گورنمنٹ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کا ضخیم مجلہ ’’کریسنٹ‘‘ 

گورنمنٹ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کا ضخیم مجلہ ’’کریسنٹ‘‘ 
125 سالہ نمبر ۔۔۔ ایک اہم دستاویز 
محمد شعیب مرزا 
اس مجلے میں سابق اساتذہ اور طلبا کی تحریریں بھی شامل ہیں ۔
علامہ اقبالؒ نے اپنا ذخیرہ کتب اسلامیہ کالج کی لائبریری کو عطیہ کیا تھا‘ ان کتب کی فہرست بھی مجلے میں شائع کی گئی ہے ۔
اختر شیرانی‘ ضمیر جعفری‘ ڈاکٹر تاثیر‘ سرتاج عزیز‘ ڈاکٹر انور سدید‘ خواجہ دل محمد‘ عبدالقیوم قریشی‘ سر شیخ عبدالقادر‘ محمد احمد مخدوم اور دیگر کی نادر تحریریں شامل کی گئی ہیں ۔
اس ضخیم نمبر کی اشاعت پر پرنسپل پروفیسر طاہر جاوید اور ادارتی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریک پاکستان میں اسلامیہ کالج کا کردار تاریخی اور بے مثال ہے۔ اس کالج کے طلبا نے تحریک پاکستان میں حصہ لے کر اس تحریک کو اپنے جواں خون سے وہ ولولہ عطا کیا کہ حصول پاکستان کی منزل قریب سے قریب تر ہوتی گئی۔ 1892ء میں انجمن حمایت اسلام کے زیر انتظام اسلامیہ کالج کی بنیاد رکھی گئی۔ اس کالج نے تحریک پاکستان کے علاوہ علم و ادب اورصحافت کو بھی خون تازہ فراہم کیا اور کھیلوں کے میدان میں بھی اس کالج کے طالب علموں نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ان نامور اساتذہ اور طلبا کی فہرست طویل ہے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ گیارہ مرتبہ اس کالج میں تشریف لائے۔ جو اس کالج اور یہاں کے اساتذہ و طلبا کیلئے ایک اعزاز ہے۔ 
اسلامیہ کالج کے قیام کے 125 سال مکمل ہونے پر 2017ء میں کئی تقریبات منعقد کی گئیں جن کا سلسلہ جاری ہے۔ اس موقع پر کالج کے قدیم اور مشہور میگزین ’’کریسنٹ‘‘ کا 125 سالہ ضخیم نمبر بھی شائع کیا گیا ہے۔ یہ خاص نمبر ایک اہم دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ تقریباً چھ سو صفحات پر مشتمل ’’کریسنٹ‘‘ کے اس شمارے کے حصہ اردو میں اداریہ‘ حمد‘ نعت‘ تاریخ‘ شخصیات‘ اسلامیہ کالج کی یادیں‘ ایک یادگار انٹرویو‘ اقبالیات‘ مضامین و مقالات‘ افسانے‘ خاکے‘ انشائیہ‘ طنز و مزاح‘ متفرقات‘ اسلامیہ کالج لاہور کے حوالے سے منظومات‘ غزلیں‘ نظمیں‘ نثری نظمیں شامل ہیں۔ پنجابی حصے میں اداریہ‘ نعت‘ حضرت محمدﷺ کی حیات مبارکہ‘ قائداعظمؒ ‘ علامہ اقبالؒ حضرت یوسفؑ ‘ نظمیں‘ غزلیں‘ افسانے اور دیگر مضامین شامل ہیں۔ جبکہ سو سے زائد صفحات انگریزی تحریروں پر مشتمل ہیں۔ 
گورنمنٹ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور کے پرنسپل پروفیسر طاہر جاوید جب سے اس تاریخی ادارے کے پرنسپل بنے ہیں وہ اس عظیم ادارے کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لئے کوشاں ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے کئی اہم اقدام اٹھائے ہیں۔ کالج کی 125 سالہ تقریبات کا اہتمام کیا ہے۔ ان کی سرپرستی میں ’’کریسنٹ‘‘ کا یہ ضخیم اور شاہکار نمبر شائع کیا گیا ہے۔ اردو حصے کے نگران ڈاکٹر ثاقف نفیس (صدر شعبہ اردو ہیں) مدیر ڈاکٹر منور مقبول عثمانی‘ معاون مدیران ڈاکٹر خالد محمود اور محمد زاہد اعوان ہیں۔ طلبہ مدیران میں بلال احمد‘ وقار محمود‘ محمد زبیر‘ محمد افضال‘ روبینہ بٹ‘ فاریہ اعجاز اور نمرہ خالد شامل ہیں۔ حصہ پنجابی کے مدیر ڈاکٹر عباد نبیل شاد ہیں۔ معاون مدیر ڈاکٹر کرامت مغل اور طلبہ مدیران منصور احمد اور محمد طارق گجر ہیں۔ انگریزی حصے کے ایڈیٹر انچیف پروفیسر ڈاکٹر شاہد امتیاز‘ ایڈیٹر محمد زبیر اور اسسٹنٹ ایڈیٹرز علی حسن اور سیدہ انسیہ بتول رضوی ہیں۔ 
کالج میں ہونے والی مختلف تقریبات اور فیکلٹی ممبرز کی رنگین تصاویر آرٹ پیپر پر شائع کی گئی ہیں جن سے مجلے کی خوبصورتی اور اہمیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ کالج کے سابق طلبا، اساتذہ اور موجودہ اساتذہ وطلبا کی تحریروں نے میگزین کو جگمگا دیا ہے۔ ان فکر انگیز تحریروں نے کالج کی 125 سالہ درخشندہ تاریخ کو نمایاں کر دیا ہے۔ تحریک پاکستان میں اس کالج اور طلبا کے کردار کو اجاگر کیا ہے۔ 
اس مجلے میں اختر شیرانی‘ سید نظر زیدی‘ غلام رسول ازہر‘ ڈاکٹر ثاقف نفیس‘ سرتاج عزیز‘ ڈاکٹر انور سدید‘ پروفیسر عبدالقیوم قریشی‘ دلاور حسین قریشی‘ محمد احمد مخدوم‘ فقیر اللہ خان‘ سر شیخ عبدالقادر‘ ضمیر جعفری‘ پروفیسر امجد علی شاکر‘ منور عثمانی‘ ایچ بی شوق‘ خواجہ دل محمد‘ چودھری عبدالرشید تبسم‘ خضر تمیمی‘ سہیل عظیم رانا‘ محمد ارشد خان‘ غلام حسین ساجد‘ ڈاکٹر مرغوب حسین طاہر‘ پروفیسر آصف ہمایوں‘ نذر محمد شباب‘ ڈاکٹر خالد محمود‘ شفقت رسول مرزا‘ ڈاکٹر کرامت مغل‘ کرلی چوہان‘ مظہر قیوم‘ رؤف شیخ اور موجودہ اساتذہ و طلبا کی تحریریں شامل ہیں۔ 
حصہ انگریزی میں محمد زبیر‘ ڈاکٹر شاہد امتیاز‘ محمود احمد‘ اسلام خان‘ اکبر محمود‘ مصطفی حسین‘ پروفیسر محمد اظہر‘ ذوالفقار علی‘ محمد جبار‘ سیدہ انسیہ بتول رضوی‘ ارسلان محمود‘ ایم عزیز‘ کلیم اللہ نثار‘ ڈاکٹر کرامت مغل اور طلبا کی تحریریں مجلے کی زینت بنی ہیں۔ 
کالج کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کو بھی اس کالج سے خاص انسیت ر ہی اور اس کالج کی تعمیر و ترقی میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا اور اپنا تمام ذخیرہ کتب اس کالج کی لائبریری کو عطیہ کر دیا۔ اس مجلے میں بلال احمد اور محمد افضال کا مضمون ’’اسلامیہ کالج لاہور کی لائبریری میں اقبالیات کا ذخیرہ‘‘ خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے علاوہ کالج کے سابق طالب علم اور پاکستان کے وزیراعظم چودھری محمد علی کا پرانا انٹرویو بھی شامل کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کالج کے حوالے سے گفتگو کی تھی۔ اسلامیہ کالج کی یادیں کے عنوان کے تحت سرتاج عزیز‘ ڈاکٹر انور سدید‘ غلام رسول ازہر‘ پروفیسر عبدالقیوم قریشی‘ دلاور حسین قریشی‘ محمد ا حمد مخدوم اور فقیراللہ کے مضامین کالج کی عظمت رفتہ کی یاد دلاتے ہیں۔ 
شخصیات کے عنوان کے تحت مولانا علم الدین سالک‘ ڈاکٹر عمر حیات ملک‘ مرزا عبدالرحیم‘ مرزا محمد سعید‘ چودھری محمد حسین‘ نواب ذوالفقار علی خان‘ محمود نظامی‘ حیرت جلالپوری اور ڈاکٹر انور سدید کے حوالے سے ان کے فن اور شخصیت پر مضامین بھی کالج کے سابق اساتذعہ اور طلبا سے ر وشناس کرواتے ہیں۔ اقبالیات‘ مضامین و مقالات اور دیگر ادبی تحریریں بھی قابل مطالعہ ہیں۔ یہ ضخیم جریدہ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور کے پرنسپل پروفیسر طاہر جاوید‘ مدیران اور ادارتی ٹیم کی محنت اور مہارت کا ثبوت ہے جس پر یہ سب مبارکباد کے مستحق ہیں۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com