وطن عزیز میں نوجوان نسل کی مہلک بیماریاں

وطن عزیز میں نوجوان نسل کی مہلک بیماریاں
اسلام دین فطرت ہے جو انسان کو راہِ راست کی طرف لاتا ہے برائی اچھائی کی پہچان دیتا ہے ہم بحیثیت امت مسلمہ دوسری امتوں کے لیے مشعل راہ ہیں ہمارا اخلاق کردار اعلیٰ ظریفی ہی ہمیں نمایاں کرتی ہے قرآن جیسی کتاب، اللہ رب، رحمت العالمین ہادی برحق جیسے عظیم نبی ﷺ کے امتی ، دوسری طرف گائے کی عبادت کو ئی راہبر نہیں پھر بھی وہ آگے ہم پیچھے انکے ا مسائل بھی کم ہمارے زیادہ آج دنیا ان کے نقشِ قدم پر چلنا کامیابی سمجھتی ہے اور سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جن کو ہم جانتے ہی نہیں وہ ہمیں پہچانتے ہی ہم نے انہیں اپنا آئیڈیل بنا لیا جس ہستی نے اللہ سے رو رو کے اس امت کی بخشش مانگی پورا خاندان قربان کر دیاجسم مبارک لہولہان کروایا ایک دن بیٹی نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ یہ لوگ آپ کو کیوں پتھر مارتے ہیں تو فرمایا میں انہیں جہنم سے نکلنا چاہتا ہوں اس لئے قرآن اللہ کا پیغام سنتا ہوں تب مارتے ہیں پھر دعا بھی کی کہ اے اللہ اہل محمدﷺ کی روزی تنگ کر دیں خود پیٹ پر پتھر باندھنے کہ یہ امت بخشی جائے پھر یہ امت ہے کہ اس کا آج حال بیان نہیں کیا جا سکتا عام دنوں کی بھی یہ نہیں کہ ہم بے شتر مہار گھوڑے ہیں ہم انسان ہیں اشرف المخلوقات کا شرف ملا اور پھر اللہ کے حبیب ﷺ کے امتی ہیں یوں تو بہت کچھ ہے لیکن آج دو باتوں کا ذکر کریں گے ایک جب رمضان المبارک آتا ہے تو ہمارا رویہ ایسا ہو جاتا ہے جیسے منوں کا بوجھ اٹھا رکھا ہے اللہ تعالیٰ کو انسان کی بھوک پیاس تو نہیں چاہیے تقوی ضروری ہے پھر ہماری وہی روٹین گالیاں غیبت حسد بغض کینہ جھوٹ فراڈ تکبر یہ سب بھی اور تقوی بھی حاصل ہو جائے یہ پھر ہم خود ہی سوچ سکتے ہیں دوسری اور اہم بات کہ آج ہر دوسرے بندے کے منہ میں گالی ہے گاڑی میں سفر ہو بازار میں ہوں یا فون کال پر گالی دئیے بغیر بات ہی نہیں کرتے اور وجہ یہ کہ دوست گپ شپ ہے جتنا گہرا دوست اتنی زیادہ گالی سے مخاطب، یہ مسلمان کا شیوہ ہے ؟ گالی نکالنا تو ایسا ہے جیسے انسان نے اپنے آپ کو اللہ کے ہاں گرا دیا ہو ، جو اللہ کے ہاں گر گیا وہ پھر اٹھا سکے گا؟ حضرت علی شیر خدا نے فرمایا ایک گالی کے بدلے تمہاری قبر میں ایک بچھو تیار ہو جاتا ہے ہمارا تو اٹھنا بیٹھنا گالی بن گیا ناراض نہ ہونا آج ہمارے دلوں میں خوفِ خدا رہا ہی نہیں ہمیں روشن خیالی میں کہیں دنیا میں ہی جہنم نہ دیکھ لیں کم از کم ہماری گفتگو تو ایسی ہونی چاہیے کہ کینہ بغض حسد غیبت اور گالیوں سے پاک ہوایسے تو لگے ہم کسی شان والے نبی کیاامتی ہیں انسان کتنا ہی عقلمند دانشور کیوں نہ ہو دولت کھوٹی کار سے انسان کچھ بھی اس کے مقابلہ میں نہیں حاصل کر سکتا جو اخلاق سے حاصل ہوتا ہے اللہ کے حبیب ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میرے قریب وہ ہو گا جو اخلاق میں اچھا ہو گابداخلاقی ہم نے جب سے اپنا شعار بنائی ذلت ہمارا مقدر بن چکی ہم نے شکل ہی بدل دی اور تو اور غیروں کے طریقے اتنے پسند آئے کہ سر کے بالوں سے لے کر پاوں تک ان کے ہو کر رہ گے مغدرت کے ساتھ گزارش ہے کہ آج ہمارے بالوں کا نمونہ ہی دیکھکر ڈر لگتا ہے کہیں بچھو بنا ہوا تو کہیں کیا اور اللہ معاف کریں داڑھی مبارک کا ڈیزائن بنا کر اس کی تذلیل کی جارہی تو کیسے اللہ کے ہاں جانا ہو گا ، ہونا تو سب دنوں چاہیے لیکن کم ازکم رمضان المبارک میں ہمیں اپنی روٹین تبدیل کرنی چاہیے اللہ کے حبیب ﷺنے جن سے منع کیا آج ہم نے ان ہی کی وردی پہن لی ان کا آخرت میں تو ناقابلِ تلافی نقصان ہے ہی لیکن اس دنیا میں بھی کتنا نقصان ہے ایک رپورٹ پیشِ خدمت ہے ڈیوک یونیورسٹی امریکہ کے ایک سائنس دان ڈاکٹر ریڈفورڈ بی ولیمز کے مطابق غصہ ، بغض اور کینہ رکھنے والے افراد جلد مر جاتے ہیں ۔ ان کی رپورٹ کے مطابق اس سے انسانی قلب کو وہی نقصان پہنچتا ہے جو تمباکو نوشی اور ہائی بلڈ پریشر سے پہنچتا ہے اور بغض و غصہ ہارٹ اٹیک کے اسباب میں سے ایک ہے۔ ان کے برعکس مزاج میں برداشت، شگفتگی ، صبر و شکر اور قناعت سے نوجوان زندگی کے کٹھن حالات کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اسی حوالہ سے شمالی کیرولینا کی ڈیوک یونیورسٹی کے ان 334ماہرین قلب جنہوں نے 25سال قبل میڈیکل کے طلباء کی حیثیت سے جو میڈیکل ٹیسٹ لیے تھے ان کا کہنا ہے کہ بغض و عناد رکھنے والے افراد سے تین فیصد کی موت واقع ہو چکی ہے ۔ یہ وہ لوگ تھے جن میں جذبہ اوروں کے مقابلے میں پچاس فیصد کم تھا جب کہ دیگر اسباب کے علاوہ ایسے شدید جذبات والوں کی موت کی شرح ۱۵ فیصد ریکارڈ ہوئی علاوہ ازیں ماہرین نفسیات کا متفقہ فیصلہ ہے کہ غصہ ، نفرت اور ذہنی کش مکش کا سب سے زیادہ اثر معدہ پر پڑتا ہے ۔ نوجوانوں کے اندر مختلف بیماریوں کے حوالے سے مسلسل تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کسی شخص کے بد زبانی کرنے کی بڑی وجہ یہ بنتی ہے کہ وہ دوسروں سے نفرت کرتا ہے۔ جب خوش بیانی اور بد زبانی پر ریسرچ ہوئی تو ثابت ہوا کہ انسان کے الفاظ میں زبردست تاثیر ہوتی ہے جس کے باعث انسان کے دل و دماغ پر گہرا اثر پڑتا ہے ۔ بد زبانی ایسے ہی ہے جیسے تہذیب و اخلاق کے شیشوں پر سنگ باری کی جارہی ہو۔ ڈاکٹرز کے بورڈ نے اس بات کا انکشاف بھی کیا ہے کہ جب کسی انسان کو نفرت کی زبان سے مخاطب کیا جائے تو فوراً ایک ایسا ہارمون بنتا ہے جس میں ہسٹا مین کی زیادتی ہوتی ہے جس سے دل اور گردے کے امراض میں اضافہ ہوتا ہے۔ حالیہ سالوں میں پاکستان میں اس وقت ہارٹ اٹیک اور گرے کی بیماریوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جس سے کئی لوگ لقمہ اجل بھی بن چکے ۔ان بیماریوں کی جہاں اور بہت سی وجوہات ہیں وہیں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں بدزبانی، کینہ اور بغض اب عام ہو گیا ہے۔ نوجوانوں نے بدزبانی کو اپنا تکیہ کلام بنا لیا ہے اور ذہنی و جسمانی امراض میں مبتلا ہورہے ہیں۔ اگر وہ صبر و شکر اور خوش اخلاقی کو اپنا شعار بنا لیں تو جہاں ان کی صحت اچھی ہوگی وہیں معاشرے پر بھی بہت اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔اسی حوالہ سے ڈاکٹر غلام جیلانی برق لکھتے ہیں ’’ہر لفظ توانائی کا ایک خزانہ ہے اندھیری رات میں کسی مظلوم کی پکار ہزاروں دلوں کو ہلا دیتی ہے ایک بیمار کی کرہ روح کو چیر کر نکل جاتی ہے کسی آتش بیاں کی تقریر اورنگ جہانبانی کو الٹ سکتی ہے،ہمارے الفاظ ہماری پہچان ہمیں غور کرنا ہو گا کیونکہ ہم بڑی شان والے نبی ﷺ کے امتی ہیں لیکن افسوس کے اجڑ گئے وہ باغ جن میں اخلاق کے پھل پھول ہو ا کرتے تھے اپنی ہی نہیں بلکہ غیر بھی مستفید ہوتے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com