’’اکوالف‘‘ کی محبت کا متلاشی…. ڈاکٹر سید فہیم رضا کاظمی

’’اکوالف‘‘ کی محبت کا متلاشی…. ڈاکٹر سید فہیم رضا کاظمی

ایم زیڈ کنول
چیف ایگزیکٹو(علمی،ادبی، سماجی و ثقافتی تنظیم) جگنو انٹر نیشنل لاہور 

صاحبزادہ سید فہیم رضا کاظمی الچشتی ، حقیقی و حسبی و نسبی اولادسلطان الہند خواجہ خواجگان حضور خواجہ غریب نواز اجمیری رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔آپ نے ایک طویل عرصہ صحرائے علم وحکمت میں دشت نوردی کی ہے ۔دینی و دنیوی تعلیم و تربیت کی دولت سے مالا مال ہیں۔ پی ایچ ڈی اقبالیات میں کی۔ کالم نگاری ،شاعری ،صحافت ،ادارت اور پبلشنگ میں نام کمایا۔میدانِ اد ب میں صرف خود ہی شہسواری نہیں کی بلکہ آجکل کے لابی ازم کے دور میں فروغَ ادب کی بے لوث ترویج کو اپنا مقصدِ حیات بنایا اس میدان میں صرف خود ہی جھنڈے نہیں گاڑھے بلکہ نو آموز رائٹرز کی تربیت کا اہتمام کرنے اور ان کی حو صلہ افزائی کے لئے فروغِ ادب فاؤنڈیشن پاکستان کی بنیاد رکھی جس نے عالمی سطح پر پذیر ائی حاصل کی ۔تہذیب پبلیکیشنز کا اجرا کر کے دنیا بھر سے جینوئن رائٹرز کے کام کو منظرِ عام پر لانے کے عمل میں اُن کی معاونت کی ۔شاعری ہو یا نثرحب اہلِ بیت اُن کی گھٹی میں پڑی ہے۔ روحانیت، اور فہمِ دین اُن کا اوڑھنا بچھونا ہے۔جس نے انہیں بحرِ مسیحائی کا شناور بنا دیا۔ علم و حکمت کے خزینے چُنتے چُنتے ایسے باغِ اِرم میں جا پہنچے جہاں تصوف ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔اپنے آباء وا جداد کی محبت اس طرح اُن کی روح میں حلول کر گئی کہ اُن کے لفظوں کے ساگرایسے گوہر اُگلنے لگے کہ تصوف کے بام و در مسکرا اُٹھے۔بس پھر کیا تھا تخلیق کے چشمے گُل وبلبل کی کہی و اَن کہی داستانوں سے سیراب ہونے کی بجائے تصوف کی آبشاروں سے روح کوسیراب کرنے لگے اور
’’ اکو الف‘‘ ان کی ہستی کا مدعا بن گیا۔پھر سلطان الہند،روضہ الاقطاب ،کرب شام ، شام سے پہلے اور مسنون دعاؤں جیسے گنج ہائے گراں مایہ تصنیف و تالیف کئے۔ سید زادے نے اس نوجوانی کی عمر میں ہی شریعت اور طریقت کے جواہر اپنی جھولی میں بھر لئے ہیں جن سے وہ خلائقِ عامہ کو مستفید کر رہے ہیں۔اسی آرزو کی تکمیل ’’دُرِّ مکنون‘‘ کی تالیف ہے ۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ سعادتوں اور دعاؤں کا یہ گنجینہٗ علمی،ادبی،سماجی و ثقافتی روایات کی امین تنظیم جگنو انٹر نیشنل کے زیرِ اہتمام اشاعت پذیر ہے ۔یہ زیرِ ترتیب کتاب دُرِّ مکنون ہی نہیں در نایاب بھی ہے اور آج کے زمانے کی ضرورت بھی۔ آج کا انسان جس طرح ذہنی اور روحانی طور پر دیوالیہ ہو گیا ہے اس نیاسے طرح طرح کے جسمانی،اور نفسیاتی مسائل کا شکار کر دیا ہے۔ اطمینانِ قلب لُٹ گیا ہے۔ جہاں طبی علاج بھی ناکام ہو جائے وہاں سکونِ قلب کا سامان بزرگانِ دین کی سچی اور پاکیزہ تعلیمات میں ہی ملتا ہے۔ یہی نسخہٗ کیمیا ہے جو ھوالشفا کی دین ہے۔ جو آج کل کے جعلی، سفلی، پیروں ، فقیروں کے آستانوں سے مایوس ہونے والوں کے لئے تقویتِ ایمان کا سہارا ہے۔ یہ کتاب تالیف کرکے ڈاکٹر فہیم رضا کاظمی نے ایک طرف تو دکھی انسانیت کی خدمت کی ہے بلکہ اُن عملیات اور وظائف کو جوخانوادہ چشت و دیگر مشائخین کی امانت ہیں،امانت داروں تک پہنچا کر اپنے اسلاف کی محبت کا حق ادا کیا ہے۔ یہ ثمر ہیں اُن رتجگوں کا جو انہوں نے اپنے بزر گوں کا اتباع کرتے ہوئے مخلوقِ خدا سے محبت کا قرض ادا کرنے کی سعی میں شبِ سیاہ کی تاریکیوں میں گروی رکھے۔
جو نئے سویرے کی نوید بن کر رنج و الم میں ماری مخلوق کے لئے پیامِ شفا ہیں۔آج کے بیمار معاشرے کی نبض شناسی کرتے ہوئے اُن کی جسمانی، روحانی بیماریوں کی صرف تشخیص نہیں کی بلکہ مسیحائی کی ہے اور اُس کے لئے اُسی در سے استفادہ کیا ہے جو رب ذو الجلال کا انسانیت کے لئے انعام ہے۔ ھُو الشفا کی عطا ہے، مردہ روحوں کے لئے ایک شفا ہے۔
مولا پاک ان کی اس عبادت و سیادت کو شرفِ قبولیت بخش کر اسے ان کے لئے توشہء آخرت
بنا دیں۔آمین ثمہ آمین

One comment

  1. Dr. Ahmad Ali Barqi Azmi

    دُرِ مکنون ہے اسرار ازل کی تفہیم

    جس کے ہیں عقدہ کشا اپنی بصیرت سے فپیم 

    ہے تصوف سے شغف عہدِ رواں میں ان کو
    ہیں تصوف پہ کُتُب ان کی سبھی کارِ عظیم

    احمد علی برقی اعظمی 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com