انسان ہی نیابت الٰہی سے مشرف ہوا

انسان ہی نیابت الٰہی سے مشرف ہوا
امیر محمد اکرم اعوان:
(گذشتہ سے پیوستہ)
جنت میں جہاں سے جو جی چاہے مزے سے کھاؤ پیو مگر اس درخت کے پاس مت جانا۔ جنت میں یہ پابندی لگا کر تربیت فرمائی گئی کہ کچھ چیزیں زمین پر بھی ایسی ہوں گی جن کو استعمال کرنا منع ہو گا۔ جن کو استعمال کرنے کی اجازت ہو گی ان کے حصول اور استعمال کا طریقہ بھی بتایا جائے گا تاکہ پتہ چلے کہ کائنات اللہ کی ہے‘ زمین اللہ کی ہے‘ جہان اللہ کے ہیں‘ انسان اس پر تصرف کرتا ہے لیکن اپنی مرضی سے تصرف بھی نہیں کر سکتا۔ انسان اللہ کا نائب ہے ‘ خلیفۃ اللہ ہے۔ اللہ کی طرف سے ان چیزوں کو استعمال کرنے کا جو سلیقہ ہے اس کے مطابق کرتا ہے اور اس سے عظمتِ الٰہی کا اظہار ہوتا ہے کہ کائنات بھی اس کی ہے‘ بندہ بھی اس کا ہے اس لئے اس کے حکم کے مطابق اس میں تصرف کر رہا ہے اور یہ چیز جبراً مسلط نہیں کی گئی۔ اب جیسے سانس لینا فطری طور پر ہے‘ اسے ہم روکنا چاہیں بھی توروک نہیں سکتے۔ روکیں گے تو مر جائیں گے۔ اسی طرح اگر احکام شرعی بھی فطرت انسانی بنا دیئے جاتے کہ دوسرا کام کر ہی نہیں سکتے‘ جیسے فرشتے ہیں وہ غلطی کر ہی نہیں سکتے‘ گناہ کر ہی نہیں سکتے‘ وہ فطر تاً اطاعتِ الٰہی کرتے ہیں تو پھر وہ بات نہ رہتی۔ ایک اور ایسی مخلوق بن جاتی جو صرف حکم کی اطاعت شعار ہوتی جبکہ اللہ کریم نے چاہا کہ میرا نائب ہو‘ یعنی وہ مجھ سے واقف ہو۔ نائب وہ ہوتا ہے جس کا تعلق اور رشتہ ہوتا ہے‘ وہ احکام حاصل کرتا ہے‘ بات کرتا ہے‘ حضور میں پیش ہوتا ہے پھر اپنی کارکردگی دکھاتا ہے۔ ایک ایسی مخلوق بھی ہو جو براہِ راست میرے ساتھ بات کرے‘ میرے ساتھ جس کا براہِ راست تعلق اور واسطہ ہو‘ جو میری شان اور میری عظمت کو جان کر مجھ پر فریفتہ ہو‘ مجھ سے عشق کرے‘ میرے لئے مر مٹے لیکن میری نافرمانی نہ کرے حالانکہ اس کے پاس نافرمانی کا راستہ بھی ہو۔ ایک ایسی مخلوق بھی چاہئے۔ فرشتے کے پاس تو نافرمانی کا راستہ ہی نہیں ہے۔
زمین پر دوسری مخلوق ’’جن‘‘ بھیجی گئی لیکن ان میں نبوت عطا نہیں کی گئی ۔وہ عشقِ الٰہی سے اور محبت الٰہی سے محروم ہیں۔ جنات کے بارے میں پورے قرآن کریم میں کہیں یہ خبر نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ رہیں گے۔ جنت میں داخلے کے بارے میں قرآن حکیم نے کوئی خبر نہیں دی۔ نبی کریمﷺ نے کوئی خبر نہیں دی۔جنات کی زندگی انسان سے بہت کم تر ہے کہ جو جرم نہیں کریں گے انہیں دردناک عذاب سے نجات مل جائے گی اور جو جرم کریں گے وہ اپنا عذاب بھگتیں گے۔ جنھوں نے جرم نہیں کیا وہ بھی معدوم ہو جائیں گے ‘جو مجرم ہوں گے وہ بھی سزا بھگت کر معدوم ہو جائیں گے۔ انسان باقی رہے گا‘ اس لئے کہ انسان کی روح عالم امر سے ہے اور عالم امر میں فنا نہیں ہے‘ عالم خلق میں فنا ہے۔ خلق بھی اس کا ہے اور امر بھی اس کا ہے۔ خلق کے لئے فنا ہے‘ امر کے لئے فنا نہیں۔ انسانی روح ’’عالم امر سے ہے‘‘۔ جب روح کو دوام ہے تو جس ذرہ خاک کا رشتہ اس کے ساتھ ہو گا اس بدن کو بھی ہمیشہ رہنا ہو گا۔ اب اگر یہ جنت میں پہنچے گا تو بھی ہمیشہ رہے گا‘ اس کی زندگی کبھی ختم نہیں ہو گی۔خدا محفوظ رکھے‘ کفر اور گمراہی میں مبتلا ہو کر‘ شرک میں‘ گستاخی میں مبتلا ہو کر جہنم میں چلا گیا تو مرے گا وہاں بھی نہیں‘ اسے وہاں بھی ہمیشہ رہنا ہے۔ اب انتخاب اس پر ہے‘ ایک طرف حضورِ الٰہی ہے‘ عشقِ الٰہی ہے‘ محبتِ الٰہی ہے‘ قربِ الٰہی ہے‘ وصولِ الٰہی ہے اور اس کے ساتھ دائمی زندگی کے لئے جنت بھی ہے اور دوسری طرف اللہ سے دوری ہے‘ شیطان لعین کا ساتھ ہے‘ رہنا ہمیشہ ہے اور زندگی جہنم کی ہے۔ اب یہ انسان کا انتخاب ہے‘ اس پہ چھوڑ دیا کہ میری یہ تخلیق واقعی اپنی اصل پہ آ کر مجھ سے محبت کرتی ہے یا مجھے بھی بھلا دیتی ہے۔ اللہ کریم فرماتے ہیں کہ جو مجھے بھلا دے گا وہ اپنے آپ کو بھول جائے گا۔ جو اللہ کو بھول جائے گا وہ ایسا بھولے گا کہ اسے اپنی بھلائی بھی یاد نہیں رہے گی۔ خود اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو جہنم میں دھکیل دے گا۔جنت تو جو بھی تھی لیکن یہ تربیت تھی اور اس میں احکام بھی تھے اورنواہی بھی تھے۔ اجازت دے دی گئی‘ کھاؤ ،پیو ،رہو لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا اور اگر آپؑ نے ایسا کیا تو یہ زیادتی ہو گی لیکن شیطان نے انہیں بہکا دیا۔ شیطان تو مردود تھا‘ کافر تھا اورکافر پر توجنت حرام ہے‘ جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ پہلے گزر چکا یہ تو کفر میں پڑ گیا۔ اس نے کیسے بہکا دیا؟ اس میں مفسرین نے مختلف جواب دیئے ہیں اور وہ سارے احتمالات ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آدم علیہ السلام سیر کرتے ہوئے آسمان پر تشریف لے گئے اورچونکہ جنوں کا آسمانوں پہ جانابند نہیں ہوا تھا اس نے وہاں بات کی ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ علیہ السلام جنت کے دروازے میں کھڑے ہوں‘ اس نے باہر سے بات کی ہو لیکن مفسرین کرام ایک بہت پتے کی بات لکھتے ہیں کہ جنت جو آخرت یا بالائے آسمان کا عالم ہے‘ اس طرح مادی عالم نہیں ہے۔
قرآن مجید میں موجود ہے کہ جنتی جہنمیوں کو وہاں سے کھڑے ہو کر دیکھیں گے‘ وہ دیکھو فلاں بھی جہنم میں ہے‘ فلاں بھی! یہ دنیا میں ہم سے مذاق کرتے تھے‘ آج مزے کر رہے ہیں۔ جہنمی بھی جنتیوں کو پہچان لیں گے۔ وہ کہیں گے بھئی زندگی اکٹھے بسر کی تھی‘ ہمارا ملنا جلنا تھا‘ ہم نے غلطی کی‘ تمہاری بات نہ مانی‘ ہم ادھر آگئے تم جنت میں پہنچ گئے۔ ہمیں کوئی کھانے پینے کی چیزیں‘ جنت سے دو گھونٹ پانی‘ ہماری طرف کوئی پھل ہی پھینک دو۔ وہ جواب دیں گے ہم تمہیں نہیں دے سکتے۔ اس کا مطلب ہے اہل جنت‘ جنت میں ہوں گے‘ جہنمی جہنم میں ہوں گے لیکن ان میں بات تو ہو رہی ہو گی۔ اسی طرح شیطان مردود تو ہو گیا اور آدم علیہ السلام جنت میں ہیں لیکن ان میں بات ہو سکتی تھی‘ بات تو ہوئی۔ پھر دوسری جگہ قرآنِ کریم نے فرمایا: سورۃ الاعراف:12’’اس نے اللہ کی قسمیں کھائیں کہ یہ تو تمہاری تربیت کے لئے تھا‘‘ آپ نئے نئے تھے‘ اس وقت منع تھا اب یہاں رہتے رہتے آپ علیہ السلام پختہ کار ہو گئے ہیں‘ درخت میں تو یہ وصف ہے کہ آپ کھائیں گے تو فرشتے کی طرح ہو جائیں گے اور ہمیشہ جنت میں رہیں گے ‘ اس پر اللہ کی قسم بھی کھائی‘ پھر خود قرآن نے حضرت آدم علیہ السلام کی صفائی دی آدم علیہ السلام سے بھول تو ہوئی لیکنسورۃ طہٰ:115’’ان کا ارادہ غلطی کرنے کا نہیں تھا۔‘‘ قرآن کریم میں خود اللہ نے یہ گواہی دی کہ ان کا ارادہ احکامِ الٰہی کو توڑنے کا نہیں تھا‘ بھول ہو گئی۔ مقربین کی بھول بھی ان کے لئے بہت سی تلخی لاتی ہے‘ پھر یہ بات کہ زمین پر تو انہیں آنا تھا‘ پیدا ہی زمین کے لئے کیا گیا‘ جنت میں رہنا تربیت کا حصہ تھا۔ شیطان سے مقابلہ اور شیطان کے داؤ پیچ کی بھی سمجھ آ گئی۔ اس بات کی سمجھ بھی آ گئی کہ ارادہ نہ بھی ہولیکن غلطی سے بھی شیطان کی بات مان لی جائے تو اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔ شیطان نے انہیں بہکایاتو نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں وہاں سے نکلنا پڑا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com