حافظ صاحب کی آواز اور نظربندی میں توسیع

حافظ ابتسام الحسن
وہی ہوا جس کا ڈر تھا حکومت پنجاب نے مسیحا ئے قوم حافظ محمد سعید اور ان کے پانچ ساتھیوں کی نظر بندی میں بلا جرم و بلا دلیل تین ماہ کی توسیع کر دی ۔حافظ محمد سعید کو 31جنوری2017 کو بلا جرم و بلا ثبوت امریکی و انڈین دباؤ پر ان کے گھر میں ہی نظر بند کر دیا گیا تھا ۔اس کے ساتھ ہی ان کے پانچ ساتھیوں کو بھی ’’گناہ ہے کہ کوئی گناہ نہیں ‘‘ کے تحت نظر بند کر دیا گیا تھا ۔حافظ محمد سعید نے اپنی نظر بندی کے کچھ دنوں بعد ہی لاہور ہائیکورٹ میں اپنے اور اپنے ساتھیوں کی نظر بندی کو اپنے وکیل اے کے ڈوگر کے ذریعے چیلنج کر دیا تھا ۔جس میں حافظ محمد سعید کے وکیل اے کے ڈوگر نے لاہور ہائیکورٹ کے سامنے یہ موقف رکھا کہ حافظ محمد سعید ایک نیک سیرت ،رحمدل،دکھی انسانیت کی خدمت کرنے والے اور پاکستان کے آئین و قانون کی پاسداری کر نے والے انسان ہیں ۔پورے ملک میں ان کے اور ان کی جماعت کے خلاف کو ئی کیس نہیں ہے اور نہ ہی ان کی طرف سے ملکی سالمیت پر کبھی آنچ آئی ہے ۔بلکہ ان کی جماعت ’’ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن‘‘ نے تو پورے ملک میں فلاحی کاموں کا جال بچھا رکھا ہے ۔اے کے ڈوگر کے جواب میں سرکاری وکیل نہ تو ان کا رد کر سکے اور نہ ہی نظر بندی کے جوا ب میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش کر سکے ۔بلکہ اس بنیاد پر تاریخیں لیتے رہے کہ ابھی ہمیں پنجاب حکومت نے بطور ثبوت کچھ بھی فراہم نہیں کیا ۔اس سب کے باوجود بھی حکومت پنجاب نے حافظ محمد سعید اور ان کے ساتھیوں کی نظر بندی میں مزید تین ماہ کا اضافہ کر دیا ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ثبوت نہیں تو جرم بھی نہیں ،تو پھر کس بنیاد پر حکومت وقت نے یہ قدم اٹھایا اور اس میں بلا جواز اضافہ بھی کر دیا ۔سمجھ یہ آتی ہے کہ نظر بندی میں توسیع کی بنیادی وجہ حافظ صاحب کی آواز ہے جو آہستہ آہستہ پاکستانیوں کی آواز بنتی جا رہی تھی ۔حافظ صاحب کی آواز کفر و باطل کے خلاف ننگی تلوار ہے جو الفاظ کی صورت میں ان پر قہر بن کر ٹوٹتی ہے ۔حافظ صاحب کی آواز کفر کے مغلوب ہونے اور اسلام کے غالب آنے کی واضح نوید سناتی ہے ۔حافظ صاحب کی آواز مظلوم مسلمانوں کی ڈھال ہے اورمسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو دیکھ کر ان کا ایمان انہیں چپ رہنے کی اجازت نہیں دیتا ۔وہ مظلوم مسلمانوں بالخصوص کشمیریوں کی تکلیف کو اپنی تکلیف اور ا ن کے دکھ درد کو حقیقی معنوں میں اپنا دکھ درد سمجھتے ہیں ۔دنیا بھر میں مسلمانوں کے حقوق کو جہاں بھی مسلنے یا کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے تو حافظ صاحب ان کے حقوق کا نمائندہ بن کر ٹوٹے اور بکھرے حوصلوں کو نئی صبح دکھاتے ہیں اور دنیا کو اپنی اوقات میں رہنے کاسبق دیتے ہیں ۔اس وقت جو کشمیر کی تحریک آزادی اپنے عروج کو پہنچی ہوئی ہے ،جس میں بچے ،بوڑھے ،جوان ،عورتیں سب یکساں آواز سے آزادی طلب کر رہے ہیں ان میں طلب آزادی کی روح پھونکنے کے پیچھے بھی حافظ صاحب کی آواز کا ر فرما ہے ۔اگر ہندوستان میں ہندوؤں کے ظلم میں گھٹ گھٹ کر زندگی گزارنے والے لاچار مسلمان اپنے حقوق کے لیے صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں تو ان کو حق آزادی کا نعرہ سکھانے والے بھی حافظ صاحب کے الفاظ ہیں۔برما میں بھیڑ ،بکریوں کی طرح کاٹے جانے والے مسلمانوں کو آس و امید کا سایہ دینے والے بھی حافظ صاحب ہیں ۔افغانستان و عراق میں امریکی بدمعاشیاں ونیٹو کی غنڈہ گردی کے خلاف دنیاکے ہر فورم پر اٹھنے والی سب سے مضبوط آواز بھی حافظ صاحب کی ہے ۔خوارج و تکفیر کے فتنوں ،ان کے حملوں اور نام نہاد خلافت کے دعوے داروں کے مکر و فریب سے بچا کر امت کو نبوی منہج پر اکٹھا اور آپسی محبت کا درس دینے والی دعوتی آواز بھی حافظ صاحب کی ہے ۔بلوچستان کے باغیوں کو وطن کے محبت کا پاٹ پڑھانے والی آواز بھی حافظ صاحب کی ہے ۔تھر کے بھوکوں کی بھوک مٹاؤ ،پیاسوں کی پیاس بجھاؤ ،زلزلے و سیلاب کے ماروں کو ٹھکانے دو ،شام کے لوگوں کو بستر پہنچاؤ ، آفت زدہ علاقوں چھوٹی عید پر تحائف بھیجو ،بڑی عید پر قربانیاں بھیجو ،ایمبولینسیں عام کرو ،ہسپتالوں میں مریضوں کو عیادت کرو ،ناگہانی آفات میں خدمت انسانیت کے لیے ہمہ وقت تیا ر رہو جیسی تمام آوازیں بھی حافظ محمد سعید اور ان کے رفقاء کی ہیں ۔یہ ملک ہمارا ہے اس کا پتہ پتہ ہمارا ہے ،یہاں ہمیں امن و آشتی کے پھول لگانے ہیں ،محبتوں کے بیج بونے ہیں ،اس کو اسلام کا قلعہ بنانا ہے ،حکمرانوں کی غلطیوں اور نادانیوں پر سے ہمیشہ د رگزرکر نا ہے جیسے میٹھے اور وطن کی محبت میں گندھے ہوئے بول بھی حافظ صاحب کے ہیں ۔حافظ صاحب کی آواز نے وہ کام کر دکھایا ہے جو ان سے پہلے کسی پاکستانی لیڈر کی آواز نہ کر سکی ۔حافظ صاحب نے اپنی آواز کے ذریعے دفاع پاکستان کونسل میں ملک پاکستان کی تقریبا پینتالیس کے قریب دینی و سیاسی جماعتیں جو مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھتی ہیں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرکے ایک ہی جھنڈے تلے اکٹھا کردیا ۔جس کے فوائد کا اندازہ دشمن کو ہونے والی تکلیف سے لگایا جا سکتا ہے ۔ایک اور چیز جو حافظ صاحب کو سب سے جدا کرتی ہے وہ اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر پر ہرپلیٹ فارم پر ببانگ دہل انڈیا کو اس کے ظالمانہ اقدامات پر ٹوکنا ہے ۔ آخری وقت میں بھی یہی جرم حافظ صاحب کی نظر بندی کا سبب بنا تھا اور اب حافظ صاحب کی نظر بندی میں توسیع کی بنیادی وجہ بھی کشمیر کی تحریک آزادی کا اپنے عروج پر ہونا ہے ۔انڈیا کو ڈر ہے کہ اگر اس وقت حافظ صاحب کی آواز باہر نکلی تو وہ کشمیریوں کو حوصلوں کو جلا بخشے گی اور وہ ایک نئے ولولے اور حوصلے سے آزادی کشمیر کی تحریک کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش کریں گے ۔
حافظ صاحب کی نظر بندی میں توسیع کرنے والے ہمارے حکمرانوں اور انڈیا کے نادانوں کو شاید اس بات کی سمجھ نہیں ہے کہ دنیا میں کوئی قید خانہ ایسا نہیں ہے جو آواز کو قید کرسکے اور کوئی باڑ ،سرحد یا دیوار ایسی نہیں جو آواز کو لوگوں تک پہنچنے سے روک سکے ۔قید انسان کو کیا جا سکتا ہے اس کے نظریے اور آواز کو نہیں ،بلکہ زندان تو ہوتے ہی آوازوں اور نظریات کو پختگی دینے کے لیے۔حافظ صاحب کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی آواز کو دنیا میں پھیلانے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور ان کا نظریہ لوگوں کے دل و دماغ میں راسخ ہو چکا ہے ۔اب حافظ صاحب کا جسم بظاہر گھر کی چار دیواری میں ہے لیکن روح نظریے و آواز کی شکل میں دیواروں و سرحدوں کو عبور کر کے دنیا کے کونے کونے میں پہنچ رہی ہے ۔لہٰذا اے حکمرانوں ! تم ناکام ہو چکے ہو ، کیو نکہ تم نے جسم کو قید کیا ہے نظریے اور آواز کو نہیں ۔بھلا نظریے اور آواز کو پہلے کوئی قید کر سکا ہے جو تم اب کر پاؤ گے ۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com