پاک سر زمین پارٹی اور ایم کیو ایم کے ایک دن بعد ہی راستے جدا ۔ملاپ ناکام

پاک سر زمین پارٹی اور ایم کیو ایم کے ایک دن بعد ہی راستے جدا ۔ملاپ ناکام ( پہلو ۔۔۔۔۔۔۔۔ صابر مغل ) 
بدھ کو سارا دن تمام پاکستانی نیوز چینلز پاک سر زمین پارٹی اور ایم کیو ایم کے الحاق کی خبروں کو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر بریکنگ کے طور پر پیش کرنے میں نمبر لیتے رہے،پل پل کی خبریں جیسے ملکی سیاست میں پتا نہیں کیا بھونچال آگیا ہے بلاشبہ یہ مخصوص طبقہ جن کا ماضی ایک ہی سوچ ایک ہی راہ ایک ہی منزل پر منتج تھا ان کی پالیسیوں کی بدولت کراچی شہر میں یر غمالی صورتحال رہی اور ہے،انتہائی سنسی خیزی کے بعد شام کو کراچی پریس کلب میں دونوں جماعتوں کے سربراہان ایک ساتھ بیٹھے میڈیا سے بات کی ہنسی مذاق کیا دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا ،آپس میں جھپیاں ڈالی گئیں اس پریس کانفرنس کی میزبان بھی ایم کیو ایم ہی تھی اور مشرکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا،مگر دوسری شام ڈاکٹر فاروق ستار کی رہائش گا پر ماضی کی طرح ایسا ہی ایک طریقہ اختیار کیا گیا جیسے الطاف حسین تقریباً ہردو ماہ کے بعد ڈرامہ بازی کیا کرتے تھے کافی عرصہ بعدایم کیو ایم میں ایسا منظر دیکھنے والوں کو ملا ،سابق قیادت کے نقش قدم پرچلتے ہوئے پارٹی سے دستبرادی کا اعلان اور پھر سب حسب سابق وہی عہدہ وہی منزل اس بار بھی کچھ ایسا ہی ہوا البتہ کچھ طریقہ کار ضرور تبدیل ہوا فاروق ستار نے دستبرداری کے فیصلہ و واپس لیتے ہوئے ساتھ والدہ محترمہ اور اہلیہ کو بھی میڈیا کے سامنے بٹھایا اور قسمیں اٹھاتے رہے کہ میں نے ڈرامہ نہیں کیا (وہ سچ کہتے ہیں اس ملک میں ڈرامے کوئی کرتا ہی کب ہے؟)اس موقع پر ان کی والدہ نے بھی میڈیا سے بات کی ، فاروق ستار کی تقریر میں کل کی ساری باتوں کے ساتھ سیاست سے دستبرداری کے اعلان کے ساتھ ہی کارکنوں کا احتجاج شروع ہو گیا وسیم اختر نے اعلان کرنے کے دوران مائیک گرا دئیے ،نا منظور نا منظور کے نعروں سے فضا گونجتی رہی ،ایک روز قبل فاروق ستار اور مصطفےٰ کمال کے اتحاد کے بعد ایم کیو ایم میں شدید ردعمل سامنے آیارکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی نے اس فیصلہ کے خلاف بطور احتجاج پارٹی اور اسمبلی رکنیت سے فوری استعفیٰ دے دیا،کشور زہری ٰ احتجاجاً اجلاس سے اٹھ کر چلی گئیں،ایم کیو ایم لندن کے رہنماء مصطفےٰ عزیزی نے ٹویٹ کیا جو کہتے تھے ہم نے23اگست کا اقدام ایم کیو ایم کو بچانے کے لئے کیا تھا آج انہوں نے اس شخص سے اتحاد کر لیاجس نے کل ہی کہا تھا کہ ہم نے ایم کیوایم کو دفن کر دینا ہے،ایم کیو ایم رہنماء عامر خان جو اس وقت بیرون ملک تھے فوری ٹویٹ کے ذریعے پیغام دیا یہ فیصلہ ہمیں منظور نہیں ،کراچی پریس کلب میں بتایا گیا کہ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کی چھ ماہ کی مشاورت اور گذشتہ اجلاس کے بعد صوبہ سندھ میں ووٹ بینک کی تقسیم ہونے سے بچانے،عدم تشدداور عدم تصادم کی پالیسی کو ہر حال میں کامیاب بنانے کے لئے سیاسی اتحاد کا فیصلہ کیا گیا،جلدبازی میں کئے گئے اتحادکے نام اور منشور کا فیصلہ مزید مشاورت کے بعد کرنے پر اتفاق ہوا کیونکہ اس پریس کانفرنس میں نیا سیاسی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیاکہ اگلا الیکشن ایک نام ،ایک منشور اور ایک ہی نشان پر لڑیں گے،اس موقع پر فاروق ستار نے کہادونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی اتحاد اور بیانئے سے متعلق مزید مشاورت ہو گی انہوں نے اپنی اور دوسری سیاسی پارٹیوں سے درخواست کی کہ وہ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے مفاہمتی عمل اور پالیسی کے عمل درآمد میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں،انہوں نے کہا اس سیاسی اتحاد میں سندھ کی شہری اور دیہی سیاسی جماعتوں کو بھی شمولیت کی دعوت دی جائے گی اس اشتراک سے جو فضا قائم ہو گی اس سے امید ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سر زمین پارٹی کے خلاف چھاپے اور گرفتاریاں اگر بلاجواز ہیں تو یہ سلسہ رک جائے گا ہماری پراپرٹی جو سیل ہے وہ ہم کو واپس مل جائے گی،مصطفےٰ کمال نے کہا ایم کیو ایم ایم الطاف حسین کی تھی او ر رہے گی فاروق بھائی سر زمین پارٹی کو نہ مانیں لیکن ہمارے سیاسی اتحاد کا آغاز ایم کیو ایم کے نام سے نہیں ہو گا، سابق صدر پرویز مشرف نے کہا مہاجروں کا اتحاد خوش آئند ہے، ایم کیو ایم کے آفتاب نے کہا اب پرویز مشرف کا سیاست میں کوئی کردار نہیں ہو گا،پی ٹی آئی کے حلیم شیخ نے کہا کراچی میں مہاجر کارڈ نہ کھیلا جائے ،پیپلز پارٹی کے منظور احمد نے کہاپی ایس پی اور ایم کیو ایم مزید تقسیم ہوں گی ،شاہی سید نے کہا کوئی بھی صاف ستھرا نہیں،عشرت العبادنے اس اتحاد کا خیر مقدم کیا،پاکستان سر زمین کے سربراہ مصطفےٰ کمال اپنی اس سیاسی پارٹی کی تشکیل کے وقت کہا تھا کہ وہ ایک بڑے مقصدسے نکلے ہیں اور ہمارا مقصد اس شہر سے الطاف حسین کی دہشت و وحشت کے عفریت کا خاتمہ اور بھارتی ایجنسی RAWکی سازشوں کا خاصہ ہے جس پر ایم کیو ایم کے متعدد رہنماء انیس قائم خانی ،رضا ہارون،انیس ایڈووکیٹ وغیرہ ان کی پارٹی میں شامل ہوگئے اور یہ سلسلہ چل نکلا،پاک سرزمین اور ایم کیو ایم کے اس 24گھنٹے کے ملاپ پر معروف تجزیہ کارتوصیف احمدنے کہا جمہوریت کا ماڈل بنا ہے اسے عسکری اسٹیبلشمنٹ کی بالا دستی کہی کا جاسکتا ہے نیا ماڈل عسکری اسٹیبلشمنٹ کے غلبے میں چلنے والی جمہوریت کا ماڈل ہے امکانات ہیں ہیں کہ پرویز مشرف اب اس ضمانت کے ساتھ واپس آئیں گے کہ ان کے خلاف مقدمات ختم کئے جائیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگلے انتخابات کے لئے نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک کے لئے بھی نیا نقشہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے،سندھی قوم پرست جماعت جئے سندھ مہر کے سربراہ خالق جونیجونے اس اتحاد کو ڈرامہ قرار دیا ایم کیو ایم پاکستان کا لندن سے اظہار لا تعلقی اور پاک سر زمین پارٹی کا قیام دونوں اقدامات ہی اس پریشر کو ہٹانے کے لئے لئے گئے جو اس وقت ان پر تھے اب اس نئی ڈرامہ بازی کا بہت جلد ڈراپ سین ہو جائے گا(جو ہوبھی چکاکیونکہ پاکستان میں Uٹرن کی تاریخ لبالب بھری ہوئی ہے)موجودہ اور نئے کرداروں میں کچھ فرق نہیں ماضی میں جو زبان الطاف حسین بولتا تھا وہی زبان فاروق ستار کی ہے جب سے ایم کیو ایم بنی اس نے نام تبدیل کیا نعرے بدلے مگر ان کا مقصد ہمیشہ ایک ہی رہا اور ایک ہی رہے گا،اس سے قبل ایم کیو ایم لندن کی رابطہ کمیٹی کے رکن پروفیسر حسن ظفر نے کہا تھا کہ مائنس ون کا فارمولا مسترد کرتے ہیں ماضی میں بھی کئی بار پارٹی کو توڑنے کی کوششیں کی گئی مگر سب ناکام ہوئیں اسی وجہ سے سر زمین پارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ڈاکٹر فاروق ستار نے نہ خودکو بچایا اور نہ ہی پارٹی کو ،لندن میں موجود ایم کیو ایم کے کنوئیرنصرت جاوید نے 11رکنی رابطہ کمیٹی کا اعلان کیا تھا جس کے نو ارکان پاکستان میں ہیں،ایم کیو ایم پاکستان نے پارٹی سے غداری کے جرم میں الطاف حسین کو فارغ کیا اور کہااب الطاف کا فیصلہ سازی اور پارٹی معاملات سے کوئی تعلق نہیں، دوسری شام ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے تمام ارکان سوائے فاروق ستار سب نے میٹنگ کی جس کے بعد کمیٹی کے ڈپٹی کنوئیرکنورنویدنے کہاکہ کل کی پریس کانفرنس میں کچھ ابہام پیدا ہو گئے تھے جنہیں دور کرنے کی اشد ضروت تھی ایم کیو ایم جیسی کل تھی ویسی ہی رہے گی اپنے پرانے نشان،پرچم اور منشور کے ساتھ رہے گی،ہم سیاسی اتحاد کو کر سکتے ہیں مگر پارٹی نام کی تبدیلی کسی صورت نہیں اور اتحادبھی جیتی ہوئی نشستوں پر کسی سے نہیں ہو گا اور ہم آئندہ پتنگ کے نشان پر ہی ان نشستوں پر الیکشن لڑیں گے تاہم رابطہ کمیٹی فاروق ستار پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتی ہے تمام ارکان ان کی سربراہی پر متفق اور متحد ہیں ،اس کے بعد کئی ارکان نے فاروق ستار سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر وہ کسی سے نہ ملے اور پریس کانفرنس میں انہوں نے مصطفےٰ کمال پر الزامات کی بھرمار کر تے ہوئے کہا وہ الطاف دشمنی میں اتنا آگے نہ جائیں کل پریس کانفرنس میں مہاجروں کے مینڈنٹ کی تذلیل ہوئی مصطفیٰ کمال نے باریک کام کیا پرانا ورکرہوں کئی بار ممبر اسمبلی منتخب ہوا خود کو احتساب کے لئے پیش کرتا ہوں مصطفیٰ کمال بتائیں ان کے پاس سوا تین کروڑ کی گاڑی کیسے خریدی ؟ مجھے پتا ہے وہ گاڑی کہاں سے خریدی گئی ان کے پاس خیابان سحر کا گھر کیسے آیا؟ایم کیو ایم کو ختم کرنے کی بات کی گئی جس نام پر جیتے اور مرتے ہیں اسے کیسے مٹا دیں اپنے شہداء کی قربانیوں کو کیسے بھلا سکتے ہیں ایم کیو ایم کہیں نہیں جا رہی یہ ایک حقیقت ہے جسے سب کو تسلیم کرنا پڑے گا22اگست کے بعد یہ ایم کیو ایم الطاف حسین کی نہیں رہی یہ تاثر دیا گیاکہ ملاقاتیں چھ ماہ سے ہو رہی ہیں میں تو ایک بار بھی کمال سے نہیں ملا صرف ایک بار انیس قائم خانی سے ملا، گلہ ہے کہ کل سے دل دکھنے لگا اچھا جذبہ لے کر گئے مگرملا کیا؟ہم صرف کراچی کی ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی سیاست کرتے ہیں،مہاجروں کا ذکر کرنا پاکستان کے استحکام کے لئے لازمی ہے کراچی میں پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں جو مہاجروں کو اپنا نہیں مانتے ان سے کیسے الحاق کر سکتے ہیں ہمارے165کارکن لاپتہ ہیں ،تمام قومی سیاسی جماعتیں لسانی ہیں طعنہ ہمیں دیا جاتا ہے،کیا عجب تماشہ ہے ایک دن ہاتھ ملایا دوسرے دن تنقید کے نشر ایک دن نکاح ہوا اور ولیمے سے پہلے ہی طلاق سامنے آ گئی ،ایسا ہونا اور ہوتا رہنا ایم کیو ایم کی خاصیت ہے،ڈاکٹر فاروق ستار کو مبارک ہو نکاح بھی کر لیااور مہاجروں کا مقدمہ بھی جیت لیا یہ فرق ضرور سامنے آیا کہ سیاست دے دستبرداری کے اعلان کے بعد اس بار ورکروں کے نا منظور نعروں کے ساتھ والدہ صاحبہ کو بھی میڈیا کے سامنے آنا پڑا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com