سیاسی حکمت

سیاسی حکمت تو کوئی ایم کیو ایم سے سیکھے ان کے قائد نے قائد اعظمؒ کے مزار پرجا کر پاکستان کاسبز ہلالی پر چم نذر آتش کیا ۔پیروکاروں پر کوئی اثر ہوا نہ ملال کی کوئی کیفیت طاری ہوئی۔اس نے درجنوں افراد کو کراچی حیدر آباد سکھر میں قتل کیا اور کروایا کوئی نہ بولا اور نہ ہی کوئی ملامت محسوس ہوئی اور نہ ہی کوئی مذمت کی گئی۔بھتہ خوروں نے مل کے اندر اڑھائی سو سے زائد افراد زندہ جلا ڈالے کوئی پتہ بھی نہ ہلا۔سیاسی بنیادوں پر بھرتی کی گئی پولیس تو کیا ایکشن لیتی ممکن ہی نہ تھا اور نہ ہے۔ اس نے بھارت جا کرپاکستان کے بارے میں کہا کہ بھارت کا دو ٹکڑے ہو جانا غلط تھا یعنی پاکستان کا دنیا کے نقشہ پر ایک نظریاتی اسلامی ملک کے طور پرابھرنا ہی غیر فطری اور نامناسب تھاٍمطلب یہ ہوا کہ اس نے دو قومی نظریہ کی ہی بھارتی موقف کے مطابق نفی کر ڈالی ۔مزید کہا کہ کو شش کریں گے کہ جلد دوبارہ مل جائیں ۔یہی قادیانیوں کے نام نہاد قائد مرزا غلام احمد نے کہاتھا کہ ہم بھارت کی تقسیم پر راضی نہیں جلد کوشش کریں گے کہ اکٹھے ہو جائیں ۔وہ تو سارے اپنے مرُدوں کو بھی چناب نگر(سابقہ ربوہ) میں امانتاً دفن کرتے ہیں ان کا خیال بد ہے کہ جب دنوں حصے مل جائیں گے تو ان مردوں کو' قادیان'اصل ہیڈ کوارٹر میں دفنائیں گے۔بھارت میں پاکستانی سفارت خانہ نے بحکم پاکستانی حکمرانوں کے اس کا بھرپور استقبال کیا بہت بڑے اجتماع کا انعقاد کیاگیا اور جس کی اعلیٰ کھانوں سے تواضع کی گئی جہاں "قائد"نے پاکستان دشمنی پر مبنی یہ "تقریر دلپذیر"کی۔دوسری طرف چونکہ کراچی ہی میں زیادہ ٹی وی چینلز کے مرکزی یا مین دفاتر ہیں تو کیا کسی کے باپ کی جرأت ہے کہ وہ تقریر کریں اور ٹی وی والے اس کا ایک ایک ایکشن ،پوز اور حرکات نہ دکھائیں اور کوئی منہ سے نکلا ہوا لفظ بھی نشر ہونے سے رہ جائے ۔یہ تو پاکستانی عدالتوں نے اس کی تصویرٹی وی اسٹیشنوں پر دکھانے اور اس کی تقریر نشر کرنے پر پابندی لگادی ہے ( جسے ایم کیو ایم والے آئینی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں) آخری بڑی واردات کے طور پر انہوں نے تقریر کرتے ہوئے(خاکم بدہن ) پاکستان مردہ باد کے نعرے لگادیے۔اور ٹی وی چینلوں میں گھس کرانھیں مکمل تباہ کرنے اور وہاں موجود ورکروں کی پٹائی کا حکم دے ڈالا۔پاکستان کی سرزمین پر ایسے نعرے بھی لگے اورٹی وی چینلوں کے دفاتر کی تباہی و بربادی بھی کی گئی ایک روز مزید چھوڑ کر کسی دوسری جگہ پر ایک اور تقریر جھاڑ ڈالی کہ اسرائیل بھارت برطانیہ امریکہ اور یہودی میری مدد کریں تو میں پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے ہی نہیں بلکہ تباہ و برباد کرسکتا ہوں ۔پاکستان مردہ باد کے نعرے لگانے پرپارٹی کی مرکزی قیادت کی پکڑ دھکڑ ہوئی مگرو ہ بلا کے چالاک نکلے راتوں رات لٹو کی طرح ایسے گھومے کہ صبح ہی انھیں رہائی مل گئی ۔طے شدہ پرو گرام کے مطابق پاکستانی لیڈران نے اپنے بڑے قائد اور بھائی سے قطع تعلق کاا علان کرڈالا(جوکہ بغیر لندن آفس کی اجازت کے ممکن ہی نہ تھا)اسکی تصاویر اتارد یں قد آدم پوسٹر ہٹادیے تاکہ محسوس ہو کہ وہ اس کے خلاف ہوگئے ہیں یہ ایسی بات تھی اور آج بھی ہے جس کے قطعاًامکان کا شائبہ تک بھی نہیں ہو سکتا اگر قارئین میری گستاخی معاف فرمادیں تو میں ببانگ دہل یہ بات کہہ رہا ہوں کہ انہوں نے ہم سبھی کو پُھدو بنا ڈالاکہ وہ مخالفین خصوصاً حکمران طبقات اور موثر اداروں کو پُھدوبنانے کے فن کے ماہر ترین افراد ہیں۔کئی ایم کیو ایم کھڑی ہوگئیں جن کی تنظیمیں بننا شروع ہوئیں جلسے جلوس شروع ہوگئے مگر یہ سب کچھ اسی طرز پر سمجھیں جیسے جماعت اسلا می کی طرف سے اسلامک فرنٹ کی تشکیل اور اکیلے جلسے جلوس اورا نتخابات لڑنے پر پی پی پی والوں نے کیا تھا کہ تازہ تازہ ن لیگ سے جماعتیوں کا اتحاد ٹوٹا تھا اور جماعتی اجتماعات و جلسوں میں بھرپور حاضری دکھانے کے لیے سارے پیپلئے نعرے جپتے شامل ہوتے تھے تاکہ ایسا محسوس ہو کہ یہ بھی بہت بڑا گروپ بن گیا ہے حتیٰ کہ نواز شریف سے بھی طاقتور جو کہ اصلیت میں کچھ بھی نہ تھا۔پاکستانیو!ہوش کے ناخن لو یہ سب ڈرامے باز ڈرامہ رچانے کے ماہر ہیں ان کی اصل قیادت بیرونی سامراجی ،لادین ،پاکستان دشمن ممالک یہود و نصاریٰ اورہندو بنیوں سے مکمل امداد حاصل کر چکی ہے یہ سب جلسے جلوس دکھلاوے کے ہیں بظاہر ریہر سل اور اندرون خانہ مکمل تیاریاں ہو رہی ہیں ملک دشمن عناصر کے پاس اسلحہ کے انبار ہیں جو انہوں نے خود بھی خریدے ہیں اور امریکی اتحادی افواج کے ٹینکروں کو عمران خان کی طرف سے روکنے والے دنوں میں حاصل کیے تھے ۔آخر تقریباً چھ سو اسلحہ سے بھرے ٹینکر کراچی بندر گاہ سے چل کر کیسے سندھ کے اندر گم ہو گئے کیا وہ زمین میں مدفون ہو گئے یا آسمان نگل گیا۔یہ سب باتیں سیکورٹی اداروں سے ڈھکی چھپی نہ ہیں مت بھولیں کہ راء نے ہزاروں کارکنوں کو ہندوستان بلا کر ان کی جنگجویانہ تر بیت مکمل کردی تھی اور ہنگامی بنیادوں پر وہ ان کی ہی سب سے بڑی فنانسر بھی ہے کہ ان کے ہاتھ تو پاکستان کو تباہ کرنے کے لیے"گوہر نایاب"الطاف کی صورت میں دستیاب ہو گیا اب آپ پُھدو بنے ہوئے ان کی آنیاں جانیاں اور مختلف سیاسی پارٹیاں بنتی اور ان کے جلسے جلوس دیکھتے رہیے "اصل میں سبھی ایک ہیں " پہلے بھی واضع کیا جا چکا ہے اور نتیجہ بھی نکل چکا کہ نئی اور پرانی پارٹیوں کی لیڈر شپ اب بھی اندھیروں اجالوں میں گلے ملتی اور بغل گیر ہوتی دیکھی جاسکتی ہے ووٹر پارٹی کی بنیاد رکھنے والے الطاف حسین کے نام سے ٹنگا ہوا ہے فوٹو جھنڈے اتر چکے مگر33سالوں سے دوسری نسل تک کے دلوں میں لگی تصویریں کوئی نہ کھرچ سکا نہ اب کھرچ سکے گا کہ یہ دنوں میں ممکن نہ ہے مہاجر ببانگ دہل یہ کہتے ہیں کہ اگر لطاف حسین پاکستان دشمنی کا نعرہ بلند نہ کرتا تو پھر اسے امریکی یہودی بھارتی اسرائیل امداد کیونکر مل سکتی تھی؟ خدا خیر کرے کہ ہماری تباہی کے پلان بنے ہیں دیار غیر میں!! وما علینا الاالبلاغ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com