سرحدوں کی حفاظت کرنے والے یہ فارغ لوگ

سرحدوں کی حفاظت کرنے والے یہ فارغ لوگ

محمد طیب زاہر

جمائمہ خان نے ایک اور منی ٹریل عمران خان کو دے دی اب وہ بھی سپریم کورٹ میں جمع کرادی جائے گی اب عمران خان نا اہلی کیس پھر سے ففٹی ففٹی ہوگیا ہے پہلے ایسا لگ رہا تھا کہ عمران خان کا کیس ون سائڈڈ ہوگیا ہے ۔اگر عمران خان بری ہوجاتے ہیں  تو ن لیگی اور اس کے حواری کہیں گے ہمیں پتہ ہے کہ وہ کون سی قوتیں ہیں جس نے نواز شریف کو پاناما کی بجائے اقامہ پر نااہل کیا تھا اب عمران خان کو بھی بچانے میں ان کا ہاتھ ہے کوئی یہ نہیں دیکھے گا کہ عمران خان اپنی منی ٹریل جمع کروا رہا ہے حیلے بہانے نہیں تراش رہا جبکہ نواز شریف اور ان کا خاندان منی ٹریل دینے میں ناکام رہا جس کا نتیجہ اب  یہ ہوا کہ ان کو نیب کی احتساب عدالتوں میں پیش ہونا پڑ رہا ہے۔عمران خان کے بیانات سے کئی بار یہ تاثر ملا کہ کوئی پوشیدہ قوت ان کی حمایت کر رہی ہے اور شیخ رشید کہ اس بیان نے تو سب کچھ واضح کردیا کہ سپریم کورٹ کے پیچھے فوج کا ہاتھ ہے ۔ ظاہر ہے کہ اس سے پہلے بھی جس طرح سے تحقیقات ہو رہی تھیں جو کہ ملک میں پہلی بار ہونے والی تحقیقات تھیں جس پر لوگوں کی نظریں لگی ہوئیں تھیں ۔مبصرین کا ماننا تھا کہ بہت صاف تحقیقات ہو رہی ہیں جو اس سے پہلے ملکی تاریخ میں کبھی دیکھنے میں نہیں آئی اور کچھ عناصر نے یہ تاثر دیا کہ اس کے پیچھے کسی قوت کا ہاتھ ہے ،کسی قوت کا ہاتھ ہونا چاہئے یا نہیں یہ بات ایک طرف لیکن کیا یہ درست نہیں کہ اگر کوئی طاقت اس کے پیچھے تھی تو کیا غلط تھا ؟ جس طرح شریف خاندان احتساب عدالت میں پیشی کے حوالے سے بہانے بازی کر رہا ہے اگر  سپریم کورٹ کے پیچھے کوئی غیر مرئی طاقت نہ ہوتی تو کیا وہ دباؤ میں نہیں آجاتی جس کی مثال باقی کیسز سے لی  جاسکتی ہے ۔سانحہ ماڈل ٹاؤن اس کی تازہ مثال ہے ۔جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ اب تک کیوں منظر عام پر نہیں آسکی ؟؟؟اس پر کہنے والے کہتے ہیں کہ سقوط ڈھاکہ ،سانحہ اوجڑی کیمپ جیسے سانحات کی بھی رپورٹ پبلک ہونی چاہئے کیونکہ اس حادثات کا تعلق براہ راست ( وقار) سے جوڑا جاتا ہے  کیوں نہ شروعات سانحہ ماڈل ٹاؤن سے کرلی جائے تاکہ یہ روایت عام ہوجائے ۔یہ بات بھی درست ہے کہ باقی لوگوں کا جن کا پاناما میں نام ہے ان کی گرفت کیوں نہیں کی جاتی ان کو بھی پکڑنا متعلقہ اداروں کی اولین ذمہ داری میں سے ہے ورنہ عدالت عظمیٰ سمیت دیگر اداروں پر بھی جانبداری کی مہر ثبت ہوجائے گی۔ لیکن یہ بھی ایک غلط تاثر دینے کی کوشش ہے در اصل آف شور کمپنی بنانا جرم نہیں لیکن پیسے کا حساب کسی سے بھی لیا جاسکتا ہے اسی طرح یہ حساب نواز شریف سے لیا گیا اسی طرح عمران خان بھی اپنا حساب دے رہے ہیں  لیکن کیا غلط ہوا اگر  شروعات شریف خاندان سے کرلی گئی تو اس میں  کیا برا ہوا سب سے زیادہ حکمرانی اس ملک پر اپنے کی اور اب بھی کر رہے ہیں تو ذمہ داری آپ پر بنتی ہے کہ آپ تلاشی دیں اسحاق ڈار کے اثاثے 92 فیصد کیسے بڑھ گئے ؟اس کا حساب لینا بھی بہت ضروری ہے رہا عمران خان اور جہانگیر ترین کا  حساب تو وہ اپنا حساب عدالت میں دے رہے ہیں گناہ گار ہوں گے تو سزا ملنی چاہئے بےقصور ہوں گے تو پھر یہ راگ الاپنے کی ضرورت نہیں کہ ان کے ساتھ کوئی خصوصی فورس ہے ۔اگر خصوصی فورس ہے تو وہ مسلم لیگ نواز کےساتھ بھی رہی بلکہ وہ خود اسی فورس کی پیداور ہیں۔اب رونا کیسا آگ میں کھیلو گے تو پھر جلنے کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے ۔اپنا ہر کیا ہوا عمل  کسی اور کے کھاتے میں ڈالنے سے معاملہ حل نہیں  ہوجائے گا۔ کہانی کو رنگ دینے کی جہاں تک بات ہے تو پھر یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ عمران خان پر جو مقدمات بنائے گئے وہ انتقامی سیاست ہے۔کیونکہ پہلے تو کسی کو یہ خیال نہیں آیا کہ عمران خان نے کرپشن کی اچناک جب نزلہ گرا تو پھر یاد آیا۔

حاِل دل ہم بھی ُسناتے لیکن

جب وہ ُرخصت ہوا تب یاد آیا

عدالتوں اور سپریم اداروں پر جس طرح الزامات لگائے گئے اور لگائے جا رہے ہیں اور یہ بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سب کچھ کسی کے اشارے پر ہورہا ہے اور ہم معصوم اور بے گناہ ہے سرارغلط ہے ۔ اگر نواز شریف اور ان کی آل اولاد بے قصور ہیں تو مقدمات کا سامنا کرنے سے کتراتے کیوں ہیں ۔نواز شریف کو اقتدار سے نکالنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگر وہ اقتدار میں رہتے تو یقینی طور پر اداروں پر اثر انداز ہوتے اور وہ اب بھی بہت حد تک اداروں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔زرداری اور نواز شریف ایک سکے کہ دو رخ ہیں سنا ہے آج کل نواز شریف زرداری صاحب سے ملاقاتوں کے لئے بے چین ہیں اور ملک ریاض کے ذریعے ملاقات کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

وہ تری یاد تھی اب یاد آیا

پھر کہا جاتا ہے ڈاکٹر عاصم اور ایان علی کو بری کرانے میں کوئی تیسری قوت ملوث تھی۔سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں کے پاس اتنا فارغ وقت ہے کہ وہ حکومت کی ٹانگیں کھینچنے میں لگے ہوئے ہیں ؟ انہیں ہر گھڑی یہ فکر ستائی ہوئی ہے کہ کس طرح سے نواز شریف اور پوری ن لیگ کا صفایا کیا جائے ؟ واہ جی واہ کیا سوچ ہے اور اس سوچ پر 21 توپوں کی سلامی کی بجائے 42 توپوں کی سلامی دے کر ایسی سوچ کا صفایا ہی کردینا چاہئے۔ جب عمران خان اپنے پیسوں کا حساب دے رہا ہے تو کسی کو یہ شکایت ہونی نہیں چاہئے کہ اُس کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے ۔بھلا وہ لوگ کہاں ہیں جو یہ کہتے تھے علی بابا چالیس چوروں سے حساب لیں گے سڑکوں پر گھسیٹیں گے ورنہ اپنا نام تبدیل کردیں گے بھلا آپ  سڑکوں پر کیسے گھسیٹیں گے اگر ایسا کریں گے تو زرداری صاحب بھی تو آپ کے (راز دار ) ہیں آپ کو وہ بھی گھسیٹیں گے ۔حنیف عباسی عمران خان کے ساتھ ان کے خلاف بھی تو کیسز درج کرواتے ان  کو صرف عمران خان کا ہی خیال کیوں آیا ۔پھر کہتے ہیں زرداری صاحب کو کلین چٹ (طاقتور مخلوق) نے دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com