ہیں تلخ بہت اہل قلم کے حالات

شب وروز/جاوید ملک
یہ غالباً 3مئی 2004ء تھا ۔ اس روز سورج آگ برسا رہا تھا ۔ حبس اور گرمی سے جان نکل رہی تھی۔ اس گرم ترین دن وفاقی دار الحکومت میں عالمی یوم صحافت کی مناسبت سے راولپنڈی اسلام آباد پریس کلب کیمپ آفس سے صحافیوں کی ریلی عین اس وقت شروع ہوئی جب سورج سوا نیزے پر تھا ۔ اس وقت کیمپ آفس میلوڈی اسلام آباد ہوٹل کے بالمقابل ہوا کرتا تھا ۔ ریلی کے شرکاء پیدل مارچ کرتے ہوئے ریڈ زون میں داخل ہوئے ان کی منزل وزیر اعظم ہاؤس تھی جہاں انہوں نے صحافیوں کے حقوق کی پامالی کے حوالے سے ایک یاداشت پیش کرنی تھی ۔
پسینے سے شرابور پُرجوش نعرے لگاتے اس قافلے کو پریڈ گرؤنڈ کی اس حد پر روک دیا گیا جو شاہراہ دستور سے جڑتی ہے ۔ صحافی آگے بڑھنے پر بہ ضد تھے ہلکی توتکرارکے بعد اچانک موقعہ پر تعینات انسداد دہشت گردی سکواڈ کے جوانوں نے اس ریلی پر ہلہ بول دیا ۔ مجھے دو جوانوں نے ایسے پکڑا کہ ایک نے میرے سر جبکہ دوسرے نے ٹانگوں سے جکڑ کر جھولا سا بناتے ہوئے وہاں موجود قیدیوں کیلئے مخصوص بس میں پھینک دیا چند لمحوں تک تو بس کے فرش پر گرنے سے لگنے والی چوٹ نے مجھے بے حال کردیا ۔ آنکھیں کھولیں تو سی آر شمسی ،کمال اظفر،عاصم رانا ،حفیظ عثمانی ،باسط پراچہ ،نعیم شاہ ،افضل بٹ ،نجم الثاقب، شیمم خان ، ڈاکٹر عامر وکیل مرحوم،عثمان گجر،حتی کہ دو خواتین صحافی فوزیہ شاہد،اور فرح ناز بھی کم و بیش ایسے ہی حالات میں بس میں موجود تھے ۔سی آر شمسی کی شرٹ بھی پھٹ چکی تھی اور چہرے پر گھونسوں کے نشان بھی صاف دکھائی دے رہے تھے ۔اسی اثنا ء میں دیگر صحافیوں کو بھی بس میں ٹھونسا جارہا تھا ۔ طارق عثمانی ، اصغر چوہدری ،عرفان حیدراور بہت سارے ایسے نام ہیں جو اب یاد نہیں آرہے یہ لگ بھگ پینتیس صحافی تھی جنہیں پہلے تھانہ سیکرٹریٹ اور بعد ازاں سہالہ تھانہ منتقل کردیا گیا ۔حوالات میں بھی ان کا جوش دیدنی تھا اپنے حقوق کیلئے دھوا ں دار تقریریں کی جارہی تھیں اور ہر شخص کسی بھی قربانی اور نتیجہ کیلئے تیار تھا ۔صحافیوں کی گرفتاری کی خبر جڑواں شہروں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ۔ قومی اسمبلی کا اجلاس جاری تھا ۔سب سے پہلے پارلیمانی رپورٹرز نے گیلری کا بائیکاٹ کیا ۔ قومی اسمبلی کے داخلی دروازے کے سامنے جڑواں شہروں سے صحافیوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی اس وقت مسلم لیگ (ق)کی حکومت تھی اپوزیشن کی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ (ن)اور دیگر نے بھی صحافیوں سے اظہار یکجہتی کی حکومت کو چاروناچار گھٹنے ٹیکنے پڑے سہالہ تھانے سے ان گرفتار صحافیوں کو واپس لایا گیا اور قومی اسمبلی کے داخلی دروازے پر ہی احتجاجی دھرنے کا اغاز ہوا آج نظام سے بغاوت کرنے اور مرنے مارنے کے جوشیلے دعوے کرنے والے شیخ رشید احمد اس وقت وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات تھے اور صحافیوں کی اکثریت اس بات پر متفق تھی کہ یہ سب ان کے اشارے پر ہوا ہے اس لیئے جب وہ صحافیوں کو منانے آئے تو انہیں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا حتیٰ کے ایک پرجوش صحافی جن کا چہرہ آنکھوں میں گھوم رہا ہے لیکن نام یاد نہیں آپارہا نے ان کے گریبان کو پکڑنے کی بھی کوشش کی ۔
تیرہ سال کا طویل عرصہ بیت گیا ۔ اس دوران نہ جانے کتنے احتجاج ریکارڈ پر ہیں یہ جدوجہد عیاں کرتی ہے کہ موجودہ لولی لنگڑی آزادی بھی صحافیوں نے کتنی قربانیوں سے حاصل کی ہے اس سال بھی عالمی یوم صحافت آیا ۔ایک اور مظاہرہ تھا لیکن یہ مظاہرہ روزنامہ ڈان اسلام آباد کے دفتر کے باہر کیا گیا ۔ میں ا س مظاہرے کے حق میں نہ تھا کیونکہ ایک ایسے وقت میں جب موجودہ حکومت نے سینکڑوں اخبارات کو میڈیا لسٹ سے اُڑادیا ہواور چند مالکان سے گٹھ جوڑ کرکے یہ تہیہ کرلیا ہو کہ چھوٹے اخبارات کا گلہ دبانا ہے اور چند اخبارات کو بے پناہ سرکاری اشتہارات سے نواز کر مضبوط کرنا ہے تو ہمیں مالکان کی آواز بننے کے بجائے کارکن صحافیوں کے حقوق کی لڑائی لڑنی چاہیے لیکن تنظیموں میں جہاں اقلیت کو اپنے اختلاف کا اظہار ضرور کرنا چاہیے وہیں اکثریتی رائے پر لبیک کہنا بھی ضروری ہے یہ ہی تنظیموں کا حسن ہوتا ہے اس لیے قیادت کے فیصلے پر سر تسلیم خم کرکے میں نے اس مظاہرہ میں بھی حصہ لیا ۔ اس بار حکومت وقت نے عالمی یوم صحافت پر ایک اور تحفہ بول ٹی وی کی بندش کی صورت میں بھی دیا ۔ ایک اور تاریک پہلو اکثریتی اداروں میں کئی کئی ماہ سے زیر التواء تنخواہوں پر حکومت کی پرا سرار خاموشی بھی ہے ۔
مالکان گٹھ جوڑ نے اخبارات ،جرائد اور چینلز کو کارکنان کیلئے عقوبت خانہ بنادیا ہے ۔ستر فیصد سے زائد صحافی ایک دیہاڑی دار مزدور سے بھی کم اجرت پر ان بیگار کیمپوں میں مشقت پر مجبور ہیں اور اس معمولی اجرت کی بروقت ادائیگیوں کا بھی کوئی نظام نہیں ہے ۔ابھی چند روز قبل ہی ہم نے اپنے ایک صحافی ساتھی جاوید بٹ کی پہلی برسی منائی ہے عارضہ قلب میں مبتلا یہ صحافی مالی مجبوریوں کے بوجھ تلے دبا اپنا صحیح علاج تک نہ کراسکا وہ خود تو خاک کا کفن اوڑھ کر ابدی نیند سوگیا لیکن کسی نے اس کے اہل خانہ تک کا نہ پوچھا ۔۔۔نہ جانے قلم کے ان مزدوروں کو ابھی اور کتنے امتحانوں سے گزرنا ہے ۔۔۔یہاں ایک نو آموز وزیر مملکت برائے اطلاعات کو اپنے دفتر کیلئے جو صوفہ چاہیے وہ بھی سات لاکھ روپے سے کم مالیت کا نہیں ہے لیکن صحافی بستر مرگ پر بھی ہوتو خزانہ خالی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com