وقت کی تیز رفتاری 

وقت کی تیز رفتاری 
تحریر ۔۔۔ باؤ اصغر علی 
وقت کس قدرتیزی سے گزرجاتا ہے پتہ ہی نہیں چلتا۔ سال2017ء کا سورج طلوع ہوا اوراب کچھ دن بعد غروب ہونے کوہے ، مگروقت کا پتہ ہی نہ چلا۔ روزمرہ زندگی کی مصروفیت میں اتنی تبدیلی آچکی ہے کہ اب سسٹم کے ساتھ نہ چلنے والے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔اگربات کریں پاکستان فلم انڈسٹری کی یا کسی بھی شعبے کی تواس کے پیچھے رہ جانے کی ایک ہی وجہ سامنے آئے گی کہ انھوں نے وقت کی رفتار کے ساتھ آگے بڑھنے کے بجائے ، کسی ایک مقام پرقیام کیا جس کی وجہ سے وہ پیچھے رہ گئے۔ دوسری جانب ہالی ووڈ اوربالی ووڈ آج کامیابی اورترقی کے اس مقام پرپہنچ چکے ہیں جس کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ پاکستان اوربھارت کے مقابلے میں ہالی ووڈ بہت پہلے سے پوری دنیا میں اپنے کام کی بدولت اپنا نام اورمقام بنا چکی ہے اوریہاں کام کرنے والے باصلاحیت لوگ آئے دن کوئی نہ کوئی نئی چیز دنیا کے سامنے لانے میں لگے ہیں۔ اس سلسلہ میں بھارت کی فلم انڈسٹری بالی ووڈ نے بھی خاصی محنت کی اوراپنی فلموں کے معیار میں حیرت انگیز تبدیلی پیدا کی لیکن تاحال وہ بھی ہالی وڈ سے بہت پیچھ ہیں۔ مگرپاکستان فلم انڈسٹری کی بات کی جائے تواچھی خاصی مقبولیت کے باوجود کچھ لوگوں کی غلط پالیسیوں کی بدولت حالات ایسے خراب ہونے لگے کہ پھرسدھرنے کی جانب واپسی نہ ہوسکی۔ اس صورتحال پرقابوپانے کے بجائے مزید بگاڑ پیدا کیاگیا اورنان پروفیشنل فلم میکرز نے کچھ ایسی فارمولا فلمیں بنانے کا سلسلہ شروع کیا کہ پھرمعیارمیں بہتری کی بات ہی ختم ہوگئی۔اس کے بعدکچھ پاکستانی نا کام اداکاراؤں نے سوشل میڈیا پہ اپنی نازیبافحش تصویر وں کی بھر مار کر رکھی ہے مگر سوا ئے بدنامی کے کچھ حاصل نہ کر سکی ،ہماری شوبز انڈ سٹری فحاشی کی وجہ سے تباہ وبربادہوتی جا رہی ہے ،ناکام اداکارائیں کروڑ پتی عاشق بنانے کے چکر میں فحش تصوریں بنا کر فیس بک سوشل میڈیا پہ اپ لوڈ کرتی ہے ،اگر یہی اداکارائیں کروڑ پتی عاشقوں کے پیچھے دوڑنے کی بجائے اپنے کا م پر توجہ دیں اور محنت سے اپنا کا م سرانجام دے اور محنت پر یقین رکھے تو آج بھی ہماری شوبز انڈسٹری اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکتی ہے ،سابقہ دور میں پاکستانی ڈراموں اور فلموں نے اپنے ملک ہی نہیں بلکہ ہمسایہ ملک بھارت کی فلم نگری کے مہان فنکاروں کوبھی اپنا گرویدہ بنا رکھا تھا۔ ہمارے ڈرامے اور فلموں کی کہانیاں، ڈائیلاگ، فنکاروں کی اداکاری اورڈائریکٹرسمیت تکنیک کاروں کے باکمال فن کوجس طرح سے بھارتی فلم انڈسٹری والوں نے سراہا اوراپنایا ہے اگرکوئی پاکستان میں بھی اپنے اْن بے مثال فنکاروں اورتکنیک کاروں سے سیکھتا یا ان کے فن کو نئی نسل تک منتقل کرنے کے لیے اکیڈمیاں قائم کرتا توشاید آج ہم ماضی کے بجائے موجودہ دورمیں بننے والے ڈراموں کا تذکرہ کرتے۔ اسی طرح پاکستانی فلم کا ماضی بھی بے حد شاندارتھا ۔ لیکن ضرورت اس بات کوسمجھنے کی ہے کہ موجودہ دورمیں پاکستان میں فلمیں توبن رہی ہیں لیکن ان کا مزاج فلمی نہیں ہے۔ جب تک فلم کوڈرامے سے دورنہیں رکھا جائے گا اورٹرینڈ نوجوانوں کو کام کے مواقع نہیں دیے جائیں گے، تب تک بہتری ممکن نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com