انقلابی سوچوں کا عوامی شاعر۔۔۔وحید رضا عاجز 

انقلابی سوچوں کا عوامی شاعر۔۔۔وحید رضا عاجز 
تحریر: ملک محمد شہباز
شاعری دلی کیفیات و جذبات کے اظہار کا بہترین ذریعہ ہے۔ایک اچھے شاعرمیںیہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ جو کچھ دیکھے ، محسوس کرے اسے دلکش انداز و بیاں میں اپنے قارئین و سامعین تک پہنچائے اور اپنا نقطہ نظر بیان کرے مگردورِ حاضر کے اکثر و بیشتر شعراء نے شاعری کو صرف واہ واہ ، بلے بلے اور داد و تحسین کے حصول کا ذریعہ بنا لیا ہے اوروہ دن رات اسی واہ واہ اور داد و تحسین کے نذرانے وصول کرنے میں مصروف عمل دکھائی دیتے ہیں ۔ایسے شعراء کی شاعری دلوں پر ہر گز چوٹ نہیں کرتی کیونکہ ان کی شاعری سے مقصدیت کا عنصر غائب ہو چکا ہے ۔برصغیر پاک و ہند کے نامور مفکرین نے شاعری جیسی دلنشین صنف کو اپنا ذریعہ اظہار بنایا ہے۔ علامہ محمد اقبال ؒ جن کو مفکر پاکستان کے لقب سے نوازا گیا انہوں نے بھی امت مسلمہ کو بیدار کرنے اور غلامی سے نجات دلانے کے لیے شاعری کو اپنا ہتھیار بنایا۔اسی طرح میرو غالب، حالی و اکبر ، و دیگر نے حالات و واقعات کو بذریعہ شاعری ہی قلمند کیا ہے ۔شاعری ایک ایسی دلکش و پر مغز صنف ہے کہ پڑھنے اور سننے والا اس کے سحر میں مبتلا ہو جاتا ہے اور شعر کہنے والے کی ہر بات سیدھی دل پر اثر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدارکرنے اور ایک الگ تھلگ وطن "پاکستان"کے حصول کی تڑپ پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے۔
کسوال ، ضلع ساہیوال کے عظیم سپوت وحید رضا عاجز پنجابی شاعری کا بہت بڑا حوالہ ہیں۔ ان کی شاعری بھی مقصدیت سے بھر پور اور حالات و واقعات کی عکاس ہے ۔گزشتہ دنوں ان کی نئی آنے والی کتاب " سوچ دا سورج" نامور قلم کار اختر سردار چوہدری کی وساطت سے بذریعہ ڈاک موصول ہوئی۔2002 میں شائع ہونے والی ان کی پہلی کتاب " سدھراں دا جگنو " زبردست پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی اوراسے عوامی حلقوں کی جانب سے خوب سراہا گیا تھا۔ اسی طرح ان کی حالیہ آنے والی کتاب"سوچ دا سورج" بھی عوام کے دلوں پر راج کرنے والی معلوم ہوتی ہے۔وحید رضا عاجز نے ملکی و قومی حالات و واقعات کو اپنی شاعری کا عنوان بنایا ہے اور انہوں نے علاقائی مسائل اور رنج و الم کو اپنی شاعری کی مالا میں موتیوں کی طرح پرویا ہے ۔ امید و انقلاب پر مبنی مقصدیت سے بھر پور شاعری ہی وحید رضا عاجز کی پہچان ہے۔وحید رضا عاجز کی شاعری اور ملکی و قومی مسائل، حالات و واقعات کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔آپ نے زلزلہ 8 اکتوبر 2005 ، سانحہ کوئٹہ ، سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور جیسے سانحات کو اپنی کتاب " سوچ دا سورج " میں خصوصی طور پر قلمبند کیا ہے۔وحید رضا عاجز نے جہاں ایک طرف بابل کے گھر سے بیٹی کی رخصتی کے وقت جدائی کے غموں سے بھرپور کیفیات کی عکاسی کی ہے وہاں دوسری طرف جہیز جیسی لعنت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے۔انہوں نے جہاں ایک طرف غربت و افلاس کے مارے ہوئے لوگوں کے دکھ درد کو بیان کیا ہے وہاں دوسری طرف وہ آرمی پبلک سکول پشاور کے ننھے شہدا کو خراج تحسین کرنا بھی اپنا فرض سمجھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔وحید رضا عاجز بہت ہی حساس اورگردوپیش میں رونما ہونے والے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھنے والے شاعر ہیں۔انہوں نے جہیز میں معمولی چیز کی کمی کو وجہ بنا کر باراتیں واپس مڑتی دیکھی ہیں۔اس ضمن میں لکھتے ہیں کہ
ہک ٹی وی نیؤں دَاج وچ رکھیا
تے بوہے آئی جنج مْڑ گئی
آرمی پبلک سکول پشاور کے ننھے پھولوں کو شہید کیا گیا تو وحید رضا عاجز تڑپ کر رہ گئے۔ انہوں نے ننھے شہداء کی عظیم ماؤں کے دکھ درد کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا ہے۔ سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کے حوالے سے انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کچھ یوں کیا ہے۔
رَت لگی ہوئی ویکھ کے بستیاں نوں ہر ماں دُکھیاری رو پئی
اٹھے جدن جنازے پھلاں دے، ُ مڑ سیج پیاری رو پئی
چو دھاروں خُونی منظر ہا ، تک خلقت ساری رو پئی
دُکھ لکھدیاں لکھدیاں ہن عاجز میرے، سوچ وچاری رو پئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر روز دھماکے ، روز قتل ، حالات وگڑدے ویندن
دلوں بے شک ہاں مضبوط بڑے پر پیر اکھڑے ویندن
ہن سوچاں پوہ دیاں دھپاں وچ جذبات سکڑدے ویندن
اساں زر نوں عاجز کی کرنا ، گھر جدن اجڑدے ویندن
"سوچ دا سورج " میں حمد ، ہدیہ عقیدت بحضور ﷺ ، شان حضرت علیؓ ، سلام حضرت امام حسینؓ کے ساتھ ساتھ 10 نظمیں ، 17 غزلیں ، 47 دوہڑے ،10 واقعاتی دوہڑے اور 27 بولیاں شامل ہیں۔بہترین کاغذ ، مضبوط جلد بندی ، دیدہ زیب کتابت و پرنٹنگ سے تیار شدہ اس شاہکار "سوچ دا سورج" کے ابتدائی صفحات میں ڈاکٹر سجاد نعیم ، ارشاد جالندھری ، پروفیسر خاور نوازش ،مرتضی ساجد اور صفی ہمدانی کی جانب سے"سوچ دا سورج"کوشاندار خراج عقیدت پیش کیا گیاہے اور بعد ازاں"سوچ دا سورج" کے خالق، انقلابی سوچوں کے عوامی شاعر وحید رضا عاجز کی جانب سے تعارفی کلمات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ وحید رضا عاجز کی کتاب "سوچ دا سورج" پڑھی جائے یا "سدھراں دا جگنو" دونوں کتابیں اپنی مثال آپ ہیں اور ان میں موجود نظم، غزل ، بولی یا دوہڑا جس صنف کا بھی مطالعہ کیا جائے ان کا لفظ لفظ حقیقت ، ہر مصرعہ جاندار ، ہر شعر باکمال و لاجواب نظر آتا ہے۔وحید رضا عاجز منجھے ہوئے تجربہ کار شاعر معلوم ہوتے ہیں اور ان کی شاعری پڑھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے انہوں نے ہر شعر میں پڑھنے والے کی آپ بیتی بیان کی ہو۔وحید رضا عاجز کی لاجواب و باکمال شاعری پڑھنے کے بعد میں ان کو اپنے پسندیدہ شعراء کی لسٹ میں شامل کر چکا ہوں جس میں دورِ حاضر کے نامور شعراء انور مسعود ، محمد ذاکر ،محمد علی صابری،بابا نجمی ، نصیر بلوچ، عبدالروف شاہ ، راؤ ندیم احسان، الطاف ضامن چیمہ ، مرزا خرم بیگ ، ولی محمد عظمی ، الطاف احمدساحل، صدیق فانی ، صادق فدا ،محمدجمیل گٹھوالہ،وسیم ساغر ، عابد عمر ، میاں جمیل، سردار علی سردار کی صورت میں موجود ہیں۔ کتاب کے حصول کے لیے دیے گئے نمبر پر وحید رضا عاجزسے رابطہ کیا جا سکتا ہے03347489531۔وحید رضا عاجزکی دلنشین و بہترین شاعری میں سے نمونے کے طور پر کلام کا کچھ حصہ پیشِ خدمت ہے جسے پڑھ کر آپ کا دل یقیناًمزید کلام پڑھنے کی طلب کرے گا۔
اک ویلے دی روٹی نوں وی ترسن پئے غریب
آپے بھکھے بھانے تسے مرسن پئے غریب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رکھدا نہ میں گِروی پُتر ہوٹل تے
کھاون جوگے جیکر دانے ہوجاندے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نکی عید وی اُڈیکاں وچ لنگ گئی
نہ گُڈی لے کے آئیوں بابلا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں سَدھراں دا جگنو بن کے
کھیڈاں رات ہنیری نال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روز دیہاڑے ہون دھماکے وچ مسیتاں یارو
ساڈے لئی اے مقتل گاہ وی بَن نرالی گئی اے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایس بے وارث لاش نوں آخر کوئی تے آن پچھانے گا
پنڈاں دے وچ اک واری اعلان تے کر کے ویکھ لئیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈانگاں وجیاں دے پھٹ گُھل جاندے
گلاں دے نئیں پھٹ گُھلدے 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بول پیار دے کوئی بول کے نئیں راضی
محبتاں دا کال پئے گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوکھے بھانویں سوکھے عاجز
لنگھ تے جانے چار دیہاڑے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لفظاں دے سنیارے ایتھے بھکھے مردے ویکھے نیں
سونا پرکھن والیاں دی پہچان تے کر کے ویکھ لئی اے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com