حقیقی خوشی کی تلاش

حقیقی خوشی کی تلاش
ہم میں سے ہر آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہم اس وقت تک خوش نہیں ہوسکتے جب تک ہمارے پاس خوشی کی کوئی وجہ نہ ہو۔ تو ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں جب کسی کو خوش دیکھتے ہیں تو بے ساختہ پوچھتے ہیں ’’کیا بات ہے بہت خوش نظر آرہے ہیں‘‘۔
ہمارے نزدیک خوش ہونے کی کوئی وجہ ضروری ہے حالاں کہ درحقیقت ایسا نہیں خوشی ہمارے اندر موجو دہوتی ہے لیکن ہم اسے باہر سے ڈھونڈتے رہتے ہیں۔
ہماری خوشی عموماًاس چیز سےGenerate ہوتی ہے جس کے بارے میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ چھین جائے یا س میں کمی واقع ہوجائے تو یہ بات ہمارے لیے صدمہ کا باعث ہوگی لہذا ہم اس چیز کو سینے سے لگا کر رکھتے ہیں۔ لیکن یہ لطیفہ ہے کہ سینے سے لگا کر رکھنے کے باوجود وہ چیز ہم سے چھین جاتی ہے۔ وہ چیزہے مال و دولت۔۔۔۔۔ آپکی زندگی میں اہل فقر کو ملے ہوں گے ۔ عموماً ان اہل فقر اور درویشوں کے پاس کھانے کو کچھ موجود نہیں ہوتا ، رہنے کیلئے کوئی مناسب رہائشیں نہیں ہوتی، پہننے کو کوئی ڈھنگ کا لباس نہیں ہوتا۔لیکن عجیب بات ہے کہ اس کے باوجود یہ لوگ ہروقت خوش نظر آتے ہیں۔’’آخر کیا وجہ ہے کہ برے حالات میں رہنے کے باوجود یہ درویش لوگ خوش نظر آتے ہیں‘‘۔ اگر ہم اہل فقر کی زندگی کا بغور جائزہ لیں (ان کی کرامات میں نہ کھوجائیں) تو ہمیں پتہ چلے گا کہ درویش کے پاس کوئی دنیاوی آسائشیں نہیں ہیں۔ کسی بھی دنیاوی پیمانے سے جب ہم اس دنیاوی زندگی ناپیں گے’’کہ فقیرلینے پر نہیں بلکہ دینے پر یقین رکھتا ہے‘‘۔ جب اس کے پاس کسی کو دینے کیلئے کچھ نہ ہو تو وہ لوگوں کے دکھ سن کر انہیں تسلی دیتا ہے جب اس کے پاس کچھ میسر آجائے تو وہ اسے لوگوں میں بانٹ دیتا ہے ۔ یوں وہ دینے پر یقین رکھتا ہے ۔ درویش یا فقیر لوگوں کے گلے شکوے نہیں کرتا کوئی اسے کتنی ہی تکلیف کیوں نہ پہنچائے کیسی ہی مخالفت اور دشمنی کیوں نہ کرے وہ شکایت زبان پر نہیں لاتا۔ آپﷺ نے گلہ شکوہ سے منع فرمایا ہے۔ فقیر اس پر عمل کرتا ہے اور یوں خوشی اسی کے اندر پھوٹنے لگتی ہے ۔وہ تہی دامن ہونے کے باوجود خوش رہتا ہے ۔ ایک برطانوی مفکر اپنی کتاب میں لکھتا ہے ’’مجھے سچی خوشی کی تلاش تھی۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ دنیا میں حقیقی خوشی کسی کو حاصل ہے یا نہیں؟ میں نے دنیا کا سفر شروع کیا ۔ مملکت کے سربراہ سے ملا۔گورنمنٹ کے سینئر افسران سے ملا ، کاروباری افراد ، سیاستدان غرض یہ کہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملا لیکن مجھے ان میں سے کوئی بھی شخص حقیقی معنوں میں خوش نظر نہ آیا۔ اپنے دورہ کے آخر میں جب تبت کے جنگلات سے گزر رہا تھا تو وہاں ’’مجھے ایک سادھو ملا جو لکڑی کا تختہ بچھائے ہوئے تھا اور اس پر سیدھے رخ کیل گڑے تھے۔ اس سادھو نے جسم ملتانی مٹی مل رکھی تھی اور وہ ان کیلوں پر لیٹا ہوا تھا ۔لیکن چبنے کی وجہ سے اس کے جسم سے خون رس رہا تھا میں نے دیکھا وہ دنیا کا واحد آدمی تھا جو حقیقی معنوں میں خوش تھا لیکن جس مشقت کے بعد وہ خوش تھا، اسے دیکھ کر میں نے سچی خوشی کے حصول کیلئے توبہ کرلی‘‘۔
خدا کے وجود سے منکر وہ برطانوی مفکر ایک بات نہ سمجھ پایا، انسان کو سچی خوشی ملتی ہی اس وقت ہے جب وہ دوسروں کیلئے رکھ اٹھاتا ہے۔ جب ہم قرب الٰہی کیلئے سفر کا آغاز کرتے ہیں تو اس سفر کی ابتداء میں رب تعالیٰ چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پس کر اس کا سرمہ بنا دیتا ہے ۔ ایسا نہیں کہ (معاذاللہ) رب تعالیٰ کو اس میں لطف آتا ہے بلکہ اس کے پیچھے بہت سی حکمتیں ہیں۔جیسے اسلام کی ابتداء نفی (Nagation ) سے ہوتی ہے۔ کوئی شخص اس (Nagation ) میں جائے بغیر مسلمان ہی نہیں ہوسکتا ۔ اسلام میں داخل ہونے کے لئے کلمہ پڑھنا ہے اور وہ کلمہ کی ابتدا لا یعنی نفی سے ہوتی ہے ۔ اسلام کا اصل مطلب سلامتی ہے۔ اور سلامتی کی ابتداء نفی سے ہوتی ہے ۔ قرآن پاک کے اسلوب پر غور کیجئے۔ رب تعالیٰ نے جس بات پر زور دیا ہے اس کی ابتداء نفی سے ہوتی ہے مثلاً۔۔۔
نہیں جاسکتا کوئی جنت میں۔۔۔۔۔۔۔
نہیں ہوسکتا کوئی مومن۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روحانیت میں کوئی شخص اس وقت تک آگے نہ بڑھ پائے گا جب تک وہ اپنی ذات کی نفی نہیں کرے گا۔اس کے تمام تصورات جو اس سفر کی ابتداء میں اس کے ساتھ تھے، جب وہ ان کی نفی کردے گا، خود اپنی ذات کی نفی کردے تب اس نگی میں سے مثبت ابرے گا۔ نفی کے مرحلہ کے دوران ہم دکھوں سے گزرتے ہیں تو ہماری انا کچلی جاتی ہے، من موجی کی عادت ختم ہوجاتی ہے ۔ یوں اپنے ارادوں اور خواہشات کی تکمیل کے لیے ہر جائز و ناجائز ذریعہ اختیار کرنے کی روشنی ہم ترک کردیتے ہیں۔جب انسان یہ سب کر نے لگتا ہے تو پھر وہ روحانی طور پر ایک ایسی صاف سلیٹ ہو جاتا ہے جس پر کچھ بھی تحریر کیا جاسکتا ہے۔ روحانیت میں ہم اپنی خواہشات پر اور اپنے اوپر جتنا زیادہ جبر کریں گے اتنی ہی زیادہ روحانیت حاصل ہوجائے گی۔ اس دکھ اور درد سے گزرتے روحانیت کے ایک خاص مقام پر پہنچ کر بندے کو رب کا قرب حاصل ہوجاتاہے اور یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں انسان کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی ہمیشہ خوش رہتا ہے۔ اس کے اندر خوشی بھری رہتی ہے ۔ اس لیے فقیروں کے چہرے دمکتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں ہمیشہ چمک ہوگی۔ یہ چمک خوشی کی ہوتی ہے۔ لیکن ایک بار پھر دہرادوں کہ اس مقام تک پہنچنے کیلئے ہمیں دوسروں کو دینے کی عادت ڈالنا ہوگی۔ لیکن اگر ہمارے پاس کچھ نہ ہو تو کم از کم دوسروں کو تسلی دینا ہوگی۔ ہمیشہ کچھ نہ کچھ دوسروں کو دیتے رہے۔ رب تعالیٰ آپ کو اندر سے بھر دے گا۔ وہ آپ کی تمام ضروریات کا ذمہ دار ہوجائے گا۔ آپ کی حاجات غیب سے پوری ہونے لگے گی۔ رب تعالیٰ ایسی جگہ سے آپکو رزق فراہم کرنے لگے گا جہاں سے آپ نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا ۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ بغیر کسی ارادی کوشش کے ہروقت خوش رہیں تو ہمیں دینے والا ہاتھ بننا ہوگا۔
جب بھی ہمیں کوئی شخص ملے ہم اسے کچھ نہ کچھ ضرور دیں اور اگر کچھ نہ ہوتو ایک مسکراہٹ ہی سہی۔ In Short ہم زندگی میں فقیر کا وہ اصول اپنا لیں، ’’میری خوشیاں سب کی خوشیاں‘‘ ۔۔۔۔ لیکن میرے دکھ صرف میرے ہیں۔۔۔۔ یہ نہ کیجئے گا کہ آپ اپنے دکھ کسی کے ساتھ share کرنے لگیں۔ فقیر کے دکھ اس کے اندر رہنے چاہیے۔ ان دکھوں کا ایک ہلکا سا عکس بھی کبھی آپکے چہرے پر نہ آنے پائے۔ آپ کے قریبی ترین عزیز والدہ صاحبہ بیگم اور اولاد تک کو بھی ذرا سا شعبہ نہ ہونے پائے کہ آپ کے اندر کتنے دکھ ہیں۔ یہی فقیر کی body language سے اور نہ ہی اس کی آنکھوں سے لیکن وہ اپنی خوشیاں کبھی اپنے پاس نہیں رکھتا۔ وہ اپنی ساری خوشیاں سب کے ساتھ شئیر کرلیتا ہے۔ اور مزہ یہ کہ اپنی خوشیاں میں سب سے کم share خود اسکا اپنا ہوتا ہے۔اپنے پاس اپنی خوشیوں کا تھوڑا سا حصہ وہ خود اپنے پاس رکھے گا۔ باقی سب دوسروں میں لٹا دے گا۔ جس کے نتیجے می رب تعالیٰ اسے دائمی خوشی عطا کر دیتا ہے۔ فقیر کے Motto کہ ’’ میری خوشیاں سب کی خوشیاں ۔۔۔ لیکن میرے دکھ صرف میرے ہیں۔۔۔۔۔ پر عمل کر لیجئے پھر دیکھئے کہ رب تعالیٰ کی رحمتیں کسی طرح نازل ہوتی ہیں او ر کیسے کسیے انعامات آپ کو عطا ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
محمد آصف ظہوری
آہستہ آہستہ
0333-4937670

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com