مدح حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ

مدح حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ
انتخاب:جنیدرضا

شب ہجرت علی نے بھی عجب خدمت گزاری کی
ملک بھی جس سے حیراں ہو گئے وہ جاں نثاری کی

تمہارا اے علی مرتضی واللہ کیا کہنا
ادا کرتے ہیں یوں حقِ اخوت واہ کیا کہنا

جو بندے تابع حکم شہ ابرار ہوتے ہیں
وہ یوں بیخوف مرنے کیلئے تیار ہوتے ہیں

جری و مرد میدانِ تہور ایسے ہوتے ہیں
شجاعت اس کو کہتے ہیں بہادر ایسے ہوتے ہیں

نبی کا سن کے حکمِ پاک سیدھے ان کے گھر آئے
اگرچہ سامنے تھی موت لیکن بے خطر آئے

کہیں آزردہ ہوسکتے ہیں مرد ایسے ملالوں سے
وہ تھے شیر خدا کیا خوف کرتے ان شغالوں سے

علی کے مرتبوں کا حال کوئی اور کیا جانے
جناب سرور کونین جانیں یا خدا جانے

علی سرور وان گلشن رشد و ہدایت ہے
علی مولائے امت ہے علی شاہ ولایت ہے

علی کی ذات والا وجہ فخر زہد و طاعت ہے
علی کا روئے انور دیکھنا عین عبادت ہے

علی وہ ہیں جنہوں نے چیر کر پھینکا ہے ازدر کو
علی وہ ہیں اکھاڑا ہے جنہوں نے باب خیبر کو

علی ہیں والدسبطین و زوج حضرت زہرا سلام اللہ علیہا
علی ابن ابی طالب ہیں داماد شہہ والا

علی وہ ہیں جو یکتا فن تیغ آزمائی میں
علی وہ ہیں نہیں جن سا کوئی مشکل کشائی میں

علی دنیا کے مولا ہیں علی امت کے والی ہیں
علی اعلی و اکمل ہیں علی اولی و عالی ہیں

نہ ملے گا علی سا ایک بھی لاکھوں ہزاروں میں
علی ہیں پنجتن میں اور علی ہیں چار یاروں میں

وہ ہیں خاص رسول حق ہے زینت ہر طرف ان سے
ولایت کو ہے ان پر فخر امامت کو شرف ان سے

علی ہیں نفسِ پیغمبر علی ہیں ساقی کوثر
علی ہیں قاتل مرحب علی ہیں فاتح خیبر

علی درجے میں اعلی ہیں علی رتبہ میں بالا ہیں
علی مقبول درگاہ خدا وند تعالی ہیں

علی تھے اس قدر مقبول سرکارِ پیمبر میں
کہا ہے لحمک لحمی علی کی شان برتر میں

کبھی اپنی ردائے پاک اڑھا کر شاد فرمایا
کبھی من کنت مولاہ سے ان کو یاد فرمایا

کبھی آشوب سخت چشم سے ان کو اماں بخشی
کبھی شمیشر ذوالفقار جاں ستاں بخشی

ذرا دیکھے تو کوئی کیا معظم کیا مقر ہیں
نبی ہیں شہر علم اور مرتضی اس شہر کی در ہیں

یہ مانا ان کا درجہ اِس سے اعلی اس سے اونچا ہے
یہ ان کی مدح میں پھر بھی کسی نے خوب لکھا ہے

علی کا نام بھی نامِ خدا کیا راحتِ جاں ہے
عصائے پیر ہے تیغ جواں ہے حرز طفلاں ہے

علی ہیں اہل بیت مصطفی میں یہ روایت ہے
وہی ہے مومن کامل جسے ان سے محبت ہے

خدا کے گھر میں پیدایش ہوئی جن کی علی وہ ہیں
سخی وہ ہیں غنی وہ ہیں جری وہ ہیں ولی وہ ہیں

من تصنیف جناب مولوی مجتہدالدین احمد صاحب عیش بدایونی
از ارشد تلامذہ امیر الشعرا حضرت امیر مینائی لکھنوی رحمتہ اللہ علی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com