ڈش کا طلوع ہونا

ہندوستانی فلموں کے بعد وی سی آر نے تو پہلے ہی ہماری اخلاقی و ثقافتی قدروں کو شکارکررکھا تھا مگر اب تو ساری حدیں ٹوٹ گئی ہیں کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں عریانی و فحاشی کی پرستار بنی جارہی ہیں۔ پاکستان میں جب سے ٹیلی ویژن کے مختلف چینلز کھلے ہیں اور ڈش طلوع ہوئی ہے اس وقت سے ابلاغ عامہ کے ادارے کو اور بہت سے لوگ سمجھ رہے ہیں کہ تمام اخلاقی وثقافتی اقدار بڑی تیزی سے بکھر جائیں گے ۔ مگر اس صورت حال کے درمیان ایک بہت بنیادی سوال پیدا ہوگیا ہے کہ موجودہ ثقافتی و اخلاقی حملہ پہلی بار ہمیں شکار کررہاہے یا ایسے خطرناک مرحلوں سے لوگ پہلے بھی گزر چکے ہیں ۔ موجودہ سوال کا جوابتلاش کریں توکہنا پڑے گا کہ پچھلے ساٹھ برس میں کئی چھوٹے چھوٹے رجحانات اور کئی بے نام تحریکات نے اس طرح کے محرکات کو تسلسل کے ساتھ باقی رکھا ہے۔ پہلے نہایت اختصار کے ساتھ عقیدے ، تہذیب اور ثقافت کی معنوی سطحوح کو جان لیا جائے۔ عقیدے میں انسان کے داخلی وجود سے ایک ایسا یقین اور ایک ایسا اعتبار پیوست ہوتا ہے جس کا تعلق مادی زندگی اور اس فانی دنیا کے بعد ہمیشگی سے ہے۔ عقیدہ مادی لوگوں کا غیر مادی ایک ان دیکھا خواب ہے ۔ عقیدہ انفرادی ہوتے ہوئے بھی اجتماعی ہوتا ہے مگر کبھی کبھی کوئی شخص انفرادی حیثیت میں وراثت میں ملے ہوئے عقیدے کو چھوڑکر کسی دوسرے عقیدے میں چلا جاتا ہے جیسے کوئی عیسائی ، یہودی بن جائے یا مسلمان ہندو بن جائے۔ تما م مذہبی قوموں کے عقیدے اپنی مرکزیت میں تو ایک ہی ہیں لیکجن درمیان کے متن اور حاشیوں کے ایک دوسرے سے الگ ہیں بلکہ مخالف ہوگئے ہیں ۔ عقیدے سے پیدا ہونے والے فکر وعمل کے اصول کسی قوم کے اجتماعی مزاج بن کر جب جسمانی وذہنی رویوں میں اپنا اظہار کرتے ہیں تو ایسے نظام کوکسی قوم کی تہذیب کہا جاسکتا ہے۔ گویا تہذیب روحانی و مادی زندگی کا ایک ایسا اشتراک ہے جس کے ذریعے کسی قوم کی شناخت کی جاسکتی ہے۔ کسی تہذیب میں دوسری تہذیب کے رویے کی آمیزش تو ہوسکتی ہے لیکن تہذیب کی مرکزیت کو نہیں بدلا جاسکتا۔ ۔ ثقافت کسی قوم کے رسم ورواج کو ان کے قومی ومذہبی تہواروں کو کچھ خاص یادگاردنوں کو اورع خوشی اور غم کے موقعوں پر اپنے اظہار میں لاتی ہے۔ کسی قوم کی ثقافت اپنے قومی عقیدے اور قومی تہذیب کے بنیادی مرکرز وں سے اس طرح ہم آہنگ ہوتی ہے جسیے دھنک کے رنگ ہوں یا دریا کی لہریں ہوں ۔ عقیدے اور تہذیب کا اندازہ وفاقی اور اجتماعی ہوتاہے لیکن ثقافتی علاقائی یا صوبائی ہوسکتی ہے جیسی ہمارے اپنے ملک میں موجود ہے۔ جغرافیائی حالات کے اثرات اور قدیم روایات کی آمیزش کسی قوم کی ثقافت کو علاقائی یا صوبائی بنا سکتی ہے۔ لکین کسی بھی ثقافت کو مکمل طور پر تبدیل نہیں کیا جاسکتا اگر ایسا ہوتا ہے تو عقیدہ اور تہذیب کے ساتھ خود قوم کیلئے ممکن نہیں رہیگا کہ وہ اپنی شناخت کراسکے۔ ہماری بقا ہماری مٹی کے ساتھ پیوست ہے۔ ہماری ساری آسودگیاں ہمارے اپنے موسموں سے رشتہ رکھتی ہیں۔ ہماری اپنی ایک تاریخ ہے کہ ہم اپنے تہذیب سے جڑے ہوئے ہیں اور ہماری ثقافت میں خود ایسے رنگ، ایسے عکس، ایسی خوب صورتیاں موجود ہیں جو جسم وجان کو آسودہ بھی رکھتی ہیں اور زندگی کو تروتازہ رہنے کا ہنر بھی سکھاتی ہے۔ ڈش کے مختلف چینلز پر مردوعورت کے جسموں کو عریانیوں کے ساتھ آزادانہ ملتے ہوئے دیکھ کر ہمیں عجیب ضرور لگے گا،۔کہ ہم لوہے یاپتھر کے مجسمے نہیں ہیں مگر ہماری بنیادی تربیت میں ایسی بہت ساری منفی حیوانی تحریکات سے بچانے کی قوت بھی موجود ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہم ایک ایسا درخت ہیں جس کی جڑیں ہمارے عقیدے کی زمیں میں پیوست ہیں ۔ درخت کا جسم ہماری تہذیبی فکروعمل کی علامت ہے۔ درخت کے رنگ، اس کے پھول، اس کی پتیاں اور ثمرات ہماری ثقافت ہیں۔ درخت کو گرانے سیلاب بھی آتے ہیں۔ آندھیاں بھی چلتی ہیں۔ دھوپ کی شدتوں سے درخت کمزور بھی ہوسکتا ہے لیکن درخت اپنی بنیاد میں مضبوط ہے اور اپنی جڑیں گہری زمیں میں رکھتا ہے تو وہ دشمن موسموں کو شکست دیتا ہے۔ ایسے صحت مند درخت نہ صرف سلامت رہتے ہیں بلکہ توانا وثمر بار بھہی رہتے ہین۔؂
انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ عقیدوں اور تہذیبوں کے ٹکراؤ اور آپس میں جنگوں کے باوجود ثقافتیں تبدیل نہیں ہوتیں۔ ایسے حوالوں میں دیکھا گیا ہے کہ بنیادی عقیدوں کا مضبوط ہونا ضروری ٹھہرا ہے۔ ہندوستان میں کوئی ایک ہزار سال تک مسلمانوں نے ہندؤ پر حکومت کی اور دونوں قومیں مسلسل ٹکراؤ میں رہیں لیکن دونوں کی ثقافتیں ، تہذیبیں اور عقیدے الگ الگ ہیں۔ اتنے طویل دورانیے میں کئی زمانے ایسے بھی آئے جب ہندو مسلم تہذیبیں مل کر کسی تیسری تہذیب کی تشکیل تک جاپہنچیں اس کی سب سے بڑی مثال اکبرا عظم کا ’’دین الٰہی‘‘ہے۔ اکبر کے دین الٰہی کا پس منظر بتاتاہے کہ ہندومسلم عقیدے ، تہذیبیں اور ثقافتیں ایک دوسرے میں تحلیل ہوجانے کے عمل سے گزر رہی تھیں مگر آگے چل کر اورنگ زیب کے عہد میں ہی ہندو اور مسلمان اپنے اپنے فکروعمل، احساس و خیال اور زندگی کے سماجی و معاشرتی رویوں کواپنی اپنی حدوں میں آباد کراچکے تھے۔ مسلمان حکمران رہے لیکن ہندؤں کا عقیدہ تہذیب اور انکی ثقافت مسلمانوں سے الگ اپنی شناخت کے ساتھ باقی رہی۔ گھروں سے بازارون تک اور محفلوں کے درمیان ہندو مسلمان دونوں کی کی پہچان الگ الگ ہوتی رہی۔ دونوں قوموں کا فرق دھوتی ساڑھی یا پاجامے اور شلوار کا فرق نہیں تھا بلکہ بنیادی فرق مسجد اور مندر کا تھا جس کے حوالے سے دونوں قومیں مختلف خدوخال کے ساتھ اپنے اپنے چہروں کی الگ الگ پہچان رکھتی تھیَ اتنا ضرور ہوا کہ چند روایات یا رسومات ایک دوسرے پر اثرا نداز ہوئیں اور دونون کی ثقافتوں میں تحلیل ہوگئیں۔ ثقافتی حملے کے خوف کو ہم ایک اور انداز سے بھی سمجھنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ انسانی عروج وزوال کی تاریخ میں فکروعمل کو اساسی اہمیت حاصل رہی ہے۔ کسی ایک قوم یا کئی قوموں کی زندگیوں کو دیکھا جائے تو بہت سے اختلافات کے باوجود چند فکری رویے اور چند عملی اصول سب میں مشترک ملتے ہیں۔ اگرچہ ان گنت اڑی ترچھی لیکریں ایک دوسرے کو کراس کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں لیکن گنجان زاویوں کے درمیان ایک ایسا مثلث موجود رہتا ہے جو اقوام عالم میں مشترک ہے۔ اس مثلث کی تین لکیریں ہیں جو عقیدے ، تہذیب اور ثقافت کی علامت ہیں۔ اس میں بنیادی لکیر عقیدے کی ہے جو دوسریت دو لکیروں پر اثر انداز ہوتی ہے اور انہیں بدل بھی سکتی ہے لیکن خود تبدیل نہیں ہوتی۔ عقیدے کے برابر دوسری تہذیب کی لکیر ہے جو شخصی اور اجتماعی کردار سازی میں قومی یا ملی فکروعمل کے حوالے سے اپنی پہچان کرانے کا ہنر جانتی ہے۔ عقیدہ نہں بدلتا لکین جب دوسری تہذیبوں کے اثرات گہرے ہونے لگتے ہیں تو کسی تہذیب میں تبدیلیاں ہوجاتی ہیں مگر مثبت و منفی رویون اور زندہ و مردہ روایات کے ساتھ ہر صورت میں کسی قوم کے عقیدت مندوں کی شناخت کو قائم رکھتی ہے۔ ثقافت کی لکیر عقیدے اور تہذیب کی لکیروں سے چھوٹی ہے مگر وہ دونوں کو آپس میں جوڑ کر کسی قوم کی وحدت کا استعارہ بن جاتی ہے۔ اسی لیے دنیا کی اچھی قوموں کو ان کی ثقافت سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا کہ ثقافت کو کسی قوم کی پہچان اور اجتماعی قوت کا نمائندہ کہا گیا ہے۔ جب انگریز ہندوستان کے حکمران ہوئے اور مسلمان و ہندؤں نے غلامی کے طوق اورمظلومیت کی زنجیریں پہن لیں تو ہندوستان کی صدیوں پرانی ثقافتوں پر مغربی اثرات نے اپنے ناخن گاڑنے شروع کردیے۔ انگریز کی حکمرانی میں غلاموں کے ساتھ مسلمان حکمرانوں جیسے رویے نہیں تھے۔ انگریز اپنے علوم وفنون کے ساتھ اپنے قومی وشخصی طلسمات کو دنیا کی بڑی روایات سے زیادہ اہم بنا کر پیش کررہے تھے اور ہندوستان کی تمام بڑی اور چھوٹی قومیں نفرتوں اور مجبوریوں کے ساتھ ان کے رنگ ڈھنگ اپناتی جارہی تھی۔ انگریزوں کی دوسوبرس کی حاکمیت کے اثرات کو آسانی سے فراموش نہیں کیا جاسکتا جس نے ہمارے فکرعمل یعنی ہماری تہذیبی رویوں کو بدل کررکھ دیاتھا۔ انگریزوں نے مسلمانوں سے تخت و تاج چھین کر اپنی طاقت کی پوشاکیں ہندوستانیوں کے جسموں پر چڑھا دی تھیں۔ ہمارے بزرگوں کو آخر کار فرنگی آمریت کو برداشت کرنا پڑا تھا پھر آہستہ آہستہ ہمارے لوگ بھی سایہ پرچھائیوں کجے درمیان آباد ہونے کو اپنا اعزاز سمجھنے لگے تھے۔ دوسو برس کی اس المیہ داستان کو ادب و شعر کے حوالے سے دیکھنا ہے تو غالب سے اور سرسید سے اقبال تک اور پھر تخلیق پاکستان تک ان گنت لکھنے والوں کی تحریروں میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اپنے تہذیب و ثقافتی ورثوں کی آزادی کی لازوال خواہشوں اور انکی بھالی کی کوششوں کا اظہار کتنے مختلف پیرایوں میں کیا جاتا رہا ہے۔ اس حوالے کی پہلی بڑی رزم گاہ تو اکبر الٰہ آبادی کی شاعری ہے۔ اکبر الٰہ بادی نے مغربی سیلاب کو روکنے کیلئے ہجونگاری اور طنزو مزح کے جو بندھ باندھے تھے تاریخ گواہی دے رہی ہے کہ وہ مغربی سیلا ب کو نہیں روک سکے ۔ مسلمانوں نے ایک ہزار سال میں ہندوؤں کو داخلی و خارجی سطحوں پر جس پھیلاؤ اور جس گہرائی کے ساتھ تبدیل کیا تھا اس سے بہت زیادہ افرنگیون نے دوسو برس کے درمیان ہندوستان کے باشندوں کو بدل ڈالا تھا۔ مغلوں کی حکومت میں اکبر سے جہانگیر تک ایسا لگتا تھا کہ مسجد اور مندر کو چھوڑ کر کوئی ایک ایسی نئی عبادت گاہ تعمیر ہوگی جہاں مسلمان اور ہندو اقدار ایک دوسرے میں تحلیل ہوجائیں گے اور انسان کو بھگوان یا خدا مان لیا جائیگا۔ جس کی چھاؤں میں دونوں ثقافتیں مل کر ایک اسے چہرہ کو اظہار میں لائیں گی جو خدوخال سے ہم آہنگ ہوگا۔ یہی حالت انگریزوں کے عروجی دورانیے میں دیکھی جارہی تھی کہ مسلمانوں نے اپنا لباس، اپنا رہن سہن، اپنے ادب و آداب اور اپنی زندگی کے ظاہری رویوں کو مغربی سانچوں میں ڈھال لیا تھا مگر جب جدید علوم وفنون اور سائنسی تعلیم و تدریس کی بنیادی رکھتے ہوئے سرسید کی اس عظیم آواز نے اس پوشیدہ سچائی کا اظہارکر دیا تھا کہ افرنگیون کی آمریت مسلمانوں کو خارجی طور پر متاثر کرگئی تھی لیکن لیکن وہ اپنے عقیدے میں ویسے ہی مضبوط تھیجیسے کوئیگھنا درخت گہری زمینون تک اپنی جڑوں کو پیسوت رکھتا ہے۔ اس صورت حالات میں وہ ایک خرد افروزی اور کشاہ نظر کی جو تحریک پید اہوئی اس نے پورے ہندوستان کوآزاد اور روشن کردیا پھر تاریکخ نے دیکھا کہ عقیدے ، تہذیب اور ثقافت کی بنا پر ہندوستان کو تقسیم ہونا پڑا۔ تاریخی حوالوں میں دیکھ کر اعتبار آجاتا ہے کہ اگر کسی قوم کا عقیدہ مستحکم ہے تو تہذیب و ثقافت کے درمیان دوسری ملاوٹوں کے باوجود بھی بنیادی اہمیتوں میں کوئی فرق نہٰں پڑتا ہے بلکہ علوم و فنوں کیلئے بہتر امکانات پیدا ہوجاتے ہیں جو خرد افروزی اور کشادہ نظری کا سبب بنتے ہیں ۔ ڈش کے خوف سے ذہن و روح کو زخمی کرنا غیر دانش مندانہ اور لاعلمی کا عمل ہے۔ ہم غاروں میں یا جنگلون میں زندہ نہیں ہیں بلکہ پھلیہوئی اس کائنات کے درمیان آباد ہیں جو لمحہ لمحہ سمٹ کر ایک نقطے پر مرکوز ہورہی ہے۔ اس کائنات کے زمین وآسمان اور اس کائنات کے بے کنا ر خلا ہمارے گھروں میں اتر آیا ہے۔ ہمیں چھوٹے چھوٹے خوف اور خوشیوں کے گنبد سے باہر آنا ہوگا اور اپنے نجوانون کو اپنے عقیدے سے اپن۸ی تہذیب سے ، اپنا ثقافت سے پیوست رہنے کی بنیادی تربیت دینی ہوگی تاکہ ڈش کا طلوع ہونا ہمارے لیے سیاہ رات کا خوف نہ بن سکے بلکہ تازہ سورج کیطرح ہمیں اور ہمارے گھروں کو اپنے نئے اجالوں سے زیادہ روشن اور زیادہ مستحکم کرتا جائے۔ 
محمد آصف ظہوری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com