیوں کے نتیجے میں ہندوستان آزاد ہوا۔
انہی مدارس سے نکلی ہوئی تحریکات کی بدولت،اس ملک میں آزادی کا انقلاب آیا۔انہیں خانقاہوں میں اللہ اللہ کی صدائیں بلند کرنے والے اولیاء اللہ کی دعاؤں کے طفیل انگریزوں سے نجات اور رہائی نصیب ہوئی۔ 
مجھے افسوس ہوتا ہے ان ناعاقبت اندیش،ایمان فروش لوگوں پر جو باطل کی لئے میں لئے ملا کر،ملک دوستی اور انسان نوازی کا درس دینے والے ان اداروں کو رجعت پسندی اور پس ماندگی کی آماج گاہ قرار دے رہے ہیں۔ 
وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم سب مدارس و مکاتب کی اہمیت و افادیت کو سمجھیں،خوابِ غفلت سے بیدار ہوجائیں۔مدارس کی تعمیر و ترقی میں ہر ممکن تعاون کریں۔ذمہ دارانِ مدارس کا ہاتھ بٹائیں۔جہاں تک ہوسکے ان مدارسِ دینیہ کا جال وسیع کریں۔ 
انہیں حقیر سمجھ کر،نہ گل کرو یارو 
یہی چراغ جلیں گے،تو روشنی ہوگی 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com