لسانی مطالعے :ایک جائزہ

لسانی مطالعے :ایک جائزہ
ڈاکٹر غلام شبیر رانا
میر پور(آزاد کشمیر) میں مقیم عالمی شہرت کے حامل ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر غازی علم الدین کی علمی و ادبی خدمات کا دنیابھر میں اعتراف کیا جاتا ہے ۔اسلامیات اور عربی کے اس یگانۂ روزگار فاضل نے ادبیات اور فنون لطیفہ میں اپنی تخلیقی، تحقیقی و تنقیدی بصیرت کو رو بہ عمل لاتے ہوئے گزشتہ چار عشروں میں اپنی پانچ وقیع تصانیف سے اردو زبان وادب کی ثروت میں جو اضافہ کیا ہے اس کے بارِ احسان سے اُردو ادب اور لسانیات میں دلچسپی رکھنے والوں کی گردن ہمیشہ خم رہے گی۔ عالمی کلاسیک ، ادیانِ عالم، علم بشریات، سماجی علوم،نفسیات، تاریخ، جدید تنقید و تحقیق ،فلسفہ ، جدید لسانیات اور بالخصوص اردو زبان کے لسانی مسائل پر گہری نظر رکھنے والے اس جری ،فعال،زیرک اور مستعد محقق نے حق گوئی اور بے باکی کو مستقل طور پر اپنا شعار بنا رکھا ہے ۔حال ہی میں پروفیسر غازی علم الدین کی تحقیقی کتاب ’’لسانی مطالعے‘‘سے استفادہ کا موقع ملا ۔دورانِ مطالعہ یوں محسوس ہوا کہ ہر لحظہ نیا طُور اور نئی برقِ تجلی کی کیفیت ہے اور دِل میں یہی تمنا پیدا ہوتی ہے کہ تخلیق کار کے ذوقِ سلیم کے اعجازسے نمو پانے والا شوق کا یہ عالم سدا بر قرار رہے۔ تحقیق و تجسس ،موضوعاتی تنوع اور افکارِ تازہ سے لبریز یہ تصنیف قاری کو ایک جہانِ تازہ میں پہنچا دیتی ہے جہاں مصنف کی گل افشانئ گفتار ، اُردوزبان کے ساختیاتی مظاہر ، اُردو زبان و بیان اوراظہار و ابلاغ کے بارے میں چشم کشا صداقتیں ،تاریخ اور اس کے پیہم رواں عمل سے وابستہ حقائق، لسانی مسائل کی مسلمہ صداقتوں سے انحراف اور اس کے مسموم اثرات سے قارئینِ ادب کی مجرمانہ غفلت ،احساسِ زیاں کے عنقا ہونے کا المیہ، مصنف کے خلوص اور دردمندی سے لبریزاسلوب کی ندرت اور اثر آفرینی قاری کو حیرت و استعجاب کی ایسی مسحور کُن کیفیت سے سرشار کرتی ہے جس سے لسانیات،تخلیقِ ادب اور اس کے لا شعور ی محرکات کے بارے میں منفرد احساس نمو پانے لگتا ہے ۔یہ وہ منفرد اور چو نکا دینے والا احساس ہے جو وجہی سے پروفیسرغازی علم الدین سالک تک پہلے کم کم دیکھا گیا ہے ۔پروفیسر غازی علم الدین نے اس کتاب میں جن فکر پرور اور خیال افروز مباحث کا آ غاز کیا ہے ان میں زمانہ قدیم سے مروّج گرامر کی شرائط اور قواعد و ضوابط،معیاری زبان کی ترویج و اشاعت کی تمنا،مختلف بو لیاں اور ان کے اثرات،تخلیقی گرامر اور اس کے مضمرات،آ ہنگ و تاثیر کی مظہر قواعدی صوتیات، اُردو زبان میں مروّج و مقبول مختلف الفاظ کی بناوٹ ،شکل و صورت ،ترکیب اور ساخت،دائرۃ المعارف و لغات،گردانیں ،معاصر زبانیں،آوازوں کی باز گشت ،الفاظ کے مآ خذ و استخراج،تاریخی صداقتیں اور تاریخ کا پیہم رواں دواں عمل ، وقت کے سانحات کے زبان پر اثرات ،اظہار و ابلاغ کی بے کراں وسعت ،تخیل کی جولانی، جزیرۂ جہلا کے مکینوں کی کج روی کی آئینہ دارلر زہ خیز حشر سامانی ،لسانیات سے وابستہ کثیر زمانی اور یک زمانی عوامل ،اُردو زبان میں مختلف زبانوں کے الفاظ کے امتزاج سے نمو پانے والی مخلوط زبان کا مزاج اور لسانیات میں راہ پاجانے والی اغلاط کو بیخ و بن سے اُکھاڑ پھینکنے کی دِلی آ رزو جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔ اُردو لسانیات کے موضوع پر اس تحقیقی کتاب نے جہاں قارئینِ ادب کے اذہان کی تطہیر و تنو یر کا لائقِ صد رشک و تحسین اہتمام کیا ہے وہاں اس کے معجز نما اثر سے ذوقِ سلیم کو مہمیز کرنے میں بھی مدد ملی ہے ۔مصنف نے اردو زبان کے ارتقا کا مطالعہ کرتے وقت جہاں زبان کے ارتقائی مدارج کو تاریخی تناظر میں سامنے رکھا ہے وہاں اس کی ساخت ،گرامر ،صر ف و نحو اور صوتیات پر اپنی توجہ مرکوز رکھی ہے ۔یہ کتاب اپنے مواد ،مآخذ اور مطالعات کے اعتبار سے علم و ادب کے ایک دبستان کی حیثیت رکھتی ہے جو اردو داں طبقے کو روزمرہ گفتگو کی اغلاط کے سلسلے میں خو د احتسابی اور زبان و بیان کی اصلاح پر مائل کرنے کا اہم ترین وسیلہ ثاب ہوسکتی ہے۔ اس کتاب کے موضوعات،مواد اور مآخذ کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ سماجی لسانیات کے بارے میں مثبت شعور و آ گہی پروان چڑھانے میں یہ کتاب بے حدممد و معاون ثابت ہو گی ۔ پروفیسر غازی علم الدین نے اس کتاب میں لسانیات سے متعلق توقعات و خدشات،معمولات و منقولات، صوت و آ ہنگ ،رنگ ،خوشبو اور حسن و خوبی کے سبھی استعارے یک جا کر دئیے ہیں۔ایامِ گزشتہ کی کتاب کی ورق گردانی کرتے ہوئے قاری کے دِل پر اردو زبان کے ارتقا کے جو موسم اترتے ہیں وہ افقِ ادب پر قوسِ قزح کا سماں پیدا کر دیتے ہیں جس میں لسانی نفسیات،تقابلی لسانیات،حسابی لسانیات ، ساختی لسانیات ، تلمیحات ،ضرب الامثال ،محاورات اور تراکیب کے انتہائی دل کش و حسین رنگوں کا کرشمہ دامنِ دِل کھینچتاہے ۔ عام مشاہدہ ہے کہ گلزار ہست و بُود میں جہاں گل ہائے رنگ رنگ کی فراوانی ہے وہاں نوکیلے خاروں کی بھی ارزانی ہے ۔ لسانیات میں بھی یہی کیفیت دکھائی دیتی ہے جہاں شائستہ اور معیاری زبان لکھنے والے خونِ جگر دے کر گلشنِ ادب کو نکھار کر اسے جامۂ زریں پہنا رہے ہیں وہاں کئی ابلہ،بز اخفش اور خفاش اپنی اغلاط سے اُردو زبان کے حسن کو گہنا رہے ہیں۔پروفیسر غازی علم الدین نے اس موضوع پر خوب دادِ تحقیق دی ہے اور حادث�ۂ وقت کے نتیجے میں مختلف ذرائع ابلاغ میں گُھس جانے والے جہلا کے مکر کا پردہ فاش کرنے میں کوئی تامل نہیں کیا ۔علمی و ادبی حلقوں میں اس کتاب(لسانی مطالعے) کی جو زبردست پزیرائی ہوئی ہے وہ اپنی مثال آ پ ہے ۔ سال 2012میں اُردو زبان کے لسانی مسائل کے موضوع پر پہلی بار شائع ہونے والی اس معرکہ آراتحقیقی تصنیف کی مقبولیت ،اہمیت اور افادیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ سال 2017 کے وسط تک اسلام آباد،فیصل آباد اور دہلی کے ممتاز اشاعتی اداروں کے زیر اہتمام اس کتاب کے متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور اس کتاب کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ پروفیسر غازی علم الدین کی تحقیقی تصنیف ’’لسانی مطالعے ‘‘ کی اشاعت کی تفصیل درج ذیل ہے :
( ۱)۔علم الدین غازی پروفیسر:لسانی مطالعے،مقتدرہ قومی زبان،پاکستان،اسلام آباد،طبع اول ،۲۰۱۲۔( تعداد :۵۰۰صفحات :۱۷۹،قیمت:۲۵۰ روپے)
اس کتاب کے آ غاز میں پیش لفظ ڈاکٹر انوار احمد ،دیباچہ پروفیسر سیف اللہ خالد اور پیش گفتار پروفیسر غازی علم الدین نے لکھا ہے ۔
( ۲)۔علم الدین غازی پروفیسر :لسانی مطالعے،ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس ،دہلی، سال اشاعت ،۲۰۱۵۔( صفحات:۲۷۲،قیمت:۲۸۰ روپے)
دہلی سے شائع ہونے والی اس کتاب کے ابتدائی صفحات میں مشاہیر ادب کی جو تحریریں شامل ہیں ان کی تفصیل درج ذیل ہے :
مقدمہ:مسعود علی بیگ پروفیسر علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی (بھارت)
دیباچہ: سیف اللہ خالد پروفیسر (لاہور)
’’لسانی مطالعے ‘‘کا تنقید ی جائزہ :سید یحیٰی نشیط ڈاکٹر (بھارت)
پیش گفتار طبع اول : علم الدین غازی پروفیسر
پیش گفتار طبع دوم :علم الدین غازی پروفیسر
(۳) ۔علم الدین غازی پروفیسر:لسانی مطالعے،مثال پبلشرز،فیصل آباد، سال اشاعت ،۲۰۱۵۔ ( صفحات:۲۷۰،قیمت: ۴۶۰ روپے )
کتاب کے اس ایڈیش کے مشمولات بھی دہلی سے شائع ہونے والے محولہ بالا ایڈیشن کے مطابق ہیں۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پروفیسر غازی علم الدین نے اردو لسانیات میں جس اصلاحی کام کا آغاز کیا اس سے لسانی جمو د کا خاتمہ ہوا ،تحقیق و تجسس کی نئی منزلوں تک رسائی کے امکانات پیدا ہوئے اور اصلاح و مقصدی ادب کی امین تخلیقی فعالیتوں اور تحقیقی و تنقیدی بصیرتوں میں قارئینِ ادب کی دلچسپی بڑھنے لگی۔ دنیا کے وہ تمام ممالک جہاں اردو زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے وہاں اردو زبان کی صحیح انداز میں تفہیم کے سلسلے میں ’’لسانی مطالعے‘‘کو خضرِ راہ کا درجہ حاصل ہے ۔اس وقت دنیا بھر میں ’’لسانی مطالعے‘‘ پر جو تحقیقی و تنقیدی کام ہو رہا ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کتاب نے اردو لسانیات میں جمو د کا خاتمہ کر کے فکر و خیال کی انجمن میں سعئ پیہم اورحرکت و حرارت کی نئی لہر دوڑ دی ہے ۔ طویل عرصے سے اُردو زبان کی شمع جو اغلاط و ابہام کے مسموم بگولوں میں چراغِ سحری کے مانند ٹمٹما رہی تھی، ایک ایسے پروانے کی شدت سے منتظر تھی جو اسے ابلہ ہواخواہوں کے اُڑائے ہوئے گرد باد اور مسموم بگولوں سے بچائے۔ان حالات میں اردو زبان کو پروفیسر غازی علم الدین کی صورت میں ایسا عبقری پروانہ مِل گیاجس کی تعمیری اور اصلاحی سوچ سے حالات کی کایا پلٹ گئی اور ہر طرف زبان میں اصلاح کے چرچے ہونے لگے ۔ پروفیسر غازی علم الدین کے روپ میں اردو زبان کو ایسا حق گو، بے لوث اور بے باک مصلح مل گیا ہے جو خلوص ،دردمندی،ایثار ،وفا ،حب الوطنی ،لسانی مہارت اور انسانی ہمدردی میں یگانہ ہے ۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ گیسوئے اُردو جس کے بارے میں طویل عرصے سے یہ بات زبان زدِ عام تھی کہ یہ منت پزیر شانہ ہے ۔اس کتاب میں شامل بانگ درا ترانہ سنتے ہی اس بات کا پختہ یقین ہو جاتا ہے کہ اگر روزمرہ بول چال میں شامل ہو جانے والی بد نما اغلاط کے داغ دُھل جائیں تو پھرگیسوئے اُردو کو کسی شانہ ،کھنڈر نماکاشانہ یا عقل کے اندھوں کے راجا کانا کی سرابوں کی بھینٹ چڑھانے والی دست گیری کی ہر گز کوئی احتیاج نہیں۔پروفیسر غازی علم الدین نے اصلاحِ زبان کے لیے جن مساعی کا آغاز کیا ہے وہ اردو زبان کی ترویج و اشاعت اور ترقی کے لیے نیک شگون ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں تیزی آ ئے گی اوراردو زبان کی ثروت،اہمیت اور وقعت میں اضافہ ہوتا چلاجائے گا۔وہ دن دُور نہیں جب اُردو زبان کے شیدائی اپنی صاف ،سادہ سلیس، شیریں زبان اور منفرد اسلوب سے اردو زبان کو تخلیقی مقاصد کی رفعت کے اعتبار ہم دوشِ ثریا کر دیں گے۔
تاریخی حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ 1857کی ناکام جنگ آزادی کے نتیجے میں بر صغیر کے اکثرباشندے ایک مستقل نوعیت کے احساس کم تری میں مبتلا ہو گئے جس سے گلو خلاصی کے امکانات بد قسمتی سے تا حال معدوم دکھائی دیتے ہیں۔ تاجر کا سوانگ رچا کر بر صغیر میں وارد ہونے والا ظالم و سفاک ،موذی و مکاربر طانوی استعمار جب تا ج وربن بیٹھا تو اس سامراجی استحصالی ٹولے نے یہاں کے مجبور عوام کے چام کے دام چلائے۔ان طالع آزما ،بے حس اور مہم جُو قزاقوں کی خباثت کا اندازہ ان تلخ حقائق سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان ابلیس نژاددرندوں کے مسلط کردہ ظالمانہ استحصالی نظام نے پیہم نوے برس تک جہاں اپنی اس نو آبادی کی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا وہاں قسمت سے محروم اس علاقے کی صدیوں کی تہذیبی ،ثقافتی ،تاریخی،سماجی اور معاشرتی اقدار وروایات کو مکمل انہدام کے قریب پہنچا دیا۔ ہلاکت خیزیوں کے اس منحوس دور میں مظلوم انسانوں کی زندگی کی تمام رُتیں بے ثمر،آہیں بے اثر ، راہیں پُر خطر، نگاہیں بے بصر،کلیاں شرر ،گلیاں خوں میں تر ،بستیاں کھنڈر اورزندگیاں مختصر کر دی گئیں ۔انسانیت کی توہین،تذلیل،تضحیک اور بے توقیری عام ہو گئی جس کے نتیجے میں نہ صرف زبان اپنی میراث ،اقدار و روایات کو فراموش کربیٹھی بل کہ یہاں کے قسم سے محروم با شندے بھی اپنی عدم شناخت اور بے چہرگی کے باعث غمِ دوراں کے ہاتھوں گور کنارے پہنچ گئے۔ سامراج کی مسلط کردہ ان سفاک ظلمتوں اور مہیب سناٹوں میں المیہ یہ ہوا کہ سامراجی طاقتوں کو اس خطے میں کچھ مہا مسخرے،بے ضمیر بھڑوے،رجلے خجلے ،ہوس پر ست تلنگے اور مفاد پرست لُچے مِل گئے جن کی خست و خجالت اور استمالت سے سامراجی طاقتیں اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل میں کام یاب ہو گئیں۔ ذہنی غلامی ،کور مغزی،بے بصری اور فکری افلاس کے مارے بر طانوی سامراج کے پروردہ اِن جموروں اور کٹھ پتلیوں نے اپنے غیر ملکی آقاؤں کے اشارے پر عجب کھیل کھیلا۔ فہم و فراست سے عاری ان سفہا نے ہر اُس شاخ کوآری سے کاٹا جس پر اُن کا آ شیاں تھا اور اُن تمام بُور لدے چھتناروں کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی کوشش کی جو خود دھوپ میں جلتے رہتے مگر اپنے سایہ نشینوں کو سداآلامِ روزگار کی تمازت سے محفوظ رکھتے تھے۔ ایسے عاقبت نا اندیش ساتا روہن، اجلاف و ارذال،سفہا کی جہالت مآ بی تہذیب و ثقافت کے لیے ظلِ تباہی بن گئی اور مقامی زبانیں بالخصوص اردو زبان رفتہ رفتہ پشتارۂ اغلاط بننے لگی۔ ایسے بُز اخفش جب چلتے تو دو طرفہ ندامت اور اہلِ درد کی ملامت ہمیشہ ان کے ہم رکاب رہتی مگر یہ چکنے گھڑے ،تھالی کے بینگن اور تھوتھے چنے ٹس سے مس نہ ہوتے اور نتائج سے بے پروا ہو کر ہمہ وقت مقامی تہذیب وثقافت اور اقدار و روایات کی تخریب میں خجل رہتے اور اپنے منھ میاں مٹھو بننے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے۔ ان لرزہ خیز اور اعصاب شکن حالات میں ادب اور فنون لطیفہ کو بھی سمے کے سم کے ثمر سے شدید نقصان پہنچا۔ ان ہراساں شب و روز میں عام بول چال اور تحریری زبان میں متعدد غلط تراکیب،دِل شکن محاورات،مضحکہ خیز ضرب الامثال،مجنونانہ جملے،احمقانہ تلمیحات،تخریبی تشبیات،تادیبی استعارات،دِل آزاری کی موجب تشبیہات اور تمسخر کے مظہر کلمات مروّج ہو گئے۔ لسانیات کے موضوع پر اپنی اس عالمانہ تحقیقی تصنیف میں پروفیسر غازی علم الدین نے سائنسی انداز فکر اپناتے ہوئے بھیڑ چال کو وتیرہ بنا کر طرزِ کہن پر اڑنے والوں،غلط العام کو رتبۂ الہام دینے والوں اور عامیانہ پن و ابتذال کو والہانہ پن سمجھنے والوں پرشدید گرفت کی ہے اور نہایت خلوص اور دردمندی سے اس جانب متوجہ کیا ہے کہ یہ طرز عمل نہ صرف صحتِ زبان کے لیے بہت بُرا شگون ہے بل کہ یہ ایساتہذیبی زیان ہے جو اس خطے کی صدیوں کی تہذیبی و ثقافتی اقدار و روایات ،تاریخی میراث اور سماجی میلانات کے لائق صد رشک و تحسین اور ارفع ترین معائر کو تحت الثریٰ میں پہنچانے پر منتج ہو گا ۔ انھوں نے اس جانب متوجہ کیا ہے کہ کسی بھی زبان میں لسانی مہارت اور اظہار و ابلاغ پر خلاقانہ دسترس کے حصول کے لیے بہت توجہ ،انہماک، محنت ،احتیاط اور وسیع مطالعہ کی ضرورت ہے ۔سماجی لسانیات کے اسرار و رموز کے نباض کی حیثیت سے پروفیسر غازی علم الدین نے عصری آ گہی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دنیا کی ہر زبان کے ماہرین کا اس امر پر اتفاق ہے کہ زبان کے جملہ نشیب و فراز کی تفہیم کے لیے تاریخ اور اس کے مسلسل عمل کو پیشِ نظر رکھنا نا گزیر ہے ۔ 
اپنی تحقیقی کتاب’’لسانی مطالعے ‘‘ میں پروفیسر غازی علم الدین نے اردو زبان،اردو داں طبقے اور معاشرے کے تمام طبقات کے باہمی ربط کے مظہر تعلق کی ضرورت و اہمیت کو اجاگر کرنے پر زور دیا ہے اور اس حقیقت کی جانب متوجہ کیا ہے کہ یہی ربط ہمارے قومی تشخص اور ملی اتحاد کا نقیب ثابت ہو گا۔دنیا بھر کے ماہرین لسانیات نے گزشتہ نصف صدی کے دوران میں زبانوں کے ان عوامل پرتحقیق و تجزیہ کا جو سلسلہ شروع کررکھا ہے اس میں اب عام لوگوں کی دلچسپی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔علم و ادب کے فروغ میں دلچسپی رکھنے والے سنجیدہ ،مخلص اور دردمند لوگوں کو اس بات کا یقین ہے علم و ادب کی ضیا پاشیوں کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے لسانیات اور سماجی علوم میں باہمی ربط وقت کا اہم ترین تقاضا ہے ۔پروفیسر غازی علم الدین نے اُردو دان طبقے میں مروّج و مقبول ربطِ باہمی کے طریقوں (جن میں تکلم کے تمام انداز اور تحریروں کے اسالیب شامل ہیں )کے تحقیقی و تنقیدی مطالعہ میں جس ارتکاز توجہ کا عملی ثبوت دیا ہے وہ ان کی اس تصنیف میں نمایاں ہے۔ اردو زبان میں متعدد الفاظ ،تراکیب،محاورات،تلمیحات اورروزمرہ کے غیر محتاط استعمال پر انھیں گہری تشویش ہے ۔وقت کے اس سانحہ کو کس نام سے تعبیر کیا جائے کہ ذہنی افلاس کی مظہر اُردو لسانیات کی مضحکہ خیز اغلاط کو روزمرہ کے فرغلوں میں لپیٹ کر انھیں نام نہاد روزمرہ یاغلط العام کا لبادہ پہناکر اُن پر درجۂ استنادلُٹانے میں کوئی تامل نہیں کیا جاتا۔زبان میں اس نوعیت کے الفاظ ،تراکیب،محاورات،روزمرہ،تلمیحات،تشبیہات اور استعارات کا غیر محتاط استعمال جہاں ہماری غفلت،کج فہمی اور لا علمی کا مظہر ہے وہاں اس سے یہ حقیقت بھی سامنے آ تی ہے کہ نو آبادیاتی دور میں سامراجی طاقتوں کے ہاتھوں متاعِ کارواں سے محروم ہو جانے کے بعد شاید سرابوں میں سر گرداں اورمنزل سے نا آ شنا شکستہ پا کارواں کے دِل سے تہذیبی و ثقافتی زیاں کا احساس عنقا ہو چکا ہے ۔ اس سے بڑھ کر المیہ کیا ہو گا کہ غیر ارادی طور پر ہم اپنے ہاتھوں اپنی ہی تخریب میں مصروف ہیں مگر کوئی ٹس سے مس نہیں ہوتا۔کسی بھی قوم کے تہذیبی و ثقافتی ارتقا اور بقا کے لیے ایسی بے حسی بہت بُرا شگون ہے ۔پروفیسر غازی علم الدین نے نہایت دردمندی اور خلوص سے اس جانب متوجہ کیا ہے کہ دنیا بھر میں یہ با ت مسلمہ ہے کہ کوئی بھی سماج،معاشرہ یامملکت زبان ہی کو ربط باہم کا وسیلہ بناتاہے۔ زبان او ر اس کی تخلیقی تحریریں زندگی کی تاب و تواں میں اضافے کا اہم ترین وسیلہ ہیں۔یہی و ہ منابع ہیں جہاں سے نادر و متنوع خیالات،پر خلوص جذبات اور پاکیزہ احساسات کے سوتے پُھوٹتے ہیں۔دنیا کی ہر مہذب زبان کا ادب یدِ بیضا کا معجزہ دکھاتا ہے اس سے حریتِ فکر و عمل ،حریتِ ضمیر ،قوتِ ارادی اور سعئ پیہم کا ولولہ بیدار ہوتا ہے ۔یہ بات کالنقش فی الحجر ہے کہ زبان کی پاکیزگی اور ادب پارے کی نفاست ہی انسان کو انسانیت کے بلند ترین منصب پر فائز کرتی ہے ۔ ادبیات کا اخلاقیات سے گہر ا تعلق ہے نادر اور پاکیزہ تخلیقی صلاحیت سے متمتع کوئی بھی با ضمیر تخلیق کار عفونت زدہ سنگ ریزے اُٹھانے کے لیے اُس گندے نالے میں ہر گز ہاتھ نہیں ڈبو سکتا جہاں سے عفونت و سڑاند کے بھبھوکے اُٹھ رہے ہوں۔ کوئی سنجیدہ تخلیق کار محض سستی شہرت حاصل کرنے کی غرض سے ہذیان گوئی پر مائل نہیں ہو سکتا۔دنیا کی ہر زبان کا امتیازی وصف ایک خاص نظم وضبط اور پا کیزگی ہے جو اسے اوجِ کمال تک پہنچانے کا وسیلہ ہے ۔اگر بد قسمتی سے کسی خطے کی زبان میں بگاڑ پیدا ہو جائے تو وہاں کی تہذیبی و ثقافتی اقدار و روایات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔ کتاب ’’لسانی مطالعے‘‘کی فہرست مشمولات پر نظر ڈالنے سے مضامین کی قوسِ قزح قاری کو خوش گوار حیرت و استعجاب سے سرشار کر دیتی ہے ۔آئیے مضامینِ نو کی اس دھنک کے اس پار دیکھیں اور مصنف کی گل افشان�ئ گفتار سے فیض یاب ہونے کی کوشش کریں ۔اس کتاب کی ابواب بندی جس احسن طریقے سے کی گئی ہے اس کے نتیجے میں تمام موضوعات مر بوط انداز میں فکر و خیال کے نئے دریچے وا کرتے چلے جاتے ہیں۔
پہلا باب :زبان و بیان پر معاشرے کے اخلاقی اِنحِطاط کا اثر (ایک تحقیقی جائزہ)
پروفیسر غازی علم الدین نے اپنی اس تحقیقی کتاب کے پہلے باب میں اُردو زبان سے تخلیقی محبت کا ثبوت دیتے ہوئے اُن اغلاط کی جانب متوجہ کیا ہے جن کے باعث اس زبان کا حسن گہنا رہا ہے ۔اس باب میں سنجیدگی، وقار، شائستگی اور تہذیب کے پست ترین مقام تک پہنچے ہوئے اُن الفاظ کا ذکر کیا گیا ہے جو اردو زبان و ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کی دِل آزاری کا باعث بن چکے ہیں مگر کوئی بھی شخص زبان کی پاکیزگی پر ٹوٹنے والے اس کوہِ ستم کے خلاف آواز بلند نہیں کرتا۔ پروفیسر غازی علم الدین متنبہ کرتے ہیں کہ اس سے پہلے کہ فطرت کی سخت تعزیروں کے نتیجے میں کوہِ ندا کی صدا پر کوئی ساتواں در کھولے قارئینِ ادب ان کے مطالعہ سے فکر و نظر کے دریچے کھول کر اپنے من کی غواصی کر کے زندگی کے حقائق کا سراغ پانے کی سعی کریں۔ زبان و بیان اور اظہار و ابلاغ کو ایک کُھلے امکان کا درجہ حاصل ہے جو تقدیر جہاں کا ہر عقدہ کھولنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ اس موضوع پر مصنف کی تحقیق کی چند مثالیں پیش ہیں جو ملی،تہذیبی ،ثقافتی اورتاریخی شعور کی تمازت لیے ہوئے ہیں ۔ بد قسمتی سے اس قسم کے متعدد محاورات اُردو زبان میں در آ ئے ہیں جو ہماری تاریخ اور مذہبی میراث سے متصادم ہیں:
آشنائی مُلا تاسبق،اللہ ملائی جوڑی ایک اندھا ،ایک کوڑھی، اللہ میاں بھرے کو بھرتے ہیں، اللہ میاں کی بھینس ،اللہ میاں کی گائے ، باوا آدم نرالا ہونا ،بسم اللہ ہی غلط، بہشت کی قمری ،پیغمبری کے ایام پڑنا،تین تیرہ کرنا،جنم جنم کا ساتھ، جون پور کا قاضی ،حضرت فاطمہؓ کی جھاڑوپِھرے،خد واسطے کا بَیر،داڑھی نوچ ڈالنا،ذاتِ شریف،ریشِ قاضی،شیخ چلی،صلواتیں پڑنا،علتِ مشائخ ،فرشتوں کو خبر نہ ہونا ،قرآن کی مار،کلمہ بھرنا،لاحول بھیجنا،مولا بخش،نوج،ولی را ولی می شناسد،
دوسرا باب :الفاظ کا تخلیقی ،معنوی اور اصطلاحی پس منظر (منتخب الفاظ :ذو لسانیاتی تحقیقی مطالعہ)
بنیادی طور پر غلط سوچ ،غلط روّیے اور اظہار و ابلاغ کی اغلاط ہی معاشرتی زندگی میں بگاڑ کا سبب ہیں۔پروفیسر غازی علم الدین نے اس قسم کی سوچ پر گرفت کرتے ہوئے زبان و بیان میں اصلاح پر زور دیا ہے ۔اپنے دلی جذبات و احساسات کے اظہار میں سادہ ،سلیس اور عام فہم انداز اپناتے ہیں ۔ لسانی موضوعات پر اظہار خیال کرتے وقت ان کا مقصد سدا یہی ہوتا ہے کہ ان کے دِل سے نکلنے والی آواز قارئین کے دِل میں اُتر جائے اور وہ بھی ان کے ہم نوا بن کر ان کی اصلاحی کاوشوں میں شریک ہو جائیں ۔اس مقصد کے لیے اُنھوں نے الفاظ کے صحیح اعراب اور تحریر کے حقیقی انداز کوملحوظ رکھنے پر اصرار کیا ہے ۔اس کی چند مثالیں پیش ہیں:
آئندہ کے بجائے آیندہ لکھنا چاہیے، انشااللہ درست نہیں اس کے بجائے اِنْ شَا ءَ اللہُ صحیح ہے ، افراتفری یہ دراصل اِفراط و تفریط کا مخرب ہے ، دِلاسا یہ لفظ در اصل دِل آ سا ہے یعنی دِ ل کی تسلی۔ 
تیسرا باب:الفاظ معانی بدلتے ہیں(ایک تجزیاتی مطالعہ)
اس باب میں ان الفاظ کی فہرست شامل ہے جو دوسری زبانوں (بالخصوص عربی زبان ) سے اُردو زبان میں شامل کیے گئے مگر اُردو زبان میں شامل ہونے کے بعد ان کے معانی بدل گئے۔مثال کے طور پر رُقعہ کے عربی معانی کپڑے کا پیوند ہے جب کہ اُردو میں رُقعہ خط کو کہتے ہیں،عربی میں لفظ زحمت کے معنی بِھیڑہیں جب کہ اُردو میں اس کا مطلب تکلیف ہے۔
چوتھا باب: لسانی تحقیق کچھ نئے زاویے 
یہ باب لسانی تحقیق کے متعدد نئے پہلوؤ ں کا احاطہ کرتا ہے ۔لسانیات کے بارے میں پروفیسر غازی علم الدین کے تجربات،مشاہدات،تاثرات و تجزیات محض انفرادی نو عیت کے نہیں بل کہ ان کو معاشرتی،سماجی اور تاریخی مطالعات کا ثمر قرار دیا جا سکتا ہے ۔ تحقیق ایک مسلسل عمل ہے اس عرصے میں لسانی تحقیق کے یہ نئے زاویے جب محقق کے علم کا حصہ بنے تو انھوں نے بلا تامل قارئین تک پہنچا کر اصلاحِ زبان کی مساعی کا آغاز کر دیا ۔لسانی تحقیق کے یہ نئے زاویے قارئین کے احساس ،شعورو ادراک پر گہرے نقوش مرتب کرتے ہیں۔لسانی تحقیق کے ان زاویوں پر ایک نظر ڈالتے ہی موضوعات اور مواد کی ندرت اور تنوع کا احساس ہوتا ہے ۔اس کی چند مثالیں پیش ہیں :
لیے اور لئے میں فرق :احمد نے دس روپے لیے ۔یہ کتاب احمد کے لئے ہے۔
پانچواں باب:اُردو عربی لسانی تعلق اور اِصلاحِ زبان و ادب 
اس باب میں اردو الفاظ کے غلط تلفظ اور بے محل اعراب پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے صحیح تلفظ اور درست اعراب کی جانب توجہ مبذول کر ائی گئی ہے۔اپنے لسانی مطالعے وہ اس خوش اسلوبی کے ساتھ معاشرے اور سماج کے ان افراد کے سامنے پیش کرتے ہیں جو ذوقِ سلیم سے متمتع ہیں کہ قاری ان کی اس کاوش پر دِل کھول کر داد دیتا ہے ۔اردو اور عربی زبان کے لسانی تعلق اور اُردو زبان و ادب کی اصلاح کی خاطر کی جانے والی ان کی مساعی اب ثمر بار ہونے لگی ہیں۔اُردو زبان و ادب کے طلبا و اساتذہ کی جانب سے پزیرائی ملنے کے بعد وہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اُن کی تنقیدی ،تحقیقی اور تخلیقی منزلِ مقصود تک رسائی اب یقینی ہے۔ محقق نے جن الفاظ کے غلط تلفظ اورناقص اعراب کی نشان دہی کی ہے ان کی چند مثالیں ذیل میں درج کی جاتی ہیں :
الفاظ کا غلط تلفظ الفاظ کا صحیح تلفظ 
دعویٰ دعوٰی
قانوناً قانونًا 
مَن و عَن مِن و عَن
عَشرِ عشیر عُشرِ عشیر
نقصِ اَمن نقضِ اَمن
تنازِعہ تَنَا زُع
وطیرہ وتیرہ
چھٹا باب :اُردو میں مستعمل عربی الفاظ کی تشکیلی اور معنوی وسعت
اس باب میں مصنف نے اردو زبان میں مستعمل عربی زبان کے اُن الفاظ،تراکیب ،محاورات اور تلمیحات کاحوالہ دیا ہے جو اُردو زبان میں شامل ہونے کے بعد گنجینۂ معانی کے طلسم کی صورت اختیار کر گئے ۔ مصنف نے واضح کیا ہے کہ زبانوں میں نئے الفاظ کو اپنے دامن میں جگہ دینے کے اس قابل قدر عمل سے جمود کا خاتمہ ہوتا ہے اور زبان کا علمی دامن وسیع ہوتا ہے ۔زبان میں نئے تجربات کے بغیر اس کی ترقی اور وسعت کی سب توقعات نقش بر آ ب ثابت ہونے کا اندیشہ ہے ۔اس باب میں پروفیسر غازی علم الدین نے زبان کی وسعت ،اصلاح اور اس کی ثروت میں اضافے جیسے اہم مسائل کومدلل انداز میں پیش کیا ہے ۔انھوں نے اپنے تجزیاتی مطالعے میں مو ضوعات کی ندرت ،معروضی حقائق ،تخلیقِ فن کے لمحات میں داخلی اور خارجی کیفیات ،انفرادی اور اجتماعی تجربات و میلانات،زبان کا ارتقا،تخلیقی عمل کے شعوری اور لا شعوری محرکات ،ارد وزبان کی مختلف اصنا ف میں کیے جانے والے تجربات اور ا ن کے بارے میں قارئین کے جذبات و احساسات پر بھر پور روشنی ڈالی ہے ۔انھوں نے اردو زبان کے تخلیق کاروں کو نہایت خلوص سے یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ معاشرتی زندگی کے بارے میں اپنے مشاہدات و تاثرات کو عصری آ گہی کے تقاضوں سے ہم آ ہنگ کرنے کی مقدور بھر کوشش کریں ۔
ساتواں باب :املا میں الفاظ کی جداگانہ حیثیت سے انحراف(ایک تجزیاتی مطالعہ)
نو آبادیاتی دور میں سامراجی طاقتوں نے بر صغیر کے عوام کا جس بے دردی سے استحصال کیا وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے ۔سامراجی طاقتوں نے حقائق کی تکذیب اور صداقتوں کی تمسیخ کو مقصود بالذات ٹھہراتے ہوئے اس خطے کے ادب ،فنون لطیفہ اور مشاہیر کی توہین،تذلیل اور تضحیک کو وتیرہ بنا لیا او ر ان کے عہد رفتہ سے تعلق رکھنے والی محبوب نشانیاں تک مٹا ڈالیں ۔لکھنو ریلوے سٹیشن کی ریلوے لائن کے نیچے ریل گاڑیوں کے شور میں گُم میر تقی میرکی قبراس کی ایک مثال ہے ۔پس نو آبادیاتی دور میں اس امر کی توقع تھی کہ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں عہدِ غلامی کے جان لیوا صدمات سے گلو خلاصی کے امکانات پیدا ہوں گے مگر خزاں کے سیکڑوں مناظر دیکھنے کے بعد طلوعِ صبح بہاراں کی توقع خیال وخواب بن گئی اور نجاتِ دیدہ ودِل کی ساعت کے انتظار میں آ نکھیں پتھرا گئیں ۔تخلیقِ ادب کو نئی معنویت عطا کرنے کے بجائے ظالم و سفاک ،موذی و مکار استعماری طاقتوں کے پروردہ عناصر نے اُردو زبان کی تشبیہات، تلمیحات الفاظ و محاورات اور تراکیب و استعارات کے غلط استعمال سے صحت املا پر وہ ستم ڈھائے کہ زبان کو پشتارۂ اغلا ط بناکر اسے اقوام عالم کی نظروں میں تماشا بنا دیا ۔ عہدِ غلامی میں تو انگریز اپنامنھ ٹیڑھا کرکے غلط اُردو بو لتے رہے مگر آزادی کے بعد یہاں جو صورت حال ہے وہ حد درجہ غیر امید افزا ہے ۔مصنف نے متعدد مثالوں سے واضح کیا ہے کہ ذرائع ابلاغ میں اردو الفاظ کے لہجے کے بارے با لعموم نقالی کی صورت میں غیر معیاری ، غیر سنجیدہ اور غیر مہذب روّیہ اپنایا جاتا ہے ۔ اُردو زبان میں مختلف الفاظ کے املا کی جدا گانہ حیثیت سے انحراف کی قبیح روش نے نو آبادیاتی دور میں گمبھیر صورت اختیار کر لی ۔پروفیسر غازی علم الدین نے اس غلط روش پر کڑی تنقید کی ہے ۔املا کی ان اغلاط کی چند مثالیں پیش ہیں :
غلط املا درست املا 
کسمپرسی کس مپرسی
علمبردار عَلَم بردار
تندرست تن درست
دانشور دانش ور 
عالیشان عالی شان
بانکپن بانک پن
پیشکش پیش کش 
آ ٹھواں باب :قومی زبان اور ہمارے نشریاتی ادارے
سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے موجودہ زمانے میں نشریاتی ادارے رائے عامہ پر دُور رس اثرات مرتب کرتے ہیں۔پروفیسر غازی علم الدین نے نشریاتی اداروں کے کردار کر ہدف تنقید بناتے ہوئے ان کی اغلاط کی جانب متوجہ کیا ہے ۔ان کا خیال ہے کہ اگر نشریاتی اداروں میں کام کرنے والے اہل کار اپنی زبان و بیان کی اصلاح پر مائل ہو جائیں تو ہوا کا رُخ بدل سکتا ہے ۔انھوں نے سائنسی اندازِ فکر اپناتے ہوئے اس تاثر کو مسترد کر دیا ہے کہ غلط العام کو درجۂ قبولیت مِل جاتا ہے ۔ اس باب میں مصنف نے الیکٹرانک میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ کی غلطیوں پر اپنے دلی رنج کا اظہار کرتے ہوئے انھیں اصلاح کا مشورہ دیا ہے ۔مصنف نے ذرائع ابلاغ کی اغلاط کی جو طویل فہرست مرتب کی ہے اس میں سے چند الفاظ درج ذیل ہیں :
غلط الفاظ درست الفاظ 
اَثبات اِثبات
مطم�أ نظر مطمأ نظر 
مضاءِقہ مُضایَقَہ
اَمارت اِمارت
قرض حسنہ قرض حَسَن
اژدہام اِزدِحام
ادائیگی ادائی 
معزز اساتذہ کرام معزز اساتذہ 
نواں باب :اُردو کا مِلّی تشخص اور کِردار
اس باب میں مصنف نے تاریخ اور اس کے مسلسل عمل پر گہری نظر رکھتے ہوئے وطن ،اہل وطن ،ملت اسلامیہ اور انسانیت کے ساتھ اپنی قلبی وابستگی اور وا لہانہ محبت کا بر ملا اظہارکیا ہے ۔اُن کی تحریروں کے مطالعہ اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ ملت کے ساتھ پیہم رابطہ استوار رکھنے سے ہی ملی وقار اور قومی استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔ان کا خیال ہے کے قومی استحکام میں قومی زبان کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے ۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ قومی زبان کی ترقی ہی وہ کلید ہے جس کے وسیلے سے فقید المثا ل کا مرانیوں کے در کھلتے چلے جاتے ہیں۔ 
دسواں باب : اُردو میں عربی کلمات کا خلاقانہ تصرف و تغیر
پروفیسر غازی علم الدین کا شمار پاکستان کے اُن وسیع المطالعہ محققین ،غیر جانب دار ناقدین اور کثیر ا لتصانیف ادیبوں میں ہوتا ہے جن کی وقیع تصانیف کا قارئینِ ادب نہایت شدت سے انتظار کرتے ہیں ۔ انھیں جدید لسانیات سے گہری دلچسپی ہے اور انھوں نے فرانس سے نمو پانے والے عالمی شہرت یافتہ لسانیات کے نئے دبستانوں سے بھی بھر پور اِستفادہ کیا ہے ۔انھیں اس بات کا ادراک ہے کہ پوری دنیا میں اس وقت جدید یدیت ،مابعد جدید یت، ساختیات،پسِ ساختیات اور ردِ تشکیل کی باز گشت سنائی دیتی ہے ۔ اُنھوں نے دنیا کے جن ممتاز ماہرین لسانیات کے تصورات کو اپنے لسانی موضوعات میں جگہ دی ہے ان میں میخائل با ختن (Mikhail Bakhtin)، انتھونی بر گس ( Anthony Burgess)، ایڈورڈ سعید(Edward Said)، ( رولاں بارتھ(Roland Barthes)، پئیر پالو پسولینی (Pier Paolao Pasolini)، ( ژاک دریدا( Jacques Derrida)،سوسئیر(Ferdinand de Saussure)،رومن جیکب سن ( Roman Jakobson)،نو م چومسکی( Noam Chomsky) اور کلاڈ لیوی سٹرا س ( Claude Levi Strauss) شامل ہیں۔ اُردو زبان کے تخلیقی حوالے سے وہ نو م چومسکی کے خیالات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کی تخلیقی فعالیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اُنھوں نے کثیر لسانی مسائل کے موضوع پر بھی پورے اعتماد سے اپنا موقف پیش کیا ہے ۔اپنی تحقیقی کتاب کے اس باب میں مصنف نے اُردو زبان میں عربی کلمات کے خلاقانہ تصرف اور تغیر و تبدل کے موضوع پر اپنے تجربات پیش کیے ہیں ۔ان کا خیال ہے کہ اس قسم کی فعالیت سے اردو زبان کی ثروت میں اضافہ ہوا ہے ۔ 
گیارہواں باب : زبان کا تلفظ 
آواز ،تکلم اور لہجے کے مسلمہ معائر کو بر قرار رکھنے کے سلسلے میں وہ کسی سمجھوتے کے قائل نہیں ۔ اُن کا خیال ہے کہ اُردو زبان میں تکلم کے وہ روایتی انداز جو صدیوں کے تجربات کے بعد ہم تک پہنچے ہیں وہ اب صوتیاتی نشان کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ وہ لہجے اور تکلم کے یہ انداز ہر صورت میں بر قرار رکھنے کے آرزومند ہیں۔تکلم کے یہی روایتی انداز اظہار و ابلاغ کو متنوع جہات سے آ شنا کرتے ہیں اور لسانیات میں ان کی اہمیت سے شپرانہ چشم پوشی ممکن ہی نہیں۔ادب اور فنون لطیفہ میں گہری دلچسپی رکھنے والے اس جری تخلیق کار نے اپنے تجربات اور مشاہدات سے لسانیات میں ایک انفعالی کیفیت کی جانب متوجہ کیا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لسانیات میں ایسی انفعالی کیفیت ایک خاص نوعیت کے فطری اور جبلی میلان کی مظہر ہے جو زبان کو اصلاح اور مقصدی راہ پر چلانے کی غرض سے سامنے آ یا ہے ۔زبان کے نکھار اور تخلیقی فعالیت کے وقار سے تخلیق کار کی جبلتیں بلند آ ہنگ ہو جاتی ہیں۔یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ منفر د اسلوب کے حامل بلند پایہ ادب پاروں سے جبلتوں کی تنظیم کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔ جب تک ہمارے معاشرے میں زبان کی طہارت پر توجہ دی جاتی رہے گی اس وقت اظہار و ابلاغ کی عمومی اہمیت اور وسعت کے بارے میں کوئی ابہام یا شک و شبہ پیدا نہیں ہو سکتا۔ زندہ اور شا ئستہ ہی زبان ہماری تہذیبی و ثقافتی میراث کی مقیاس ہے جو تصورات،رسوم و رواج ،سماجی روّیے ،عادات و اطوار ،معاشرتی زندگی سے وابستہ توضیحات کی حقیقی کیفیات کی امین ہے ۔پروفیسرغازی علم الدین کی مستحکم شخصیت جبر کا ہر انداز مسترد کر دیتی ہے اور وہ حق گوئی و بے باکی کو شعار بناتے ہوئے عصری آ گہی کو پروان چڑھانے کی خاطر پامال راہوں سے بچتے ہوئے نئے زمانے اور نئے افکار کی جستجو کا اپنا مطمح نظر ٹھہراتے ہیں۔ اس ہوائے بے اماں میں وہ اپنے قلبی جذبات ،داخلی کیفیات ، شعوری اور لا شعوری نظام کے تغیر و تبدل کو دبانے کی کوشش نہیں کرتے بل کہ حرفِ صداقت لکھتے وقت تیشۂ حرف سے فصیلِ جبر کے انہدام کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔ ان کے منفرد اسلوب کا جائزہ لینے پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ زبان و بیان میں اصلاح ایک انفعالی نوعیت کی فعالیت ہے جو ان کے ا سلوب میں رچ بس گئی ہے ۔اسی کے اعجا ز سے ان کی تنقیدی تحریروں میں اُردو زبان کی اصلاح کی تمنا عشق کے درجے تک جا پہنچی ہے ۔ زبان میں اصلاح کا یہی جذبہ اس عشق کے وسیلے سے ایک تعمیری اورروحانی قوت میں بدل جاتا ہے جو زبان میں تخریب کی ذمہ دار قوتوں کے روّیے کو تہس نہس کر کے فکری بالیدگی اور معاشرتی بصیرت کی مظہر پاکیزہ زبان کی ترقی کی خاطر ژاک درید ا (Jacques Derrida)کی طرح بے بصری، کو ر مغزی اور ذہنی افلاس کے نمونوں سے آلودہ مثالوں کو زبان سے بے دخل کرنے کے لیے کوشا ں ہے۔ان کی یہ کاوش اصلاحِ زبان کے لیے ایک نیک فال اور خوشیوں کی نقیب ثابت ہو گی ۔ 
لسانی حوالے سے تاریخی شعور کی بیداری کو نصب العین بنا کر پروفیسر غازی علم الدین نے حب الوطنی کی عمدہ مثال پیش کی ہے ۔زبان کی تطہیر کو وہ اذہان کی تطہیر و تنویر کی جانب ایک قدم سے تعبیر کرتے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ شائستہ اور پا کیزہ زبان کو زادِ راہ بنا کر ہر قسم کی عصبیت ،منافرت اور دہشت کو جڑ سے اُکھا ڑ پھینکنے کے کام میں مدد مل سکتی ہے ۔ انھیں اس بات کا پختہ یقین ہے کہ اذہان کو منفر د سوچ اور افکار کو نئی تابندگی عطا کرنے کے سلسلے میں زبان کلیدی کردا رادا کر سکتی ہے ۔اس فطین اورپُر عزم مردِ کوہستانی نے ظلمتِ شب کا شاکی بننے کے بجائے عجز انکسار کی راہ اپنا کر فطرت کے مقاصد کی تر جمانی کرنے کی خاطر زبان دانی کا انتخاب کر کے اپنے دِلِ کی مشعل فروزاں کر کے سرِ را گزار رکھ دی ہے تا کہ اب جس کا جی چاہے اپردو لسانیات کی اس روشنی سے فیض یاب ہو ۔مصنف نے اُردو زبان و ادب اور اذہان کی تطہیر و تنویر کی جو راہ اپنائی ہے وہ ان کی حب الوطنی کی عمدہ مثال ہے ۔ اُردو زبان کی خدمت ان کے نزدیک ایک بہت بڑی نیکی اور عظیم صدقۂ جاریہ ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اُردو زبان کی محبت کو عقیدت کا انداز دے کر اپنے ملی عقیدے کی شان کو دوبالا کرنے پر کمر بستہ ہیں۔ اُردو لسانیات کے موضوع پر اپنی کتاب ’’لسانی مطالعے ‘‘میں پروفیسر غازی علم الدین نے زندگی کی اقدارِ عالیہ اوردرخشاں روایات کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کی جو دردمندانہ مساعی کی ہیں وہ ہر اعتبار سے لائق صد ر شک و تحسین ہیں ۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ اقدار و روایات معاشرتی زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہیں ۔کتاب ’’لسانی مطالعے‘‘ ہمارے قومی تشخص ،تہذیبی و ثقافتی میراث ،تاریخی صداقتوں ،لسانی مسائل،انسانیت کے وقار اور سر بلندی،احتسابِ ذات ،ملی نصب العین،حریتِ ضمیر سے جینے کی روش اورحریتِ فکر و عمل کے ابد آ شنا تصورات کے ساتھ ہمہ گیر انسلاک کی مظہر ہے ۔ مجھے اس بات کا پختہ یقین ہے کہ ’’لسانی مطالعے ‘‘کے اعجاز سے اردو زبان و ادب کو نئے آ فاق تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملے گی اور اردو زبان کے فطین تخلیق کار ستاروں پر کمند ڈال کر اپنی زبان کی شگفتگی اور شائستگی کا اثبات کریں گے ۔
—————————————————————————————————————————————————————-
Dr.Ghulam Shabbir Rana (Mustafa Abad Jhang City) 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com