ڈاکٹر محمد سلیمان شخصیت اور فکر و فن

ڈاکٹر محمد سلیمان شخصیت اور فکر و فن

تحریر: راجہ عدیل بھٹی

لاریب خطہ جنت نظیر وادیٔ جموں و کشمیرعلم و ادب کا گہوارہ اور مردم خیز علاقہ ہے ؛ جس نے اَن گنت اہل دانش و بینش کو جنم دیا، جنہوں نے اپنے قلم کے دم پر اپنی سرزمین کا نام خوب روشن کیا ۔ اِن میں سے کچھ ایسے بھی ساہت کار ہیں جن کی تحاریر سند کا درجہ رکھتی ہیں ۔ انہی میں سے ایک آزاد جموں و کشمیر کی انتہائی حساس نظریاتی شخصیت و عظیم فلسفی شاعر ‘ ادیب ‘ استاذ الاساتذہ جناب سیّد مسعود اعجازؔ بخاری ہیں جنہوں نے ڈاکٹر محمد سلیمان کی شخصیت اور فکر و فن پر مقالہ تحریر کر کے انہیں تاریخ میں امر کر دیا ہے ۔ یہ مقالہ نہ صرف ڈاکٹر محمد سلیمان کی شخصیت اور فکر و فن پر سند کر درجہ رکھتا ہے بلکہ آزاد جموں و کشمیر کے دیگر شعراء کرام و اُدَبا(جن کا نام و ذِکر خیر مقالہ میں درج ہے) کی شخصیت اور فکر و فن کا احاطہ بھی کرتا ہے ۔ یہ مقالہ کتابی شکل میں منظر عام پر آ چکا ہے اور 93 صفحات پر مشتمل ہے۔ دیکھنے میں تو یہ چھوٹی سی کتاب معلوم ہوتی ہے مگر پڑھنے کے بعد قاری یہ کہنے میں حق بجانب ہو جاتا ہے کہ اس نے ڈاکٹر محمد سلیمان کی شخصیت اور فکر و فن کا نہ صرف عمیق مطالعہ کیا ہے بلکہ آزاد جموں و کشمیر کی تاریخ ساز شخصیات سے بھی آگاہ ہو چکا ہے اور یوں اس کی ذہنی وسعت لاکھوں صفحات کھنگالنے سے بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے ۔ یہی قلم کار کی قلم کا اعجاز ہوتا ہے کہ وہ صرف چند الفاظ میں ہی قاری کی ذہنی وسعتوں کو لا محدود سطح پر پہنچا دیتا ہے اور یوں خودبخود قاری کے ذہن میں شعور و آگاہی کے گوشے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ اس مقالے کا انتساب فکری و نظریاتی سرحدوں کی حساس بنیادوں پر ترجمانی کرتا ہے ‘ ملاحظہ ہو ۔ ’’بر عظیم ’’ہند‘‘ و ’’سندھ‘‘ میں اسلامی نشاۃ ثانیہ کے معمارِ اوّل حضرت محمد بن قاسم شہیدؒ کے نام اور اتحادِ عالمِ اسلامی کے اوّلین معمار سیّد جمال الدین افغانیؒ کے نام جنہیں اپنوں نے کڑی آزمائش سے دوچار کر دیا تھا اور جنہوں نے اپنی قوم اور ملت اسلامیہ سے وفا اور قربانی کی لافانی داستان لکھی‘‘۔ ڈاکٹر محمد سلیمان ماہر معالج ہونے کے ساتھ ساتھ ادیب و شاعر بھی ہیں جن کی شاعری میں قنوطیت و یاسیت کو کہیں جگہ نہیں ملتی بلکہ ان کے کلام میں رجائیت‘ جذبہ حب الوطنی ‘ خیر سگالی ‘ جہد مسلسل ‘ سلامتی ‘دفاع و بقاء دیکھنے کو ملتی ہے ۔ڈاکٹر صاحب نے علم و ادب کی جن اصناف میں طبع آزمائی کی ہے ان میں سے قابل ذکر حمد ‘ نعت ‘ عارفانہ کلام ، ماہیا ، گیت ، طنز و مزاح ، ہائیکو ، سنجیدہ ، نظم اور غزل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر صاحب نے وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عسکری محافظوں کو نہ صرف خراج تحسین پیش کیا ہے بلکہ ان کا حوصلہ بلند رکھنے اور ان کے خون کو گرمانے کیلئے ان کی عظمت و ہمت اور ان کے کارناموں کے شایان شان کئی ایک نظمیں بھی لکھی ہیں ۔ وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ایٹمی قوت بخش کر ناقابل تسخیر قلعہِ اسلام بنانے والے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد سلیمان نے ’’پخیر راغلے ‘‘ کے عنوان سے کیا خوب نظم لکھی ہے چند اشعار ملاحظہ ہوں۔ خان پاکستان میرے ڈھول سانولے پخیر راغلے پخیر راغلے ہر دم تیری سلامتی عزیز ہے جان بھی حاضر ہے دِل کیا چیز ہے رواں دواں ہر دم یہ قافلے پخیر راغلے پخیر راغلے ڈاکٹر محمد سلیمان کے ہاں تعصب و منافرت کی کوئی جگہ نہیں ہے وہ ایک محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لاتے ہیں ۔ جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ وہ تعصب و منافرت سے بالا تر ہو کر پشتودھن (رباب)پر بھی ’’دھرتی کا گیت‘‘ کے عنوان سے طبع آزمائی کی ہے ‘ ملاحظہ ہو ۔ یہ سندھی بلوچی پٹھان ہے یہ کشمیری پنجابی جوان ہے یہ پاکستان جب مسکرائے جوانی گنگنائے مسکرائے گائے یہ پاکستان کی فوج ہے دلیروں کی اک موج ہے نیوی فضائیہ جب حرکت میں آئے جوانی گنگنائے مسکرائے گائے 14 اگست 1997 ء گولڈن جوبلی سال کے موقع پر بھی ڈاکٹر محمد سلیمان نے پشتو دھن پر ’’ملی گیت‘‘ لکھا ہے ۔ چند بند ملاحظہ ہوں ۔ زماں جاناناں ملک پاکستاناں زماں جاناناں ملک پاکستاناں قائد کی جو بات ہے یقیں محکم ایمان اتحاد ہے بات سمجھ لو اچھی طرح یہ ہے قائد کا فرماناں زماں جاناناں ملک پاکستاناں قومی شاعر تیرا اقبالؒ ہے شاعر کیا ہے شاعر بے مثال ہے گیت تیرے سدا لکھتا رہے یہ شاعر تیرا سلماناںؔ زماں جاناناں ملک پاکستاناں ڈاکٹر محمد سلیمان نے30 اگست 1997 ء گولڈ جوبلی سال کے موقع پر ایک اور بہت ہی خوبصورت اور دِل موہ لینے والا ’’ملی گیت‘‘ لکھا ، چند بند ملاحظہ ہوں۔ میرے دیس تیرے رنگ تیرے پھول صد رنگ تیرے پربت تاروں سنگ تیری دھرتی سبز رنگ میرے پاک وطن میں خاک وطن تیری خاک وطن میری پوشاک وطن تیرے بیٹے تیرے سنگ تیرے شجر صد رنگ وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خستہ حالی اور بحرانوں کو عمیق مطالعہ کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد سلیمان پاکستانیوں کو نصیحت کرتے ہوئے ’’اہل وطن‘‘ کے عنوان سے نظم لکھتے ہوئے اہل وطن کو کچھ یوں مخاطب کرتے ہیں ، چند اشعار ملاحظہ ہوں ۔ قدرت کے کارخانے ہیں اک تیرا بھی کارخانہ ہو محنت سے تُو کام کرے ٹھاٹھ تیرا شاہانہ ہو ملک کی خاطر کام کرے تُو مزدوری اِک بہانہ ہو دن اور رات کام کام زنانہ ہو مردانہ ہو ایسی کوئی تدبیر بنا آمدنی لاکھ ماہانہ ہو چوں کہ ڈاکٹر محمد سلیمان کا تعلق وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کی شہ رگ کشمیر سے ہے اور کشمیر کے بیشتر حصہ پر بھارت سامراج نے غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے اور آئے دن نت نئے ظلم و جبر کی داستانیں کشمیریوں کے لہو سے لکھتے رہتے ہیں۔ اس پر ڈاکٹر محمد سلیمان کا دِل خون کے آنسو روتا ہے اور اس پر بھی وہ اپنے قلم کو جنبش دیتے ہیں ۔ ’’مجاہدکشمیر‘‘ کے نام سے نظم کے چند بند ملاحظہ ہوں۔ ظلم و ستم کا نشان ظالم و جابر ہندوستان نشانہ جس کا مسلمان جس کا اللہ پر ایمان لیے ہاتھوں میں شمشیر کر دوں میں سیدھا تیر میں ہوں غازیٔ کشمیر میں ہوں مجاہد کشمیر ایک اور نظم بعنوان ’’کشمیر‘‘ میں کچھ یوں رقمطراز ہیں ۔ کشمیر ہمارا ہے زنجیر تمہاری ہے جذبہ ہمارا ہے شمشیر تمہاری ہے ہمیشہ کی غلامی کیا؟ تقدیر ہماری ہے جب ڈاکٹر محمد سلیمان کی والدہ محترمہ اس جہانِ فانی سے ملک راہی عدم ہو گئیں تو ان کا وچھوڑا ڈاکٹر صاحب سے برداشت نہ ہوا اور ان کا قلم ماں پر لکھنے کیلئے بے تاب ہو گیا اور بالآخر 4 جنوری 1995 ء کو ’’ماں‘‘ کے عنوان سے ڈاکٹر صاحب نے عدیم المثال نظم لکھی ،چند اشعار ملاحظہ ہوں ۔ تیرے جذبے صادق ہیں قائل ہے دُنیا ساری ماں بچوں کی خوشیوں کی خاطر عمر بتا دے ساری ماں بڑے ہو کر تیری خدمت کرنا میری ہے ذمہ داری ماں ماں کی گود ہے پہلا مکتب بعد میں دُنیا ساری ماں ڈاکٹر محمد سلیمان نے ادب کی صنف ’’ماہیا‘‘ میں بھی اپنے قلم کو حرکت دی ہے اور اس صنف میں بھی وہ کامیاب دکھائی دیتے ہیں ، چند ایک ماہیے نذرِ قارئین ہیں ۔ پھولوں کی کیاری ہے دِل بھی تیرا ہے یہ رُوح بھی تمہاری ہے ٭٭٭ بادل میں جو پانی ہے دِل یہ کہتا ہے اللہ کی نشانی ہے ٭٭٭ دُنیا کے میلے میں چھپ چھپ کے روتا ہے سلیمانؔ اکیلے میں گیت نگاری میں بھی ڈاکٹر صاحب نے بہت عمدہ گیت لکھے ہیں بول ملاحظہ ہوں۔ چپکے سے آئے گوری خود سے شرمائے گوری اتنا شرماتی بھی ہے اتنا اتراتی بھی ہے جھکی جھکی نظروں کے تیر چلاتی بھی ہے مہندی لگائے گوری چپکے سے آئے گوری ٭٭٭ دیکھو لوگو! عید کا چاند ہماری تمہاری دید کا چاند خوشیوں بھری عید آئی ہم نے مل کر عید منائی ٭٭٭ ایک حسین رات تھی تاروں کی بارات تھی چاند کے ساتھ رات کٹی کتنی حسین رات تھی ٭٭٭ دیکھ سہیلی ساون آیا گیت ملہار گاون آیا ہجر کی گرمی سہتے سہتے اکھیاں نیر بہاون آیا سلیمانؔ تو بھی جھوم خوشی سے تیرا من پرچاون آیا ٭٭٭ کاہے لگائی پریت رے کب ملے گا میت رے ساون کی جب بوندیں برسیں پیا ملن کو آنکھیں ترسیں گاؤں تمہارے گیت رے تم ہو میرے میت رے ٭٭٭ میں تو جاؤں تورے سنگ سانوریا رنگ لے اپنا رنگ سانوریا بھول جا سارے غم دُنیا کے دھنک کے سارے رنگ سانوریا ٭٭٭ باغوں میں کھلی سرسوں دِل اپنا یہ چاہتا ہے ہم پھر ملیں پرسوں بے رُخی تیری بھولیں گے نہ برسوں باغوں میں کھلی سرسوں ڈاکٹر صاحب کی کبھی کبھی رگ ظرافت پھڑک اُٹھتی ہے اور اس کو بھی وہ اپنا موضوع خاص بنا کر طبع آزمائی کرتے دکھائی دیتے ہیں اور ادب کی صنف ’’طنز و مزاح‘‘ میں بھی اپنی صلاحیتوں کو منواتے نظر آتے ہیں ‘ چند اشعار ملاحظہ ہوں ۔ ہے مہنگی بجلی‘ نہ ہے پانی ہے گیس کی گرانی ہر گھر کی یہ کہانی نہ بات ہم کی مانی بدلنا ہو گا یہ رویہ حبیبی حیّٰ حیّٰ ٭٭٭ تمنا دِل کی جب زباں تک پہنچے میرا رشتہ جب تری ماں تک پہنچے میری تمنا فوری آسماں تک پہنچے میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے ٭٭٭ ملک ہندوستانی کا راج انگلستان کا کس طرح گزارا ہوتا اُن سے مسلمان کا ٭٭٭ میں اسمبلی کا اُمیدوار مجھے ووٹ تیرا درکار ٭٭٭ وقتِ عقد ثانی اپنے ساتھ یہ ہوا وہ مہندی لگا کر دُلہن بنی میں خصاب لگا کر دُلہا بنا ٭٭٭ سیاست جسے کہتے ہیں اِک لوٹ کہانی ہے مرچوں کی قلفی اور چوس کے کھانی ہے ٭٭٭ میرے مولا تیرے رنگ میرا چہرہ زرد رنگ میری سواری چنگ چی ویگن اُن کی سواری بوٹنگ رنگ ٭٭٭ ڈاکٹر محمد سلیمان نے ہائیکو نگاری میں بھی قلم چلائی ہے ‘ ملاحظہ ہو۔ خواب سہانے دیکھوں چھت پر جب آئے گوری چاند بہانے دیکھوں جہاں ڈاکٹر محمد سلیمان ایک بھرپور رگ ظرافت سے مزین طنز و مزاح لکھ کر قاری کے دِل میں خوشگوار مسکراہٹ پیدا کر دیتے ہیں وہیں سنجیدہ نگاری میں قاری کو سوچوں کے گرداب میں چھوڑ دیتے ہیں ‘ ملاحظہ ہو۔ تیرا غم مجھے سونے نہیں دیتا مجھے اور کوئی غم ہونے نہیں دیتا وہ سجدہ عطا ہوا ہے مجھ کو میرا سر کہیں بھی خم ہونے نہیں دیتا ڈاکٹر صاحب نے ادب کی مشکل ترین صنف یعنی غزل گوئی میں بھی طبع آزمائی کی ہے ‘ جس میں وہ کامیاب نظر آتے ہیں۔ چند مطلعے اور مقطعے نذرِ قارئین ہیں ۔ اُلفت سی ہونے لگی ہے کلفت سی ہونے لگی ہے ٭٭٭ اِک محفل ہے دِل فگاروں کی دہکتے ہوئے انگاروں کی سمجھ ان کو آنے لگی ہے سلیمانؔ کے اشاروں کی ٭٭٭ کتنا قرب ہوتا ہے محبت کے فسانے میں حسرت ہی رہتی ہے مجھے نظریں ملانے میں ٹھکرا کر عمر بھر پچھتائے گا وہ سلیمانؔ کب ہم سا ملتا ہے کوئی زمانے میں ٭٭٭ تیرے عشق کا سامان ہو گیا کام مشکل تھا آسان ہو گیا قسمت سی جاگ اُٹھی ہے اس کی عاشق تیرا جب سے سلیمانؔ ہو گیا ڈاکٹر صاحب نے حمدیہ کلام اور عارفانہ کلام میں بھی طبع آزمائی کی ہے ‘ ملاحظہ ہو ۔ اے میرے پروردگار‘ اے میرے ربِّ کریم میں عاصی بندہ تیرا اور تُو غفور الرحیم ٭٭٭ میں نار عشق متوالا میں راہی بھولا بھالا میں تیرے در جب آیا آستانے سیس نوایا میں راہِ عشق اپنایا مجھے سید کے راستے چلایا انبیاء کا دیکھا بھالا سبحان ربی الاعلیٰ میں نار عشق متوالا مقالے کے آخر میں مقالہ نگار سیّد مسعود اعجازؔ بخاری کی دیگر طبع اور غیر طبع کتابوں کی فہرست دی گئی ہے ۔ قصہ مختصر سیّد مسعود اعجاز بخاری نے صحیح معنوں میں ایک عظیم شخصیت کے فکر و فن پر بہت ہی خوبصورت مقالہ تحریر کر کے ڈاکٹر محمد سلیمان کو تاریخ میں امر کر دیا ہے ۔ دُعا ہے کہ اللہ ربّ العزت ان ہر دو ہستیوں کو علم و ادب کی خدمت کرنے کی توفیق دے اور ہمیں ان سے فیضیاب ہونے کا موقع دے … آمین !!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com