نام کتاب: مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا۔ ۔ ۔ (خُود نوشت)

نام کتاب: مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا۔ ۔ ۔ (خُود نوشت)

مصنفہ: عابدہ رحمانی

صفحات: 324

قمیت: 550 روپے

سالِ اشاعت: 2013ء

ناشر: الفتع پبلیکشینز، روالپنڈی، پاکستن۔ فون: 923225177413

مبصر: امین صدرالدین بھایانی، 10 دسمبر، 2017ء (اٹلانٹا، امریکا)۔

 

اُردو ادب میں خُود نوشت سوانج عمری پر مبنی کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ عرصہِ دراز سے جاری ہے۔  ظاہر ہے کہ یہ خُود نوشت سوانح عمریاں خُود مصنف کی اپنی شخصیت، زندگی و حالاتِ زندگی اور کارزارِ ہستی میں سرانجام دیَئے گئے کارہائے نمایاں کے حوالے سے ہی ہوا کرتی ہیں۔

خُود نوشت کی روایت کو اُردو ادب میں ادباء، شعراء اور ادب کے دیگر شبعہ جات سے متعلق حضرات نے جلا بخشی اور بے شمار قابلِ زکر خُود نوشتیں منظرِعام  پر آ کر اُردو ادب کے قارئین کے ذوقِ مطالعہ کی آبیاری کرتی رہیں اور آج بھی یہ سلسلہ اُسی زوروشور سے جاری ہے۔ 

اُردو ادب کا بھلا وہ کون سا شائق ہوگا جس نے "یادوں کی برات" اور "شہاب نامہ" جیسی شہرہ آفاق سوانح عمریاں پڑھ کر اُن کے مزے نہ لیے ہوں۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ بے شمار خُود نوشت سوانح عمریاں اُس طبقے کی جانب سے بھی منظرِعام پر آئیں جو اُردو ادب سے براہِ راست تو متعلق نہ تھے مگر انہوں نے اپنی عمر کے آخری حصے میں یا یوں کہہ لیں کہ عملی زندگی سے ریٹائیرمینٹ لینے کے بعد اپنی  یادوں کو یکجا کر خُود نوشت سوانج عمریاں مرتب کیں۔ ایسی شخضیات میں عموما اہم اور اعلیٰ سرکاری عہدوں سے سبکدوش ہونے والے ریٹائرڈ افسران کی تعداد بہت نمایاں ہے۔

گزشتہ چند روز میں افسانہ، ناول و کالم نگار عابدہ رحمانی صاحبہ کی تحریر کردہ خُود نوشت، سوانحِ عمری "مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا۔۔۔۔" کے مطالعہ میں مصروف رہا اور ان دنوں اپنی شدید منصبی مصروفیات کے باوجود جب جب اور جیسے جیسے مواقعے میسر آتے رہے گاہے بہ گاہے مطالعہ کر کے بالا آخر اس دلچسپ خُود نوشت سوانح عمری کو مکمل کر کے ہی چھوڑا۔

مزکورہ خُود نوشت سوانح عمری مصنفہ کی پیدائش جو کہ 1942ء میں اُن کے گاوں مینی جو شمال مغربی سرحدی صوبے خبیر پختون خواہ کے شمال مشرق کی جانب واقع ہے میں بچپن سے شروع ہو کر اُن کی تعلیمی سرگرمیوں، شادی، شادی کے بعد سابقہ مشرقی پاکستان میں اپنے مرحوم خاوند احد رحمانی کے ساتھ گزارے ہوئے شب و روز اور پھر سقوطِ ڈھاکہ کے بعد مغربی پاکستان واپسی اور کراچی میں آباد ہونے کے بعد بالاآخر 8 جنوری، 1989ء کو دورہِ امریکا میں بذریعہ ہوائی جہاز بالٹی مور سے ڈیٹرائٹ جاتے ہوئے دورانِ پرواز شوہر کو اچانک آنے والے دل کے دورے، جس کے نتیجے میں اُن کی چھیس سالہ ازدواجی زندگی اپنے اختتام کو پہنچتی ہے پر آ کر ختم ہوتی ہے۔

مجھے اس خُود نوشت سوانح عمری کی جس بات نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے وہ اُس کا مکمل طور پر تصنح سے پاک، سیدھا سادھا بیانیہ ہے جس میں کہیں بھی بناوٹ، قصہ و داستان سازی اور خُود اپنی تعریف میں لکھے گئے واقعات اور قصوں جو کہ عموما خُود نوشت سوانح عمریوں کا خاصہ ہوا کرتے ہیں، کا کوئی شائبہ نظر نہ آیا۔ 

قابل تحسین بات یہ ہے کہ مصنفہ نے اپنے قلم کو خُود اپنی ذات کا محور بنانے کی بجائے اردگر کے لوگوں جیسا کہ اپنے والدِ محترم میجر محمد قاسم عرف گلداحی، اپنی والدہ بی بی شاکرہ، والدہ کے انتقال کے بعد اپنی دوسری امی جنھیں وہ "ممی" کہا کرتی تھیں، اپنے بہن بھائی، رشتہ داروں،  اپنے گاوں کے حالات و واقعات، اپنے شوہر احد رحمانی، سسرالی رشتہ داروں اور پھر سابقہ مشرقی پاکستان میں اپنے کئی برسوں کے قیام اور اُس دوران پیش آنے والے معاملات، وہاں کے احباب اور دیگر قریبی و متعلقہ لوگوں کا زکر اس خوبی کے ساتھ قلمبند کیا ہے کہ دورانِ مطالعہ یہ کتاب محض ایک خُود نوشت سوانح عمری سے کہیں زیادہ افسانوی انداز میں لکھئی گئی کوئی کہانی یا ناول معلوم ہوتا ہے اور قاری کی دلچسپی اول تا آخر بدرجہِ اُتم برقرار رہتی ہے۔

مصنفہ نے اپنے شوہر احد رحمانی کی شخصیت کو بھی بھرپور پر اجاگر کیا ہے۔ یہ کتاب پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے قاری خُود احد رحمانی کے ساتھ اپنی زندگی کے بہت سے دن گزارنے کے بعد اُن کی شخصیت سے کماحقہ طور پر آگہی حاصل کر چکا ہے۔

یاد رہے کہ اُن کے شوہر دسمبر 1971ء کے دوران سابقہ مشرقی پاکستان میں محصور ہوکر رہ گئے تھے۔ انہوں نے اُس دوران وہاں کم و بیش دو برس کا عرصہ نہایت ہی کٹھن مشکلات اور مسائل کا سامنا کرتے ہوئے روپوشی میں گزارا اور پھر اسمگلروں اور ایجنٹوں کی معرفت کلکتہ، ہندوستان سے غیرقانونی طور پر سری لنکا وغیرہ سے ہوتے ہوئے بالاآخر مغربی پاکستان واپس پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

کتاب میں شامل اس مکمل داستان اور سقوطِ ڈھاکہ کے دوران وہاں پیش آنے والے واقعات جو کہ اُن کے شوہر نے خُود اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اُن سے ساتھ ازخود پیش آئے کا چشم کُشا بیان بھی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

کتاب میں مصنفہ نے اپنے برطانیہ اور امریکا کے سفر پر مبنی ایک مضمون جو کہ روزنامہ جنگ میں شائع ہوا تھا کو بھی شامل کیا ہے اور ساتھ ہی اپنے شوہر کے وہ چند خطوط جو کہ انہوں نے اپنے سعودی عرب میں بسلسلہِ روزگار قیام کے دوران اُنہیں اور اپنے بچوں کو لکھے کے علاوہ دورانِ عمرہ پیش آنے والے ایک واقعے جو کہ ایک مضمون کی صُورت میں روزنامہ جنگ میں لکھا تھا کو بھی شاملِ کیا ہہے۔ جس نے کتاب کی دلچسیپی میں خاطرخواہ اضافہ کیا ہے۔

جو لوگ جو تصنح و بناوٹ سے دور حقیقت اور سادگی پر مبنی خُود نوشت سوانحی عمری پڑھنے کے شائق ہیں، میں اُنہیں یہ کتاب پڑھنے کی پُرزور سفارش کروں گا۔

مبصر: امین صدرالدین بھایابی، 10 دسمبر، 2017ء (اٹلانٹا، امریکا)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com