بچوں کے لا پتہ اور اغواء ہونے کا ایشو ، چند حقائق

بچوں کے لا پتہ اور اغواء ہونے کا ایشو ، چند حقائق
آج کل شہرمیں بچوں کے لاپتہ اور اغوا ہونے کے واقعات کو بنیاد بنا کر میڈیا ’’ریٹنگ‘‘ کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کیلئے سرگرم عمل ہے اور بچوں کی گمشدگی اور اغوا کی وارداتوں کو اس طرح پیش کررہا ہے کہ شہر میں جیسے کوئی خطرناک گروہ سرگرم عمل ہے جو بچوں کو اغواء کرکے بیگار لینے یا مختلف جرائم کے استعمال کیلئے یہ وارداتیں کر رہاہے۔اس سلسلے میں بادامی باغ، باغبانپورہ ، شیرکوٹ، لیاقت آباد، جنوبی چھاؤنی، شاد باغ، گجر پورہ، لوئر مال، بند روڈ، سبزہ زار غرضیکہ شہر کے مختلف علاقوں میں جانے کے ساتھ لاہور کے مختلف پولیس افسروں سے بھی ملاقات کی گئی تو صورتحال اس کے برعکس نکلی۔ اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب بچوں کے اغوا کے سلسلے میں مجھے مختلف علاقوں جانے کا اتفاق ہوا جہاں خوف وہراس کا ماحول نظر آیا اور بہت سے علاقوں میں والدین نے بچوں کو ٹیوشن اور تفریح کیلئے بھی باہر جانے سے روک کر گھروں میں ایسے مقید کرلیا جیسے جونہی ان کے بچے باہر گئے تو اغوا کر لیے جائیں گے بطور کرائم رپورٹر اگر میں ان چیزوں کا تجزیہ کروں اور اپنی تازہ معلومات کے علاوہ ماضی کے گھروکوں میں جھانکوں تو مجھے یہ ایک روٹین پریکٹس نظر آتی ہے کیونکہ بچوں کی اکثریت گھروں میں والدین کی لڑائی ، جھگڑوں ، بچوں کو تشدد کا نشانہ ، پڑھائی میں دل نہ لگنا ، مدرسوں میں اساتذہ کی مار پیٹ ، بری سوسائٹی اور ولدین کی بچوں کی سرگرمیوں سے عدم دلچسپی ایسی بڑی وجوہات ہیں جو بچوں کو گھروں سے بھاگنے پر مجبور کردیتی ہیں ۔ اور پھر یہ بچے چند دنوں کے تلخ تجربے کے بعد خود ہی اپنے گھر کو لوٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ وہ حقائق ہیں جو میں بطور صحافی اپنے کیرئیر میں دیکھتا آرہاہوں اور بچوں کے اغواء اور گمشدگی کے موجود واقعات میں بھی گزشتہ سالوں کی طرح یہی مماثلت نظر آرہی ہے۔ اس سارے ایشو میں جو بنیادی بات نظر آئی ہے وہ یہ کہ اب تک شہر لاہور میں کوئی ایک ایسا واقعہ نظر نہیں آیا جس میں کسی بچے کو تاوان کیلئے اغواء کیا گیا ہو یا اغواء کے بعد والدین سے تاوان مانگا گیا ہو۔ ہاں البتہ ایک اندوناک واقعہ سامنے ضرورآیا ہے جب ابادامی باغ سے اغوا ہونے والے عمیر نامی بچے کی مسخ شدہ لاش ایک نالے سے ملی جسکاوزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے نوٹس لیتے ہوئے لاہور پولیس کو ایسی وارداتوں میں ملوث ملزموں یا گروہ کو گرفتار کرنے کی ہدات دی۔ وزیراعلیٰ نوٹس آتے ہی میڈیا نے چند روز میں ایسی فضا بنا دی کہ شہر میں بچوں کو اغواء کرنے والا ایک گروہ سرگرم عمل ہے۔ حالانکہ ماضی میں بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرکے پھینکنے کے کئی واقعات ہوچکے ہیں کیونکہ جس معاشرے میں والدین بچوں کو زیور تعلیم کی بجائے اپنے معاشی مسائل کو حل کرنے کیلئے استعمال کریں اور چائلڈ لیبر کے قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے معصوم بچوں کو مختلف فیکٹریوں ، ورکشاپونں، دکانوں اور گھروں مٰں ملازم رکھوائیں جہاں ان سے جنسی استحصال کے واقعات روزمرہ کی خبروں میں میڈیا کی زینت بنیں اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ کیا مان باپ حکومت ، پولیس، چائلڈ پروٹیکشن بیورو یا محکمہ سوشل ویلفئیر؟ اس کا فیصلہ تو میں قارئین پر چھوڑتا ہوں لیکن موجودہ حالات میں درگت تو پولیس کی بن رہی ہے۔ لیکن اب تو پولیس کے ساتھ ساتھ کئی شہریوں کی بھی درگت بن چکی ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں جہاں بھی کوئی اجنبی شخص اہل علاقہ کو نظر آتا ہے وہ اسے اغوا کار سمجھ کر اس کی ٹھکائی کردیتے ہیں اور ٹھکائی کے بعدوہ بے چارہ ہفتوں چارپائی سے اٹھنے کے قابل نہیں رہتا۔ اب تک لاہور کے مختلف علاقوں سے کئی بے گناہ لوگ اغواکاروں کے شبے میں اہل علاقہ کی پہلوانہ صلاحیتوں کا مزا چکھ چکے ہیں ۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی اغوا کار نہ تھا۔ چند روز قبل باغبانپورہ کے عالقے میں ایک شخص اپنی جاننے والی خاتو ن کو موبائل کا چارجر لے کر دینے گیا تو گلی میں چند منچلوں نے اسے دیکھ کر کہ کہا کہ تم کون ہو اور یہاں کیا کررہے ہو وہ ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ ان منجلوں نے اس دھلائی شروع کر دی اور دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کا ایک ہجوم اکٹھا ہوگیا بس ہونا کیا تھا اس بدنصیب نوجوان کی قسمت جو یہ سوچتا رہا کہ ’’جانے کیس جرم کی پائی سزا یاد نہیں‘‘اوراب مجھے جس بات کا خطرہ ہے وہ یہ کہ اگلے چند روز میں اگر میڈیا ہائپ کا گراف نیچے نہ آیا تو شہریوں کے ہاتھوں ضرور کوئی بے قصور شخص مارا جائیگا۔ کیونکہ جب ہجوم اکھٹا ہوجائے تو اس کی نہ کوئی سمت ہوتی ہے نہ کوئی مزاج اور اس کی تباہ کاریوں کا اندزہ صرف اس کے منتشر ہونے کے بعد ہی لگایا جاسکتا ہے ۔ یہ تحریر لکھتے ہوئے میرے سامنے ایک ٹی وی چینل پر یہ خبر چل رہی تھی کہ کاہنہ کی حدود سے اغواء ہونیوالا شخص نشے میں بے ہوش کھیتوں سے برآمد۔ لڑکے سے شراب کی بوتل بھی برآمد ۔اب آپ خود اندازہ کرلیں کہ اس بچے کا والد صبح تھانے میں اپنے بیٹے کے اغواء کا مقدمہ درج کروانے گیا۔ تو تفتیش کے بعد پتا چلا کہ اس کا بچہ شرابی ہے اور شراب پی کر سارا سارا دن بے ہوش پڑا رہتا تھا۔ اور جب پولیس نے تلاش شروع کی توصاحبزادے نشے میں دھت کھیتوں میں محو خواب پائے گئے۔ اسی طرح چند روز قبل طوبہ نامی لڑکی کے والدین نے گڑھی شاہو میں اغواء کا مقدمہ درج کروایا کہ ہماری بچی کو نامعلوم افراد نے اغواء کر لیا ہے اور یہی بچی جو درحقیقت اپنے والدین سے جھگڑ کر گئی تھی اگلے روز شام تک وہ خود گھر واپس آگئی۔ اسی طرح کچھ روز قبل مناواں سے اغواء ہونیوالی فرزانہ نامی12 سالہ لڑکی کو پارک میں بیٹھے ہوئے پولیس اہلکاروں نے پوچھ گچھ کی تو ا س نے بتایا کہ وہ والدین کے رویے سے دلبرداشتہ ہوکر گھر سے بھاگ آئی ہوں جب پولیس نے اس کے والدین سے رابطہ کیا تو اس کے والد مناواں تھانہ میں اغواء کا مقدمہ درج کروانے بیٹھا تھا۔اسی طرح کے درجنوں واقعات ہیں۔ پولیس اور چائلڈ پروٹیکشن بیورو سے حاصل ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق بچوں کے گھرون سے لاپتہ ہونے اور اغواء کے واقعات میں 90 فیصدبچے اپنی مرضی سے گھروں سے جاتے ہیں۔ اور 10 فیصد بچے ایسے ہیں جن کو ان کے رشتہ دار اغوا کرتے ہیں کچھ بچے جرائم کرتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں جبکہ صرف دو یا تین فیصد بچے ایسے ہیں کہ جنہیں بھکاریوں یا جرائم پیشہ افراد نے اپنے استعمال کیلئے اغواء کیا۔ یہاں میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف ، انسپکٹرجنرل پنجاب پولیس مشتاق احمد سکھیرا ، سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) محمد امین وینس، ڈی آئی جی اپریشن لاہور ڈاکٹر حیدر اشرف اور صوبائی دارالحکومت سمیت صوبے بھر کے پولیس افسران سے گزارش کروں گا کہ کہ وہ اس سوشل ایشو کے حل کیلئے جہاں عوامی رہنمائی ، سماجی کارکنوں اور این جی اوز کا تعاون حاصل ہے وہیں والدین کو بھی اس بات کا احساس دلائیں کہ کہ بچوں کی حفاظت والدین کی اولین ذمہ داری ہے ہم اپنی قیمتی چیزوں کو محفوظ رکھنے کیلئے بڑے اور مہنگے تالے لگا رکھتے ہیں۔لیکن بچے جو حقیقت میں ہمارا سب سے زیادہ قیمتی اثاثہ ہیں ان کی حفاظت پروہ توجہ نہیں دیتے جس کی ضرورت ہے۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے کردار کر بھی بہت زیادہ فعال کیا جانا چاہیے پولیس اور مختلف ذرائع سے حاصل ہونیوالے اعدادوشمار کے مطابق یکم جنوری 2016 ء سے 31 جولائی 2016 ء تک شہر کے مختلف علاقوں سے 258 بچے گھروں سے لاپتہ ، اغوا یا گم ہوئے جس میں سے کل 243 بچے واپس آچکے ہیں جسن میں سے 198 بچے خود گھرون سے ناراض ہوکر گئے تھے اور خود ہی واپس آگئے ہیں۔ جبکہ 45 بجے پولیس نے بازیاب کرائے اور باقی ماندہ بچون کی تلاش جاری ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنزلاہور ڈاکٹر حیدر اشرف نے اس سلسلے میں تما م ڈویژنل ایس پیز کی نگرانی میں ہر تھانہ سطح پر بھی ٹیمیں تشکیل دے رکھی ہیں۔ جو کہ بچوں کے حوالے سے اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔ 
محمد آصف ظہوری
آہستہ آہستہ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com