جبری شادی کا بھیانک انجام

جبری شادی کا بھیانک انجام ( پہلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صابر مغل ) 
جنوبی پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور کے علاقے دولت پور اور موضع والوٹ کی بستی لاشاری میں 23اکتوبر کو آسیہ نامی20سالہ لڑکی جس کی شادی تین ماہ قبل ہی اکرم لاشاری کے بیٹے اور اپنے کزن محمد امجد سے ہوئی تھی اسے اس کے مبینہ آشنا شاہد جس سے وہ لو میرج کرنا چاہتی تھی نے اسے ایک پڑیا دی ،کوئی نہیں جانتا تھا کہ کاغذ کی یہ چھوٹی سی پڑیا اس خاندان پر کیسے قہر بن کر ٹوٹ پڑے گی،آسیہ بی بی نے اس پڑیا میں بند چوہے مار زہر اپنے خاوند کو دئیے جانے والے دودھ میں ملا دیا،تقدیر کا فیصلہ کچھ اور ہی تھا محمد امجد نے وہ دودھ نہ پیا ،امجد کے دودھ نہ پینے پر آسیہ دل ہی دل میں کڑھتی رہی مگر دوسری جانب اس کی ساس نے وہی دودھ لسی بنانے کے لئے رکھے گئے دودھ میں ڈال دیا،صبع معمولی ناشتے کے بعد دوپہر کو موت نے اکرم لاشاری کے گھر اپنا شکنجہ مزید کس لیا تو اکرم اور اس کے پانچ بیٹوں کے خاندان نے اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھایا اور ساتھ لسی پی لی،یہ صورتحال ان کے پڑوس میں بھی تھی ،قاتل آسیہ نے کھانے کے بعد لسی کا ایک گھونٹ بھی نہ لیا ،چند گھنٹے بعد ہی سب گھر والوں اور دو پڑوسیوں کی حالت میں تبدیلی نے انگڑائی لی ،غنودگی ،متلی اور دل گھبرانے کی صورتحال پیدا ہونے پر سب نڈھال ہوتے چلے گئے جنہیں مقامی ہسپتال پہنچایا گیا مگر دوسرے روز انہیں راجن پور سے ضلعی سول ہسپتال منتقل کر دیاکیونکہ علی پور سے مظفر گڑھ 86کلومیٹر جبکہ راجن پور65کلومیٹر کی دوری پر تھا،طبیعت مزید بگڑنے پراکرم لاشاری کا خاندان اور دوپڑوسیوں سمیت 27افراد راجن پور سے پہلے ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ غازی خان جنہیں وہاں کے ڈاکٹرز نے نشتر ہسپتال ملتان ریفرکر دیا، موت و حیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد پہلے ایک ،پھر دوسرا ،تیسرا اورچوتھا یوں موت کا دروزہ کھل گیا دو دن میں ہی آسیہ کے خاوند امجد ولد اکرم سمیت آٹھ افراد حفیظاں بی بی ،رابعہ زوجہ مجید،محمد رشید،شہباز،نذیر احمد،سیف اللہ اور امجدعلی کو موت نے نگل لیا، ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد کی لسی پینے سے ہونے والی ہلاکتوں کی خبر ملک بھر میں پھیل گئی ،پولیس نے تفتیش کے لئے اس خاندان کے دیگر افراد سے رابطہ کیا توانہوں نے کسی نوعیت کی کاروائی کرانے سے یکسر انکار کر دیا دوسری جانب ہلاکتوں کا سلسلہ نہ تھما وہ بڑھنے لگیں تو ضلعی اور ڈویژنل انتظامیہ نے اپنے طور پر تفتیش کا آغاز کر دیا،اس وقت تک متاثرہ27افراد جن میں خواتین مرداور8 بچے بھی شامل ہیں میں سے 16افراد اگلے جہان جا چکے ہیں دیگر ہلاک ہونے والوں میں سمیرا مائی،شہزاد،رافعہ بی بی ،مومل مائی ،تسلیم مائی ،چار سالہ نسرین،8 سالہ کلثوم اور دس سالہ بچی سسی بھی شامل ہے،مرنے اور موت وحیات کی کشمکش میں آسیہ بی بی کے سسر ،ساس ،دیور اور ان کی بیویاں بچے اور دوپڑوسی بھی شامل ہیں ،آر پی او ڈیرہ غازی خان سہیل تاجک اور ڈی پی او مظفر گڑھ اویس احمد نے اس واقعہ سے متعلق میڈیا کو بتایاکہ ہم نے اس واقعہ کی تفتیش سائنسی بنیادوں پر کی تو معمہ حل ہوا کہ اس قیامت کی ذمہ دا ر تو اسی گھر کی بہو ہے جواپنے کزن اور اکرم لاشاری کے بیٹے امجد علی کی بجائے شاہد نامی نوجوان سے پسند کی شادی کرنا چاہتی تھی مگر گھر والوں نے اسے یہاں بیاہ دیا،شادی کے 45روز بعد اس نے آشنا شاہداور اس کی ممانی کے ساتھ ہم مشورہ ہو کر خاوند کو ہلاک کرنیکی منصوبہ بندی کا آغاز کر دیا،وہ ہر وقت اپنے خاوند اور دیگر سسرال سے تلخ کلامی کرتی رہتی ،اس المناک واقعہ سے چند روز پہلے وہ میکے چلی گئی تو اسے زبردستی واپس سسرال بھیج دیاگیا،واپس آئی تو ایک نئی منصوبہ بندی نے جنم لیاپلاننگ کے مطابق شاہد نے اسے زہر لا کر دیا جسے اس نے خاوند کے دودھ میں ملا دیا مگر قسمت کہ اس رات اس نے دودھ نہ پیا تو اس کی والدہ نے وہی دودھ لسی بنانے کے لئے رکھے دودھ میں شامل کر دیااور زہر ایک گلاس کی بجائے بہت بڑی چاٹی میں منتقل ہو گیا،پولیس نے ملزمہ اور آشنااس کی ممانی کو گرفتار کر کے تھانہ کندان میں دہشت گردی سمیت متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا،پولیس نے پڑیا کا وہ کاغذ بھی برآمد کر لیا ہے جس میں زہر لایا گیا تھا،ملزمہ آسیہ بی بی نے ابتدائی میں بیان میں کہا ہے کہ وہ بے گناہ ہے اسے تو اس کے آشنا نے صرف چائے کی سفید پتی لا کر دی تھی جواس نے دودھ میں ملا دی کیا عجب بات ہے کہ چائے کی پتی وہ بھی سفید اور اسے دودھ میں ایسے ہی ڈال دیا گیا؟علی پور جو ضلع مظفرگڑھ کی سرحدی تحصیل ہے جس کے دونوں جانب دریا ہیں ایک طرف دریائے سندھ اور دوسری جانب دریائے چناب،اوچ شریف سے ایک سڑک علی پور آتی ہے جبکہ مظفر گڑھ سے آنے والے روڈ کو علی پور روڈ کہا جاتا ہے اس ایریا کو ضلع کا ٹرائی اینگل علاقہ بھی کہا جاتا ہے یہاں زیادہ تر بلوچ قبائل بڈانی،نائچ،گوپال،گبول،گوپانگ،رند ،لشاریوں کے علاوہ راجپوت،بخاری،نقوی،ہاشمی،چانڈیو،جام وغیرہ رہتے ہیں یہاں رہنے والوں کی زیادہ تعداد غرباء اور کم تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل ہے مجموعی طور پر دریاؤں کے سنگم میں موجود یہ علاقہ اکثر بڑے سیلابوں کی زد میں آنے کے علاوہ تعلیمی لحاظ سے بھی پسماندہ ہے،جرائم پیشہ عناصر کی بہتات ہے،پاکستان میں ہونے والا یہ ایک ایسا المیہ ہے جس نے ایک بہت بڑے خاندان کو مٹا کر رکھ دیا،یہ واقعہ دور جاہلیت کی بدترین مثال پیش کر رہا ہے جس میں عورتوں کے حقوق سے انحراف کی عکاسی ہوتی ہے،یہ تعلیمی پسماندگی،جہالت ،شعور اور ادراک سے آ گاہی کی کمی کا شاخسانہ ہے،جہاں یہ سب ذمہ داری جہاں ہمارے معاشرے پر عائد ہوتی ہے وہیں ریاست بھی اس دلخراش سانحہ کی ذمہ دار سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی ریاست جب تک اپنے شہریوں کوتعلیم جیسی بنیادی سہولیات سے محرو م رکھے گی تب تک مرضی کے بغیر شادیاں ہوتی رہیں گی،ازدواجی زندگی مصیبت بنتی رہے گی اور ایسی جاہل اور سفاک بیویاں اپنے گھٹیا ترین ،جاہل اور ظالم آشناؤں کی مرضی مطابق ا پنے مجازی خد اؤں سمیت اس کے پورے خاندان کو موت کے گھاٹ اتارتی رہیں گی،انسانیت کی اقدار سے نابلدایسے کرداروالدین کی عزت کی پرواہ کئے بغیر ایسے اقدام کرتے رہیں گے پاکستانی معاشرے کو بنیادی سہولیات،ضرویات سے محروم رکھ کر پسماندہ رکھے جانے کے اصل ذمہ دار اس اسلامی جمہوری ریاست کے حکمران ہیں ہمارے معاشرہ زہر آلود ہو چکا ہے، آسیہ کی سوچ کیسی ہو گی جس نے کچھ نہ سوچا کہ وہ کرنے کیا جا رہی ہے؟ ،اس کے درندے آشنا کو بھی کچھ رحم نہ آیا؟ اس کی ممانی کو بھی اس بھیانک کام میں شامل ہونے پر آخرت بھول گئی؟ایسے سانحات سے قومیں سیکھتی ہیں قوم کی محرومیاں دور کی جائیں تا کہ ان میں جہالت،سفاکیت،درندگی کا عنصر جنم نہ لے سکے اورخاندان کے بڑے بھی مناسب فیصلے کریں۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com