افتخار راغبؔ کی غزل گوئی : ایک تنقیدی مطالعہ

افتخار راغبؔ کی غزل گوئی : ایک تنقیدی مطالعہ
ڈاکٹرحسن رضا
(صدر ادارہ ادبِ اسلامی ہند)
میں ابتداء میں سائنس کا اسٹوڈنٹ تھالیکن ادب سے ذوقی مناسبت تھی اس کے باوجود طبیعت ادبی حلقوں سے وابستگی پر مائل نہ ہوسکی۔بعد میں پٹنہ سائنس کالج سے بی ایس سی کے بعد آرٹس کی طرف آیا اور شعبہ اردو سے وابستہ ہوا تب بھی یہ معاملہ کلاس روم، کالج اوریونیورسیٹی کیمپس سے آگے نہ بڑھ سکا۔ چنانچہ اس پورے عرصہ تعلیم وتدریس میں کسی ادبی انجمن، محفلِ شعر و سخن یاحلقہ یارانِ نکتہ دان میں سرگرم حصہ داری نہیں بڑھ سکی۔ اس محرومی میں اپنی " کوتاہ دستی، غیروں کی تنگ دلی" مشیت ایزدی یا آداب مے و مینا کس کاکتنا دخل ہے کہنا مشکل ہے۔ بہرحال اسی میں ایک فاصلے سے میرے ادبی ذوق کی تسکین کا سامان ہوتا رہا۔ عجیب اتفاق کہ رانچی یونیورسٹی سے سبکدوشی کے بعد دوستوں اور دشمنوں نے مل کر سرِ محفل انتقام لیا اور مجھے ’ادارہ ادب اسلامی ہند‘ کا صدر منتخب کرکے پرانا حساب چکانے کی آزمائش میں ڈال دیا۔
نششت پہلوئے من و از رقیب جام گرفت 
گُلِ تلافی من رنگ انتقام گرفت 
(نظیری ) 
بہر حال اس کے بعدسے دشتِ ادب کی سیاحی، تنظیمی سرگرمیوں کی نرمی وگرمی اور ادباء وشعراء کے التفات وبے رخی کے کھٹےّ میٹھے مزے چکھنے پر مجبور ہوں اور اسی بہانے مجھے دو برس قبل قطر کے ادبی حلقوں سے استفادے کا موقع ملا۔
اسی سفر کے حاصلات میں انجینئر افتخار راغبؔ صاحب بھی ہیں۔ وہیں ان سے ملاقات بات ہوئی۔ ان کی سادگی، اخلاص، ادب اسلامی سے وابستگی کے ساتھ مختلف ادبی حلقوں میں ان کی یکساں مقبولیت کا اندازہ ہوا۔ ان کی شاعری میں عصری احساسات کی جگمگاہٹ اور عشقیہ جذبات کی جھلملاہٹ سے جو چاشنی پیدا ہوتی ہے اس سے بھی لطف اندوز ہونے کا موقع ملا۔ وہاں ان کو مشاعروں میں سنا۔ تفہیمِِ غالبؔ کے تحت ’’ گزرگاہِ خیال فورم ‘‘ کے زیرِ اہتمام ایک سادہ سی ادبی نشست میں بھی شریک ہوا جس میں غالبؔ کی یہ غزل زیرِ تفہیم تھی جس کا مطلع ہے:
بلا سے ہیں جو یہ پیشِ نظر در و دیوار
نگاہِ شوق کو ہیں بال و پر درو دیوار 
اس پروگرام کے آخر میں راغبؔ صاحب نے اِسی غزل کے بعض مصرعوں پر مزاحیہ اور طنزیہ تضمین سنائی تھی۔ اس سفر کے دوران مجھے ان کی تخلیقی ذہانت کا اندازہ ہوا اور یہ بھی اندازہ ہوا کہ شاعری ان کی شخصیت کا فطری حصہ اورقدرت کا عطیہ ہے ۔اس میں صرف کسب نہیں ہے۔ اس وقت تو مجھے اتنا ہی اندازہ ہوسکا تھاجیسا کہ ابتدا ء میں ذکر کیا کہ میں محفلِ مشاعرہ کا فعال سامع نہیں ہوں اس لیے شعرائے کرام کے بارے میں میری معلومات زیادہ تر واجبی رہتی ہے۔ جب تک ان کا مطالعہ نہ کروں یعنی جب تک میں ان کا قاری نہ بنوں اس پہلو سے راغبؔ صاحب کے بارے میں بھی اس سفر میں اتنا ہی کچھ اندازہ ہوسکا جن کا ذکر ابھی کیا گیا ہے۔
البتہ بعد میں ان کی غزلیں زیر مطالعہ آتی گئیں اور ان کی شاعری کے اصلی جوہر کو سمجھنے کا موقع ملا۔ تب پتہ چلا کہ ان کاشاعرانہ کرافٹ کیا ہے جس سے ان کی غزلوں میں "کیا جانے دل کو کھینچے ہے کیوں شعر میر ؔ کے " والی کیفیت پیدا ہوتی ہے.۔یہ بھی عقدہ کھلا کہ موصوف کے تین مجموعۂ کلام منظر عام پر آچکے ہیں۔ ۱۔لفظوں میں احساس ۲۔ خیال چہرہ اور ۳۔غزل درخت۔ مزید یہ کہ ان کے کلام پر کلیم عاجز جیسا میرؔ کے لہجے پراپنی علیحدہ شناخت کا لوہا منوانے والا شاعر داد و تحسین دے چکا ہے۔ڈاکٹر احمد سجاد جن کی تنقیدی بصیرت تعمیر پسند مصنفین یا اخلاقی شاعری کی نبض پکڑنے میں ایک خاص ملکہ رکھتی ہے انہوں نے بھی راغبؔ کی غزل کو سندِ توصیف عطا کی ہے۔انتظار نعیمؔ جیسا خالص کمٹمنٹ کا شاعر جو حالیؔ سے بھی دو قدم آگے شاعری میں افادیت اور مقصدیت کا قائل ہے اس نے بھی راغبؔ کی غزلوں میں احساسات کی جو دنیا آباد ہے اس کی خوب پذیرائی کی ہے۔ مجھے بھی دلچسپی ہوئی کہ واقعی راغبؔ کی غزلوں میں جو سادگی اور تازگی ہے اس راز کو سمجھا جائے۔ اس کے لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پہلے شاعری کی بلند وپست سطح کو اچھی طرح سمجھا لیا جائے ۔ سب جانتے ہیں کہ شاعری میں تخلیق کی بنیادی طور پر دو سطحیں ہوتی ہیں ۱۔قافیہ بند مضمون آرائی ۲۔معنی آفرینی۔ مضمون بندی اور قافیہ پیمائی کی شاعری سطحی، تفریحی اور عارضی ہوتی ہے۔ ایسی شاعری کبھی کبھی محفل میں واہ واہ سبحان اللہ اور مکرر ارشاد کی داد بھی وصول لیتی ہے لیکن بہر حال وقت کے ساتھ اس پر گرد پڑتی جاتی ہے اورجلد باسی پن کا شکار ہوجاتی ہے۔ بڑی شاعری معنی آفرینی کی ہنر مندی سے پیدا ہوتی ہے ۔ اس سے بصیرت اور جمالیاتی مسرت دونوں حاصل ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ جلدباسی پن کا شکار نہیں ہوتی بلکہ حالات اور تجربات کی روشنی میں معنی کے نئے پہلو اجاگر ہوتے رہتے ہیں اور شاعری کی معنویت بڑھ جاتی ہے۔جہاں تک مضمون بندی اور قافیہ پیمائی کاسوال ہے۔ یہ کسی مضمون کو نحوی ترکیب کے بجائے وزن اور بحر میں بیان کردینے کانام ہے۔ لیکن معنی آفرینی بالکل دوسری شے ہے۔ یہاں پر یہ سوال بجا ہے کہ الفاظ میں معنی کیسے پیدا ہوتے ہیں۔ جہاں تک لفظوں کی بات ہے لغت (ڈکشنری) میں کچی اینٹ کی طرح بے جان معنوی ربط کے بغیریہ الفاظ ڈھیر لگا دیے جاتے ہیں یا پھر اصحاب کہف کی طرح ذہنِ انسانی کے غاروں میں نیم مردہ اور نیم زندہ حالتوں میں کروٹیں لیتے رہتے ہیں۔ ایک اچھا فنکار ان کو استعمال کرکے ایک تازہ لسانی اورجمالیاتی تناظر فراہم کردیتا ہے۔ لفظوں کو نئے نئے اور تازہ بہ تازہ جمالیاتی تناظر فراہم کر کے اس کی معنویت میں اضافہ کرنا معنی آفرینی ہے۔اس سلسلے میں شاعر لفظوں کے افقی اورعمودی دونوں طرح کے انتخاب سے کام لیتا ہے۔ عمودی انتخاب کا مطلب ذہن میں موجود مختلف الفاظ میں کسی ایک موزوں لفظ کا استعمال اور افقی انتخاب کا مطلب لفظوں کے درمیان باہمی مناسبت اور رشتہ داری،ان کی باہمی نشست ترتیب اور کیمیائی ترکیب ہے جن کے ذریعہ احساسات ،جذبات، تجربات، تخیلات اور تعقلات کو ایک نیا جمالیاتی تناظر فراہم کیاجاتا ہے۔ اسی سے شاعر کے فن اور کرافٹ کو سمجھا جاتا ہے۔ شاعری میں یہ تناظر کبھی الفاظ میں احساسات کو سمو کر ،کبھی تخیلات کو پرو کر اور کبھی فکر وشعور کو پگھلا کر فراہم کیا جاتا ہے ۔اردو شاعری کی روایت میں تین بڑے شاعر ہیں۔ میر تقی میرؔ ، اسداللہ خان غالبؔ اور تیسرے ڈاکٹر محمد اقبالؔ ۔ یہ تینوں تین مختلف فنی تجربے کے امام ہیں۔ میرؔ احساسات، غالبؔ تخیلات اور اقبالؔ افکار و خیالات یعنی تعقلات کے ذریعہ معنی آفرینی کی ہنر مندی دکھاتے ہیں۔ 
اب آئیے دیکھیں ! راغبؔ یہ کام کیسے اور کس حد تک کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اس پہلو سے اگر افتخار راغبؔ کی شاعری کا مطالعہ کیا جائے تو صاف اندازہ ہوتا ہے کہ وہ دبستانِ میرؔ کے شاعر ہیں یعنی وہ احساسات کی تازہ کاری سے معنی آفرینی کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ کبھی بہت کامیابی سے یہ کام کرجاتے ہیں اور اس کے لیے وہ تشبیہ، تلمیح اور استعارے کا بھی استعمال کرتے ہیں البتہ کبھی پرانے احساسات کی تکرار تک محدود رہ جاتے ہیں۔ ہر شاعری میں بلند و پست کی مثالیں مل جاتی ہیں ۔راغب ؔ کے شعری مجموعے کے ناموں کے جائزے سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے ۔ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’لفظوں میں احساس‘‘ صرف ان کی تخلیقی ہنر مندی کا اظہار نہیں بلکہ ان کے تنقیدی شعور کا بھی اعلانیہ ہے۔ یہ آسان کام نہیں ہے۔ انسانی زندگی کے پورے نظامِ تعلق اس کے حادثات اور تجربات کو احساس کے نئے نئے سانچے میں ڈھال کر اس طرح پیش کرنا کہ وہ عام انسانوں کے احساسات کا حصہ بن جائے ۔یہ بڑی بات ہے۔ میرؔ کی شاعری میں زخموں کی جو کائنات ہے اُس میں اس وقت کے عام انسانوں کے زخموں کی ٹیس صاف دکھائی دیتی ہے۔ اسی طرح راغبؔ کی شاعری میں جو دردِ دل کا حال ہے اس میں بھی آ ج کے عام انسانوں کے مجروح احساسات کا عکس ہے۔ ان کے تازہ اشعار کو بھی دیکھیے تو آپ پائیں گے کہ ان میں عصری احساسات کو اپنے تخلیقی کمال سے ایسی تازگی بخشی گئی ہے کہ ہم سب لوگ اسی احساساتی فضا میں سانس لینے لگتے ہیں اور ایک تازگی کا احساس پیدا ہوجاتا ہے جیسے یہ احساسات دوبارہ منکشف ہو رہے ہیں۔ یہی اصل کمال ہے جو راغبؔ کی شاعری میں نئی تاثیرپیدا کردیتا ہے۔ 
ان کے دوسرے مجموعے کا نام’’ خیال چہرہ‘‘ ہے۔اس میں بھی اصلاً چہرہ انسانی جذبات واحساسات کی لکیروں کو پڑھنے کا سب سے معتبر ذریعہ ہے۔ خود راغبؔ کے تخلیقی لاشعور میں یہ بات پوشیدہ ہے جس کا اظہار ان کے اس شعر میں ہوا ہے:
کس درجہ ہے باکمال چہرہ
کہہ دیتا ہے دل کا حال چہرہ
میرا خیال ہے کہ انہوں نے ’’خیال چہرہ‘‘ نام اسی لیے رکھا ہے کہ ان کی شاعری احوالِ دل سے چھلکنے والے خیالات اور چہرہ سے پڑھے جانے والے احساسات کی شاعری ہے۔ اسی طرح ’’غزل درخت‘‘ میں غزل تو صنف شاعری کا اظہار ہے لیکن درخت روح شاعری کی علامت ہے ۔درخت کے ساتھ دھیان، گیان، مسافرت اور اس طرح کے دوسرے احساسات سامنے ضرور آتے ہیں لیکن درخت اصلاً گھنی چھاؤں اور سایہ کی علامت ہے۔شاعر نے جلتی تپتی ہوئی تیز دھوپ میں غزل گوئی کے ذریعہ جلتے ہوئے احساسات کو ایک سایہ فراہم کیاہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ احساسات کے حوالے سے جہاں راغبؔ دبستان میرؔ سے وابستہ معلوم ہوتے ہیں وہی تڑپنے میں وہ شادؔ عظیم آبادی کی طرح اظہار سے تسکین حاصل کرنے کے قائل ہیں۔
ان کی شاعری کا چوتھا مجموعہ’’ یعنی تو‘‘اظہار محبت کا کلائمکس ہے یعنی جس میں ’’ تم میرے پاس ہوتے ہو گویا ‘‘ کی کیفیت ہر آن پائی جاتی ہے۔میرؔ نے بھی اس کیفیت کا اظہار کیا ہے۔
تیرے دھوکے میں یہ دلِ ناداں
ہر کسی کو پکار اٹھتا ہے
میرؔ کا یہ شعر بہت اونچا ہے لیکن اس شعر میں محبوب سے ہم کلامی کا جو فریب ہے اس کو ’’تیرے ‘‘یعنی واحد حاضر کے صیغہ سے ظاہر کیا گیاہے حالاں کہ محبوب نظر سے اوجھل ہے لیکن واحد حاضر سے تخاطب یعنی تیرے دھوکے نے اس کو حضور عطا کردیا ہے۔عشق کی یہ انتہا ہے کہ وہ غیاب کو ایک حضوری عطا کردے۔ہجر کو وصل کی لذّت سے بدل دے۔ راغبؔ کی یہ غزل ’’یعنی تو ‘‘اسی احوالِ حضوری کاشاعرانہ اظہار ہے اور اس کا یہی اصل حسن ہے۔اس غزل کا لطف محبوب کے غیاب میں حالتِ حضوری سے چھلکنے والے احساسات کی بازیافت سے کیا جاسکتا ہے اور پوری غزل میں یہی روح کارفرما ہے یعنی حجاب کے بجائے وصال کی کیفیت ہے۔اس میں محبوب کو جن جن چیزوں سے تشبیہ دی گئی ہے وہ حسن کا استعارہ بن جاتا ہے اور ان میں احساسِ عشق او ر جمال کی فراوانی محسوس کی جاسکتی ہے۔
مل گیاعشق کو ایک حسن محل ،مضطرب دل کو ملا صبر کا پھل ،لب پر ہے ہمیشہ وہ غزل ، دلربائی کا حسین تاج محل اور بس تیرا بدل جیسے اسلوب سے ظاہر کیا گیا ہے۔ عشق کی ایک طرف انتہاء اور دوسری طرف اظہار میں سنبھلی ہوئی کیفیت اس غزل کو شاہکار بنا دیتی ہے۔راغبؔ اپنی عشقیہ شاعری میں حسّی تجربات کے مختلف پہلوؤں کو ابھار کر انھیں لائقِ اظہار بنا دیتے ہیں۔ان کے اظہار کا اسلوب متصوفانہ نہیں ہے بلکہ عاشقانہ ہے جس سے ذوقِ حسن کی سیرابی کا سامان اخلاقی بلندی کے ساتھ ہوتا ہے ۔ان کا تصورِ عشق اگر چہ صوفی کا عشق نہیں ہے اس لیے ان کے محبوب میں الوہیت ،ماورائیت نہیں ہوتی ہے بلکہ زمین کی بو باس اور روحانی لمس کی خوشبو دونوں پائی جاتی ہے۔ غور سے دیکھیے تو انسانی تعلقات کو برتنے میں اعلیٰ اخلاقی اصولوں سے جو حسن پیدا ہوتا ہے وہی حسن ان کی غزلوں میں محبوب کے پیکر میں ڈھل جاتا ہے جس کو وہ اپنی تخلیقی قوت سے ہمارے حواس کے لیے قابل گرفت بناتے ہیں، اس لیے محبوب کے وصل کی خواہش یا جدائی کا ماتم یا بے رخی کا گلہ میں احساس کی بلندی قائم رہتی ہے۔
عشق اردو غزل کا اسمِ اعظم ہے اس کے بغیر غزل کا تصور ممکن نہیں ہے۔غزل کی روایت میں انسانوں کے باہمی نظام تعلق کے اظہار میں اسی سے سوز و ساز اور ہجر و وصال کی کیفیتیں جنم لیتی ہیں۔غزل اردو شاعری کی آبرو ہے۔اوراسی کے ساتھ انسانی تعلقات میں حسن اور عشق دونوں کی آبرو کی حفاظت بھی کرتی ہے۔راغبؔ کا اخلاقی شعور اسلامی تہذیب کی بنیادی قدروں سے حرارت لیتا ہے۔اس لیے وہ اپنی غزلوں میں اظہارِ محبت کے حوالے سے انسانی تعلقات میں نورِ ظلمات کی جو کیفیات پیدا ہوتی ہیں۔ ان تجربات سے جنم لینے والے تہہ در تہہ احساسات کو سادہ لفظوں میں اس طرح ڈھال دیتے ہیں کہ ہمارے احساسات ان کو گرفت میں لے سکیں اوروہ ہمارے لیے کسی پہلو سے بھی اجنبی نہ رہیں۔ اسی لیے ان کے اشعار سہل اور مانوس معلوم ہوتے ہیں۔
ان کا ذہن تخلیقی اعتبار سے بڑا ذرخیز ہے۔ آس پاس کی دنیا سے انہوں نے ایک تخلیقی رشتہ استوار کر لیا ہے۔چنانچہ ’’ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان‘‘ کی طرح ان کی شاعری میں رنگا رنگ احساسات ، ہر طرح کے جذبات گوں نا گوں تجربات سب تخلیقی عمل سے گزر کر ایک فطری معصومیت کے ساتھ شعر کے پیکرمیں ڈھلتے رہتے ہیں ۔ ان کے اظہار میں ایک بھولا پن ہے جس کی وجہ سے ان کی شاعری کی فضا میں گھن گرج نہیں ہے ،بلکہ مدھم لہجہ اور دھیمی آواز میں ان کی غزلیں بیمار و بے قرار دل کے لیے تسکین کا سامان فراہم کر دیتی ہیں۔
ابتدا مجھ سے انتہا مجھ پر 
ختم ہو تیری ہر جفا مجھ پر 
’ہر جفا ‘ کو بار بار پڑھیے پھر معنی کی تہیں کھلتی جائیں گی اور شعر کا مزہ دوبالا ہو جائے گا۔
سرگوشیوں کا میں ہدف حیرانیاں ہیں ہر طرف
ششدر ہے آئینہ عجب تم نے مجھے بدل دیا 
’’ششدر ہے آئینہ عجب '' سے بدلنے کے پورے عمل کو جو جمالیاتی تناظر فراہم کیا گیا یہ شعر راغبؔ کی معنی آفرینی کا کمال ہے ، یہ پوری غزل ان کی انتہائی کامیاب غزلوں میں ایک ہے۔
ہم اپنی پیاس پی کر جی رہے ہیں 
ہمارے دل کو ہے تسکین بادل 
'' ا اپنی پیاس کو پینے اور اس سے دل کی تسکین کی فراہمی اور بادل سے مخاطبت سے شعر کی اس تخلیقی فضا میں الفاظ کے معنی میں ایک نئی جہت کا احساس با شعور قاری آسانی سے کر سکتا ہے۔الفاظ کی رگوں میں احساس کی لہر دوڑانا تاکہ وہ ہماری تازہ واردات کے حامل ہو سکیں۔اچھی شاعری کی پہچان ہے ۔
تجھے پانے کی خواہش ختم ہے کھونے کا غم معدوم 
خلش کیسی ہے آخر محوِ گردش حلقۂ دل میں 
اس شعر میں ''خلش کیسی ہے آخر'' کے سوال کو جس نئے تناظر میں اٹھا یا گیا ہے اس سے عشق میں ایک نئے مرحلۂ اضطراب کے احساسات سے ہم دوچار ہوتے ہیں۔اچھا شاعرہمیں نئے نئے احساسات سے رو برو کرتا ہے اور بڑا شاعر تو نظام احساسات میں کچھ نئی وسعت پیدا کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ میرؔ کی شاعری ہمارے نظام احساس کی گرفت سے بڑی شاعری ہے۔ یقیناًراغبؔ اپنی غزل گوئی میں اس مقام سے پیچھے ہیں۔لیکن ان چار شعری مجموعوں میں ایسے درجنوں اشعار دیکھے جا سکتے ہیں جو ہمارے احساسات کو نئی تازگی اور وسعت عطا کرتے ہیں۔ ان کا شعر ملاحظہ ہو۔
در پیش کئی وادیِ پر خار ہیں راغبؔ 
تعمیرِ دل و جان سے تسخیرِ جہاں تک
کہا جا سکتا ہے کہ راغبؔ کی شاعری محض ذات کے تجربے اور کھوئے ہوئے احساسات کی بازیافت کی کوشش نہیں ہے بلکہ اس میں ایک تعمیرِ دل و جان سے تسخیرِ کائنات کا نصب العینی جہت بھی ہے۔تعمیرِ دل و جان اور تسخیرِ جہاں تک میں چھ سات الفاظ ہیں لیکن ان میں معنی کا ایک چشمہ رواں دواں ہے۔''وادیِ پر خار '' کو تعمیرِ دل و جان کہہ کر ایک نیا جمالیاتی تناظر فراہم کیا گیا ہے اور اسی سے اس شعر کی معنویت میں کئی سطحیں پیدا ہوجاتی ہیں۔
آنکھوں سے کچھ بیاں ہوا کچھ دل میں رہ گیا
دل مبتلا عجیب سی مشکل میں رہ گیا 
اہلِ جنوں کے خون کی چھینٹیں نہ مٹ سکیں
وحشت کا عکس دیدۂ قاتل میں رہ گیا 
’’عجیب سی مشکل‘‘ اور ’’دید�ۂ قاتل‘‘ میں وحشت کے عکس نے شعر کو کیا سے کیا بنا دیا۔اس کو کہتے ہیں لفظوں کو نئے نئے سچویشن میں ڈال کر نئے احساسات ایجاد کرنا۔
دور رہنا سدا تکبّر سے 
حرمتِ گِل سنبھال کر رکھنا 
حرمتِ گِل کی ترکیب نے تکبّر سے دور رہنے کے معنی کو ایک نیا Dimension ، نئی تازگی عطا کر دی ہے۔حرمتِ گِل کیا لاجواب ترکیب ہے۔ اس کو سنبھال کر رکھنا۔ احساسِ بندگی کو بر قرار رکھنے کی کیسی حسین تعبیر ہے۔
مشکلیں لاکھ راہِ شوق میں ہوں 
شوقِ منزل سنبھال کر رکھنا 
اردو میں تحریکی شاعری کا نمونہ کبھی اگر جمع کیا جائے گا تو راغبؔ کے دیگر کئی اشعار کے ساتھ مذکورہ اشعار کو بھی درج کیا جائے گا۔ 
پھول جیسے ہاتھ میں لے کر گلاب
اُس نے یوں دیکھا کہ پتھّر ہو گئے 
پھول ،گلاب ،یوں دیکھنا ، پتھر ہوجانا کیسا پیرا ڈوکس ہے جس نے احساسات میں نئی معنویت پیدا کردی ہے۔
بے حسی کے شہر میں قاتل ہے کون 
پوچھنا شاید پڑے مقتول سے 
اپنے ملک اور ساری دنیا میں بربریت ،فساد،قتل و غارت گری ،خوں ریزی کا جیسا نقشہ کھینچا گیاہے اور مقتول کی گواہی کا ذکر ایک اسلوبِ تلمیح ہے جس سے شعر کی تاثیر میں گہرائی پیدا ہوگئی ہے۔قران میں مقتول کی گواہی کے لیے گائے کو ذبح کرکے اس کے گوشت کے لوتھڑے سے لاش کو زندہ کرنے کا اور مقتول کی گواہی کا ذکر معجزے کے طور پر ہوا ہے۔ آج ہم وہیں پہنچ گئے ہیں ۔ لٰہذا اس تلمیح نے قتل و غارت گری کے اس پورے منظر کومعجزہ کا ایک تاریخی تناظرفراہم کرکے حالات کی سنگینی اور اس کی معنویت کو کچھ سے کچھ کر دیا ہے۔ 
نفسا نفسی کی بھیڑ میں راغبؔ 
کھو گئے سب تعلقات کہاں
کون سا دکھ نہیں دیا تو نے 
کس نوازش پہ دل نہال نہیں
ٹوٹا پتہ ہوں مجھ کو کیا مطلب
میں ہوا پر ہوں یا ہوا مجھ پر
راغبؔ کی غزلوں میں دورِ حاضر کے انسانوں میں جو دوری ،بے حسی اور بے مرووتی پائی جاتی ہے اس کا شاعرانہ اظہار بھی جابجا ہوا ہے اور ان غزلوں میں سیاسی ،کاروباری، سماجی اورذاتی تعلقات کی بے حسی سب شامل ہے۔ چنانچہ اس مطالعہ کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ راغب ؔ کی شاعری میں آج کے ماحو ل کا حسی پہلو ،ارد گرد کی داخلی فضا ،اس کا دھواں، معاشرے کا آگ اور پانی کا کھیل، حق و باطل کی کشمکش، ہجرت اور بے مکانی کا احساس ،تنہائی کا ماتم، ہجر و وصل کی داستانیں، اکیسویں صدی کے انسانوں کے مخصوص حالات کی تپش اور اس سے پیدا ہونے والی بے چینی اور اضطراب سب کا اظہار غزل کے فورم میں ڈھل کر ایک نئے جمالیاتی تجربے کے ساتھ ہوا ہے ۔جس میں عام انسان شریک ہوکر بصیرت اور جمالیاتی مسرت حاصل کرسکتا ہے۔ راغب ؔ نے اپنی شاعری پر کتنا معروضی اور خوبصورت تبصرہ کیا ہے جیسے تخلیق و تنقید آپس میں گلے مل رہے ہوں۔ اشعار ملاحظہ ہوں:
یہ چاشنی، یہ روانی کہاں مرے بس میں 
زبانِ دل سے کوئی ہم کلام ہے شاید
وہ جس نے شعر و سخن پر کیا مجھے راغبؔ 
کسی کے عشق کا نقشِ دوام ہے شاید

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com