جسٹس باقرنجفی رپورٹ اور پیپلزپارٹی یوم تاسیس


جسٹس باقرنجفی رپورٹ اور پیپلزپارٹی یوم تاسیس
شہزاد سلیم عباسی 
پاکستان کی دھندلی تاریخ میں درجنوں ہائی پروفائل رپورٹس ماضی کا قصہ پارینہ بن چکی ہیں ۔عجیب اتفاق ہے کہ نواز شریف کو اپنے ہر دور حکومت میں کسی نہ کسی سانحے سے ضرور گزرنا پڑتا ہے کبھی تووہ خود وجہ بنتے ہیں اور کبھی کوئی طالع آزما جمہوری نظام کی ڈور لپیٹ دیتا ہے ۔ منہاج القرآن کے سربراہ علامہ طاہر القادری ، سانحہ ماڈل متاثرین اور اپوزیشن کے بھرپور دباؤ پر عدالت نے رپورٹ شائع کرنے کا حکم دیا اور حکومت نے چار وناچار جسٹس باقر نجفی کمیشن رپورٹ کو بالاآخرہر خاص و عام کی غوطہ زنی کے لئے پبلک کر دیا۔ 132صفحات پر مشتمل جسٹس نجفی رپورٹ میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مظاہرین کی قصیدہ گوئی کیساتھ حکومتی کرداروں کو برے طریقے سے بے نقاب کیا گیا ہے۔ احتیاطی پہلوؤں کے پیش نظر کسی خاص شخص پر برائے راست ذمہ داری نہیں ڈالی گئی اور نہ ہی مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے ۔اورپنجاب حکومت کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف، وزیر قانون رانا ثناء اللہ، پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر توقیر اور کمانڈنگ پولیس افسران کو واقعے کی ’’مس ہینڈلنگ ‘‘کا کلی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ 
باقر نجفی رپورٹ میں کمیشن نے جو اہم نقات اٹھائے ہیں وہ یہ ہیں ’’کہ رانا ثناء اللہ کے اجلاس میں کیا گیا فیصلہ ہلاکتوں کا باعث بنا۔وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے منہاج القران کے باہر سے رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دیااورڈاکٹر توقیر نے شہباز شریف کے حکم پر بیرئیر ہٹائے جس کا فون ڈیٹا�آئی ایس آئی نے دیا۔پولیس نے اس قتل عام میں بھرپور حصہ ڈالاجو کہ ناقابل معافی جرم ہے ۔غیر مسلح مظاہرین پر فائرنگ کس کے حکم پر ہوئی کسی نے کچھ نہیں بتایا؟پولیس افسران نے دانستہ طور پر ٹریبیونل سے حقائق چھپائے ہیں جو کہ امر واقع پر پردہ ڈالنے اور سچائی کو قطعی چھپانے کے مترادف فعل ہے۔رپورٹ کے صفحہ 68 کے مطابق ٹریبیونل کو حقائق تک پہنچنے کے لیے مکمل Powersنہیں دی گئیں۔کسی بھی پولیس نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر ایک لفظ تک نہیں بولاتمام پولیس افسران کمیشن کے روبرو انکوائریوں میں ایک دوسرے کو بچاتے رہے۔رانا ثناء اللہ، ڈاکٹر توقیر اور پولیس افسران سانحہ ماڈل ٹاؤن میں معصوم نہیں ہیں۔سانحہ ماڈل ٹاؤن سے پہلے سی پی او اور خان بیگ کو آئی جی پنجاب پولیس کے عہدے سے برخاست کیا گیا۔رپورٹ کے صفحہ نمبر 79کے مطابق شہباز شریف’’ڈس انگیج منٹ‘‘کا جھوٹا بیان حلفی دے کر ٹرائل کورٹ کے تکڑے شکنجے میں پھنس چکے ہیں کیوں کہ ان کے اور پولیس کے بیانات میں کھلم کھلا تضاد ہے ،جس سے وہ نااہل بھی ہوسکتے ہیں ۔ صفحہ72 پر لکھا ہے کہ رانا ثناء اللہ نے ایسا آپریشن پلان کیا کہ جس سے شدید قتل وغارت ہوئی اور لوگ زخمی ہوئی حالانکہ وہ اگر چاہتے تو ان ہلاکتوں سے بچا جاسکتاہے ۔رپورٹ پڑھنے والے یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ سانحہ کی ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے؟‘‘
جب کہ رانا ثنا ء اللہ کہتے ہیں کہ باقر نجفی رپورٹ عام سی رپورٹ ہے جس میں کچھ بھی Exclusive نہیں ہے ، ڈیفیکٹو ہے اور سانحہ ماڈل ٹاؤ ن میں پولیس نے جو بھی ایکشن لیا وہ مظاہرین کے پتھراؤاور اشتعال انگیزی کے باعث ہوا جس میں مظاہرین اور کارکنوں کو پولیس پر دھاوابولنے کے لیے اکسانے والے سے بھی تفتیش ہونی چاہیے۔حقیقت کی آنکھ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پے در پے مسائل پانامہ ، اقامہ ہنگامہ،ڈان لیکس اور ماڈل ٹاون رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد یہ لگتا ہے کہ بادل نخواستہ نواز شریف ، شہباز شریف اور پوری مسلم لیگ ن کو یہ سوچنا ہوگا کہ انہیں ان کے ناکردہ یاکردہ گناہوں کی سزا کون دے رہا ہے اور مسلم لیگ کی بھاگ دوڑ اب کسے سونپنی ہے ؟کیونکہ اب نواز شریف(وفاق) کیساتھ ساتھ شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ(صوبہ پنجاب)بھی اگلے چند دنوں میں شدید ترین مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔
پیپلزپارٹی نے ایک طویل عرصے کے بعد وفاق میں اپنا پچاسواں یوم تاسیس منایا ۔پیپلزپارٹی کی ڈرائیونگ سیٹ آج کل بلاول بھٹوزرداری کے پاس ہے۔29سالہ بلاول بھٹواپنے نانے ذوالفقار بھٹو، والدہ بے نظیر بھٹواور سید خورشید شاہ، اعتزازاحسن،رضاربانی اورفرحت بابر جیسے پارٹی کے سنیئرترین رہنماؤں کی جمہوری سوچ کے عکاس دیکھائی دیتے ہیں۔ وہ جمہوریت کواپنی آخری منزل، عوام کوطاقت کاسرچشمہ اور خاک نشیمن کو اپنا شعار مانتے ہیں۔جب کہ آصف علی زرداری حالات اور زمینی حقائق سے خوب واقف ہیں ۔اسی لیے تاسیس کے موقع پر انہوں نے طویل مدتی عبوری حکومت کا راستہ دیکھانے کی کوشش کی اور ایک طرح سے جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی بات کی۔بھٹو ازم ،جئے بھٹو ، سندھ کارڈ اور بی بی کی شہادت کااستحصال کرتے ہوئے زرداری نے مفاہمت اور فوج کے ساتھ شریک اقتدارہونے کی خاطرسب قربان کر دیا اور اپنے 10سالہ وفاقی و صوبائی دور میں خراب طرز حکمرانی کی بدولت سوائے صوبوں کو اختیارات تفویض کرنے کے کوئی قابل قدر کارنامہ نہ دکھا سکے ،بس کرپشن کی ازلی داستانیں ہی رقم کراسکے۔پیپلزپارٹی کی تقریباَسبھیَ سنیئر قیادت بلاول بھٹو کی راہ تک رہی ہے کہ وہ کسی طرح ینگ بلڈ کیساتھ پارٹی کا Revival کریں جبکہ زردار ی گراؤنڈ کے فیصلے بلاول کواور اسٹریٹجک فیصلوں کا اختیار اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔افسوس صد افسوس پیپلزپارٹی جیسی لبرل پارٹی کو اپنے یوم تاسیس پر ان دوقسم کی متضاد سوچوں کا سامنا ہے کہ اب منزل اور رہبر کسے مانیں جمہوریت کو یا آمریت کو!!شاید آمریت کی کوکھ سے جنم لینے والی پارٹیاں ایسے ہی پروان چڑھنے کی عادی ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com