اہلِ خرد کی بھیس میں صیاد ہم ہوئے

غزل

اہلِ خرد کی بھیس میں صیاد ہم ہوئے
آباد موسموں میں بھی برباد ہم ہوئے
کتنے حسیں فریب میں ڈوبے ہیں آج کل
بربادیوں کی راہ میں آباد ہم ہوئے
افکار اپنے بے کس و لاچار ہوگئے
اہلِ سخن میں رہ کے بھی بے داد ہم ہوئے
فرقے، گروہ، مکتب و نسلوں میں ہیں گرفت
خوش فہمیاں مزید کہ آزاد ہم ہوئے
رستے میں عشق نام کا تیزاب مل گیا
اک گھونٹ کیا پئے تھے کہ برباد ہم ہوئے
گرتا میعار جانئے، یہ بات ہے اگر
اوروں کو شاد دیکھ کے ناشاد ہم ہوئے
نازک مزاج ہونا بھی اک جرم تھا یہاں
اتنے ملے ہیں ضرب کہ فولاد ہم ہوئے
شعر و ادب، سلیقہ و آداب ہیں یہاں
موجِ سخن کی بزم میں آباد ہم ہوئے
مثلِ حباب اٹھے تھے، اور اٹھ کے بجھ گئے
افسوس ایک لمحے کو آباد ہم ہوئے
ظلمت میں مضطرب سا رہا جذبۂ یقیں
جیسے امیدِ صبح کی فریاد ہم ہوئے
یہ زندگی قفس کے سوا کچھ نہیں نثارؔ 
قیدِ حیات توڑ کے آزاد ہم ہوئے
***
شاعر : احمد نثارؔ 
مہاراشٹر، انڈیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com