عـارف اقبال : جس نے تاریخ کے سہنرے اوراق میں اپنا نام محفوظ کر لیا

عـارف اقبال : جس نے تاریخ کے سہنرے اوراق میں اپنا نام محفوظ کر لیا

گل نواز پروین

(گولڈ میڈلسٹ، شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی، دہلی)

بہارکے مردم خیز خطے دربھنگہ کو زمانۂ قدیم سے خاص اہمیت اور مرکزیت حاصل ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر تاریخی کتاب ’’آئینہ اکبری‘‘ میں خاص طور پر دربھنگہ کا ذکر ملتا ہے۔ پنڈت مہیش ٹھاکر کے ایک وفاشعار شاگردتھے ’’رگھونندن رائے‘‘۔وہ ایک ذہین اورباصلاحیت شخص تھے، ایک بار اکبر بادشاہ کے دربار میں وہ حاضر ہوئے اور اپنی مناظرانہ صلاحیت اور علمی لیاقت سے بادشاہ پر گہرے اثرات چھوڑے ۔اکبر بادشاہ رگھونندن رائے کی ذہانت سے کافی متاثر ہوا اور انعام کے طور پراس نے رگھونندن رائے کو1585ء میں ترہت کی جاگیر دے دی۔ لائق شاگرد نے اپنے لائق استاذ پنڈت مہیش ٹھاکر کو اپنی طرف سے حکومت کا یہ نذرانہ پیش کر دیا اور اسی دن سے مہاراجہ دربھنگہ کا ستارہ ٔ اقتدار چمک اٹھا ۔بہار میں جن شہروںکو علمی مرکز کی حیثیت سے شہرت رہی ہے ان میں ایک نام دربھنگے کا بھی ہے۔

 اسی سلسلے میں ملا ابو الحسن دربھنگوی (جو مشہور کتاب فتاویٰ عالم گیری کے مرتبین میں سے ہیں)،شیخ ابو محمد ہدایت اللہ صدیقی، مولانا عبد الرحیم صاحبؒ( شیخ الحدیث، مدرسہ امدادیہ دربھنگہ)،بیرسٹر محمد شفیع، مولانا عبد الرحمن صاحبؒ ہر سنگھ پوری، امیر شریعت خامس مولانا عبد لرحمن صاحبؒ ، مولانامفتی ظفیر الدین صاحبؒ( مفتیٔ اعظم دارالعلوم دیوبند)، مولاناقاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ(سابق صدر، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ )، مولانا محمد عارف ہرسنگھ پوریؒ ،ڈاکٹر سید عمر فرید، ڈاکٹر سید محمد نواب ( سرجن)،شاداں فاروقی (شاعر)،پروفیسر لطف الرحمن( نقاد و سابق وزیر)، مظہر امام ( ادیب)، ڈاکٹر عبد

????????????????????????????????????

الحفیظ سلفیؒ (مدرسہ احمدیہ سلفیہ ) جیسی نابغہ روزگارشخصیات کا ذکر آتا ہے ۔جن کی علمی منزلت کی قدر ہند و بیرون ہند کی جاتی تھی۔ موجودہ وقت میں مولاناسید ابو اخترقاسمی(مدرسہ امدادیہ دربھنگہ) ، مولانا ڈاکٹر بدر الحسن قاسمی(کویت)، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی(جنرل سکریٹری، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا)، قاری شبیر احمد(ناظم مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ)،محمد علی اشرف فاطمی( سابق مرکزی وزیرمملکت، حکومت ہند)، عبدالباری صدیقی( وزیر مالیات حکومت بہار)، پروفیسر ابولکلام قاسمی(شعبہ اردو،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) ،پروفیسر سعود عالم قاسمی(شعبہ دینیات ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)، پروفیسر حافظ عبد المنان طرزی(صدر جمہوریہ ایوارڈ یافتہ شاعر)، ڈاکٹر ابو بکر عباد(شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی، دہلی)وغیرہ کی علمی شہرت آج چہار دانگ عالم میں پھیلی ہوئی ہے۔

اسی علم وادب کا گہوارہ شہر دربھنگہ (دربھنگہ ریلوے جنکشن )سے پورب چند قدموں کے فاصلے پر وارڈ نمبر 17میں ایک قدیم بستی آباد ہے ’’کٹرہیا پوکھر‘‘۔اس گمنام بستی کی شہرت کسی مردم خیزہونے کی وجہ سے نہیںاور نہ ہی کوئی بڑی ہستیاں اس کے خاک سے اٹھی۔البتہ آنے والی تاریخ میں یہ علاقہ بجا طور پر فخر کرے گا کہ اس نے ایک ایسے ہونہار لعل’’ عارف اقبال‘‘ کو تراشا جس نے اپنی کم عمری ہی میں ملک کی عظیم دینی و روحانی شخصیت اور امارت شرعیہ پھلوری شریف پٹنہ کے امیر شریعت سادس، حضرت مولاناسید نظام الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ(سابق جنرل سکریٹری،آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ)کے حالات و کمالات اور ان کی دینی،علمی، ملی، شعری خدمات کو بڑی عرق ریزی اور خوش اسلوبی سے ’’امیر شریعت سادس، نقوش و تاثرات‘‘کے نام سے لکھ کر وہ تالیفی

????????????????????????????????????

کارنامہ انجام دیا ہے جس کی وجہ سے شہردربھنگہ ہی نہیں اس محلہ کا نام بھی تاقیامت زندہ و تابندہ رہے گا۔

حضرت مولانا سید نظام الدین صاحبؒکی یہ کرامت ہی کہی جائے گی کہ عارف اقبال ایک روز والہانہ عقیدت میں حضرت مولانا سے ملاقات کی غرض سے پھلواری شریف ان کے گھر چلے گئے ۔ حضرت امیر شریعت کی خرد نوازی ،علم دوستی، خوش مزاجی، نرم گفتاری وشیریں زبانی کا یہ نوجوان ایسا عاشق و شیدائی گرویدہ ہوا کہ ان کی زندگی کے حالات وخدمات پر بڑی محنت ومشقت،تحقیق وجستجو کے بعدپہلی کتاب ’’ باتیں میر کارواں کی‘‘ کے نام لاکھ ڈالی جو صرف ایک کتاب نہیں دستاویز ہے ۔ اس طرح حضرت امیر شریعت کی خدمات کے حوالے سے پہلی تصنیف کا اعزاز عارف اقبال کے حصے میں آیا۔

لیلیٰ کی کہانی مجنوں کی زبانی

کہاں نقش اول کہاں نقش ثانی

جس طرح فردوسی نے’’ شاہنامہ‘‘ لکھ کر فارسی زبان اور ایران کو زندہ کردیا اسی طرح عارف اقبال نے مولانا سید نظام الدین صاحبؒ کی حیات و خدمات پر دوضخیم کتابیں تصنیف و تالیف کر کے حضرت مولاناکو زندہ جاوید کردیا ہے تاکہ زمانہ ان کو بھلا نہ سکے اور آنے والی نسل انہیں فراموش نہ کردے۔ میری نظر میں عارف اقبال نے ایسی عظیم شخصیت کو اپنی تصنیف کا موضوع بنا کر حقیقت میںعلو ہمتی ،علماء نوازی اور اعلیٰ ذہانت کا ثبوت دے کر زمانہ طالب علمی میں ہی ہندوستان کے معززاکابر علماء، معروف سیاست داں اور دانشوروں کی نظروں کا تارا بن گئے۔ اس بات کی تصدیقی معروف شاعر کلیم عاجزؒ کے ان جملوں سے بھی ہوتی ہے:

’’عارف اقبال صاحب ابھی طالب العلم ہیں ۔ علم و ادب سیکھنے ہی کے دوران علم و ادب کی سنجیدہ پیش کش کا کامیاب آغاز کر دیا۔ ہم ان کی ذہانت اور ہمت کی داد دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے مشاہیر کی خدمات حاصل کرلیں اور بہت اچھے اچھے مضامین اکٹھا کرلئے جو اس دور میں تجربہ کار او ر مشاق اور ماہرین کو بہت دشوار ہوتا ہے۔ عارف اقبال صاحب اس مرحلے سے بہ آسانی گذر گئے۔ اپنی سلیقہ مندی سے متاثر کرکے وہ اہل قلم کو کھڑا کریں گے۔ اس میںحضرت امیر شریعت کے فیضان کو بھی دخل ہے کہ مشاہیر اہل قلم اپنا قلمدان لے کران کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ اپنا جوہر دکھا گئے اور حضرت امیر شریعت کی دعائوں کے مستحق ہو گئے۔ ان کے شانۂ فیضان میں کلیم عاجزؔ جیسے عاصی بھی اپنی ٹوٹی پھوٹی بات لے کر آگئے اور خون لگاکر شہیدوں میں مل گئے۔ایسے دور میں سنجیدہ او رپر وقار موضوعات پر تصنیفات کا رواج ختم ہو رہا ہے۔ عارف اقبال صاحب نے بیاباں کی شبِ تاریک میں قندیل رہبانی روشن کرنے کا فخر حاصل کر لیا اورمستقبل میں انشااللہ کرتے رہیں گے۔‘‘

                 (بحوالہ:امیر شریعت سادس، نقوش و تاثرات، صفحہ نمبر29)

میں آج عارف اقبال پر مضمون لکھنے بیٹھی ہوں تو بات عارف کی ہی ہوگی، ان کی جدوجہد کی ہوگی، ان کی محنت کی ہوگی،ان کے ذہانت کی ہوگی، ان کے تلاش وجستجو کی ہوگی، ان کے انداز بیان کی ہوگی، ان کے فن اور اسلوب کی ہوگی،ان کی علم دوستی کی ہوگی،ان کے اخلاق و اطوار کی ہوگی، ان کی صالحیت اور اوصاف حمیدہ کی ہوگی،ان کی خور د نوازی کی ہوگی۔ مجھے اپنی کم علمی، کم فہمی، کم مائیگی کا خوب اندازہ ہے۔ مگر بات عارف کی ہے جن کا اقبال بلند ہے جو آج چرچہ کا موضوع ہے۔ کہیں بیٹھئے ذکر عارف کا ہے ، کہیں جائیں شور عارف کاہے،عام و خواص کے زبان پر عارف کا نام ہے،اکابرین کی زبان پر عارف ہیں، دانشور کی زبان پر عارف ہیں، ادباء کے زبان پر عارف ہیں، سیاست داں کے زبان پر عارف ہیں، یہ میں نہیں کہہ رہی ہوں ،عارف کا کارنامہ بول رہا ہے،یہ ان کا اخلاص بول رہا ہے۔دیکھئے کون کیا بول رہا ہے،کس طرح اہل علم انہیں دعائوں سے نواز رہے ہیں۔ملک کے نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری عارف کے تالیفی کارنامے کی تحسین کر رہے ہیں۔دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم، حضر ت مولانا محمد سالم قاسمی عارف کی کاوش کو ملی اور قومی خدمات کاروں کے لئے نشان راہ بتا رہے ہیں۔آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر و دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے ناظم اعلیٰ، حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی عارف کی کوشش کو آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ قرار دے رہے ہیں۔ جمعیۃ علما ہند کے صدر، حضرت مولانا سید ارشد مدنی عارف کی کاوش کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔امارت شرعیہ بہار کے امیر شریعت و آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری ، حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی عارف کے کارنامے کو کامیاب جرأت مندانہ اقدام اور کامیاب بغاوت قرار دے رہے ہیں۔معروف شاعر،ڈاکٹر کلیم عاجز عارف کی ذہانت اور ہمت کی داد دے رہے ہیں۔دارلعلوم دیوبند میں عربی ادب کے استاد،حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی عارف کے کارنامے کو محقق ، مورخ اور اسکالر کے لئے دستاویز بتا رہے ہیں۔کشمیر کے مشہور عالم دین حضرت مولانا رحمت اللہ میر کاشمیری عارف کے کارنامے کو شاہکار بتا رہے ہیں۔شیخ زکریاؒ کے خلیفہ مجاز،مدرسہ اسلامیہ جامع العلوم مظفرپور کے شیخ الحدیث حضرت مولانا اشتیاق احمد عارف کی بیدار مغزی اور علمی ذوق کی تحسین فرما رہے ہیں۔مفتی اعظم مہاراشٹر حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن فتح پوری عارف اقبال کی ہمت اور لگن کو نہ سراہناحق ناشناسی کے مترادف بتا رہے ہیں۔وزارت اوقاف کویت کے اہم عہدہ پر فائز، حضرت مولانا ڈاکٹر بدر الحسن قاسمی عارف اقبال کو باتوفیق زندگی گزارنے کی دعا دے رہے ہیں۔ ممبر پارلیمنٹ حضرت مولانا اسرار الحق قاسمی عارف کی صحافتی صلاحیتوں کا اعتراف کر رہے ہیں۔اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے جنرل سکریٹری،حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی عارف کے کارنامہ کو پیش بہا قیمتی سرمایہ گردارن رہے ہیں۔مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ناظم عمومی، حضرت مولانا اصغر امام مہدی سلفی عارف کے کام کو ایک دستاویزی اور صوری و معنوی اعتبار سے خوب تر ہونے کی دعا دے رہے ہیں۔سابق مرکزی وزیر ریل، معروف سیاسی لیڈر لالو پرساد یادو عارف کے تالیفی کارنامہ اور ان کی بہاری ہونے پر فخر محسوس کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بہار، نتیش کمار عارف کو صمیم قلب سے مبارک باد پیش کر رہے ہیں۔ سابق مرکزی وزیر مملکت محمد علی اشرف فاطمی عارف اقبال کے دربھنگہ کے لعل ہونے پر ناز کر رہے ہیں۔انڈیا اسلامک کلچر سینٹر کے صدر،سراج الدین قریشی مولانا سید نظام الدین کی ذات پر کئے جانے والے عارف اقبال کے کام کو پی ایچ ڈی کہہ رہے ہیں۔بہار کے معروف سرجن، ڈاکٹر احمد عبد الحئی عارف کی اس کم عمری میں اس کارنامے کو عظیم خدمت تصور کر رہے ہیں۔امارت شرعیہ بہار کے ناظم حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی عارف کے کام کو دین و دنیا کی سعادت حاصل کرنا بتا رہے ہیں۔ امارت شرعیہ کے نائب ناظم حضرت مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی عارف کے زریں دور کے نقطہ عروج کو دیکھنے کے لئے دیر تک رہنا چاہتے ہیں۔عارف کی امی جان شمس النساء عارف جیسی کامیاب اولاد پا کر اسے زندگی کی سب سے بڑی کامیابی بتا رہی ہیں اور اللہ کا شکر ادا کر رہی ہیں۔

یہ چندحوالے نمونے کے طور پر پیش کیے گئے ہیں تاکہ یہ اندازہ لگایا جاسکے کہ اکابر علماء، سیاست داں، ادیب اور دانشوران کس قدرعارف کی ہمت افزائی کر رہے ہیںاور ان کی جرأت مندانہ اقدام کو سراہ رہے ہیں۔

عارف اقبال جس کام میں ہاتھ لگاتے ہیں ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے۔ شور مچ جاتاہے، لوگ رشک کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ اسی جذبۂ و شوق نے مجھے یہ چند سطور لکھنے پر مجبور کر دیا۔ قلم کاغذ لے کر بیٹھ گئی،دماغ کھنگالنے لگی، حافظہ کریدنے لگی، دھندلے دھندلے نظارے سامنے آنے لگے، سال یاد آگیا، ماہ وایام سامنے آ گئے، دن یاد آگیا، جگہ یادآگئی، سال2014 ء ہے۔ مہینہ ستمبر کا، تاریخ 23ہے۔ دن منگل، جگہ آرٹس فیکلٹی دہلی یونیورسٹی اور کمرہ نمبر 22۔میں نے پہلی بار عارف اقبال کو یہیں دیکھا تھا۔ شعبہ اردو میں سال اول کے طلبا کو سال دوم کے طلبا کے ذریعہ استقبالیہ دیا جا رہا تھا۔میں بھی سال دوم کی طالبہ تھی۔ اس تقریب میں عارف اقبال بھی موجود تھے۔ انہیں بھی استقبالیہ دیا جانا تھا۔ عارف اقبال کی پہلی جھلک مجھے یاد ہے۔ درمیانہ قد، گھنگرالے بال،بھوری آنکھیں، کشادہ پیشانی، لال دھاری دار شرٹ، فل پینٹ،مزاج میں سادگی،نظریں جھکی ہوئی اور چہرہ پرسکون،گویا ایک فنکار معلوم ہوتے تھے۔ یہ بات میں اب کہہ رہی ہوں۔اس وقت میں نہیں جانتی تھی فنکار کیا ہوتا ہے۔کیسا ہوتا ہے۔ لیکن اس تقریب میں بیٹھے عارف اقبال کی پوری تصویر میرے ذہن میں زندہ ہے۔ اس لئے اب میں کہہ سکتی ہوں وہ فنکار معلوم ہو رہے تھے۔بدن سے، قد و قامت سے، چہرے سے، انداز گفتار سے، رکھ رکھائو سے، طبیعت سے، مزاج سے، ملنے ملانے سے، بے تکلفی سے، بے لوثی سے، خلوص اور درد مندی سے، ہر اعتبار سے وہ مجھے فنکار لگے، باصلاحیت لگے، نیک دل لگے، صالح لگے،خاکسار لگے، خیال رہے میں عارف اقبال پر تاثراتی گفتگو کر رہی ہوں،اس لئے یہ مضمون نہ تحقیقی ہے ، نہ تنقیدی ہے،نہ تبصراتی ہے اور نہ تجزیاتی۔تحقیق میں نے پڑھی ہے، تنقید کی اہمیت سے آگہی ہے اور تاثر کی قدر و قیمت سے بھی واقف ہوں۔

جہاں تک میں عارف اقبال کو جانتی ہوں، انہیں پڑھنے لکھنے کا شوق بچپن ہی سے رہا ہے۔ رسالہ ہو یا کوئی اخبار، کتاب ہو یا اشتہار، پڑھنا شروع کرتے تو اخیر تک پڑھتے، لکھنے کا دُھن اور گُن عمر کے دسویں سال سے ہی شروع ہو چکا تھا۔ لہٰذا ابتدائی زمانہ تعلیم میں ہی بہار سے شائع ہونے والا روزنامہ اخبار ’’قومی تنظیم‘‘میں مراسلے اور مضمون بھیجنا اور شائع ہونے تک شدت سے انتظار کرنا۔ جیسے جیسے ان کا شعور بالیدہ ہوتا گیا قلم میں مضبوطی اور روانی آتی گئی۔ بہت کم وقتوں میں ملک کے معیاری اخبار و رسائل میں چھا گئے۔ مجھے ان کے اس ذوق کا علم اخبار میں شائع ایک رپورٹ سے ہوا جو ڈی یوکے شعبہ اردوکے حوالے سے انہوں نے شائع کی تھی۔ پھر آہستہ آہستہ ان کی صلاحیت کا بھی اندازہ ہوا۔شعبہ کی جانب سے ایک سفر آگرہ تاج محل کو گیا تھا۔واپسی پر انہوں نے ایک سفر نامہ بعنوان’’ سفر ایک دلربا، دلکش و جاذب نظر عمارت کا‘‘تحریر کیا جومنظر نگاری کا بہترین نمونہ تھا۔ اس کے علاوہ شعبہ کی جانب سے جب ’’ بزم ادب‘‘ کا قیام عمل میں آیا تو دیگر طلباء کے ساتھ مجھے صدر اور عارف اقبال کومیڈیا انچارج کی ذمہ داری سوپنی گئی ۔عام طور پر لکھنے لکھانے سے طلبا کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں۔زبانی باتیں کرنا آسان ہے، جتنی چاہیں ہوا میں باتیں کریں۔ لیکن لکھنے کا عمل ساری صلاحیتیںسامنے لے آتا ہے۔ یہاں پر ہوا بازی نہیں چلتی۔ جو پڑھے گا وہ لکھے گا۔ لکھنے کا ہنر سب میں نہیں ہوتا۔ اخباری صحافت کی سطح اور اس کے مزاج سے سبھی واقف نہیں ہوتے ۔لیکن عارف اقبال ان سب چیزوں کو بخوبی سمجھتے ہیںاور انہوں نے بخوبی یہ ذمہ داری نبھائی۔ وہ بزم ادب کے فعال رکن تھے۔ اس وقت ہمارے شعبہ میں عارف اقبال واحد ایسے طالب علم نظر آتے تھے جنہیں لکھنے پرعبور حاصل تھا۔جس موضوع پر قلم اٹھاتے اپنی انفرادیت برقرار رکھتے۔ جیسا موضوع ہوتاہے ویسا ہی طرز تحریر اختیا رکرتے، مذہبی امور پر لکھتے تو عالمانہ شان برقرار رکھتے، صحافتی مضامین تحریر کرتے تو سلاست اور روانی ہوتی ۔ ادبی گفتگو کرتے تو انداز تحریر نرالا ہوتا، غرض کہ عارف اقبال جس موضوع پر لکھتے اپنی انفرادیت کی چھاپ ضرور چھوڑجاتے، مضامین میں عام فہم اور سلیس زبان استعمال کرتے۔ انہیں معلوم ہے کس طرح تحریر کو پر کشش بنایا جاتا ہے۔ ان کی تحریر پڑھنے کے بعد سرور انبساط کا احساس ہونے لگتا۔ اور پڑھنے والے پر اس کا دل آویز اثر پڑتا ہے۔ عارف اپنی تحریر میں اسلوب کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ان کے چھوٹے چھوٹے پیرائے موثر اور دلنشیں ہوتے ہیں۔آپ یقین کریں ہم لوگوں کو ان کی صلاحیت پر رشک آتا ہے۔ اساتذہ ایسے ہونہار شاگرد پر فخر کرتے ہیں،پروفیسر ابن کنول ( صدر شعبہ ، دہلی یونیورسٹی)کا قول سنتے جائیے، لکھتے ہیں:

’’ عارف اقبال ہمارے شعبہ کے ایک ہونہار اور باصلاحیت طالب علم ہیں، لکھنے پڑھنے کا عمدہ ذوق رکھتے ہیں،ان میں ادب و قوم کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ موجود ہے۔‘‘ 

بحوالہ : امیر شریعت سادس ، نقوش و تاثرات، صفحہ نمبر 41)

تو اساتذہ بھی عارف کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور رفیق درس ہونے کی بناپر ہم بھی ان پر عش عش کرتے تھے۔میں نے عارف کو شعبہ میں دوسرے طلبا سے بالکل الگ پایا۔ وہ شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی کے ایک ہونہار، باکمال اور محنتی طالب علم رہے ہیں، ان کا مزاج ، ان کی فکر، ان کی عادت دیگر طلباسے بہت الگ تھی ۔ لکھنا پڑھنا ان کا محبوب مشغلہ تھا ۔ کبھی کبھی اتنا پڑھتے کہ جب مجھ سے گفتگو کرتے تو محسوس ہوتا سامنے کتب خانہ ہے۔ ان کی زبان سے وہی الفاظ ادا ہوتے ہیںجو کتابوں میں درج ہوتے۔ میں خود کو کتابوں کی دنیا میں گھومتی ہوئی محسوس کرتی۔ مگر میں نے عارف اقبال کو زیادہ تر خاموش ہی دیکھا۔ان کی کم گوئی، ان کی کم آمیزی، ان کی سادگی،ان کی بے لوثی،ان کی بے نیازی، آنکھوں سے جھانکتی ہوئی درد مندی، چہرے سے ٹپکتی ہوئی فکر مندی سے احساس ہوتا ہے کہ وہ ایک شریف النفس شخص ہیں۔ وہ مجھ سے بے حد انسیت رکھتے ہیں،لکھنے پڑھنے کے حوالے سے باتیں کرتے ہیں، اہم چیزوںکے لئے مشورہ طلب کرتے ہیں، یہ ان کے فراخ دل اور وسیع النظر ہونے کا ثبوت ہے کہ مجھ جیسے کم علم سے بھی حسن ظن رکھتے ہیں۔اس تحریر کو انس کا عکس مت سمجھئے ،میں آئینہ کی طرح گفتگو کررہی ہوں، آئینے میں جو عکس ہوتا ہے وہی خود بخود ظاہر ہوتا ہے۔اس سے قبل بھی عارف اقبال نے حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب سوانح حیات ’’ باتیں میر کارواں کی‘‘ کے نام سے ان کی زندگی میں ہی شائع کی تھی جسے کافی مقبولیت بھی حاصل ہوئی۔ یہ ان کی دوسری تصنیف و تالیف ہے۔عارف اقبال کو ان کی ان تالیفی کارناموں کے اعتراف میں دو ایوارڈ ’’امین ملت مولانا سید نظام الدین ایوارڈ‘‘،ا ’’ علامہ شبلی نعمانی ایوارڈ‘‘ سے نواز کر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔

بلاشبہ امارت شرعیہ بہار ، اڑیسہ و جھارکھنڈ کے نام کو بلند کرنے والے امیر شریعت سادس حضرت مولانا سید نظام الدین علیہ الرحمہ محتاج تعارف نہیں۔ حضرت مولانا کی بزرگی شہرت بچپن سے سنتی آئی ہوں۔وہ میرے گائوں مدہوبنی بہار میں واقع مشہور دینی درسگاہ مدرسہ چشمہ فیض ململ کے سرپرست تھے۔حالانکہ مجھے حضرت مولانا کی زیارت کاشرف حاصل نہیں ہوا مگر ان کی خدمات کے حوالے سے جو کچھ سنی وہ عارف اقبال کی زبانی سنی۔ ان کی تحریر سے آشنائی ہوئی کہ حضرت ایک عظیم شخصیت کے مالک تھے۔ وہ تحمل و برد باری کی اعلیٰ صفات سے متصف تھے۔مولانا کی حیثیت ایسے رہنما عالم کی تھی جس کی روشنی برسہا برس تک لوگوں کو فیضیاب کرتی رہے گی۔ انہوں نے اپنے علوم و فنون کے ذریعہ ایسا دیا جلایا ہے جس کے نور سے نکھریں گے اور زمانہ انہیں صدیوں تک یاد رکھے گا۔مولانا کی حیثیت ایک میر کارواں کی تھی۔ اس موقع پر مجروح سلطان پوری کا وہ شعر یاد آتا ہے جو حضرت مولانا کی شخصیت پر صحیح صادق آتا ہے:

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب کی شخصیت کا بہت کچھ اندازہ’’ امیر شریعت سادس، نقوش وتاثرات‘‘ میں شامل مختلف اہم مضامین سے ہو جاتا ہے۔ کتاب صوری اعتبار سے کافی حسین اور معنوی لحاظ سے خاصی حسین تالیف ہے۔ سب سے پہلے عنوانات کی فہرست ہے۔ کتاب چھ ابواب پر مشتمل ہے جس کی ترتیب اور تنظیم میں عارف اقبال نے بڑی عرق ریزی سے کام لیا ہے۔ اس کے بعد عارف اقبال کامنفرد لب و لہجہ میں لکھا ہوا 14؍صفحات کا وقیع مقدمہ ہے جس میں انہوں نے اکابر علما سے روابط، کتاب کی تیاری میں آئے مشکلات اور حضرت مولانا سے تعلقات پر مبنی گفتگو کی ہے۔ کتاب کی اہم خاصیت یہ ہے کہ عارف اقبال نے اس کتاب میں اپنی بھرپور کاوش کے ذریعہ ہر مضمون نگار کے بارے میں مختصر مگر جامع معلومات یکجا کرنے کی سعی کی ہے جو قابل تعریف ہے۔عام طور پر اس طرح کی کوشش اردو کتابوں میں نہ کے برابر پائی جاتی ہے ۔ اس کے بعد کلیم عاجز صاحب کا پیش بہا ’’ پیش لفظ‘‘ ،استاد محترم پروفیسر ابن کنول کی تحریر بعنوان ’’تبریک‘‘ موجود ہے جس میں انہوں نے اپنے اس ہونہار طالب علم کو دعائوں سے نوازا ہے۔ ڈاکٹر بدرالحسن قاسمی(کویت)کی تقریظ، مفتی عزیز الرحمن فتح پوری کا حرف چند، استاد شاعر رہبر چندن پٹوی کا منظوم تاثرات اور عارف اقبال کی والدہ محترمہ شمس النساء کا نقش آرزو کے نام سے مضمون شامل ہے۔ ان تمام مضامین سے کتاب کی اہمیت و افادیت دوبالاہوجاتی ہے۔

عارف اقبال نے اس کتاب میں حتی المقدور حضرت مولانا سید نظام الدین صاحبؒ کی تمام جہات کا احاطہ کرنے کی کوشش ہے۔ یہ کام بڑی محنت اور عرق ریزی کا ہے اور عارف اقبال نے اسے بخوبی نبھایا ہے۔ مجموعی طور پر عارف اقبال کی محنت کا ثمرہ حسین بھی ہے اور لائق ستائش بھی۔ ان کی یہ کوشش نئی نہ سہی، بہت اچھی کوشش اور اس وقت لکھنے والوں میں عمدہ اور معیاری کوشش ضرور ہے۔

آج مجھے بے حد قلبی خوشی ہے کہ عارف اقبال اپنی زندگی اس مقام پر ہیں جہاں اس عمر میں لوگ پہنچے کا خواب دیکھا کرتے ہیں۔یقینا بزرگوں سے عارف اقبال کے روابط، عقیدت ومحبت، تحقیق وتلاش کا عمدہ جذبہ ،کسی کام کو کر گزرنے کا دیوانہ پن،اپنی محنت و لگن، ہمت و جرأت اور جوش وحوصلہ سے پر عزم، شریفانہ مزاج،سلیقہ مندی جیسی خوبیاں اس کتاب کے مطالعے کے بعد ہمارے سامنے نمودار ہوتی ہیں اور ان سے مستقبل میں کئی امیدیں لگائی جاسکتی ہیں۔میں انہیں مبارک باد کے ساتھ ان کے روشن مستقبل کیلئے دعا گو ہوں۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com