ڈاکٹر وقار خان کی کتاب انایا

ڈاکٹر وقار خان کی کتاب انایا کا مطالعہ کرتے ہوئے جانے کیوں مجھے البرٹ آئن سٹائن یاد آتے رہے فرماتے ہیں سائنسی تفکر و تدبر میں ہمیشہ شاعری کے عناصر موجود ہوتے ہیں اور یہ کہ سائنس اور موسیقی میں ایک قدر، مشترک ہے اور وہ ہے ارتکاز 
انایا بھی یقیناًکسی ایسے ہی گہرے تفکر و تدبر کا نتیجہ ہے شاعری یقیناًایک پیچیدہ تخلیقی عمل ہے شعر کہنا ممکن ہے بعض احباب کو بہت سہل لگتا ہو مگر اچھا شعر کہنے کیلئے شاعری کے 
فکری (یعنی جذبہ، تعقل، مشاہدہ، تجربہ وغیرہ) 
اور 
فنی (یعنی تکنیک، ہیئت اور آہنگ وغیرہ) 
ہر دو پہلوؤں سے انصاف کرنا بہت ضروری ہے بصورتِ دیگراچھا شعر کہنا ناممکنات میں سے ہے مجھے اعتراف ھے کہ انایا کا مطالعہ فکری حوالوں سے بھر پور طریقے سے باعث اطمنان رہا کیونکہ ڈاکٹر وقار خان کی شاعری میں ایسے بہت سے مقامات ہیں جو نہ صرف اپکے دامنِ دل کو پکڑ و جکڑ لیتے ہیں بلکہ آپ کے دماغ کو بھی متحیر کرتے ہیں شعریت و غنائیت، تہہ داری، تراکیب کا استعمال، تجربات و مشاہدات سے کشید متون سبھی کچھ ہی تو ہے 
ہاں ایک بات جو آپ کی سوچ کو متحیر کرتی ہے یہ ہے کہ ڈاکٹر وقارخان اپنی شعری دنیا میں تشکیک کا جھولا جھولتے دکھائی دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ کہیں کہیں تضاد کی زد میں نظر آتے ہیں مگر یہ تضاد اس وقت حسن و خوبی میں بدل جاتا ہے جب اس تشکیک و تضاد کی بنا و بنیاد کھوج، تجسس، تحقیق برائے اطمنانِ قلب دکھائی پڑتی ہے اسی کشاکش باطنی کے نتیجے میں اگر ایک شعر ان کے خود پرست ہونے کا اعلان کرتا ہے تو بس ذرا سا ہی آگے وہ خدا پرستی کا نعر? مستانہ لگاتے دکھائی دیتے ہیں 
کبھی وہ من عرفہ نفسہ' فقد عرفہ ربہ' کی مقدس وادیوں میں حواس خمسہ سے ماورا کی کھوج میں از خود رفتہ دکھتے ہیں تو کبھی ببانگِ دہل وہ اس سارے نظام سے انحرف و بغاوت کا اعلان کر دیتے ہیں
میری حالت کہیں درمیاں میں رہی 
بے خودی معذرت، آگہی معذرت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے خدا تُو تو جانتا تھا مجھے 
تُو نے اچھا نہیں کیا مرے ساتھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے خدا تجھ کو ہم رہیں گے یاد 
تُو بھی تو ہم کو یاد آئے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیائے بد نصیب سے کیا واسطہ مجھے 
میں بد نصیبِ وقت تو یزداں کی بھول ہوں 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے وہ عورت اور مرد کے باہم فطری میلان کے حوالے سے مشہور ماہرِ نفسیات سگمڈ فرائیڈ سے متاثر دکھائی دیئے جناب فرائیڈ تو خیر ہر کام کا تحرک جنسی جذبے اورعظیم بننے کی خواہش کو گردانتے ہیں شاید اسی سکول آف تھاٹ کے زیرِ اثر وقار خان بھی دعوٰی کر اٹھے کہ
تمہارے عشق کی ہو ابتدا تقدس سے 
مگر یقین سے کہتا ہوں انتہا اک جسم
اور پھر اس کیفیت کو وہ سوال کا لبادہ عطا کر کے اپنے قاری کو الجھانے کی ایک معنی خیز کوشش کرتے ہیں 
ترے خیال میں اس کو ہوس کہیں گے میاں؟
میں اک کے بعد اگر مانگوں دوسرا ک جسم

ڈاکٹر وقار خان کی شاعری اگرچہ گوناں گوں تضادات کا مجموعہ ہے مگر یہ امر وجہ اطمینان ہے کہ سارے تضادات بصورتِ سوال ہیں جو برائے افہام و تفہیم کبھی خود سے تو کبھی خدا سے ہیں اور کبھی کبھی تو وہ شدتِ کرب سے معاشرے پر برس پڑتے ہیں 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب تو بتلا دے ہمیں کون خدا؟ کون ہیں ہم؟
واعظا چھوڑ بھی دے اپنے مفادات کی جنگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر وقار خان روایت میں جدت بلکہ بدعت (قطع نظر اس سے کہ حسنہ ہے یا سیِۂ) تک سے بھی نہیں چوکتے جبھی وہ اپنی شاعری میں اساتذہ کے مخصوص رنگِ تغزل کو ہاتھ سے چھوڑے بغیر اس میں اک جہانِ نو بساتے نظر آتے ہیں وہ انسان کو درپیش ظاہری مسائل کے ساتھ ساتھ، اسے دامن گیر نفسیاتی و روحانی الجھنوں کو بھی اپنی شاعری کا عنوان بناتے اور اس پر بے لاگ تبصرہ کرتے نظر آتے ہیں 
ڈاکٹر وقار خان غزل کے ساتھ ساتھ نظم کی خوبصورت بنت کے بھی نویکلے و چابکدست تخلیق کار ہیں غزل کی طرح نظم میں بھی وہ ایک قدرے وکھری سی رہگذر کے راہی ہیں جس میں کھوجی معلوم سے نا معلوم کے ایک ایسے سفر پر نکلتا ہے جہاں
ہوتے ہیں خطاب آخر ، اٹھتے ہیں حجاب آخر
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
المختصر ڈاکٹر وقار خان کا اولین شعری مجموعہ یقیناًمستقبل کے ایک بڑے شاعر کی نویدِ سعید ہے 
انایا سے کچھ مزید اشعار احباب کی بصارتوں کی نذر 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ہوں شرمندہ اے مرے الفاظ 
میں تمہیں زندگی نہ دے پایا

سوچ جو تجھ پہ جان وارتا ہے
وہ تری جان لے بھی سکتا ہے

مجھے تمہاری ہوس اب کی بار ہے ہی نہیں 
میں جانتا ہوں تمہارا خمار دھوکا ہے

خوف کیوں کھاؤں میں مصیبت کا 
رات دن ماں دعائیں دیتی ہے

میں بات بات پہ ہر ژخص سے الجھتا ہوں
تمہارے غم نے مجھے چڑچڑا بنا دیا ہے

کبھی تو میرے لئے منتظر ہوں گھر والے
میں چاہتا ہوں کبھی میں بھی اپنے گھر جاؤں

جب اعتماد نہیں تھا بہت سکون میں تھا
میں خود فریب تو بس اپنے ہی بھرم میں مرا

جو بھی کہنا ہے یہاں جھوٹ کے انداز میں کہہ
سچ اگر تو نے کبھی بولا تو پچھتائے گا

یہ عشق ہے اسے محدود کون کہتا ہے 
میاں یہ دشتِ بلا اور کائنات کہاں

عاجزی نے کیا مجھے مغرور 
علم نے ہی تو شک بڑھایا مرا

ُوہ بھی مرے بغیر خوش میں بھی ہوں سانس لے رہا 
تیری مثال بھی نہیں میری مثال بھی نہیں

اپنی وحشت میں یہ بھی یاد نہیں 
میں کہاں تک خدا کے ساتھ رہا

جب میں دنیا سے دور بھاگتا ہوں 
کس لیے مجھ کو مانتی دنیا
دردمندوں سے ہو گئی خالی 
عقل مندوں سے بھر گئی دنیا

میرے ہونٹوں کا ابھی زہر ترے جسم میں ہے 
تُو اگر بچھڑا تو کیا چین سے رہ پائے گا؟
اے سخن فہم مرے شعر سے کیا لگتا ہے؟
کیا مرے بعد مجھے یاد رکھا جائے گا؟ 
غزل
اس کے ہاتھوں میں جبھی ہاتھ تھما بیٹھتا ہوں 
کچھ اندھیروں کو ستاروں سے ملا بیٹھتا ہوں
ایسا حلقہ جو مجھے خود میں نہیں کرتا شمار 
کس قدر فخر سے روز اُس میں ہی جا بیٹھتا ہوں
اختیار اپنی ہی قسمت پہ مجھے مل تو گیا 
پھر بھی قسمت میں یہ محرومی بنا بیٹھتا ہوں
روز ترتیب بناتا ہوں نئے دشمنوں کی 
دوست یاد آنے پہ ترتیب بھلا بیٹھتا ہوں
میں کہ مامور پرندوں کے قفس پر ہوں وقار
اور عجب ہوں کہ پرندوں کو اڑا بیٹھتا ہوں
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com