کانگریس مکت بھارت خود کانگریسیوں کے ہاتھوں ؟ 

امریکہ میں جب بھی صدارتی الیکشن ہو تا ہے تو دونوں سیاسی پارٹیوں کے امیدوار یہی نعرہ لگا تے ہیں کہ ہم امریکہ کو دوبارہ ایک عظیم ملک بنائیں گے جیسے کہ ان سے پہلے کے صدر کے دور میں امریکہ عظیم ملک نہیں تھا۔رونالڈ ریگن، دونوں بش ،بل کلنٹن اور اوباما نے بھی یہی نعرہ لگا یا تھا اور اب ڈونالڈ ٹرمپ بھی یہی نعرہ لگا رہے ہیں۔ہر ملک میں الیکشن کے دوران طرح طرح کے جھوٹے سچے وعدے کئے جا تے ہیں جنمیں سے کئی ایک وعدوں کو یہ کہ کر بھلا دیا جا تا ہے کہ الیکشن کے دوران گرما گرم جذباتی تقاریر کے دوران ایسا ہی کچھ ہو تا ہے۔اب مسٹر ٹرمپ ہی کو دیکھیے کہ ان کے غلط وعدوں اور ان پر عمل کر نے کی کوششوں پر کیسے انہیں کی عدالتیں پھٹکار لگا رہی ہیں۔وعدے تو الیکشن کے دوران ہندستان میں بھی کئے گئے مگر بعد میں وہ پورے نہ ہو سکے۔ہمیشہ یہی ہو تا ہے کہ جب بھی سیاستدان اقتدار میں ہو تے ہیں تو انکی باتوں میں خود اعتمادی اور "ہم سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں جیسی بات ہو تی ہے" مگر جب اپوزیشن میں ہو تے ہیں تو حکمران پارٹی کے ہر کام میں عیب نکالتے ہیں۔یہ ایک پرمپرا ہے جو مدت سے چلی آ رہی ہے ۔جب اکھلیش یادو اقتدار میں تھے تو انہوں نے اپنی ریاست سے کرپشن دور کر نے کی نہیں سوچی ،غنڈوں کو کھلی چھوٹ دے دی ،خاندانی جھگڑوں میں الجھ گئے ، کسانوں کے قرض معاف نہیں کئے اور ایسے بہت کام تھے جو وہ کر نہیں پائے کیونکہ وہ اقتدار کے نشہ میں چور ،چاپلوسوں سے گھرے ،حقیقت سے دور خوابوں خیالوں کی دنیا میں کھوئے ہوے تھے۔اب جبکہ مسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کسانوں کے تمام قرضے معاف کر دیے،کرپشن اور غنڈہ گردی پر کنٹرول کر نے لگے تو اب شاید اکھلیش پچھتا رہے ہوں گے کہ کاش اقتدار میں رہتے ہوے مسٹر یوگی جیسے کام کر دیے ہو تے۔یہی حالت 2014سے پہلے کی یو پی یے سرکار کی رہی۔جب اقتدار میں تھے تو اقتدار کا نشہ اتنا زیادہ چڑھ گیا تھا کہ سلمان خورشید، کپل سبل،چدامبرم، غلام نبی آزاد،دگ وجے سنگھ او دیگر لیڈر قسم کھا نے تیار تھے کہ کہ وہی اپنے اچھے کاموں کی بنیاد پر دوبارہ اقتدار میں آ جائیں گے اور مسٹر مودی کبھی اقتدار حاصل نہیں کر سکیں گے۔جو کام اقتدار میں آنے کے بعد مسٹر مودی نے کئیے وہی کام کانگریس اقتدار میں رہ کر کر سکتی تھی۔اب پچھتانے سے کیا فائیدہ جب اقتدار ہی نہیں رہا۔اب کرناٹک میں کانگریس کی حکومت ہے مگر اس کے لیڈروں نے خود اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لی ہے ۔وہ دیوار پر لکھی ہوی 2018میں انکے اقتدار کھو نے کی تحریر نہیں پڑھ پا رہے ہیں۔کرسی کی ہوس نے انکے سینیر لیڈروں کی عقلوں پر پردہ ڈال دیا ہے اور وہ بھول رہے ہیں کہ پاڑٹی ہے تو وہ ہیں ورنہ اگر پار ٹی نہیں جیتتی تو انہیں نہ کرسی ملے گی اور نہ ہی کسی قسم کا اقتدار۔پھر بھی آپسی کھینچ تان میں لگے ہوے ہیں۔اب 2018کا الیکشن صرف ایک برس دور ہے اور یہی وہ وقت ہے جب وہ قیمتوں میں کمی کر تے اور عام ووٹر کے دل جیتتے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے وقت میں دودھ اور بجلی کی قیمت بڑھا دی اور عوام کو بد ظن کر دیا۔اچھے کام بھی کر رہے ہیں مگر وہ نہیں جو ووٹر کی آنکھ دیکھتی ہے اور محسوس کر تی ہے۔اگر کرناٹک میں 2018کا الیکشن بی جے پی جیت جاتی ہے تو یقیناًوہ ان قیمتوں میں کمی کرے گی اور تب کانگریس لیڈر پچھتائیں گے کہ کاش اقتدار میں رہتے ہم نے وہی سب کر دیا ہو تا۔اگر کانگریس الیکشن جیتنا چاہتی ہے تو اسے کچھ revolutionaryکام کر نے ہونگے۔کرایوں اور قیمتوں میں کمی لانی ہو گی ،خود اپنی تنخواہوں میں کمی کر کے عوام کو بتا نا ہو گا کہ وہ سرکاری ملازم نہیں بلکہ عوامی خدمتگار ہیں،گلی گلی کھلنے والے گوشت کے دوکانوں کو مارکیٹوں تک محدود کر نا ہو گا ،راستوں کو ون وے کم اور ٹو وے زیادہ بنانا ہو گا ،راستے کھلے اور قابل آمدورفت بنا نا ہو گا ،No garage no car کا قانون لاگو کر کے ٹرافک کو کنٹرول کر نا ہو گا،فٹ پاتھوں کو کھلے رکھنا ہو گا،کرپشن پر لگام کسنا ہو گا ،کرپٹ لوگوں کو اپنے ہی اندر تلاش کر کے انہیں اقتدار سے دور رکھنا ہو گا۔ تعجب ہے کہ جب کرپشن ہر خاص و عام کو نظر آ رہا ہے تو وہ کیوں سیاستدانوں کو نظر نہیں آ رہا ہے۔کیوں کرناٹک کرپشن میں سب ریاستوں سے آگے بتا یا جا رہا ہے؟منسٹر اور اقتدار پر فائض لوگ کیوں اپنے کام میں ایسے منہمک ہو گئے ہیں جیسے وہ خود سرکاری ملازم ہین، کیوں اپنے حلقہ انتخاب کو نظر انداز کر رہے ہیں،کیوں چاپلوسوں کو عہدوں سے نواز رہے ہیں اور کھلم کھلا مخالفت کو جگہ دے رہے ہیں۔ملنا مشکل،فون اٹھانا مشکل،کام کرنے حیلے بہانے ،ووٹروں سے دوری،مالداروں سے دوستی یہ سب کیا ہے۔یہی آج کانگریس کلچر بن چکا ہے۔کانگریس ہی ہندستان کو کانگریس مکت کر نے پر تلی لگتی ہے۔ایسا کریں گے اور ووٹروں سے ووٹوں کی امید کریں گے یہ کیسے ممکن ہے؟ پریشانی کی بات یہ ہے کہ ہم سیکولر لوگ ان سیکولر پارٹیوں کو اقتدار کھوتے ہوے دیکھ نہیں سکتے مگر وہ ہیں کہ ہماری سننا نہیں چاہتے،اقتدار میں رہتے تجزیہ کر نا نہیں چاہتے اور کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔الیکشن ہار گئے تو انکا کیا کسی دوسری پارٹی میں چلے جائیں گے چاہے وہ زاعفرانی پارٹی ہی کیوں نہ ہو اور وہی اپنا پرانا کھیل شروع کر دیں گے۔مگر مشکل میں تو ہم آئیں گے ا ور ہر جگہ وہی ہو گا جو یو پی اور راجستھان میں آج ہو رہا ہے۔700سال مسلم بادشاہوں نے حکومت کی مگر ڈر اور خوف کا ماحول کبھی ایسا نہ تھا جیسا آج ہے۔سیکولر پارٹیوں کو جتانا اور انکی آنکھیں کھولنا ہمارا فرض بن چکا ہے۔اب قوم اور ملک کا درد رکھنے والے سب کو اپنے گھروں سے،عبادتگاہوں سے،اور مدرسوں مٹھوں سے تڑپ کے ساتھ باہر آنا ہو گا اور سیکولر فورسس کو کامیاب بنانے کے لئے گھر گھر گلی گلی کام کر نا ہو گاکیونکہ ملک اگر سلامت اور پر امن ہے تو ہمارے گھر ،ہماری عبادتکاہیں،ہماری تہذیب، ہمارے ادارے اور خود ہم سلامت رہیں گے۔فروعی اور جذباتی مسائل میں الجھ کر ہم اہم مسلے کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔اب کام کر نے کا وقت ہے شکوے شکایت کرنے اور سونے کا وقت نہیں ہے۔مگر سب سو رہے ہیں ،وہ بھی جنکا دعوی ہے کہ وہ مسلمانوں کے رہبر ہیں۔ہم مسلمانوں میں ہر کوئی اتحاد کی بات کر رہا ہے،میٹنگ میں جلسے میں جلوسوں میں ،جمعہ کے خطبوں میں اور ہر جگہ مگر سب جھوٹ کہتے ہیں ،خود اور دوسروں کو دھوکا دیتے ہیں ۔ کہیں اتحاد نظر نہیں آتااور کہیں اسکا عملی مظاہرہ نہیں ہو تا۔میرے ایک دوست میسور کے عصمت پاشاہ صاحب نے کہا تھا کہ اتحاد اس وقت ظاہر ہو گا جب اہل سنْت کے امام اہل حدیث اور تبلیغی جماعت کی مسجدوں میں جمعہ کا خطبہ دیں گے اور اہل حدیث و تبلیغی جماعت کے امام ہل سنّت کی مسجدوں میں۔ایسے مظاہرے کی امید حالانکہ بہت کم ہے مگر امید ہے کہ اگر کوشش کریں تو تمام مسلکوں کی مسجدوں کی کمیٹیوں کے صدر و سکریٹری حضرات ہر مہینہ مل کر بیٹھ سکتے ہیں اور امام حضرات پر دباو بنا سکتے ہیں اور اتحاد کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔سوچنا یہ ہے کہ ہمیں اتحاد اور امن چاہیے یا تباہی اور بربادی۔ایسا لگتا ہے کہ پورے ہندستان میں یہ گٹھ بندھن کا دوْر ہو گا ورنہ بی جے پی کے جھوٹے وعدوں کی لہر سب کو لے ڈوبے گی۔گجرات اور کرناٹک میں سیکولر پارٹیاں اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہیں جب ان سب کا گٹھ بندھن ہو گا ورنہ انجام وہی ہو گا جو یو پی میں ہوا۔اقلیتوں کو چاہیے کہ وہ زیادہ شور شرابہ نہ کریں اور زیادہ سیٹیں طلب نہ کریں اور سیاسی جلسے جلوسوں سے پرہیز کریں اور یہ جان لیں کہ گٹھ بندھن کو چھوڑ کر اپنے بھائی کو بھی ووٹ دینا ووٹ ضائع کر نا ہو گا۔ہمیں دماغ سے کام کر نا ہے نہ کہ دل اور جذبات سے اور پولاریزیشن سے بچنا ہو گا۔آج ایک بار پھر ہم مسلمانوں کو وہی اہم رول ادا کر نا ہے جو ہم نے ہندستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے کے لئے کیا تھا۔تصویر کا ایک دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ بی جے پی کے اقتدار سے عام مسلمان پریشان نہیں ہے۔اسے لگتا ہے کہ بی جے پی نے اقتدار حاصل کر نے کے لئے جو ہتھکنڈے آزمائے سو آزمائے مگر اقتدار حاصل کر نے کے بعد وہ ملک کی ترقی اور سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ لگا کر ملک میں امن و امان قائم کرے گی اور اقلیتوں کو ان کے حقوق دے گی ۔ مذہبی حضرات اور دانشوروں کی اکثریت بھی پریشان نہیں لگتی ورنہ وہ اپنے گھر ،مسجد اور مدرسوں سے تڑپ کے ساتھ باہر نکل کر ملت مسلمہ کی رہنمائی کر تے اور بتاتے کہ انہیں اب کس طرح جینا ہے اور بی جے پی کے ساتھ انکا رویہ کیا ہو نا ہے ۔مخالفت سے ہمارا ہی نقصان ہو نے والا ہے۔سب خاموش لگتے ہیں،سب سو رہے ہیں اور سب مطمین لگتے ہیں۔میں دیکھ رہا ہوں کہ پچھلے پچاس سالوں سے ہر میٹنگ میں ہر کوئی یہی کہتا ہے کہ ہمیں یہ کر نا ہے وہ کر نا ہے مگر آج تک یہ کسی نے نہیں کہا کہ وہ "ہمیں "کون ہیں ۔سب یہی سمجھتے رہے کہ مجھے چھوڑ کر سب باقی ہی"ہمیں "ہیں .اس لئے کسی نے نہیں کہا کہ میں فلاں ذمہ داری اٹھاوں گا اور آپ سب ساتھ دیجیے۔ اس سلسلہ میں ویژن کرناٹکا ادارہ کوشش کر رہا ہے کہ شہر بنگلور کے تمام اداروں کے اہل دانش اور اہل علم حضرات کو جوڑ کر غور و خوص ہو ۔اب تک ایک میٹنگ 8.4.2017کو اور دوسری 4.5.2017 کو ہوی اور بہت ہی مفید مشورے سامنے آئے اور انشاء اللہ ان پر عمل بھی ہو گا۔آگے کیا ہو گا یہ اللہ ہی جانے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com