پریم چند کے افسانوں میں دیہی عناصر : محمد خالد ندیم

Khalid Nadeem

 

یوں تو قصے کہانیوں کا رواج بہت پرانا ہے زبانوں کے بننے سنورنے اور وجود میں آنے سے پہلے ہی سے قصے کہانیوں کے سننے اور سنانے کا رواج تھا بادشاہوں اور نوابین کے زمانے میں باقاعدہ طور پر قصے کہانیوں سنانے والے رکھے جاتے تھے اور وہ روزکوئی نئی کہانی یا کہانی کے اندر ہی نیا موڈ پیدا کرکے اسے ختم کر دیتے اور اگلے روز پھر اسی شوق وذوق کے ساتھ سننے کا دور چلتا۔ اس سے دو فائدے ہوتے تھے ایک تو سننے والوں کا شوق اور دلچسپی بڑھتی تھی اور دوسرا سنانے والوں کی روزی روٹی کا ذریعہ بنا رہتا تھا۔ اس کے بعد زمانہ بدلا ۔ اور داستانیں جو سینہ بہ سینہ چلتی رہتی تھیں باقاعدہ طور سے صفحۂ قرطاس پر رقم کی جانے لگیں پہلے داستانوں کا دور رہا پھر ناولوں کا دور آیا اور پھر دھیرے دھیرے زمانے کے انقلاب اور تقاضائے وقت کے مطابق افسانوں کا دور آیا افسانہ نویسی کی شروعات کس نے کی اس میں محققین کی مختلف رائے ہے لیکن باقاعدہ اور باضابطہ طور سے افسانہ کا نقطۂ آغاز منشی پریم چند سے مانا جاتا ہے اور وہی افسانے کے بابا آدم کہلاتے ہیں۔ منشی پریم چند اُردو افسانہ نگاری میں اول مقام رکھتے ہیں اور اس میدان میں ان کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا۔ جتنے بہترین افسانے منشی پریم چند نے لکھے ہیں شاید کسی اور نے لکھے ہوں۔کیوں کہ اُن سے پہلے جو افسانے سننے کو ملتے تھے وہ صرف خیالی ہوا کرتے تھے۔ جنہیں سن کر بھی سننے والے کو یہ اندازہ آسانی سے ہوجاتا ہے کہ وہ صرف خیالی باتیں ہیں جنہیں سن کر عام شخص کو وہ اپنی بات نہیں لگتی تھی۔ مگر منشی پریم چند کے افسانے کیوں کہ حقیقت نگاری سے وابستہ تھے، اور پڑھنے پر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر کسی کی اپنی ہی کہانی ہو۔ کیوں کہ انہوں نے عام انسانوں اور انسانی زندگی سے وابستہ مسائل اور اِشوزکو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے۔ اُردو کے ساتھ ساتھ منشی پریم چند ہندی کے بھی اتنے ہی بہترین افسانہ نگاراور ناول نگار مانے جاتے ہیں ان کے افسانوں ، ناولوں کے دنیا کی بہت سی زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں۔
منشی پریم چند کو قصہ گوئی کا شوق بچپن سے ہی تھا۔ دوسرے بچوں کی طرح انہیں بھی اپنی دادی ماں سے قصے سننے کو ملے اور وہ ایسے ذہن نشین ہوئے کہ اُن کہانیوں نے ان کے اندر چھپے فن نے افسانہ نگاری کو جنم دیا۔ پریم چند نے اپنی تمام زندگی دیہات میں گزاری ۔وہ گاؤں کے متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ اس لئے ان کا بچپن بھی عام لڑکوں کی طرح کھیتوں کھلیانوں میں گزرا تھا۔ وہ بہت شرارتی تھے دیہاتی لڑکوں کے ساتھ ملتے تو نئی نئی شرارتوں میں مشغول رہتے تھے۔ مٹر اور ایکھ کے ساتھ ساتھ وہ آم بھی کھاتے اور کوہلو میں جاکر تازہ رس پیتے اور کچا گڑ کھانے کے بھی شوقین تھے۔ اسی کے ساتھ ساتھ پریم چند کو کھیلوں میں بھی بے حد دلچسپی تھی۔ یوں تو وہ سبھی کھیل کھیلتے تھے مگر گلی ڈنڈا ان کا عزیز ترین کھیل تھا۔ وہ پورے پورے دن گلی ڈنڈا کھیلتے رہتے۔ وہ اپنی باری حاصل کرنے کے لئے بڑی سے بڑی چیز بھی قربان کر دیتے تھے۔ ان کے ساتھیوں میں سب سے زیادہ دم دار ٹول مارتے تھے۔ ’’گلی ڈنڈا‘‘ افسانے میں بھی انہوں نے اپنی رغبت اور اپنے ایک دوست’’ گیا‘‘ کو بہت یاد کیا۔ بچپن کی انہیں شرارتوں اور معمولی گھرانوں کے لڑکوں سے دوستی کی وجہ سے ان کی زندگی کے وہ دن سہانے گزرے اور نقش کرتے چلے گئے۔ پریم چند کم عمرسے ہی حساس طبیعت کے مالک تھے۔ اور گاؤں کی زندگی ، رہن سہن اور حالات کا انہوں نے بہت اچھی طرح مشاہدہ کیا تھا۔ دیہی سماج کی مفلوک الحالی اور پستی و بلندی کا بغور مطالعہ کیا تھا۔گاؤں والوں پر ساہوکار ، سیٹھ ، بنئے، پٹواری اور بڑے زمین داروں کے مظالم ہوتے ہوئے دیکھے کسانوں کی سادگی اور جہالت کو دیکھا، پرکھا اور اس قسم کی بہت سی باتیں انہیں بار بار اکساتی رہیں۔ کچھ اس طرح کی باتیں ان کے دل میں گھر کر گئیں، اور ان سب چیزوں کی وجہ سے ان کا دل بے حد متاثر رہتا۔ اسی کے عین مصداق گاندھی جی کہتے تھے ۔’’ ہندوستان گاؤں میں بستا ہے‘‘ گویا جس نے گاؤں کو اپنی تصنیف کا موضوع بنایا تو سمجھو اس نے ہندوستان کی ساری منظر کشی کو مٹھی میں بند کرلیا۔ پریم چند نے ہندوستان کے گاؤں میں آنکھ کھولی تھی گاؤں کی سیدھی سادی زندگی سے انہیں ہمیشہ لگاؤ رہا۔ بقول رشید صاحب۔’’بیشک پریم چند کا ہیرو گاؤں کا ادنیٰ کسان ہے جس پر اب تک ہماری نظر نہیں گئی تھی۔ اگر چہ ’’ابن الوقت‘‘ میں نذیر احمد نے سب سے پہلے دیہاتوں کے معاشی، معاشرتی، اقتصادی اور سماجی حالات پر سنجیدہ طورپراقدام اٹھائے تھے ڈپٹی نظیر احمد کا کمزور پہلو یہ ہے کہ وہ خود کسانوں اور دیہاتوں کی زندگی سے ناواقف تھے۔اسی وجہ سے وہ اپنے ناول میں کسانوں اور دیہی زندگی کی سچی ترجمانی کرنے سے قاصر رہے۔ ’سجاد حسین‘ نے ’’میٹھی چھری‘‘ میں کسانوں پر ہونے والے مظالم کی ایک جھلک پیش کی ہے لیکن ان کے یہاں بھی وہی گاؤں سے ناواقفیت وابستہ ہے۔ پریم چند پہلے فنکار ہیں جو گاؤں کی مٹی سے ابھرے اور آسمان کی بلندیوں پرجا پہنچے۔ ‘‘
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ انسان کی شخصیت میں اس کے ماحول، سماج، معاشرے اور سوسائٹی کا بہت بڑا دخل ہوتا ہے وہ شعوری اور غیر شعوری طور پراپنے ارد گرد کی مسرت اور غیر مسرت فضا سے متاثر ہوتا رہتا ہے۔ پریم چند کے حالاتِ زندگی اور افسانوں کو پڑھ کر یہ اندازہ بخوبی ہوجاتا ہے کہ ان کے بہت سے افسانے ان کی ذاتی زندگی سے متاثر اور ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔ جو ذاتی دکھ انہوں نے اپنی خانگی زندگی سے اٹھائے وہ ان سے بے زار نہیں ہوئے بلکہ ان سے تحریک اور فیضان حاصل کرکے افسانے کے فن کو ایک نئی جلا بخشی۔ اور یہی وجہ ہے کہ منشی پریم چند نے تقریباً 300افسانے قلم بند کئے۔ مگر ان کے افسانوں کا خاص محور اور موضوع دیہاتی اور دیہات کے لوگوں کی زندگی کی ترجمانی کرتا تھا۔ ویسے تو فنکار کے تمام تر ذخیرہ میں اس کے ذاتی مشاہدات، تجربات کا دخل وہتا ہے مگر پریم چند کے افسانوں کو پڑھ کر یہ اندازہ اور احساس شدت کے ساتھ ہوتا ہے کہ جس طرح انہوں نے گاؤں کے ماحول، رہن سہن، تہذیب، رسم ورواج، سنسکار اور دیہات کے باشندوں میں پھیلی برائیوں میں ڈوب کر افسانے کے تار و پود تیار کئے ہیں، یہ انہی کا ملکہ ہے۔ یہ حقیقت مسلم ہے کہ پریم چند کے افسانوں میں گاؤں اور گاؤں کے لوگ بستے ہیں، جیتے ہیں، سانس لیتے ہیں، چلتے، پھرتے ہیں۔ اور یہ بستے اور جیتے ہوئے کردار ہمارے ذہنوں میں ایسے رچ بس گئے ہیں کہ ہمیں منشی پریم چند کے کمالِ فن پر رشک ہوتا ہے۔ ایسا رشک جس میں حقیقت کا عنصر تحلیل ہے، شرافت کی چاشنی ہے اور زندگی کی روح ہے۔ گواگر یوں کہہ دیا جائے کہ جس طرح ہندوستان کی 75فیصد آبادی دیہات میں بستی ہے اسی طرح اُردو ادب کا 75 فیصددیہی ادب منشی پریم چند کے فسانوں میں سمایا ہوا ہے۔
منشی پریم چند گاؤں کے پروردہ تھے اس لئے انہوں نے دیہات کی منظر کشی ، منظر نگاری اور جزئیات نگاری جتنے شاندار اسلوب اور
پراثر انداز میں کی ہے شاید اُردو کے دوسرے افسانہ نگارنے کی ہو۔ ویسے تو عبدالحلیم شرر کے ناولوں میں منظر نگاری اپنے انتہائی درجے کو پہنچی ہوئی ہے لیکن جس حقیقت کے ساتھ منشی پریم چند نے دیہی منظر کشی کو اپنے ناول اورافسانوں میں برتا ہے وہ انہیں کا ملکہ ہے۔ ان کا دیہی اسلوب اس قدر شفاف، چمکیلا، نرمل اور نکھرا ہوا ہے کہ حقیقت کے پرتو میں بے ساختہ ندرت پن آجاتا ہے اور اسی دیہی اسلوب کی بنا پر منشی پریم چند کرداروں کے تئیں صحیح انصاف کرپاتے ہیں۔ ان کے افسانوں کے کردار محض تفریح و تفنن طبع کا سامان نہیں ہوتے بلکہ سبق آموز اور نصیحت آمیز ہوتے ہیں۔ وہ غریبوں، مظلوموں، بے کسوں اور بے بسوں لاچاروں، ناداروں کی بے بسی مظلوموں پر معاشی و اقتصادی بحرانی، بھوک مری اور ان پر ہونے والے ساہوکاروں کے ظلم وجبر اور زیادتیوں کو نفسیاتی رو سے اس طرح پیش کرتے ہیں کہ جس میں تفکر اور آزادی کا جذبہ پنہاں ہوتا ہے۔ پریم چند کے افسانوں کا موضوع ہمیشہ حقیقت پر مبنی رہا۔ انہوں نے نے جو دیکھا پرکھا اور تجربہ کیا۔ وہی قلم بند کرکے اپنے افسانوں میں پرویا۔ اس لئے وہ جہاں کہیں اپنے دکھ کی عکاسی کرتے ہیں تو بالکل حقیقت معلوم ہوتا ہے۔نیز انہوں نے اپنے آس پاس کے ماحول گاؤں والوں، کسانوں، مزدوروں، غریب غرباء اور بیوی بچوں کی حالت کو دیکھ کر اپنے افسانوں میں ان کرداروں کو زندہ کردیا۔ اسی طرح ایک بارپروفیسر رشید احمد صدیقی منشی پریم چند سے کہہ بیٹھے ۔
’’منشی جی آپ اتنے گاؤں کے نہیں معلوم ہوتے جتنے خود گاؤں ہیں۔‘‘
مسکرائے اور بولے۔ ’’ گاؤں نہیں گاؤں کا گھوڑا ہوں۔‘‘
رشید صاحب بولے ۔ ’’ یہی سہی۔ ایسا گھوڑا جس پر کاشی پھل کی بیلیں ہوں، پھول کھلے ہوں، اور پھل نکلے ہوں۔‘‘
ایک سرد آہ کے ساتھ بولے۔
’’ نہیں صاحب جس بیل پھل کی بات آپ کر رہے ہیں وہ کہاں؟ میری قسمت میں پھول پھل نہیں بننا ہے، گھورے میں مل جانا ہے تب کہیں جاکر شاید اس پر بیل چڑھے پھول کھلیں گے۔ اور پھل آئیں گے۔‘‘
(فروغِ اُردو لکھنؤ ، پریم چند نمبر)
ان باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ پریم چند کس قدر سادگی و عاجزی اور انکساری والے انسان تھے۔ بلاشبہ غیر معمولی فنکار مٹ کر ہی آرٹ کو تخلیقی توانائی عطا کرتاہے۔ ان کے سینے میں ہمیشہ ایک درد منددل دھڑکتا رہا۔ یہ شاید ان کے اپنے ماحول کی ہی دین تھی۔ساتھ ہی ساتھ وہ اپنے افسانوں میں اعلی، ادنیٰ اور اوسط، تینوں درجے کے کردار پیش کرنے میں کمال رکھتے ہیں۔ پریم چند کے افسانوں میں داستان کی رنگینی اور رومان کی ہلکی سی چاشنی بھی ہے۔ ان کی ابتدائی کہانیوں کا مجموعہ ’’سوزِ وطن‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ جس میں پانچ کہانیاں ہیں اور چار کہانیاں بالخصوص حب وطن پر مبنی ہیں۔ یہ افسانے انہوں نے 1905 سے 1908 کے دوران لکھے اس وقت پریم چند نواب رائے کے نام سے لکھتے تھے۔ اور چونکہ ان کی کہانیوں میں حب الوطنی اور وطن پرستی پر زور دیا گیا تھا اور کچھ انگریزی حکومت کے خلاف باغیاز عناصر بھی تھے۔ جن کا مقصدعوام کو بیدار کرنا تھا۔ مگر انگریزی حکومت نے سوزِ وطن کی کاپیاں ضبط کرلیں۔ ان کی مقبولیت کی سب بڑی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے حقیقت نگاری کو اپنا نصب العین بنایا نیز سماج اور معاشرے کے عصری تقاضوں اور سماجی وسیاسی اور سرمایہ دارانہ نفسیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے وہ افسانے قلم بند کئے جو حقیقت وصداقت کے بہت قریب تھے اور تصنع وتکلف اور مافوق الفطرت جیسے عناصر سے پاک تھے۔1935میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اسی لئے انہوں نے کہا تھا۔

’’ہماری کسوٹی پر وہ ادب پورا اترے گا جس میں تفکر ہو، آزادی کا جذبہ ہو، حسن کا جوہر ہو، تعمیر کی روح ہو، زندگی کی حقیقتوں کی روشنی ہو، جو ہم میں حرکت ، ہنگامہ اور بے چینی پیداکرے، سلائے نہیں، کیوں کہ اب زیادہ سونا موت کی علامت ہوگی۔‘‘
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ معیارا ور مقدار کے اعتبار سے منشی جی نے اُردو ادب میں افسانے کی روایت کو ایک الگ مقام دیا ۔ انہوں نے اُردو افسانوں کے ذریعہ اُردو ادب کو اعلیٰ منازل طے کرنے کی راہ دی۔اسی طرح مختصر اُردو افسانے کے لئے بھی ان کی خدمات کبھی بھلائی نہیں جاسکتی۔ بقول مولوی عبدالحق:
’’ہندوستانی ادب میں پریم چند کے بڑے احسانات ہیں انہوں نے ادب کو زندگی کا ترجمان بنایا۔ زندگی کو شہر کے تنگ گلی کوچوں میں نہیں بلکہ دیہات کے لہلہاتے ہوئے کھیتوں میں جاکر دیکھا۔ انہوں نے بے زبانوں کو زبان دی۔ ان کی بولی میں بولنے کی کوشش کی۔ پریم چند کے نزدیک آرٹ ایک کھونٹی ہے۔ حقیقت کو لٹکانے کے لئے۔ سماج کو وہ بہتراور برتر بنانا چاہتے تھے اور عدم تعاون کی تحریک کے بعد یہ ان کا مشن ہوگیا تھا۔ پریم ہمارے ادب کے سرتاجوں میں سے تھے۔ وقتی مسائل کی اہمیت کوانہوں نے شدت سے محسوس کیا ۔ افسانہ نگاری میں ان کا وہ مرتبہ ہے جو شاعری میں مولانا حالیؔ کا۔‘‘
منشی پریم چند نے چاہے بچپن کو بنیاد بنا کر افسانے قلمبند کئے ہوں یا چاہے اپنے تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر دوسرے افسانے لکھے ہوں، بچوں کے حوالے سے رقم کئے ہوں یا عورتوں مردوں اور بزرگوں کی نفسی وجنسی زندگی کوپیش کیا ہے۔ دیہات کی جزئیات نگاری کے عناصر در آجاتے ہیں ۔ بڑے گھر کی بیٹی، روشنی، وفا کی دیوی، بڑے بھائی صاحب، گلی ڈنڈا، رام لیلا، زیور کا ڈبہ، پوس کی رات، عیدگاہ وغیرہ افسانوں میں گاؤں کے رہن سہن، دیہاتیوں کے خیالات ان کے نظریات، رسومات اور سنسکاروں اور ضعیف الاعتقادیوں کو بخوبی دیکھا جاسکتا ہے ۔ افسانوں کو پڑھ کر قاری کی آنکھوں کے سامنے گاؤں کا سارا منظر پھر جاتا ہے۔ اس طرح ہم یقین اور وثوق کے استھ کہہ سکتے ہیں کہ منشی پریم چند نے اپنے افسانوں اور ناولوں میں دیہات کی زندگی اور وہاں کے بسنے والوں کو جس خلوص ، دیانت داری اور تعمیری جذبے کے ساتھ پیش کیا اس سے افسانے کے فن کو فقط جلا ہی نہ ملی بلکہ آنے والی نسلوں کی راہیں بھی ہموار ہوئیں۔منشی پریم چند کے حوالے سے یہی کہا جائے گاکہ منشی پریم چند جیسا افسانہ نگار، ناول نگار اور حقیقت شناس شاید ہی کوئی دوسرا پیدا ہو۔ کیوں کہ انہوں نے ایک عام ہندوستانی و نال اور اپنے افسانوں کا ہیرو بنا کر اور زندگی کی کھردری حقیقتوں کو پیش کرکے اُردو ناول و افسانہ نگاری کو نئی سمت عطا کی۔ اور ن کا قلم آخری ناول ’’منگل سوتر‘‘ کو لکھتے ہوئے بیچ میں چھوڑ کر ہی 7اکتوبر 1936کو ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگیا۔
***

رہائش: دفتر:
114، جامع مسجد و مدرسہ کیمپس ہریانہ اُردو اکادمی(حکومتِ ہریانہ)
منسادیوی روڈ، منی مزرعہ پی16سیکٹر14، پنچکولہ(ہریانہ)
چنڈی گڑھ (یوٹی) رابطہ:9988071006

3 comments

  1. جناب عالی!

    بے حد شکریہ آپ کی نوازشوں اور محبتوں کو سلام

    خالد ندیم

    +91-9988071006

  2. ٓعبدالکریم

    خالد بھائی بہت خوب ماشااللہ ایک اچھی کاوش ہے اللہ اپکو مزید ترقیات سے نوازے اٰمین۔۔۔۔۔۔

     

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com