’’پیام صبا‘‘میرے مطالعہ کی روشنی میں

عبدالرحیم ابن ڈاکٹر مولوی انور حسین برہولیا
متعلم ایل ۔این۔ ایم۔ یو،دربھنگہ، سال دوم
’’پیام صبا‘‘میرے مطالعہ کی روشنی میں

’’پیام صبا‘‘ برادر محترم جناب کامران غنی صباؔ کا پہلا شعری مجموعہ ہے اور اس کی اشاعت محکمہ کابینہ سکریٹیریٹ حکومت بہار کے مالی تعاون سے ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی نے کی ہے۔ اس کی قیمت محض200/-روپیہ ہے ۔ اس کو بک امپوریم ،سبزی باغ پٹنہ، ناولٹی بکس، قلعہ گھاٹ، دربھنگہ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ شعری مجموعہ کو المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ دربھنگہ کے زیر اہتمام ۲۰۱۷ء میں شائع کیا گیا ہے۔ کامران غنی صباؔ اردو شعر و ادب کا ایک ایسا نام ہے جو کم وقت اور کم عمر میں ہی میں اپنی ایک شناخت قائم کر چکا ہے۔ جن لوگوں نے کامران غنی صبا کو نہیں دیکھا ہے وہ یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ شاید وہ کوئی عمر دراز شاعر ہوں گے۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہے۔ کامران غنی صبا نے کتاب کا انتساب خدا کے نام کیا ہے جبکہ عام طور پر لوگ اپنے ماں باپ یا استاد کے نام کرتے ہیں مگرکامران غنی صبا کی فکر کتنی بلند ہے کہ انہوں نے انتساب کو خدا ئے برتر کے نام کیا ہے۔ حرف آغاز میں انہوں نے اپنی بات بہت ہی سلیقہ سے پیش کی ہے۔کتاب کے پہلے حصہ میں نظم’’مجھے آزاد ہونا ہے‘‘ (جو کامران غنی صبا کی شناخت اور پہچان کا ذریعہ بنی) کے تعلق سے ڈاکٹر اقبال واجد، ڈاکٹر عبدالرافع، ڈاکٹر منصور خوشتر، نسترن احسن فتیحی، ڈاکٹر احسان عالم، سیدہ تسکین مرتضی، انور الحسن وسطوی، حسیب اعجاز عاشر، سیدہ زہرہ عمران اورسلمان فیصل کے مضامین شامل ہیں۔ دوسرے باب میں حمد ، نعت، منقبت ہیں جو ۶ ہیں ۔ التجا، لب پہ ذکر حبیب خدا چاہئے، نہ طلب ہے نام و نمود کی، ایک ایسی نعت پاک لکھا دے مرے خدا، جب روح جسم سے ہو خدایا جدا مری، حسین سا کوئی ہے بتاؤ…..
اس کے بعد والے باب میں نظمیں ہیں جن کی تعداد بیس ہے۔ کچھ نظمیں پابند ہیں، کچھ معریٰ اور کچھ آزاد، لیکن سبھی نظموں میں تسلسل روانی اور موسیقیت ہے۔الفاظ اتنے عام فہم ہیں کہ عام قارئین بھی اسے سمجھ سکتے ہیں۔ ایک نظم امی کے نام ہے، جو ان کی سالگرہ پر کامران غنی نے پیش کی تھی:
پیاری امی!
سالگرہ پر
آپ کو کون سا تحفہ دوں میں؟
پھول تو کل مرجھا جائیں گے
اور خوشبو بھی اڑ جائے گی
پیاری امی ! سالگرہ پر
لفظوں کی میں کچھ سوغاتیں
لے کر خدمت میں حاضر ہوں
لفظ دعاؤں کی صورت میں
لفظ عقیدت، لفظ محبت
بابری مسجد کی شہادت پر بھی آپ کی ایک نظم ہے جس کے چند اشعار یہ ہیں:
تئیس سال ہوئے آج ہی کا دن تھا جب 
ہمارے ملک میں جمہوریت کا قتل ہوا
تم پھر یہ جھوٹ نہ بولو ہمارے ہم وطنو!
’’ہمارے ملک میں جمہوریت سلامت ہے‘‘
مرا وجود، عید کا چاند، ایک باپ کی بیٹے کو نصیحت، محبت ایک عبادت ہے، گیت (ہندوستانی بچوں کے لئے) جیسی اہم نظمیں بھی اس مجموعہ میں شامل ہیں۔ 
آخری باب میں ۲۸ غزلیں ہیں۔ کامران غنی صبا اچھی نظموں کے ساتھ اچھی غزلیں بھی کہتے ہیں۔ تمام غزلیں بھی خوب ہیں۔ زندگی کتنا آزمائے گی، سجدہ شوق میں سر میراجھکا ہے کیا، چلو کہ جسم کا رشتہ تمام کرتے ہیں، ہم ان کی بارگاہ میں شام و سحر گئے جیسے اہم عنوان کی غزلیں موجود ہیں۔ سب پر تبصرہ سے مضمون کے طویل ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔ کامران غنی صباؔ صرف ایک اچھے شاعر ہی نہیں ہیں بلکہ ایک اچھے استاد بھی ہیں اور ویشالی کے ایک اسکول میں معلم ہیں۔ صحافت ، شعر وشاعری ، درس و تدریس سارا کام ایک ساتھ انجام دے رہے ہیں جو سب کے بس کا نہیں ہے۔ روز نامہ پندار کے ادبی صفحات کے بھی انچارج ہیں۔ اردو نیٹ جاپان کے مدیر اعزازی بھی ہیں۔ ابھی پی ایچ۔ڈی پٹنہ یونیورسیٹی سے کر رہے ہیں۔ 
باب کے آخر میں شاعر کا مختصر تعارف بھی ہے ۔ کتاب کا سرورق بہت عمدہ ہے ۔ طباعت بھی اچھی ہے۔ کتاب کے بیک کور پر سلمیٰ بلخی کے تاثرات پیش کیے گئے ہیں۔ سلمیٰ بلخی کامران غنی صبا کی والدہ ہیں وہ لکھتی ہیں ’’کامران کو اشعار فہمی اور شعر گوئی کی صفت ورثے میں ملی ہے۔ ان کا نام (کامران) ایک بڑے عالم اور بزرگ سید اسمٰعیل شمسی روح نے رکھا تھا۔‘‘
کامران غنی صبا ایک اچھے ، بااخلاق انسان ہیں اور ہر کسی کو عزت و احترام دینا جانتے ہیں۔ اللہ ان کے شعری مجموعہ ’’پیام صبا‘‘ اور کامران غنی صباؔ کو بھی مقبولیت عطا کرے۔ آمین۔
***

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com