اسلام کا تصور حکمرا اور جدید ریاستی نظام

اسلام کا تصور حکمرا اور جدید ریاستی نظام
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔جو کہ زندگی تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے اور ہمیں روزمرہ زندگی میں ہونے والے معمول کے مطابق زندگی بسر کرنے کے طریقے سکھاتا ہے۔خواہ وہ ہماری عام زندگی کے متعلق ہو یا کے ہماری حکمرانی کے متعلق اسلام ہر پہلو پر تفصیل سے روشنی ڈالتا ہے اسلامی میں حکمرانی کا تصور بہت سادہ ہے اس میں کوئی پیچیدگی نہیں پائی جاتی کہ ایک عام بندہ نہ سمجھ سکے۔اسلام سب کو برابری سے دیکھتا ہے اس میں امیر غریب گورے کالے آقا غلام سب کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔جس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام میں اقتدار اعلٰی اللہ کی ذات ہے اسلام میں جو بھی صاحب اقتدار آتا ہے وہ اپنا اقتدار اللہ کی حاکمیت کے مطابق استعمال کرتا ہے اپنی مرضی سے وہ کچھ نہیں کر سکتا جو حد اللہ نے مقرر کر دی ہے کوئی بھی صاحب اقتدار اس منافی فیصلہ نہیں کر سکتا۔اسلام میں حاکمیت صرف اور صرف اللہ کی ذات کی ہے۔اسلامی ریاست اس ریاست میں رہنے والے تمام افراد کو اس بات کا قرار کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ اللہ ہی وہ ذات ہے جس کی بادشاہی ہے ہم تمام انسان اللہ کے ہی تابع ہیں،چونکہ تمام کائنات کا مالک وخالق اللہ تعالٰی ہی ہے اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کی اس کو کائنات کو کیسے چلانا ہے اور اللہ اس کائنات کو بخوبی چلا رہا ہے۔اللہ تبارک تعالٰی نے انسان کو روئے زمیں پر اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا ہے اور انسان کیلئے ایک حد مقرر کر دی ہے،جس کے اندر رہ کر کوئی بھی کام کیا جائے گا تو انسان کا فائدہ ہے اگر کوئی ورنہ نقصان ہی نقصان ہے جو اللہ جانتا ہے ایک انسان نہیں جانتا،اس لیئے اللہ تبارک تعالٰی نے انسان کے مطابق اس پر جو قانون لاگو کئے ہے جو کہ انسانوں کے فائدے کے لیئے ہی ہے۔اسلام مساوات بھائی چارہ۔عدل انصاف کا درس دیتا ہے۔تاکہ کسی بھی انسان کی حق تلفی نہ ہوسکے۔اسلامی ریاست ایک مثالی ریاست ہے جس میں صرف اللہ کا قانون چلتا ہے۔کسی انسان کا بنایا ہوا قانون نہیں۔اسلام میں طرز حکومت خلافت سے وابستہ ہے۔اللہ نے روئے زمین پر حضرت آدم کو اپنا نائب بنا کر بھیجا تا کہ دنیا میں اللہ کے بھیجے ہوئے احکام کا نفاذ ہو سکے ۔جب سے دُنیا وجود میں آئی ہے اللہ نیکم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انسانوں کی بھائی کے اس دنیا مین بھیجے ہیں جو انسانوں تک اللہ کا بھیجا ہوا پیغام پہچانےآئے ہمارے آخری نبیؐ اللہ نے تمام جہانوں کے لیئے رحمت اللعامین بنا کر بھیجا ہے اور حکم دیا ہے 
(اے ایمان والو اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول اللہﷺ کی)
اللہ نے اپنے احکام انبیاء کے ذریعے دنیامیں نازل فرمائے تاکہ کہ انسانوں تک اللہ کا پیغام پہنچ سکے اور تمام انسان اللہ کے بتائے ہوئے راستے کے مطابق زندگی بسر کر سکیں ۔کسی انسان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اللہ اور رسولؐ کسی معاملہ میں دخل اندازی کر سکیں لیکن انسانی تخلیق شدہ آئین میں ترمیم و تنسیخ ایک عام سی بات ہے جبکہ الہامی قوانین میں نہ تو ترمیم ہو سکتی ہے اور نہ ہی تنسیخ کی جا سکتی ہے قرآن مجید میں ارشاد باری تعالٰی ہے (اے نبیﷺ کہومیں اس میں اپنی مرضی سے کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا) آپؐ کو اللہ نے تمام جہانوں کے لیئے رحمت بنا کر بھیجا ہے جب آپؐ کو قرآنی احکام میں تبدیلی کی اجازت نہیں تو ایک عام انسان کی کیا اوقات ہے کہ وہ قانون قدرت کو تبدیل کرے مغرب کا تخلیق کردہ قانون کا آج ساری دنیا میں ڈنکا بج رہا ہے 
مغربی مفکرین نے سیاست اور مذہب کو الگ الگ کر دیا ہے لیکن اسلام میں سیاست مذہب کا ہی حصہ ہے اور بہت اہم حصہ ہے علامہ اقبال نے فرمایا 
جلال بادشاہی ہو کہ جمہوی تماشہ ہو
جدا ہو دین سے سیاست تو رہ جاتی ہے چنگیزی 
انسان کے تخلیق شدہ قانوں وقتی فائدہ تو ہو سکتا ہے ہوتا ہے لیکن نقصان بھی ہوتا ہے کیوں کہ وہ ایک انسان کا بنایا ہوا قانون ہے جو کہ اس کے فائدہ نقصان سے بے خبر ہے۔آج ہمارے سامنے کچھ اسلامی دور حکومت کے نمونے ہیں جس میں اللہ کے حاکمیت کے مطابق تمام تر فیصلے ہوتے رہے ہیں اور آج بھی اس دور کو اچھے لفظوں میں یاد کیا جاتا ہے معاشرتی بگاڑ اس وقت پیدا ہوا ہے جب انسان نے اللہ اور رسول اللہ ﷺکے حکم کو چھوڑ دیا ہے دین سے دور ہو گئے ہیں تو آج ہر طرف ایک انتشار پھیلا ہوا ہے جدید دور حکومت میں تمام تر پہلوؤں پر اگر غور کیا جائے تو کہیں نہ کہیں بگاڑ ضرور نظر آیا ہے۔جس کی اصل وجہ یہی ہے کہ ہم نے اللہ کے بنائے ہوئے قانون کو چھوڑ کر انسانوں کے بنائے ہوئے قانون پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے جس میں ہر طرف گھاٹا ہی گھاٹا ہے کیوں کہ اللہ انسان کی فطرت کو جانتا ہے ایک انسان کی اتنی رسائی نہیں ہے ۔اسی لیئے آج انسان کے بنائے ہوئے سارے منصوبے فیل ہو جاتے ہیں کیوں کہ وہ قانونِ فطرت خلاف چلنے کی کوشش کرتا ہے۔جدید ریاستی نظام ہمیں نہ صرف اسلام سے دور کر رہا ہے بلکہ تمام دنیا کے انسانوں کے لیئے تباہی کا سبب ہے۔زمانہ جہالت اور موجودہ دور کا اگر موازنہ کیا جائے تو آج اس دور میں زمانہ جہالت کے آثار واضح طور پر دکھائی دتیے ہیں اس ساری دنیا میں کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں انسان سکوں میں ہو ہر جگہ کوئی نہ مسئلہ ضرور ہے 
آج کا انسان صرف اسلیئے مسائل میں گھرا نظر آتا ہے کہ آج کے انسان نے اللہ کے حکم تکمیل کرنی چھوڑ دی ہے اور آج کا انسان اللہ کے حکام کو بھلا کر خود سر ہو گیا۔اس لیئے آج دنیا میں ظلم بہت بھر گیا ہے انسانوں میں تفریق کا ایک عمل چل نکلا ہے۔اسلام میں میں حکمرانی صرف اور صر ف اللہ کی ہے لیکن جدید ریاستی نظام میں انسانوں کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے جس میں سب کیلئے الگ الگ قانون ہے جبکہ اسلا م سب کو ایک نظر سے دیکھتا ہے اسلام انسان کو ہر طرح کی آزادی دتیا ہے لیکن جس میں نقصان ہو اس سے اسلام سختی سے منع کرتا ہے۔انسان اللہ کی ہی تخلیق ہے اس لیئے ہر خالق کو اپنی مخلوق کا بخوبی علم ہوتا ہے کہ کیا اس کے لیئے فائدہ مند ہے کیا نقصان دہ ہے۔جب کوئی انسان کوئی مشین بناتا ہے تو اس کے ساتھ ایک اس کا ڈیاگرام بھی بناتا ہے جس پر تمام ہدایات لکھی ہوتی ہے کہ اس کو کس طرح استعمال کرنا ہے ،اگر کوئی ان ہدایات کے برخلاف اس مشین کو استعمال کرتا ہے تو میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے اس کو مکینک کے پاس لے جاتے ہیں جو کہ اس مشین کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں بالکل اسی طرح اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کی مخلوق کے لیئے کیا بہتر ہے ،جب تک انسان اللہ کے ہدایات پر عمل کرتا ہے ٹھیک رہتا ہے لیکن جب عمل کرنا چھوڑ دیتا ہے تو اسمیں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ 
تحریر: اظہراقبال مغل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com