قبل ازوقت ریٹائرمنٹ ، وجہ کیا ؟؟؟

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کی قبل ازوقت ریٹائرمنٹ ، وجہ کیا ؟؟؟

تحریر : عاصم حمید

حالیہ دنوں کی سب سے بڑی خبر آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اور سابق ڈی جی رینجرز سندھ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کی فوج سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ ہے ۔ کراچی آپریشن اور شہر قائد کے امن کی بحالی میں سب سے اہم کردار ادا کیا ۔ اس دوران سول حکومت سے بھی کوارڈی نیشن بہترین رہی ۔ ان کی سب سے اہم وجہ شہرت غیر سیاسی جرنیل ہونا ہے
اگر حالیہ دنوں میں آنے والی تبدیلیوں کو دیکھا جائے تو نواز شریف کو پنامہ کیس کی آڑ میں اقامہ کے ذریعے ہٹایا گیا ۔ جس دوران واٹس ایپ کالز سے لیکر بیرون ملک میں حکومتوں سے لیکر کمپنیوں تک حکومت اور سفارتخانوں سے بالا بالا غیر معمولی رفتار سے جے آئی ٹی کے کام کو کیا گیا ۔ پھر نیب کے ذریعے جس طریقے سے ریفرنسز دائر کرائے گئے اور حدیبیہ پیپر ملز کیس کھلایا گیا ۔ این اے 120 ضمنی الیکشن میں صحافیوں کو پولنگ اسٹیشن جانے سے روکنا ، اور ابتدائی نتائج میں غیر متوقع طور پر یاسمین راشد کو برتری دلانا ، احتساب عدالت میں ماتحت فورس رینجرز کا بن بلائے پہنچ کر سیکیورٹی سنبھال لینا اور پھر وزیرداخلہ احسن اقبال اور میڈیا کو بھی اندر نہ جانے دینا اور اس پر سول حکومت کا شدید احتجاج اور پھر رینجرز کی جانب سے اچانک پارلیمنٹ کی سیکورٹی چھوڑ کر واپس چلے جانے جیسے واقعات پیش آئے ۔ جس نے یہ خیال راسخ کیا کہ ان سب کے پیچھے کوئی "بڑی " اور "خفیہ "طاقت ہے ۔ اس دوران احتساب عدالت میں رینجرز شیم شیم کے نعرے بھی لگے ۔ اور سوشل میڈیا پر مختلف طبقہ ہائے فکر کی جانب سے فورسز پر شدید تنقید کی گئی ۔ 
عالمی سطح پر بھی کئی تبدیلیاں ہوئیں ، امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے نئی افغان پالیسی کا اعلان کیا گیا جس میں پاکستان پر شدید الزامات لگائے گئے اور تعاون نہ کرنے پر سخت نتائج کی دھمکیاں بھی شامل ہیں ۔چین کی جانب سے پاکستان کی غیر مشروط حمایت ختم کردی گئی جس کا اظہار "برکس "اعلامیے میں بھارت کی منشا کی مطابق لشکر طیبہ ،جیش محمد ،حقانی نیٹ ورک کی مذمت کی گئی ۔ ترک صدر طیب اردوان جو اس سے پہلے پاکستان کی حمایت میں بیان دیتے رہتے ہیں ،انکی جانب سے جلاد توقع امریکی صدر ٹرمپ کے بیان کے جواب میں پاکستان کی۔حمایت کیلئے کوئی بیان نہیں دیا گیا ۔پھر چین کی جانب سے "سی پیک" میں ڈالی جانے والی رکاوٹوں پر دھبے چھپے لفظوں میں تحفظات کا اظہار ، اور پھر امریکی وزیر دفاع جمیز میٹس کی جانب سے "سی پیک" پر کھلے عام تنقید جیسے بیانات سامنے آئے ۔
سی پیک کے متاثر ہونے ، اسٹاک ایکسچینج بحران ، ملکی اکانومی کی ابتر ہوتی صورتحال ، زرمبادلہ کے ذخائر میں ہونے والی کمی ، ورلڈ بینک کی جانب سے کچھ فنڈز روکے جانے کی اطلاع (ابھی یہ کنفرم نہیں ) اور روپے کی قدر میں متوقع گراوٹ جیسے مسائل سامنے آنا شروع ہوگئے اور ایک اطلاع کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس میں ملکی معیشت پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ پھر 7 گھنٹے طویل کور کمانڈرز اجلاس اور خلاف توقع کوئی پریس نوٹ نہ جاری ہونا ، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی پریس کانفرنس میں معنی خیز وضاحت "کہ خاموشی کہ بھی زبان ہوتی ہے " جیسے واقعات تواتر سے پیش آئے ۔ 
تو ایسے میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے موجودہ صدر لیفٹیننٹ رضوان اختر کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کو معنی خیز قرار دے رہے ہیں

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com