ملٹی ٹاسکنگ

ملٹی ٹاسکنگ
تحریر۔۔۔شاہد شکیل جرمنی
سن انیس سو پچاسی میں دوران انٹرویو چیف نے سوال کیا کہ کیا آپ ٹویوٹا ہائی ایس وین بھی ڈرائیو کر سکتے ہیں میں نے فوری جواب دیا جی کر سکتا ہوں تو اس نے اوکے کہہ کر انٹرویو ختم کر دیا ،چیف کے کمرے سے باہر آنے کے بعد سوچا کہ اگر سچ کہتا کہ نہیں ڈرائیو کر سکتا تو جوب سے ہاتھ دھونا پڑتے ،مسئلہ یہ تھا کہ میں نے کئی گاڑیاں ڈرائیو کی تھیں لیکن کبھی وین نہیں ظاہر بات تھی کہ کچھ لمحوں کیلئے پسینہ آگیا سوچا جب وقت آئے گا تو سو در کھل جائیں گے۔دوسرے دن سپروائزر نے صبح آٹھ بجے کہا کہ فرم کی پوسٹ لے آئیں میں نے جواب دیا کہاں سے کیونکہ راستوں کا علم نہیں وہ مجھے ڈانواں ڈول اور کشمکش میں مبتلا دیکھ کر سمجھ گیا کہ کوئی شے آڑے آ رہی ہے کہنے لگا مسٹر مُلر آج آپ کے ساتھ جائیں گے اور کل سے تمام کام آپ اکیلے کریں گے ،ملر نے مجھے کہا آپ ڈرائیو کریں تو میں نے جواب دیا ابھی آپ کریں واپسی پر میں سیٹ سنبھال لونگا اور یوں تمام راستے ملر کی ڈرائیونگ دیکھ کر سمجھ گیا کہ یہ ڈبہ کیسے چلتا ہے بات یہ تھی کہ وین کے گئیر سٹیرنگ وہیل کے ساتھ تھے اور ایسے ماڈل کی کبھی کوئی گاڑی ڈرائیو نہیں کی واپسی پر تھوڑی جھجک ہوئی لیکن ملر کو محسوس نہیں ہونے دیا اور بخیریت فرم پہنچ گئے ۔ مُلر میرا ہم عمر تھا لیکن اسکی ایک بہت بری عادت سے تمام فرم والے نالاں تھے وہ دوران پیکنگ،ووچر بناتے ہوئے ،کافی پیتے ہوئے ، لیبل لگاتے ہوئے ٹائپ رائٹر پر ایڈریس ٹائپ کرتے ہوئے حتیٰ کہ کئی بار کھانا کھاتے ہوئے بھی سموکنگ کرتا تھا تمام دن اسکے ہونٹوں میں سگریٹ دبی رہتی،علاوہ ازیں وہ کولون میں پیدا ہوا تھا اور یجنل جرمن کم اور کولون کی زبان جسے کولش کہتے ہیں روانی سے بولتا تھا ،جیسے صوبہ بائرن کی زبان ہر جرمن کو سمجھ نہیں آتی بالفاظ دیگر اگر کسی پٹھان بھائی کو پنجابی بولنی پڑے تو سب جانتے ہیں وہ کیسے الفاظ ادا کرے گااور ہم سب جو عام جرمن زبان بولتے اور سمجھتے تھے ملر کی جرمن سن کر ہنسی روکتے تھے۔چھ ماہ بعد مجھے ترقی دے کر اسسٹنٹ سپروائزر بنا دیا گیا اور ساتھ میں جرمنی کے دیگر صوبوں میں الیکٹرونک سامان ڈیلیور کرنے کو کہا ،دو ہفتوں بعد سپروائزر نے اپنے کیبن میں بلایا اور کہا کیا آپ جانتے ہیں ملر نے آپ کی پوسٹ حاصل کرنے کیلئے چیف صاحبان کی کتنی منت سماجت کی ،میں نے کہا مسٹر سپرینگل میں فرم میں ہوتا ہی کب ہوں آپ تفصیل سے بتائیں تو کہنے لگا ملر نے چیف کو کہا کہ میں جرمن ہوں شکیل غیر ملکی ہے مجھے تمام ٹورز دئے جائیں اور اسے تو ٹھیک سے جرمن بھی نہیں آتی تو چیف لوگوں کو سب سے برا یہ محسوس ہوا کہ ملر نے غرور میں آکر اپنے آپ کو جرمن اور آپ کو غیر ملکی کہا ان دونوں کا جواب تھا مسٹر ملر شکیل کو پرفیکٹ جرمن نہیں آتی لیکن جتنی اور جیسی بھی آتی ہے وہ جرمن بولتے ہیں کولش نہیں کیونکہ کولش صرف کولون میں ہی بولی جاتی ہے جرمنی میں نہیں ،دوران جوب وہ سموکنگ نہیں کرتے ،ہم نے اپنی مرضی سے انہیں سلیکٹ کیا اور جوب دی وگر نہ اڑتالیس درخواستوں میں پینتالیس جرمن لوگوں کی درخواستیں تھیں شکیل ٹائم کے پابند ہیں روٹین اور ذمہ داری سے اپنا جوب کرتے ہیں اور انہیں بیک وقت کئی کام کرنے میں بھی مہارت حاصل ہے ہم معذرت خواہ ہیں آپ اپنے ڈیپارٹمنٹ میں ہی رہیں گے اور اسی بیک وقت تمام کام کرنے کو ملٹی ٹاسکنگ کہا جاتا ہے اس وقت شاید کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ ملٹی ٹاسکنگ کیا ہوتا ہے،یعنی ایک ہی وقت میں کئی پیچیدہ کاموں کو سر انجام دینے کو ملٹی ٹاسکنگ کہتے ہیں اور یہ کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔موجودہ دور اور طرز زندگی میں وہ گھریلو ہو جوب یا کاروبار
تقریباً ہر فرد یک مشت یعنی پلک جھپکتے ہی سب کچھ سر انجام دینا چاہتا ہے دوسری طرف فیکٹریز مالکان ،مینیجر اور سپر وائزر وغیرہ کسی کو کان کھجانے کی مہلت نہیں دیتے اور یہی چاہتے ہیں کہ نودس گھنٹے لگے رہو منا بھائی۔اصل میں یہ لفظ کمپیوٹر آپریٹنگ سسٹم کیلئے ایجاد ہوا تھا جو پی سی کے کئی نام نہاد کاموں کی اصطلاح کیلئے استعمال کیا جاتا ہے مثلاً سائنسی ریسرچ یا جانچ پڑتال کیلئے یا مختلف اوقات میں پی سی کو بیک وقت مختلف مراحل میں ڈھال کر اس سے کئی نتائج حاصل کرنا وغیرہ بعد ازاں اسے انسانوں کی روزمرہ مشینی زندگی کو دیکھتے ہوئے وہاں منتقل کر دیا گیا ۔ماہرین کا کہنا ہے ہر انسان بیک وقت کئی مختلف کام سر انجام نہیں دے سکتا خاص طور پر زندگی اس وقت داؤ پر لگتی ہے جب ڈرائیونگ کرتے ہوئے موبائل فون کا استعمال کیا جائے کیونکہ انسانی دماغ کسی ایک جگہ ٹک کر نہیں رہ سکتا اور بالفرض دوران ڈرائیونگ کوئی بری خبر فون پر سن لی جائے تو ایکسیڈنٹ کے سو فیصد چانس ہوتے ہیں یا کچن میں خاتون فون کی گھنٹی سننے کے بعد گیس آف کرنا بھول جائے تو دھماکے کی آواز کافی دور تک جاتی ہے۔انسانی دماغ بیک وقت مسلسل مختلف مقامات کی سیر و تفریح کرتا ہے یعنی اسکی سوئیچنگ کسی ایک مقام پر نہیں رکتی یعنی گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے اور یہی وہ غلطی ہوتی ہے کیونکہ جب تک دماغ ، توجہ اور مطالبات متوازی نہیں ہونگے یعنی ایک کام کو مکمل کئے بغیر دیگر کاموں میں مداخلت کی جائے گی تو دماغ مفلوج ہوگا اور نتائج منفی ہونگے۔نیورو سائنسٹسٹ کا کہنا ہے ملٹی ٹاسکنگ کو سامنے رکھتے ہوئے ایک انسان عام طور پر بیک وقت دو سے زائد کام سر انجام نہیں دے سکتا کیونکہ یہ ناممکن ہے ایک طرف آپ ہیڈ سیٹ لگا کر جھوم برابر جھوم برابر سن رہے ہوں اور دوسری طرف پیڈ پر صبح کے ٹیسٹ کی تیاری کر رہے ہوں ایک طرف آپ فون پراپنی بیوی سے بات کر رہے ہوں اور دوسری طرف کسی کو لو لیٹر میل کرنا چاہتے ہوں تو ظاہر بات ہے دونوں طرف سے نقصان اٹھانا پڑے گا یا کچن میں کئی غلطیاں سرزد ہو سکتی ہیں۔سٹینفورڈ یونیورسٹی کے ایک مطالعے میں بتایا گیا کہ دفاتر میں کئی ملازمین کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے انہیں ایک چلتی پھرتی مشین بنا دیا گیا ہے ،چیف صاحب میٹنگ پر بلاتے ہیں، اسی لمحے ضروری میل آجاتی ہے آپ نے لنچ بریک بھی کرنا ہے اور اسی وقت کوئی بن بلائے مہمان بھی آجاتا ہے تو ظاہر بات ہے انسان اپنے حواس کھو دیتا ہے اب کیا کروں۔ماہرین کا کہنا ہے ایسے حالات میں صبر تحمل سے کام لیں ہر ضروری اور غیر ضروری کام کو نمبر دیں تاکہ ملٹی ٹاسکنگ کی نوبت ہی نہ آئے مثلاً چیف پہلے نمبر پر ،مہمان دس پندرہ منٹ انتظار بھی کر سکتا ہے، میلز کا جواب ایک یا دو گھنٹے بعد دیا جائے ،یعنی انسان کوئی بھی کام کرے بوجھ سمجھ کر نہیں بلکہ سمجھ بوجھ اور ترتیب دینے کے بعد پایہ تکمیل پہنچائے تو کبھی مشکلات پیش نہیں آئیں گی اور کوئی بھی ملٹی ٹاسکنگ کا شکار نہیں ہوگا۔
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com