مادر ملت سے مریم نواز تک

مادر ملت سے مریم نواز تک
تحریر ؛ ڈاکٹر ایم ایچ بابر
5جولائی2017ء کو دختر وزیر اعظم شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ سے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنیپیش ہوئیں تو پورے ملک میں وزیر اعظمی ٹیم نے اک شور برپا کر دیا جیسے تاریخ کا سب سے زیادہ بد ترین موقع ہو کہ پاکستان کی ایک مقتدرہ شخصیت کو بلا وجہ پیشی بھگتنا پڑی ،کہیں سے واویلا بپا ہوا کہ جے آئی ٹی یزید کا دربار ہے اور مریم نواز (معاذ اللہ ) بی بی زینبؑ ہے ،کہیں سے بازگشت سنائی پڑی کہ غیر محرموں کے سامنے ایک خاتون کا پیش ہونا اسلامی روایات کے منافی ہے ،کوئی کہتا ہوا سنا گیا کہ کوفے والو (سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی )ایک دن تمہیں بھی حساب دینا پڑے گا ،کوئی اجتماع عام میں کہتا ہوا ساری قوم نے دیکھا کہ آج تم حاضر سروس ہو کل ریٹائرڈ ہو جاؤ گے ہم تمہارے لیئے اور تمہارے بیوی بچوں کے لئے پاکستان کی زمین تنگ کر دیں گے ، وغیرہ وغیرہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مریم نواز ہی قوم کی بیٹی ہے ؟کیا انکا احترام ہی قوم اور قومی اداروں پر واجب ہے ؟کیا دختر نواز شریف کو نواسئی رسول ﷺ سے تشبیہ دینا توہین آل رسول ﷺ نہیں ہے ؟
آیئے ذرا تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھتے ہیں کہ اسی پاک سرزمین پر کس کس معزز اور محترم خاتون کے ساتھ کیسا کیسا ناروا سلوک کیا گیا اور اسی دھرتی پر جنم لینے والی کتنی مریم نواز جیسیوں کے ساتھ کیا کیا نازیبا سلوک کیا گیا ۔قارئین کرام اس میں کوئی شک نہیں کہ خواتین کی تکریم کا درس ہمیں سے بھی ملتا ہے اور انسانیت بھی مستورات کی عزت کو اولیت دیتی ہے ۔مریم نواز کا جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا اتنا بڑا المیہ یا سانحہ نہیں جس قدر شور مچا دیا گیا ۔ کیا قوم بھول گئی ہے کہ جنرل ایوب خان کے ہر کاروں نے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ کس قدر برا سلوک کیا اس خاتون کی تذلیل کی گئی جسے اس پاک دھرتی کی بانیہ ہونے کا شرف حاصل ہے جس نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ مل کر انگریز سامراج کے خلاف دھرتی کی آزادی کی جنگ لڑی ۔میں ببانگ دہل کہتا ہوں کہ پاکستان کو دنیا کے نقشے پر استوار کرنے میں جتنا قائد اعظم کا ہاتھ ہے بعینہ اسی طرح محترمہ فاطمہ جناح نے بھی بھائی کے برابر شب و روز محنت کر کے ہمیں آزادی جیسی نعمت سے فیضیاب کیا ۔آپکو معلوم ہے کیا کہ اس خاتون کے ساتھ جنرل ایوب نے کیا سلوک کروایا ؟میں نم آنکھوں اور دکھے دل کے ساتھ آپکو ایک واقعہ بیان کرنے کی جسارت کرتا ہوں ، ہوا کچھ یوں کہ مادر ملت جب شیخوپورہ اپنی صدارتی مہم کے سلسلے میں تشریف لائیں تو اس دور کے حکومتی پالتو کتوں نے مادر ملت کی وہ توہین کی کہ جسے میں قبضۂ تحریر میں لاتے ہوئے بھی ہچکچا رہا ہوں مجھ سے میری مرحومہ ساس اکثر بات کرتے ہوئے رو پڑتی تھیں اور کہا کرتی تھیں کہ ڈکٹیٹر کے ٹکڑوں پر پلے ہوئے بے شرموں نے جب مادر ملت کو اٹھا کر شہر کے مین بازار میں بہنے والے نالے میں پھینکا تو میرے محلے کی چند خواتین جن میں میں بھی شامل تھی انہیں نالے سے نکالا اور چونکہ قریب ہی ہماری رہائش تھی انہیں اپنے گھر لے آئیں انکا لباس تبدیل کروایا انہوں نے ہم جیسے غریبوں کے گھر میں غسل کیا ہم نے انکے کیچڑ سے لتھڑے ہوئے کپڑے دھو کر پھر یہاں سے رخصت کیا بیٹا ہم بانیہ پاکستان کے ساتھ اس تضحیک آمیز رویئے پر کئی دنوں تک روتی رہیں ۔قارئین کرام آپ یقین مانیں کہ وہ یہ واقع بیان کرتے ہوئے بھی بے ساختہ رونا شروع ہو جاتی تھیں ۔ذرا بتایئے تو کتنے لوگوں نے ایوب خان کو برا کہنے کی ہمت کی اور کتنے لوگ ایوب خان کے ہاتھوں چابی والا کھلونا بنے۔ وزیر اعظم کی بیٹی کے لئے شور مچانے والو محترمہ فاطمہ جناح دختر ملت نہیں بلکہ مادر ملت تھیں ۔مادر ملت کے کتنے فرزندوں نے ایوب خان کا سوشل بائیکاٹ کیا ؟ کب کسی نے اس ڈکٹیٹر کو کوفہ و شام والوں سے تشبیہ دی ؟ آج اس قدر سٹپٹائے ہوئے کہتے پھر رہے ہو کہ قوم کی بیٹی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئی آج بڑا قومی غیرت کا جزبہ تم میں سر ابھار رہا ہے مادر ملت کی تضحیک کیسے ہضم ہو گئی تمہیں ؟ضیاء الحق کے دور میں مادر جمہوریت محترمہ نصرت بھٹو کو لاٹھیوں سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس قدر تشدد کیا گیا کہ تا حیات سر کی چوٹ کی وجہ سے وہ کومے میں رہیں اور اسی حالت میں دنیا سے چلی گئیں نصرت بھٹو خاتون نہیں تھیں کیا ؟انکے ساتھ اس طرح کا ظالمانہ سلوک کرنے اور کروانے والوں کے تو آپ دست راست بن بیٹھے آج کہہ رہے ہو کہ قوم کی بیٹی کو جے آئی ٹی کے سامنے بلانا اسلامی روایات کے منافی ہے تو کونسی روایات یہ اجازت دیتی ہیں کہ خواتین پر لاٹھیاں برساؤ ؟وہ بھی اس خاتون پر جو مسلم امہ کو ایک صف میں لانے والے اور اسلامک بلاک بنانے والے کی زوجہ ہو ،اس شخصیت کی بیوہ ہو جس نے پاکستان کو ایک متفقہ آئین دیا ،اس لیڈر کی شریکۂ حیات ہوجس نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد رکھی کیا اس خاتون کے ساتھ ایسا سلوک اسلامی اور اخلاقی روایات کے عین مطابق تھا ؟دختر مشرق محترمہ بینظیر بھٹو شہید جیسی بینظیر لیڈر کو مردانہ جیلوں میں بند کرنا انکو عدالتوں میں پیش کیا جانا کیا اسلامی روایات کے عین مطابق تھا ؟آج واویلا کرنے والے راہنمایان قوم کیا فراموش کر بیٹھے اس بات کو کہ اگر مریم نواز قوم کی بیٹی ہے تو بینظیر بھٹو شہید بھی اسی قوم کی بیٹی تھی اس پر مظالم ڈھانے والوں کے ساتھ مل جانے والوں کو میں کس کا حواری و ہمنوا لکھوں کوفہ و شام والوں کا ؟بینظیر بھٹو کا باپ جرم بیگناہی کی بھینٹ چڑھتے ہوئے پھانسی کے پھندے پر جھول گیا ،اسکے بھائی مارے گئے ،اس کی ماں پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے اسے عدالتی درباروں میں بھی جانا پڑا اور زندان کی اسیری بھی سہنا پڑی مگر مجھے نہیں یاد پڑتا کہ پیپلز پارٹی کے کسی راہنما یا کارکن نے انہیں نواسئی رسول ﷺ سے تشبیہ دینے کی ناپاک جسارت کی ہو یہ ضرور کہتے رہے یا اللہ یا رسول ﷺ بینظیر بے قصور ۔کیا مریم نواز کو نواسئی رسول سے تشبیہ دے کر تم لوگوں نے توہین آل رسول ﷺ نہیں کر ڈالی ؟ذرا فکر تو کرو کہ اگر مریم نواز قوم کی بیٹی ہے تو بھٹو کی بیٹی بھی دختر قوم ہی نہیں بلکہ دختر مشرق کے لقب سے یاد کی جانے والی مستور تھی ۔ قوم کی اس بیٹی کے خلاف تو آپ لوگ خود وہ وہ بہتان تراشی کرتے رہے کہ الحفیظ و الامان تو کیا وہ سب کچھ اسلامی روایات کے مطابق کہتے رہے آپ لوگ ؟ کس کس خاتون کا نام گنواؤں جن پر دور آمریت (جس کی اکیڈیمی سے آپ سرخرو ہو کر نکلے ہیں )میں مظالم نہیں ڈھائے گئے محترمہ بینظیر بھٹو کی پرنسپل سیکریٹری ناہید خان پر لاٹھی چارج نہیں ہوا یا اسے پابند سلاسل نہیں رکھا گیا ؟یہ اسلامی روایات کے مطابق تھا یا وہ قوم کی بیٹی نہیں تھی ؟ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا کو زندان میں رکھنا کیا اسلامی روایات کے مطابق تھا یا وہ قوم کی بیٹی نہیں تھی ؟شرمیلا فاروقی اور اسکی والدہ کو جیل میں بند کرنا کیا اسلامی روایات کے مطابق تھا یا وہ اس وطن کی بیٹیاں نہیں تھیں ؟چلیں اب آپ کے زیر اثر فرائض سر انجام دینے والے ملازمین پر آ جاتے ہیں کہ جب اسلام آباد میں پی ٹی آئی کی راہنما عندلیب عباس کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا انہیں مارا پیٹا گیا کیا یہ سب اسلامی روایات کی غمازی کرتا ہے یا پھر عندلیب اس دھرتی کی بیٹی نہیں تھی ؟پاکستان میں کوئی وزیر نامدار پارلیمنٹ میں کھڑا ہو کے کسی خاتون ممبر پارلیمنٹ کی تضحیک کر دے اسے طرح طرح کے القابات سے نواز دے کیا یہ اسلامی روایات کے مطابق ہے یا پھر وہ خاتون ممبر پارلیمنٹ قوم کی بیٹی نہیں ؟ گزارش یہ ہے کہ سربراہ مملکت کے لئے وطن کی تمام بیٹیاں اسکی مریم ہی ہیں (اگر سمجھے تو )ماڈل ٹاؤن لاہور میں جن خواتین کو منہ میں گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا کیا یہ اسلامی روایات کے عین مطابق تھا یا وہ اس قوم کی بیٹیاں نہیں تھیں ؟تو پھر کیوں قوم کی فقط ایک ہی بیٹی کے لئے اسقدر ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ جے آئی ٹی اور عدلیہ تک کو یزید کا دربار کہہ دیا اور دختر نواز شریف کو استغفراللہ نواسئی رسول سے تشبیہ دے ڈالنا کیا یہ سب ٹھیک ہے ؟
کیا صرف اکیلی مریم نواز ہی قوم کی بیٹی ہے ؟ تو پھر وہ کس قوم اور کس ملک کی بیٹیاں ہیں جنہیں اسلام آباد میں پولیس بالوں سے پکڑ کر گھسیٹ گھسیٹ کر پولیس کی گاڑیوں میں پھینکتی رہی ؟ یا پھر یہ کہہ دوں کہ دور حاضر میں صرف اور صرف مسلم لیگ (ن) ہی قوم ہے اور مریم نواز اس قوم کی بیٹی ، باقی پاکستان میں بسنے والے سب ڈھور ڈنگر ہیں اور ان کی بیٹیاں صرف ان ہی کی بیٹیاں ہیں قوم کی بیٹی صرف وہ ہوتی ہے جسے ایک بڑے پروٹوکول کی معیت حاصل ہو جس کے شہر میں آنے سے سارے شہر کی ٹریفک کو جام کر دیا جائے گاڑی سے اترے تو پولیس ایس پی اسے سلامی دے کر گردن جھکا دے عزت سے جے آئی ٹی کے سامنے جائے ائر کنڈ یشنڈکمرے میں پڑھے لکھے مہذب لوگوں سے سوال و جاب ہوں اور باہر آکر گھن گرج کے ساتھ خطاب کر سکے ۔ وہ کب قوم کی بیٹیاں ہیں جنہیں پولیس والے لاتوں اور ٹھڈ وں سے ماریں،جنہیں صاحبان اقتدار گالیاں دیں انکے خلاف پمفلٹ تقسیم کریں انہیں اسمبلی کے فلور پر بے ہودہ القابات سے نوازیں ہاں قوم تو فقط حکمران جماعت کا نام ہے اور اسکی بیٹی ہی قوم کی بیٹی ہے ۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com