میں جناح کا وارث ہوں ::: وسیم عباس

میں جناح کا وارث ہوں

 وسیم عباس

میں جناح کا وارث ہوں ۔۔۔ ایک ایسا جملہ جسے ادا کرتے ہوئے جسم میں توانائی سی بھر جائے ، دل محبت سے سرشار ہو جائے اور انسان اپنے آپ پر فخر محسوس کرے ، قائد اعظم محمد علی جناح کا وارث ہونا بلاشبہ کسی اعزاز سے کم نہیں۔"میں جناح کا وارث ہوں" نام ہے محمود ظفر اقبال ہاشمی صاحب کے نئے ناول کا جسے ابھی ایک ہی نشست میں پڑھ کر اپنے سٹڈی روم میں بیٹھا ہوں ، دل و دماغ پر اس ناول کا ایک ایک لفظ قبضہ کئے ہوئے ہے ، گیارہ ابواب نے ذہن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ،جیسا پاکستان ہم سب دیکھنا چاہتے ہیں وہ اس ناول نے ہمیں دکھا دیا ہے، محمود ظفر اقبال ہاشمی صاحب نے کتنی آسانی سے ہر مسئلہ کھول کر رکھ دیا ہےاور پاکستان کا مقدمہ کس خوبصورتی سے پیش کیا ہے میں حیرت و خوشی کے سمندر میں غوطہ زن ہوں۔

 محمود ظفر اقبال ہاشمی صاحب کا تعلق جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یار خان سے ہے ، اسلامیہ یونیورسٹی سے انگلش ادب میں ایم اے کر رکھا ہے، آج کل سعودی عرب میں مقیم ہیں میں جناح کا وارث ہوں سے پہلے ان کے تین ناولز سفید گلاب ، اندھیرے میں جگنو اور قلم، قرطاس اور قندیل منظرِ عام پر آچکے ہیں اور پڑھنے والوں سے خوب داد پا چکے ہیں۔ میں محمود ظفر اقبال ہاشمی صاحب کا ایک ادنیٰ سا قاری ہوں ان کی تحریروں کا مداح ہوں ان کے ناولز ہمیشہ مقصدیت سے بھرپور رہے ہیں انہوں نے اپنے منفرد اسلوب ، زبان و بیاں پر بھرپور گرفت اور شاندار منظر و کردار نگاری سے ہمیشہ مجھے متاثر کیا ہے اور یہی ایک اچھے ناول نگار کی سب سے بڑی خوبی ہوتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل محمود ظفر اقبال ہاشمی صاحب سے محترم خالد شریف صاحب کی وساطت سے لاہور میں ملاقات ہوئی ان کی محبتوں نے بہت متاثر کیا بلاشبہ وہ ایک نفیس اور محبت بھرے انسان ہیں جن کی تحریروں اور گفتگو نے ہمیشہ ہی مجھے اپنے سحر میں رکھا۔جس دن سے میں جناح کا وارث ہوںکی اشاعت کے بارے میں معلوم ہوا دن بہت بے چینی سے گزارے ایک ایک پل اس ناول کا انتظار کیا اور ناول حاصل کرتے ہی ایک ہی نشست میں پڑھ ڈالا۔ 

جیسی اس ناول کے بارے میں توقع تھی ناول اس سے کہیں بڑھ کر نکلا ،چائلڈ لیبر جیسےموضوع کو کمال مہارت سے قلمبند کیا گیا ہے ، اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت دو کروڑ بچے چائلڈ لیبر کے زیر عتاب ہیں یہ ناول مقدمہ ہے ان دو کروڑ بچوں کا ، یہ ناول آواز ہے ان دوکروڑ چھوٹوں کی جو چائلڈ لیبر کی چکی میں پِس رہے ہیں۔ میں جناح کا وارث ہوں محمود ظفر اقبال ہاشمی صاحب کی پاکستان سے شدید محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے اس ناول میں انہوں نے وقت کے حکمرانوں کے نام ایک مکمل دستاویز کی صورت تمام مسائل اور ان کا حل پیش کیا ہے ان کے لئے صحیح سمت کا تعین کیا ہے اور پاکستان کو درپیش ایک ایک مسئلے کو تفصیل سے بیان کیا ہے ۔ پاکستان سے دور رہ کر بھی ان کے دل میں پاکستان سے شدید محبت کا جذبہ موجزن ہے یہ بات قابلِ ذکر ہے۔

میں جناح کا وارث ہوں کہانی ہے نو سالہ وارث کی جو اپنے نشئی باپ کے مرنے اور اپنی ماں زیب النساکے بیمار پڑنےکے بعد دوسری جماعت سے اپنی پڑھائی ترک کر کےایک ٹائر پنکچر شاپ پر مشقت کا آغاز کرتا ہے اس کی بڑی بہن نبیلہ گھر پر سلائی کڑھائی کر کے اس کا ہاتھ بٹانے کی کوشش میں ہے ۔ پھر ایک دن اس پنکچر شاپ پر ایک فرشتہ صفت خاتون بیرسٹر شمسہ سمیع اللہ کی آمد ہوتی ہے اور وہ اس مشقت کرتےبچے وارث کی ذہانت سے بہت متاثر ہوتی ہیں ، یہی وہ ٹرننگ پوائنٹ ہے جہاں سے وارث اور اس کے گھر والوں کی زندگی بدلنا شروع ہوتی ہےاور کیسے یہ عام سا بچہ وزارتِ عظمیٰ تک پہنچتا ہے کمال خوبصورتی سے محمود ظفر اقبال ہاشمی صاحب نے بیان کیا ہے میری نظر میں ناول کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ ایک ایک لفظ ایک ایک سطر سے مصنف کی قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال سے محبت ٹپکتی ہے اور ان کا پیغام اس مہارت سے پڑھنے والوں تک پہنچایا گیا ہے کہ بے ساختہ دل سے داد نکلتی ہے ناول کے تما م ہی کردار اپنی اپنی جگہ نگینے کی طرح فٹ ہیں محمد وارث کے بعدبیرسٹر شمسہ سمیع اللہ کا کردار اس ناول کا مضبوط ترین کردار ہے ہاشمی صاحب نے اس کردار کی وساطت سے جو پیغام ہمیں دیا ہےوہ بلاشبہ انمول ہے ، بیرسٹر شمسہ سمیع اللہ کا کردار اس ناول میں میرے پسندیدہ ترین کرداروں میں سے ہے۔ مزید کرداروں میںاوپر سے سخت ترین اور اندر سےگداز بیرسٹر سمیع اللہ کا کردار بھی ہمارے معاشرے کا کردار ہےپروفیسر آصف نور کا کردار بھی بہت عمدگی سے تخلیق کیا گیا ان کی وارث سےگفتگو اس ناول کی ایک خاص خوبی ہے۔ عدینہ کا کردار اپنی جگہ بہت مضبوط کردار ہے وارث کی عدینہ سے بھرپور محبت نے بہت متاثر کیا پورے ناول میں وارث کی زندگی کے اس خلا نے اداس کئے رکھا باہر ملکوں میں بسنے والوں کے بچوں کے مسائل بہت عمدگی سے بیان کئے گئے عدینہ بھی ایسی ہی ایک لڑکی تھی ناول کے اختتام تک میری خواہش رہی کہ کاش وارث کی محبت اسے مل جاتی،دوسری جانب وارث کو زندگی کی کامیابیوں سے روشناس کروانے میں اس کی بڑی بہن نبیلہ کا کردار سب سے اہم رہا جوایک ذہین و فطین لڑکی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی ماں کی اطاعت شعار بیٹی بھی ہے ، وارث کے کردار کو نکھارنے میں نبیلہ کے کردار کو بہت سراہا جانا چاہئے ۔ بلاشبہ بہن بھائی کہ یہ دونوں کردارقائد اعظم محمد علی جناح اور محترمہ فاطمہ جناح کی یاد دلا گئے۔ دونوں ہی کرداروں کے ذریعےقائد اعظم محمد علی جناح اور محترمہ فاطمہ جناح کا پیغام پڑھنے والوں تک کمال مہارت سے پہنچایا گیا۔ ناول کے اختتام پرجناب محمود ظفر اقبال ہاشمی کے حکم پر پاکستان کے چنندہ شعرا نے چائلڈ لیبر جیسے سلگتے موضع پر ہاشمی صاحب کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے اپنے اشعار اور نظمیں پیش کئے ہیں جو پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔انہوں نے میری بھی ایک نظم شامل کی جس کے لئے میں دل سے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

اِس معرکۃالآرا ناول کی اشاعت پر میں جناب محمود ظفر اقبال ہاشمی کو مبارک باد پیش کرتا ہوں پاکستان کی تاریخ میں ایسا شاندار و یادگار ناول نہیں لکھا گیا ۔میں جناح کا وارث ہوں پیغام ہے پاکستان کے ہر نوجوان کے لئے ، مایوسیوں ، مسائل اور پریشانیوں کے گھپ اندھیرے میںہم سب کے لئے روشنی کی کرن ہے ۔ میں جناح کا وارث ہوں جناب محمود ظفر اقبال ہاشمی کی جانب سے پاکستان کا مقدمہ اور مکمل یادداشت ہے جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ میری خواہش ہے کہ اس ناول کو پاکستان کے تمام سکول ، کالجز اور یونیورسٹیزکی لائبریریوں میں پہنچایا جائے جہاں کوشش کی جائے کہ تمام سٹوڈنٹس اسے ضرور پڑھیں اس کے علاوہ اس ناول کو قومی قیادت ، سیاستدانوں اور جملہ سیاسی جماعتوں تک پہنچایا جانا چاہئے تا کہ وہ بھی اس سے استفادہ کریں اور انہیں پاکستان کو درپیش مسائل کا ٹھیک سے ادراک بھی ہو اور حل بھی ملے۔ 352 صفحات پر مشتمل اس شاندار ناول کو ماورا کے زیر اہتمام جناب خالد شریف نے بہت کوبصورت سے شائع کیا ہے ، کتاب کا سرورق عالمی شہرت یافتہ خطاط اور ڈیزائنر محمد مختار علی نے بنایا ہے ، ناول کی قیمت 800 روپے ہے اور اسے ماورا پبلشرز 60 مال روڈ لاہور سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com