قائداعظم محمدعلی جناحؒ 

قائداعظم محمدعلی جناحؒ 
1945ئمیں ایک دفعہ سورت کالج سٹوڈنٹس یونین کا پریذیڈنٹ ہندو تھا اور وائس پریذیڈنٹ مسلمان تھا مسلمان طلبا نے پچاس ہزار روپے مسلم لیگ کے فنڈ کیلئے جمع کیے اور قائداعظم کو تا ربھیجا قائداعظم نے کہا کہ میں آؤں گا کہ اتفاق سے سورت میں گاندھی بھی آگئے ان کے تھوڑا عرصہ بعد قائداعظم نے بھی وہاں جانا تھا ۔ کالج کے ہندو طلبا نے کالج کے مسلمان وائس پریذیڈنٹ سے کہا کہ ہمارا لیڈر گاندھی آرہا ہے تم بھی چلوریلوے سٹیشن استقبال کیلئے ! اس نے کہا کہ میں تیار ہوگاندھی کے استقبال کیلئے لیکن میری ایک شرط ہے کہ جب ہمارا لیڈر آئے تو تم بھی اسٹیشن استقبال کیلئے چلو گے وائس پریذیڈنٹ کہتے ہیں کہ سورت کاپلیٹ فارم بھر ا ہوا تھا تقریباً پانچ ہزار کے قریب لوگ موجود تھے اتنے ہی باہر کھڑے ہوئے تھے۔ گاڑی آئی اور گاندھی ایک تھرڈ کلاس ڈبے میں سے باہر نکلے دھوتی پہنے ہوئے، چھڑی ہاتھ میں ،گھڑی دھوتی کے ساتھ لٹک رہی تھی ، ایک پنڈی بھی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں گاندھی کی سادگی سے بہت متاثر ہوا پھر دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے پبلک پلیٹ فارم کے دونوں حصوں کی طرف گئے جنہوں نے آنے کی زحمت کی تھی ان کا شکریہ ادا کیا جب گاندھی اپنی موٹر میں سوار ہوئے تو اس عرصے میں انہیں ایک گھنٹہ لگ گیا کیوں کہ لوگوں کو پرنام ( سلام)کر رہے تھے ۔ اس سے کچھ عرصہ بعد قائداعظم آئے وہ فرسٹ کلاس کمپارٹمنٹ سے اترے لباس ان کا وہی جو کہ وائسرائے کی اگر میٹنگ اٹینڈ کر رہے ہوں تو پہنا ہو۔ سوٹ، سٹف کالر،سفید سولر ہیٹ۔ بہت ہی اچھا لباس پہنے ہوئے تھے۔ جامہ زیب تن تھے ۔
وائس پریذیڈنٹ کہتے ہیں کہ ان کے جامہ زیبی کی تعریف کررہا تھا اور میرا دوست پریذیڈنٹ یہ سوچ رہا تھا جو اس نے بعد میں مجھ سے کہا کہ موازنہ کرو ۔ کہ قائداعظم جب اترے مسلم لیگ کے پریذیڈنٹ ،ورکنگ کمیٹی کے ارکان اور سٹوڈنٹس بہت تھے۔ انہوں نے تقریباً بارہ آدمیوں سے ہاتھ ملایا اور پلیٹ فارم پر موجود باقی لوگوں کا دوسرے ہاتھ کے اشارے سے مسکر ا کر شکریہ ادا کیا پلیٹ فارم کے باہر بھی ہجوم کا اسی طریقے سے شکریہ ادا کیا ہاتھ کے اشارے سے اسٹیشن میں سے نکلنے میں انہیں پندرہ منٹ لگے مسلمان دس ہزار سے کم نہ تھے۔اس ہندو پریذیڈنٹ یونین نے طعنہ دیا کہ وہ تھرڈ کلا س میں آئے ! اوریہ فرسٹ کلاس میں آئے!انکا لباس دیکھو اور انکالباس دیکھو ۔ وہ ایک گھنٹے میں اسٹیشن سے باہر نکلے یہ چند منٹ میں ۔وائس پریذیڈنٹ کہتے ہیں میں نے کہا کہ میں اس کی صفائی خود قائداعظم سے لوں گا۔اس لیے میں نے مقررہ وقت سے پہلے آدھا گھنٹہ قبل قائداعظم کو چٹ بھجوائی کہ مسلم لیگ کی میٹنگ میں جانے سے پہلے مجھے دس منٹ دیجئے۔چونکہ یہ بھی آرگنائزر میں سے تھے اس لیے انہیں ٹائم مل گیا انہوں نے سارا واقعہ اور ہندودوست کا نقطہء نظر بیان کیا ۔جس سے ان نے یہ بھی کہا تھا۔قائداعظم نے دو برتھ کا کوپے بھی ریزور کر وایا تھا۔
وائس پریذیڈنٹ کہتے ہیں کہ میں نے یہ سب قائداعظم سے مؤدبانہ بیان کیا۔ انہوں نے مسکرا کر کہا کہ آپ کو اپنے ہندو دوست کیلئے جواب چاہیے ٹھیک ہے تو یہ اس کا جواب ذرا اپنے ہندو دوست سے پوچھو کہ جب گاندھی جی چلتے ہیں کہ ٹھیک 36 سیٹوں کا پورا ڈبہ ریزور ہوتا ہے دوسرے تم اپنے دوست سے پوچھو کبھی گاندھی نے ٹکٹ خریدا ہے؟ پوچھو! گاندھی جی کس کے خرچ پر ٹریول کرتے ہیں ؟ اور جہاں تک میرا تعلق ہے کہ میں مسلم لیگ کے فنڈ پر کبھی سفر نہیں کرتا میں اپنے پیسے سے سفر کرتا ہوں اور یہ پیسہ میں نے اپنے قوت بازو پر کمایا ہے اور کیا مجھے یہ حق نہیں کہ جس جائز طریقے سے چاہوں اسے خرچ کروں چاہے لباس کے اوپر ، چاہے مکان کے اوپر ، چاہے سفر کے اوپر۔ وہ صاحب کہتے ہیں کہ بات میری سمجھ میں آگئی ۔لیکن ایک بات پھر بھی کھٹکتی رہی میں نے کہا حضور ایک برتھ کا فی ہے یہ دو برتھ کیوں ریزرو کرواتے ہیں؟ اس کا قائد اعظم نے یہ جواب دیا اس لیے کہ میں ہر وقت کام کرتا رہتا ہوں میں کسی طریقے سے گوارا نہیں کرسکتا کہ میرا کوئی دوسرا آدمی میرے ان کاغذات کو دیکھے ۔جو میں مسلمانون کے حقوق کیلئے لکھتا پڑھتا رہتاہوں گاندھی کے پاس بہت وقت ہے اس کے تو بہت ورکر ہیں اور میں اکیلا ہوں میرے پاس اتنا وقت کہا کہ میں لوگوں کو جواب دیتا پھروں ۔ مجھے تو اپنے وقت کوراشن کرنا پڑتا ہے۔
وائس پریذیڈنٹ کہتے ہیں کہ قائداعظم نے کہا کہ ایک اور بات بھی سن لیں میں ایک برتھ پر سفرکیا کرتا تھا ایک دفعہ ایک اینگلوانڈین عورت گاڑی میں سوار ہوئی ایک برتھ خالی تھی اس لیے میں اسے روک نہیں سکتا تھا ۔سامان اسکے پاس نہیں تھا صرف ایک ٹیچی کیس تھا۔ جاڑے کا موسم تھارات کو بغیر بستر کے آدمی چل نہیں سکتا تھا ۔مجھے خیال گزراکہ یہ کسی اگلے اسٹیشن پر گزر جائے گی تھوڑی دیر بعد جب گاڑی کی گڑگڑاہٹ کم ہوئی تو مجھ سے مخاطب ہوئی کہ مجھے ایک ہزار روپے دے دیں اس نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ مجھے ایک ہزار روپیہ نہیں دیتے تو میں زنجیر کھینچ کر شکایت کروں گی کہ آپ نے میری عفت پامال کی۔میں نے اسی وقت فیصلہ کیا کہ بہرا بن جاؤں ۔ میں نے ایک کاغذ پر لکھ کر اسے دیا کہ میڈم میں ایک بہرا شخص ہوں ۔ آپ کے ہونٹون کی حرکات سے اندازہ کیا ہے کہ آپ مجھے کچھ کہہ رہیں ہیں۔کیا آپ مہربانی فرما کر اسے لکھ دیں گیں میں نے کاغذ اور قلم اس کی طرف بڑھایا اور لکھنے کا اشارہ کیا کہ اس پر لکھ دو۔ وہ لکھتی ہے کہ ۔۔۔۔۔
I want to give me one thousand rupees
(آپ مجھے ایک ہزار روپیہ دے دیں) یہ لکھ کر میرے منہ کی طرف دیکھتی ہے میں نے چہرے پر کسی قسم کا ری ایکشن نہیں دیا اس نے دیکھا کہ یہ لکھنے سے کام نہیں چلتا پھر اس نے اپنی ہینڈ رائٹنگ میں مزید لکھا کہ۔۔۔۔
ٗUnless you give me one thousand rupees , I Shall pull the chain and complain that you have outraged my modesty
اگر آپ مجھے ایک ہزار روپے نہیں دیتے تو میں زنجیر کھینچ کر شکایت کروں گی کہ آپ نے میری عفت پامال کی جیسے اس نے یہ جملہ ختم کیا۔ میں نے زنجیر کھینچی ۔گارڈ آیا۔ وہ خط میں نے گارڈ کے حوالے کیا اور کہا کہ اس عورت کو یہاں سے لے جاؤ۔ 
محمد آصف ظہوری
آہستہ آہستہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com