یہ وقت مسائل سے آنکھ چرانے کا نہیں ہے 

 یہ وقت مسائل سے آنکھ چرانے کا نہیں ہے 
از: غلام غوث ، بنگلور
ایک جرمن اسکالر سے پوچھا گیا کہ دنیا بھر میں مسلمانوں ہی کو دہشت گرد کیوں کہا جا رہا ہے۔ جواب میں اس نے کہا کہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کس نے شروع کی ،مسلمانوں نے نہیں،کس نے چھ ملین یہودیوں کو مارا، مسلمانوں نے نہیں،آسٹریلیا میں کس نے بیس ملین مقامی باشندوں کو مارا، مسلمانوں نے نہیں،کس نے ناگا ساکی اور ہیروشما پر بم گرائے اور دو لاکھ لوگوں کو مارا، مسلمانوں نے نہیں،امریکہ میں کس نے سو ملین مقامی ریڈ انڈینس کو مارا، مسلمانوں نے نہیں،جنوبی امریکہ میں کس نے پچاس ملین مقامی باشندوں کو مارا، مسلمانوں نے نہیں،کس نے آفریقہ کے 180ملین شہریوں کو غلام بنا کر اپنے ملکوں کو لے گئے، مسلمانوں نے نہیں ، اسٹالن نے روس میں بیس ملین کو مارا اور 14.5 ملین کو بھوکے تڑپا کر مارا،چین میں میو سے ٹنگ نے 20 ملین کو مارا ، مسولینی نے اٹلی میں چار لاکھ کو مارا ،امریکی صدر بْش نے عراق میں 1.5 لاکھ کو مارا ، بوسنیا میں پانچ لاکھ مارے گئے اور کمبوڈیا میں تین ملین مارے گئے، شہنشاہ اشوکا نے کم آبادی والے ہندوستان میں ایک لاکھ لوگوں کو مارا،ہندستان میں کس نے جلیان والا باغ میں نہتوں پر گولیاں چلائیں، مسلمانوں نے نہیں۔اگر کوئی غیر مسلم دہشت گردی کر تا ہے تو وہ جرم کہلا تا ہے مگر جب وہی کام مسلمان کر تا ہے تو اْسے دہشت گرد کہا جاتا ہے۔مغربی ممالک کریں تو وہ یا تو جرم میں شمار کیا جا تا ہے یا اْسے انسانیت کے تحفظ کے لئے کیا جانے والا اقدام کہا جا تا ہے مگر جب مسلمان اپنے بچاو کے لئے اور اپنی مدافعت کے لئے ہتھیار اٹھا تا ہے تو وہ دہشت گرد کہا جاتا ہے۔۔اصل میں آج تک کسی نے دہشت گردی کا definationنہیں دیا ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ دہشت گرد امن پسند اور امن پسند دہشت گرد بتائے جا رہے ہیں۔اصل میں دہشت گرد وہ ہیں جو بغیر کسی جواز کے دوسرے ملکوں پر حملہ کر کے انکی سر زمین پر قابض ہو جاتے ہیں اور وہ ہیں جو اپنی فوجوں کو دوسرے ملکوں میں داخل کر کے وہاں لڑائیاں کر واتے ہیں۔جو ممالک ایسا کر رہے ہیں انکا نام لینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ انکے عمل کے سبب ہر کوئی انہیں پہچان سکتا ہے۔ایسا دیکھیں تو نہ مسلم ممالک دہشت گرد ہیں اور نہ ہی شمالی کوریا کیونکہ انہوں نے دوسرے ممالک پر حملہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی انکے افواج دوسرے ممالک میں تعنیات ہیں۔دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد تو عیسائی ممالک اور اسرائیل ہیں ۔ مگر یہ دونوں دنیا پر ایسا ظاہر کر رہے ہیں جیسے وہی امن پسند ممالک ہیں اور وہی دنیا میں امن کے رکھوالے ہیں۔یہ جو کچھ بھی ہے سو ہے اور اسے ہم بدل نہیں سکتے۔ اسلئے گلے شکوے کر نا بھی بے سود ہے۔ ایسے میں ہمیں اس حقیقت کو نہ بدلنے والی حقیقت کو مان کر اس حقیقت کے ساتھ زندہ رہنے کے راستے تلاش کر نا ہے۔ ( ہندوستان میں ہم آر یس یس اور بی جے پی کی مسلم مخالف ذہنیت کو بدل نہیں سکتے ۔ چونکہ یہ ایک حقیقت ہے اسلئے ہمیں گلا شکوہ کر نے کے بجائے اس حقیقت کے ساتھ جینے کا طریقہ سیکھ لینا چاہیے۔یہاں غور و فکر کر نے اور حکمت عملی بنانے کے ضرورت ہے )۔امریکی صدر بارک اوباما نے اپنے آٹھ سالہ دور حکومت میں سعودی عرب کو 112ملین ڈالر کے ہتھیار فروخت کئے ۔ آٹھ سال امریکی افواج بیرونی ممالک میں جنگ کر تے رہے۔ اوباما کے دور میں افغانستان، عراق، شام ، یمن،سومالیہ اور پاکستان پر ہوائی بمباری ہوی، ملک شام کے انقلابیوں کو ملٹری امداد دی گئی، 2014-2015میں سعودی عرب کو 155بلین ڈالر کے ہتھیار فروخت کئے گئیے۔ 70 ممالک میں امریکہ کے 800 ملٹری اڈے ہیں ، دوسری جنگ عظیم کے بعد 37 ممالک میں 20 ملین آدمی مارے گئے، گوتانمو بے جیل میں غیر قانونی طور پر 775 مجرم رکھے گئے اور اب مسٹر ٹرمپ نے اسے دوبارہ کھولنے کا رادہ ظاہر کیا ہے۔اب ہر کوئی کہہ سکتا ہے کہ دہشت گرد کون ہیں۔مسلمان یا عیسائی؟۔انگریزوں نے دو سو سال ہندوستان کو لوٹا ، چار ملین ہندوستانیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور ملک کا GDP جو 27% تھا اسے چار فیصد پر لے آئے ۔ چار ہزار انگریزوں نے 46 ہزار مرہٹوں اور حیدر آبادیوں کو بھڑ کا کر اپنے غلام بنا لیا اور 50 ہزار فوج کے ساتھ شیر میسور پو حملہ کیا اور تمام ہندوستانیوں کو اپنے غلام بنا لیا۔جنرل ڈائر نے جلیان والا باغ میں ہزاوں نہتے ہندوستانیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ اب آپ سوچیے کہ دہشت گرد کون ہیں۔ترکی میں امریکہ کے دو ہوائی اڈے انکرک اور اظمر میں موجود ہیں ۔قطر کے شہر دوحہ میں امریکہ کا بہت بڑا فوجی اڈا ہے جبکہ امریکہ قطر کے مقابلے میں سعودی عرب کا ساتھ دے رہا ہے اور ساتھ ہی قطر کو خوش رکھنے کی بھی کوشش کر رہا ہے۔ترکی اور شام کے درمیان موجود کْردوں کو داعش سے لڑنے کے لئے ہتھیار دے رہا ہے مگر ترکی سمجھتا ہے کہ کْرد وہی ہتھیار ترکی سے آزادی حاصل کر نے کے لئے اسکے خلاف استعمال کریں گے۔اسلئے ترکی نے امریکہ سے مشورہ کئے بغیر کردوں پر حملہ کر دیا ہے۔امریکہ اب ترکی اور قطر کے معاملے میں اپنی غلط پالیسی کے سبب پھنس چکا ہے۔اب اگر امریکہ کْردوں کو ملٹری امداد بند کر دیتا ہے تو داعش سے لڑنے والے کم ہو جائیں گے اور اگر امداد جاری رکھتا ہے تو وہ ہتھیار کْرد افواج اپنی ایک الگ ریاست بنانے کے لئے ترکی کے خلاف استعمال کریں گے ۔قطر کے خلاف اگر امریکہ سعودی عرب کی حمایت کر تا ہے تو قطر اسے اپنے فوجی اڈے خالی کر نے کے لئے کہہ سکتا ہے اور یہ امریکہ کے لئے بہت ہی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔امریکہ کا عرب ممالک میں فوجی اڈے رکھنا ایسا ہے جیسے وہ اڈے خود اسرائیل کے ہیں اور اسرائیل جو چاہتا ہے وہ کر سکتا ہے۔سمجھ میں نہیں آ تا کہ عربوں کو یہ معمولی سی بات سمجھ میں کیوں نہیں آ رہی ہے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد یوروپ اور امریکہ نے جو فوجی معاہدہ ناٹو بنایا تھا وہ سویت یونین کی بڑھتی ہوی ملٹری طاقت سے مقابلہ کر نے کے لئے اور کمیونزم کو توڑنے کے لئے تھا مگر 1989میں جب سویت یونین کے ٹکڑے ہو گئے اور وہ کمزور ہو گیا تو تب ناٹو کی ضرورت ختم ہو گئی تھی مگر امریکہ اور یوروپ نے اسے ختم نہیں کیا۔ جب پوچھا گیاکہ ناٹو کو اب کیوں رکھا گیا ہے تو کہا کہ یہ بدمعاش مسلم ممالک کے خلاف استعمال کر نے کے لئے۔اب سوچنا یہ ہے کہ وہ بدمعاش مسلم ممالک کون ہیں اور کہاں ہیں۔آج ایک بھی مسلم ملک ایسا نہیں ہے جو ناٹو تو کیا کسی ایک بھی یوروپی ملک کے خلاف کھڑا ہو سکتا ہے۔ ایران ایک طاقتور ملک ضرور ہے مگر وہ نیوکلیر نہیں ہے۔دنیا بھر کے مسلمانوں کو پہلے تو اس صورت حال کو سمجھنا ہو گا اور پھر سوچنا ہو گا کہ انہیں آئیندہ کیا کر نا ہے۔گولڈا مےئر اسرائیل کی پہلی عورت وزیر اعظم تھیں جنہوں نے 1969 سے 1974 تک حکومت کی ۔ 1970 میں اسرائیلی فوج نے الاقصاء مسجد جلا دی تھی تب وہ مارے خوف کے کئی رات سو نہ سکیں کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ مسلم ممالک کی افواج اسرائیل کو تباہ کر نے کے لئے نکل پڑیں گیں۔ مگر جب کچھ بھی نہیں ہوا تو مجھے معلوم ہو گیا کہ ہم بیت المقدس کے ساتھ جو چاہے کر سکتے ہیں کیونکہ مسلم ممالک گہری نیند میں سویے ہوے ہیں۔حماس اور حذب اللہ کے لیڈروں پر مسٹر ٹرمپ کا حال میں پابندی عائد کر نا ایک غلط قدم ہے مگر اسکا اثر دونوں پر بہت کم ہو گا۔ایسا کر کے امریکہ اپنے آپ کو ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر ناکام ہو گیا ہے۔مسلم ممالک کا ایک کمزور غیر فوجی دفاق ضرور موجود ہے مگر اسمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اس صورت حال پر ضرور غور و خوص کریں ۔افسوس اس بات کا ہے کہ ہم ہر فروئی مسلہ پر بات چیت تو کر تے ہیں مگر زندگی اور موت کے مسلے کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔یہی حال ہم ہندوستانی مسلمانوں کا بھی ہے ۔ ہمیں غیر ضروری، فروعی اور جذباتی مسائل پر باتیں کر نا ہمیشہ اچھا لگتا ہے۔ہماری سب سے بڑی کمزوری جسکا میں مشاہدہ کر رہا ہوں وہ یہ کہ ہمارے تعلیم یافتہ حضرات کی اکثریت انفرادی طور پر حالات حاضرہ پر فکر مندی کا اظہار تو ضرور کر تے ہیں مگر گروپ کی شکل میں بیٹھ کر غور و خوص کر نے کے لئے دو چار گھنٹے نہیں دیتے۔ریٹائرڈ اور معمر حضرات بھی یہی کرتے ہیں۔اب ہندوستان میں اور عالمی سطح پر تعلیم یافتہ حضرات کو چاہیے کہ ملت مسلمہ کی قیادت کے لئے اپنا وقت اور تجربہ دیں ، ہر شہر میں غور و فکر کرنے کے لئے محفلیں جمائیں اور صحی راستے تلاش کریں۔ یہ وقت صرف کمانے کھانے،شعر و شاعری کر نے ، فروعی مسائل میں الجھنے ، انا ار غرور کا مظاہرہ کر نے اور مسائل سے آنکھ چرانے کا نہیں ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com