گرمہر کور کے خلاف بھگوا محاذ متحد 

 نازش ہماقاسمی 

کہاوت ہے’چور بولے زور سے‘ ۔۔۔! کچھ ایسا ہی معاملہ آج کل ہمارے ملک ہندوستان میں ہورہا ہے۔ جو دہشت گرد ہیں وہ امن کے پیامبر مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دے رہے ہیں۔ جن کے تار آئی ایس آئی سے جڑے ہوئے ہیں وہ مسلمانوں کو پاکستان جانےکا مشورہ دے رہے ہیں۔ جنہوں نے آزاد ہندوستان میں باپو کا قتل کرکے آزادی کی دھجیاں اڑائیں وہ دوسروں سے حب الوطنی کاثبوت مانگ رہے ہیں۔ جنہوں نے ۶؍دسمبر کو بابری مسجد شہید کرکے ملک کے قانون اور جمہوری آئین کی دھجیاں اڑائیں اور بھارتی آئین کے جنم داتا ڈاکٹر بھیم رائو امبیڈکر کی روح کو تکلیف پہنچائی وہ رام کے نام پر رام کی مہربانیوں کو بھلا رہے ہیں۔ وہ فرقہ پرست جنگوں میں شہید ہونے والے بہادر فوجیوں کی خواتین کی عصمت دری کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ان کی آواز کو دبانے کے لئے آر ایس ایس کی پروردہ تنظیم اے بی وی پی کا سہارا لے کر اسکول وکالج کا ماحول خراب کررہے ہیں۔جب سے بی جے پی کی سرکار بنی ہے ملک میں آئے دن نت نئے فتنے سر ابھاررہے ہیں ۔ کبھی جے این یو میں ملک مخالف نعرے لگائے جارہے ہیں تو کبھی دہلی یونیورسٹی کا ماحول مکدر کیا جارہا ہے۔ حالیہ معاملہ دہلی یونیورسٹی کے رامجس کالج میں جے این یو طالب علم شہلا رشید اور عمر خالد کو بلائے جانے پر ہنگامہ آرائی کا ہے۔ اے بی وی پی کے کارکنان نے ہنگامہ اس وجہ سے کیا کہ وہ عمر خالد اور شہلا رشید کو ملک مخالف مانتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ ملک کے غدار ہیں۔ یہ سبھی کو پتہ ہے کہ گزشتہ جے این یو ہنگامے میں ملک مخالف نعرہ لگانے والے افراد کون تھے ۔ کیا یہ اے بی وی پی کے افراد نہیں تھے جنہوں نے جے این یو کا ماحول خراب کیا ۔ اب یہ آر ایس ایس کی پروردہ تنظیم ملک کا مستقبل خراب کرنے کے درپے ہے۔ جب سے یوپی الیکشن شروع ہوا ہے ملک میں نفرت کا ماحول بنایا جارہا ہے اور اس کے لیے تمام شیطانی فریب و تدلیس کو آزما رہے ہیں ۔ کبھی یوگی آدتیہ ناتھ زہر اگل رہا ہے تو کبھی ساکشی جیسا نیچ ا نسان مسلمانوں کو شمشان میں جلانے کی باتیں کرتا ہے ۔ تو کبھی اے بی وی پی کے دہشت گرد اسکول وکالج میں ہنگامہ کرکے تعلیم وترقی اور ملک کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے کے درپے ہیں۔ کیا جمہوریت میں کسی کو کچھ بولنے کی آزادی نہیں ہے؟ کہاں گئے آزادی اظہار رائے کا نعرہ لگانے والے؟ کہاں گئے بیٹی بچائو بیٹی پڑھائو تحریک کا نعرہ بلند کرنے والے؟۔ جب اے بی وی پی کے خلاف ایک شہید فوجی کی بیٹیگرمہر کور  آواز بلند کرتی ہے تو اسے مارنےکی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ کیا ان کا کہنا غلط ہے کہ میں اے بی وی پی سے نہیں ڈرتی، اے بی وی پی کو سپورٹ نہیں کرتی۔ کیااگر کوئی شخص بی جے پی کی حمایت نہیں کرےگا تو اسے عصمت دری کی دھمکی دی جائے گی۔ اس کا موازنہ دائود ابراہیم سے کیاجائے گا۔ یہ اے بی وی پی کے افراد خود دہشت گرد ہیں اور موجودہ حکومت دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہی ہے جبھی ان کے حوصلے بلند ہیں، ان کے مقاصد،ان کے عزائم ملک میں بدامنی پھیلا کر نفرت کی سیاست کو فروغ دینا ہے اور کچھ نہیں ۔اے بی وی پی کے افراد آج کل کیمپس میں ترنگا یاترا نکال رہے ہیں، معصوم ذہنوں کو گمراہ کرنے کے لئے وندے ماترم کا راگ الاپ رہے ہیں وہ اے بی وی پی جنہوں نے 52 سال تک اپنے آفس میں ترنگا نہیں لہرایا وہ حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ بانٹ رہی ہے ۔ گر مہر کور کارگل کے شہید فوجی کی بیٹی ہے اور ان کے خون میں حب الوطنی کا عنصر موجود ہے لیکن انہیں حب الوطنی کا پاٹھ پڑھانے کے لئے اے بی وی پی کےغنڈے کوشش کررہے ہیں۔ ان کی مخالفت کرنے کی وجہ سے فرقہ پرستوں کے ایوان میں زلزلہ برپاہوگیا ہے، حکومت کےچمچے بشمول ویریندر سہواگ جیسے لوگ بھی انہیں ٹوئٹر پر نشانہ بنارہے ہیں ،لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ ملک کی اکثریت اور سیکولر پسند طبقہ نے گر مہر کور کی حمایت کی ہے ۔ ان کا ساتھ دیا ہے۔ بڑے بڑے اداکاروں نے گرمہر کور  کے تعلق سے کھل کر باتیں کی ہیں اور انہیں سپورٹ کیا ہے لیکن ان سب کے باوجود آر ایس ایس کے پروردہ اے بی وپی مسلسل ہنگامہ کررہے ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ جس طرحگرمہر کور  کی حمایت میں اپوزیشن متحد ہوگئی ہیں انہیں اس اتحاد کو قائم رکھتے ہوئےبی جے پی کے خلاف کھل کر محاذ قائم کرناچاہئے۔ مرکزی وزیر کرن رجیجو کا یہ بیان شاید ان کی دماغی حالت کو مشکوک بناتا ہے کہ موصوف نے بڑے ہی طمطراق سے یہ کہہ ڈالا کہ کون ہے جو اس معصوم کےدماغ کو ماؤف کر رکھا ہے، گویا اپنے حق میں بلند کی جانی والی آواز اگر وہ بھاجپا اور آر ایس ایس مخالف ہے تو وہ غداری وطن کے زمرے آتی ہے ـ ۔ اگر یوپی پر قابض ہوگئی تو آئندہ آنے والے ایام نہایت ہی بھیانک ہوں گے۔ اس لیے سیکولر پارٹیوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ متحد ہوکر ہر محاذ پر بی جے پی کو پٹخنی دیں، وزیر اعظم مودی کی نفرت کی سیاست کے خلاف محبت کے پیغام عوام الناس تک پہنچائیں۔ سبھی جانتے ہیں کہ بی جے پی فرقہ پرست پارٹی ہے۔ ان کے افراد آئی ایس آئی کے لئے جاسوسی کرتے ہیں۔ ملک میں جتنے بھی بم دھماکے ہوئے اس میں ان کے افراد کے ہاتھ شامل تھے، لیکن ان سب کے باوجود وہ آزاد گھوم رہے ہیں اور جنہوں نے کوئی جرم ہی نہیں کیا وہ اپنے ناکردہ جرائم کی سزا بھگت رہے ہیں۔

ضرورت ہے کہ ملک میں ایسی فضا قائم کی جائےجو جمہوریت کی بقا کی ضامن ہو نہ کہ ملک کی تقسیم کے درپے۔ اگر بی جے پی نفرت پھیلانے کے لئے رتھ یاترا کا داغ دے سکتی ہے تو کیا سیکولر جماعتیں متحد ہوکر ملک میں جمہوریت بچائو تحریک نہیں شروع کرسکتے ۔ اگر مستقبل کا ہندوستان تابناک دیکھنا ہے تو ملک کی حفاظت کی خاطر آگے بڑھنا ہوگا اگر خاموش رہے اور بی جے پی سے ڈرتے رہے ان کی طاقتوں کے آگے سینہ سپر ہونے کے بجائے خم ہوئے تو مستقبل کا ہندوستان سب کے لئے تاریک ہوگا۔ کیو ں کہ آر ایس ایس اب باضابطہ اعلان کررہے ہیں اور فخریہ طور پر کہہ رہے ہیں کہ ہم نے ہی 2002ءمیں گجرات میں مسلمانوں کو ماراہمیں فخر ہے ۔ ہم بھارت ماتا کے لئے تین لاکھ سروں کی قربانی دیں گے۔ اگر ان آر ایس ایس کے دہشت گردوں اور آئی ایس آئی  کے ایجنٹوں پر نکیل نہ کسی گئی انہیں پابند سلاسل نہ کیا گیا تو ملک کے لئے خطرناک ثابت ہوگا۔ تو اب بھلا سوچنے کی بات ہے کہ پھر جمہوریت باقی کہاں رہی؟ یہ چند تلخ سوالات تھے جو اہل فکر اور سنجیدہ افراد کی خدمت میں پیش کیے گئے ان صورتحال کے تناظر میں ہمیں جمہوری اقدامات کی ضرورت ہے ورنہ کل کی تاریکی اس جمہوریت کے تعاقب میں ہے ـ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com