فرقہ واریت ، لسانیت ، برادری ازم کی زہر ناکیاں

Dr Ehsan Bari Haya Alfalaپورے عالم اسلام میں فرقوں لسانیت اور برادریوں کے ازموں کے زہر سرائیت کرچکے ہیں اور سپر پاور امریکہ تک بھی اس سے مُبرا نہیں رہا ۔وہاں بھی کالے گورے کی تفریق مذہبی تعصبات حتیٰ کہ امیر اور غریب طبقات کی بھی کشمکش ذوروں پر ہیں 9/11کے بعد امریکہ نے خوفزدہ ہوکر بھوکی بلی کی طرح ہر جگہ مسلمانوں پر جھپٹنا اپنا خصوصی وطیرہ بنالیا اس کے رد عمل کے طور پر انتہا پسندانہ تنظیمیں بننا قدرتی امر تھا ۔القاعدہ داعش وغیرہ منظر عام پر آئیں اور پوری دنیا دکھ ،رنج و الم میں ڈوبتی چلی گئی ۔بحر حال امریکہ کا سپر پاور بننے کا خواب بھی ادھورا رہ گیاچین کی طرح کئی مزید طاقتور ملک وجود پاچکے جس کی معیشت انتہائی مضبوط بنیادوں پر استوار ہو چکی ہے۔مودی تک جیسے لوگ متعصبانہ ہندو مسلم نفرتوں کو اجاگر کرکے جیت چکے ہیں اور اب جسے ہندوستان میں رہنا ہے اسے ہندو بن کر رہنا ہوگا جیسے نعرے لگ رہے ہیں حتیٰ کہ گائے جس پر قرآن مجید میں اڑھائی سپارے سورۃ البقرۃ کے نام سے موجود ہیں۔اسے ہندوپرستش کرتے اور آخری حدوں تک پوجنے لگے ہیں۔مسلمان کسی ان کے تھڑے پر چڑھ جائے یا کسی برتن کو ہاتھ لگا بیٹھے تو وہ اسے نچھٹ سمجھتے ہوئے گائے کے پیشاب سے دھو کر بقول ان کے 'پاک صاف'کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ انھوں نے نواز شریف کی مودی کے حلف اٹھانے کی تقریب کے بعد واپس آنے پر تمام برتن ضائع کرڈالے تھے۔مسلمانوں کا بھارت پر نو سو سالہ اقتدار ہندو مہاشوں کو نہیں بھولتاجو کہ ہمارے عیاش بادشاہوں کی ہی اپنی رنگ رنگیلیوں اور غلطیوں سے انگریز کے پاس اور اس سے9/10حصہ ہندو ؤں کے پاس جا چکا ہے اور مغربی پاکستان بھی ان کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔
تمام عالم اسلام کو مذہبی لسانی فرقہ وارانہ زہر میں ڈبو ڈالا گیا ہے حتیٰ کہ یورپی ممالک میں بھی اب مساجد مدارس مسالک کی بنیاد پر قائم ہورہی ہیں۔کٹھ ملائیت نے صرف اپنے مخصوص مفادات اور وافر سرمایوں کے حصول کے لیے اس خطرناک زہر کو تقریباً ہر مسلمان کی شریان میں داخل کیا ہے اور برادری ازم کے تعصبات بھی اب ابھر کرگھروندے نہیں بلکہ مظبوط قلعے بن گئے ہیں ۔گو گوہر ایوب نے اپنے والد کی جعلی الیکشن کے ذریعے نام نہاد صدر منتخب ہونے پر کراچی میں فاتحانہ جلوس کے بہانے حملہ کرکے سینکڑوں کو ہلاک کرکے اس کا بیج بوڈالا تھا ۔مگر اب یہ انسانی گوشت خورانی درخت بن چکا ہے اب ہر برادری کے کراچی میں مسلح ونگز اور جتھے موجود ہیں اور پنجاب کے بڑے شہروں میں تو الیکشن ہی برادریوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں لاہور میں کشمیری اور آرائیں برسر پیکار ہوتے ہیں تو کراچی میں پٹھان پنجابی مہاجر برتری حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں ایسے ہی مختلف زہریلے تعصبات نے سعودیہ ،ایران ترکی ،لیبیا مصر شام کویت عراق یمن فلسطین کو بھی بری طرح لپیٹ میں لے رکھا ہے اور امریکی سامراج اور یہودیوں کا مکمل مفاد اسی میں ہے کہ عالم اسلام کے اندر فرقوں کی آگ کی بھٹی سلگتی رہے جب چاہیں اس آگ کو بھڑکا کرشعلوں کا روپ دیکر جس علاقہ کو چاہابھسم کرواڈالاکراچی اور بلو چستان میں تو پاک فوج اور رینجرز کے ٹرکوں پر حملے ہورہے ہیں جو کہ کروڑوں مرتبہ لعنتی فرقہ پرست دہشت گردوں کے آخری ٹریلر اور موت سے قبل کی ہچکیاں ہیں عرصہ قبل سندھو دیش،گریٹر بلوچستان اورپختونستان کے نعرے بھی اسی لسانی علاقائی تفرقوں کا نتیجہ تھے اور بنگلہ بدھو مجیب نے بھی صرف اقتدار کے حصول کے لیے بنگالی قومیت کا نعرہ لگایا تھا مگر ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ نے تو آخری خطبہ میں فرمایا تھاکہ کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر کوئی ترجیح نہیں فوقیت اور فضیلت صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہے یہاں تو سیا ہ کالے بلال حبشی انتہائی معتبر اور محبوب تھے مگر آج لبرلزم اورامن کا داعی امریکہ بھی کالے گورے کی تفریقوں و نفرتوں کا شکار ہے اور الیکشن جیتنے کے لیے ٹرمپ اقلیتی تعداد کے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کرکے زیادہ تعداد میں موجود عیسائیوں کے ووٹ لینا چاہتا ہے ۔مسلمان چونکہ فرقوں ،قبیلوں علاقائی بتوں کے پیرو کار بن چکے ہیں اس لیے انھیں قبلہ اول بیت المقدس کو یہودی ناپاک پیروں سے روند ڈالنے اور وہاں کھلم کھلا غلیظ ترین فنکشنوں کے انعقاد پر نہ تو احتجاج اور نہ ہی مذمت کرڈالنے کاہوش ہے ۔حتیٰ کہ خانہ خدا پر حملہ بھی انھیں فرقوں کی جنگ و جدل کی وجہ سے متاثرنہ کرسکا۔بلوچستان میں ہزارہ قبیلہ چونکہ ایک خاص مسلک کا پیرو کار ہے اس لیے وہاں اس کا جینا دوبھر کرڈلا گیا ہے اس پر یہاں ہی نہیں بلکہ افغانستان کے اندر بھی خود کش حملے ہوتے رہتے ہیں ۔امریکہ کی طرف سے9/11پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم اس کے اتحادی ہیں اربوں ڈالر کا نقصان اٹھا چکے اور ہزاروں افراد شہید ہوچکے ہیں مگر ہمیں بھی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ اور بھارت کو علاقائی تھانیداربنانے کی کوششوں سے امریکہ کی اسلام دشمنی واضح نظر آتی ہے ۔کشمیریوں نے بھارتی تسلط و استبداد کو آج تک تسلیم نہیں کیاکرفیو توڑ کر روزانہ جلوس نکلتے اور نوجوان شہادتیں قبول کرر ہے ہیں۔ مگر عالمی ضمیر محض تماشائی بنا ہوا ہے۔اقوام متحدہ سلامتی کونسل وغیرہ تنظیموں پر بھی یہود و نصاریٰ قابض ہیں اور اونٹ کی مہار ان کے ہاتھوں میں ہے وہ اسے اپنی مرضی سے جدھر چاہیں ہانکتے چلے جاتے ہیں۔عیسائیوں کو توصلیبی جنگوں کی شکسستیں نہیں بھولتیں اس لیے ان کا ہر عمل مسلمان دشمنی پر ہی منتج ہوتا ہے۔غزہ کی پٹی میں یہودیوں کی طرف سے مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے۔یہودیوں عیسائیوں کی طرف سے بیچارے کلمہ گو مسلمانوں پر ظلم و تشدد ختم کرنے کے لیے مذہبی ہم آہنگی اشد ضروری ہے دین اسلام کی حقانیت کے ہزاروں ثبوت موجود ہیں مگرتمام مذاہب کے پیرو کاروں کے لیے یہ ثبوت کیا کم ہے کہ حجر اسود کو خدا تعالیٰ نے جس جگہ پھینکا وہیں خانہ خداقائم ہے وہ پوری دنیا کا وسط ہے اور اس کے احترام کی وجہ سے کوئی پرندہ تک اس کے اوپر سے نہیں گزرا اگر آج بھی دنیا بالخصوص ہم ایک خدا ایک قرآن ایک آخری نبی ﷺ اور ایک قبلہ کی بنیاد پر اسلام کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں جو کہ امن و آشتی کا مذہب ہے تو سبھی جنگ وجدل بند ہو کر مسلمانوں سمیت سبھی مذاہب کے پیرو کار سکون سے زندگیاں بسر کرسکیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com