ہم باشندے ہیں اس قبیلے کے

ہم باشندے ہیں اس قبیلے کے
سچ کی وحشت سے جس کو انکار ہے
ظلم و جور ہی سدا جس کا شعار ہے
تیز تلوار سے وقت کی دھار ہے
جبر کی وادی میں جواندیشہء غبار ہے
جو کہ نہیں اسیران وفا شعار ہے
ہم کہ مسافر ہیں ایسی راہوں کے
جس کا ہر فرد غلام ابن غلام ہے
جو کبھی چاہ کر بھی نہیں نیک نام ہے
ہم کہ ٹہرائے گئے ہیں جابر
اس لقب سے کب ہم کو انکار ہے
ہم کہ وہ لوگ ہیں یاروں
جن کی قسمت اک ان دیکھا قلم لکھتا ہے
جو کہ سدا ہی گم گشتۂ گردش ایام ہیں
ہم کہ چاہ کر بھی وفا نہیں کرتے
کہ ہمارے ان آقاؤں کو
سچ کی وحشت سے بھی انکار ہے
ظلم وجور کہ جس کا ہی رہا شعار ہے
جان جاں ہم سچ نہیں کہتے
چاہ کر بھی ہم نہیں کہ سکتے 
ہم ہی ظالم ہیں

سنو لوگو  

تنزیلہ یوسف۔ لاہور
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com