ہم تلاطُم میں اپنی بقا چاہتے ہیں:ساحل سمیجو

ساحل سمیجو

غزل

درد تیرے سے دل کی دوا چاہتے ہیں،

کیوں بھلا بے وفا سے وفا چاہتے ہیں۔

پا لیا جو سکوں موج مر جائے گی،

ہم تلاطُم میں اپنی بقا چاہتے ہیں۔

رہنما جو ملے رہزنوں کی طرح،

منزلیں تو کُجا راستہ چاہتے ہیں۔

آنکھ میں ہے نمی بے رخی بھی تو ہے،

ہم نہیں جانتے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔

عشق تو نے دیے درد سوغات ہیں،

ہم دکھوں کی نئی ابتدا چاہتے ہیں۔

روح سے جو ہمیں راس آیا نہیں،

کیوں وہی پیار کا سلسلہ چاہتے ہیں۔

وہ ہمارے نہیں ہو سکے کیا ہوا،

کوئی کہہ دے انہیں الوداع چاہتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com