مردکاظلم ہے کہ۔۔۔

مردکاظلم ہے کہ۔۔۔
تحریر:عابدرحمت 
ابھی نمازہ جنازہ پڑھ کردروازے سے باہرقدم رکھا ہی تھا کہ ایک عورت زاروقطارروتی ہوئی مسجدکے ہال کی طرف دوڑی جارہی تھی، اس کے آنسوبرستی بارش کی طرح چھم چھم گررہے تھے ، نامعلوم وہ بھائی تھایاخاوندبہرکیف وہ ایک مردتھاجواسے زبردستی روکنے کی کوشش کررہاتھا، مگروہ عورت زادہونے کے باوجودبھی اس پہ بھاری پڑرہی تھی ، اسے نجانے کیوں میت سے لگاؤتھا، معلوم تویوں ہوتاتھاکہ شائدوہ مرجانے والے انسان کی بیٹی ہے ، وہ اپنے باپ کے چہرے کوجی بھر کر دیکھناچاہتی تھی ،اسے معلوم ہے کہ آج اس کا باپ منوں مٹی تلے جاسوئے گا،جہاں بیٹی کی آہ وبکااسے گہری نیندسے جگانہ پائے گی ۔اسے اپنے اس سائے سے بچھڑنے کاغم کھائے جارہاہے کہ جوسایازمانے کی جھلسادینے والی دھوپ میں اسے اپنی چھاؤں مہیاکیاکرتاتھا، وہ باپ جواس کے لئے زمانے کے بے رحم تھپیڑوں کے سامنے دیواربن جایاکرتاتھا۔وہ آدمی اسے روک نہ پایااوروہ انسانوں کے جم غفیرکوچیرتی ہوئی اپنے باپ کی میت سے جالگی ، انسان ہیں کہ غمگین صورت لئے اسے ٹکٹکی باندھے دیکھے جارہے ہیں ، میرے آنسوبھی چھلکناچاہتے تھے مگرمیراپتھردل ان آنسوؤں کوکسی اورپیش آمدہ غم میں بہاناچاہتاتھا۔وہ میت کی چارپائی سے لگی بڑی مشکل سے اپنی چیخوں کو روکے ہوئی تھی ، حالانکہ وہ ساری دنیاکواپنی بے بسی اورلاچارگی بتادیناچاہتی تھی،وہ اپنی آنکھوں کاساراپانی بہادیناچاہتی تھی ، اس کادل تھا کہ ضبط کی ساری حدوں اورسیماؤں کوپارکرناچاہتاتھامگراس کے لئے دستوردنیابھی تونبھانالازم تھا، اس لئے دل خودپہ بھاری پتھرمحسوس کرتاہوابس آنسوپی کرہی رہ گیا ،اس کاخاوند اور اس کے بیٹے بڑی تگ ودوکے بعداسے باپ کی میت سے ہٹاتے ہوئے باہرلائے، وہ لڑکھڑاتی ہوئی ، ڈگمگاتی ہوئی اپنے سہاروں کے ذریعے بمشکل چلتی ہوئی باہرآئی اوردل تھام کربیٹھ گئی ۔
یہ اشکبارمنظرمیری نگاہوں کے سامنے ظہورپذیرتھااورمیں کھویاکھویاساکہیں اوربھٹکتاہواوہ دوردیکھ رہاتھاکہ جس میں ایک بیٹی کوزندہ درگورکیاجارہا ہے مگرباپ کے چہرے پرذرابھی پشیمانی اورندامت تک نہیں ، وہ لمحے میری آنکھوں سے اوجھل نہ ہوپارہے تھے کہ جن لمحوں میں بیٹی کی پیدائش پرمنہ بسورے باپ بیوی کوطلاق دیتانظرآیااورماں ایک معصوم کلی کولئے ماری ماری دربدرپھرتی رہی،وہ زمانہ دیکھ رہاتھاکہ جب ایک بیٹی کو، ایک بہن کوغیرت کے نام پرٹکڑے ٹکڑے کیاجارہاتھا، میں اس بیٹی کوکیسے بھلاپاؤں جس نے نہ اپنی جوانی دیکھی نہ زمانے کے بے رحم تیور، وہ توبس ماں باپ کے لئے اپنی جوانی تیاگ دینے کوہی اپنی زندگی کاماحصل سمجھتی رہی ، وہ تلخ منظرذہن کی سکرین پر فلم کی طرح چلنے لگتاہے کہ جس میں ایک بہن نے اپناسب کچھ بھائیوں کی محبت میں نچھاورکردیامگراس کے نصیب میں پھربھی بھائیوں اوربھابھیوں کے دھکے لکھ دیئے گئے تھے ۔مجھے وہ ماں بھی یادہے جوساری زندگی اولادکے لئے پوری دنیاسے نبردآزمارہی مگرجب اولادنے جوانی کی دہلیزپرقدم رکھاتو ان کے قدم ماں کے سینے کوروندتے اورمضبوط ہاتھ ماں پرتھپڑبرساتے نظرآئے ۔ماں نے دن رات اپناخون پسینہ بہایا، اپناپیٹ کاٹ کراولادکوپروان چڑھایامگراولاد نے اس کاگلاکاٹ کرکمزورونحیف جسم سے رہاسہاخون بھی نچوڑڈالا۔وہ ماں بھلائے نہیں بھولتی جوخاوندجیسے سہارے سے محروم ہوکراولادکے لئے سہارابنی مگراسی اولادنے بڑھاپے میں اسے بے سہاراکردیا۔کتنے غم ہیں کہ میرادامن بھراپڑاہے مگرقلم میں اتنی سکت نہیں کہ ان غموں کوبانٹتاپھرے ۔
میرے دل ودماغ کی تختی پراپنی ماں کی واضح تصویرنظرآئی جوآج بھی آہ سحرگاہی میں مجھ جیسے نکمے کے لئے رب سے دعائیں اورالتجائیں کرتی ہوئی میری زندگی ، صحت وتندرستی اورقدم قدم پرکامیابی کی امیدیں لگائے بیٹھی ہے ۔مجھے اپنی وہ چہیتی بہن یادآئی جوکب کی اپنے گھرکی ہوچکی مگراس کی محبتیں ہرآن میرے ساتھ ہونے کالطیف احساس دلاتی ہیں ۔مجھے وہ دوربھی یادآیاجب کائنات کے عظیم پیغمبرﷺ پراوجڑی پھینکی گئی اورعظیم بیٹی نے اپناسارازورصرف کرکے اس اوجڑی کوہٹایا اوراپنے شفیق والدپرپانی گراتی اورآنسوبہاتی جارہی ہے،والداسے تسلیاں دیتے ہوئے فرمارہے ہیں :تیرارب تیرے والدکواکیلانہ چھوڑے گا۔والدبھی ان کی محبت میں امت کویہ حکم سنادیتے ہیں کہ :جس نے میری لخت جگرفاطمۃالزہراؓکودکھ دیاگویاکہ اس نے مجھے دکھ دیا۔
یہ مائیں ،یہ بہنیں اوریہ بیٹیاں بھی بڑی عجیب ہوتی ہیں ، سب دکھ درد سہتی ہیں مگرمجال ہے کہ محبتوں میں کمی آنے دیں ،راتوں کوجاگتی ہیں ، اپنوں کی فکر میں بھوکی رہتی ہیں ، دن دیکھتی ہیں نہ رات کوچین نصیب ہے ،جب تک اپناقریب ہے گویاکہ وہ خوش نصیب ہے ،بیٹے ،بھائی اورباپ کی صورت آنکھوں میں کاجل کی طرح لگائے اوربسائے رکھتی ہیں ۔
مجھے وہ یخ بستہ رات آج بھی اپنے نام کی طرح یادہے کہ جب ٹھٹھرتی ہوئی ایک لاچارماں ڈولتے قدموں کے ساتھ ایک معصوم صورت بچی کولئے سربازار تن تنہاکھڑی نظرآئی ۔پہلی نظرمیں یوں معلوم ہواجیسے گداگری اس کالبادہ ہومگردوسرے ہی لمحے وہ اس معصوم کاہاتھ تھامے ایک آٹومیں جابیٹھی اورراقم کوسوء ظن نے جیتے جی مارڈالا۔واللہ مجھے اس پرترس آیااس لئے کہ وہ نیم پاگل سی محسوس ہوتی تھی اوروہ تھی بھی مگروہ اپنی کم سن بچی لئے معلوم نہیں کدھرسے آئی تھی اورنجانے کس راہ چل دی۔آج زمانہ ہے کہ اس کاظلم اس رحمت کوبرداشت کرنے کاروادارنہیں ،مردکاظلم ہے کہ عورت پررکتانہیں ،تھمتانہیں ۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com